29/12/2015
کیوں که وه باپ تھا"
وه اپنی قوم کی بے عزتی کروا رها هے.یه بات اس نے سوچی تو دھنگ ره گیا.که وه کیا تھا?وه کهاں آ گرا هے...
زمانے نے اس کا هاتھ تھام کر چلنا سیکھا تھا.اس نے اک زمانے سے گر سیکھ کر اک زمانے کو سکھاۓ تھے.وه زمانے کا استاد تھا.اور استاد کو عزت ملتی هے اس لئے استاد عزت کرنا اور کماناسکھاتا هے.
طوائف کوٹھے په ناچے تو کم برا لگتا هے.مگر سر_ عام ناچے تو بهت برا لگتا هے.اور وه زمانے کے آگے کوٹھے پر ناچنے والا آج سر عام ناچ رها تھا.اسے برا لگا......
اسے برا لگا که وه اس زمانے کا ایک بزرگ تھا.اک قوم کا بڑا فرد تھا.
اسے ایسے سر_ عام اپنی قوم کی عزت کی دھجیاں اڑانے کا کوئ حق نهیں.
وه بیٹھ کر یهی سوچ رها تھا که اس کی بیٹی نے آ کر گھٹنے کو هاتھ لگا کر هنڈیا کا سوال کیا.
تو اس نے آگے پیچھے دیکھا جیسے کسی پهاڑ په بیٹھا هو اور گرنے کے ڈر سے چونک گیا هو.
اس نے بیٹی کو الگ رکھے خراب پهل میں سے کچھ دیا.اور کها ابھی چاروں یهی کھا لو.شام کو میں سبزی لیتا آؤں گا.
اسکی 12 سال کی بیٹی نے معصومیت سے کها... سچی...
اس نے رفعتا" مسکرا کر کها...
سچی...
بیٹی چلی گئی...
اور اب وه اس سوچ میں پڑھ گیا که سچ تو اسی کے پاس تھا اور وه بکے گا تو وه جھوٹے ارادے سے تھوڑی سی سبزی لے جاۓ گا....
وه غلط نهیں وه باپ تھا...
کهانی... کیوں که وه باپ تھا
(جاری هے)
تحریر کردہ ؛::: دو الف فانی