01/09/2026
*وصیت، قسمیں اور خاموش رخصتی*
انسانی دل بھی کتنی عجیب جگہ ہے—یہ ایک ہی وقت میں محبت کی شدت اور سماجی جبر کا بوجھ ایک ساتھ اٹھاتا ہے۔ ہماری کہانی بھی ایک ایسے ہی سچ کا بیان ہے جہاں مقدس قسموں اور جذباتی وعدوں کے باوجود بالآخر حالات کی جیت ہوئی۔
اس کہانی کا آغاز ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہوا۔ وہاں شروع ہونے والی ایک معمولی سلام دعا آہستہ آہستہ گہری ہوتی گئی۔ ٹک ٹاک سے واٹس ایپ اور پھر دیگر رابطہ ذرائع تک پہنچتے پہنچتے، یہ دو انجان لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے کہ فاصلے سمٹنے لگے اور بات دل کے تعلق تک جا پہنچی۔
وہ دو بچوں کی ماں تھی اور شوہر سے ان بن کی وجہ سے ایک شدید جذباتی اکیلے پن سے گزر رہی تھی۔ لڑکا اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا، یہاں تک کہ لڑکی نے خود نہیں بتایا تھا بلکہ لڑکے نے خود سامنے سے اس کی شادی شدہ زندگی کا سچ ظاہر کیا۔ اس کے باوجود وہ لڑکا اس کی محبت میں اس قدر دیوانہ اور پاگل تھا کہ ہر حقیقت کو قبول کر کے اس کے ساتھ کھڑا رہا۔
دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑنے پر اتفاق کیا۔ قرآنِ پاک کو درمیان میں رکھ کر بڑی بڑی قسمیں کھائی گئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وفا کے وعدے کیے گئے۔ لڑکے کو پھر بھی خدشہ تھا، اس نے بار بار کہا: "کسی بھی جذباتی بلیک میلنگ یا مجبوری میں مجھے چھوڑ کر مت جانا۔" اور لڑکی نے ہر بار یہی یقین دہانی کرائی کہ وہ کبھی اسے نہیں چھوڑے گی۔
زندگی اسی امید پر چل رہی تھی کہ اچانک لڑکی کی ساس کا انتقال ہو گیا۔ لڑکی اس وقت وہاں موجود نہیں تھی اور جب وہ پہنچی تو ساس کی روح پرواز کر چکی تھی۔ سسرال والے میاں بیوی کے بگڑے تعلقات سے واقف تھے، چنانچہ انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ساس کے نام سے ایک وصیت پیش کر دی کہ "مرحومہ کہہ گئی ہیں کہ میرے بیٹے کا خیال رکھنا اور تم دونوں ہمیشہ ساتھ مل کر رہنا۔"
بیٹے کا خیال رکھنے اور گھر بسانے کی اس دہائی نے ایسا جذباتی دباؤ بنایا جسے ٹھکرانا اس کے لیے ناممکن ہو گیا، اور تمام قسموں کے باوجود وہ لڑکی اسے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔
جس لڑکے نے اس سے سچی اور جنون کی حد تک محبت کی، وہ آج بھی اسی موڑ پر اس کے خیالوں میں گم کھڑا ہے۔ لیکن حالات اور رسمی بندھن کبھی روح کے رشتے کو مٹا نہیں سکتے۔
زندگی میں جب بھی کبھی وہ عورت اس دکھاوے اور مجبوری کے رشتے میں تنہا محسوس کرے گی، تو اسے اس سچی محبت کی قدر ضرور یاد آئے گی جو اس کے ہر عیب اور مجبوری کے باوجود اس پر نچھاور تھی۔ یہ تحریر اس بات کی نصیحت بھی ہے کہ سچا پیار زندگی میں بار بار نہیں ملتا؛ اور دل کا ایک کونہ اب بھی یہ اشارہ دیتا ہے کہ شاید کسی دن، مجبوریوں کا یہ غبار چھٹنے کے بعد، قدم خود بخود اس سچی محبت کی طرف لوٹ آئیں گے جو آج بھی اس کا منتظر ہے۔
*سید مہدی شاہ نقوی*
*شاعر و کالم نگار*