Ehed News

Ehed News عہد نیوز ا اخبار سچی اور بے باک صحافت کا علمبردار ھے

14 September 2026 Daily Umeed e Pakistan / Ehad News
14/09/2026

14 September 2026 Daily Umeed e Pakistan / Ehad News

13/09/2026
12/09/2026

حکام بالا سکون کی نیند سوتے ہوئے اور شہر کراچی کے عوام چلتے پھرتے بموں کا سامنا کرتے ہوئے

مزدور کی اجرت 40,700، مگر جیب میں کیوں نہیں؟ — حکومتی اعلان اور زمینی حقیقت کا کھلا تضاد۔تحریر سعید احمد خان لودھیپاکستا...
12/09/2026

مزدور کی اجرت 40,700، مگر جیب میں کیوں نہیں؟ — حکومتی اعلان اور زمینی حقیقت کا کھلا تضاد۔

تحریر سعید احمد خان لودھی
پاکستان کے بجٹ 2026-27 میں وفاقی سطح پر کم از کم ماہانہ اجرت 40,700 روپے مقرر کی گئی، جو گزشتہ 37,000 روپے کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ اگر ریاست نے ایک مزدور کے لیے کم از کم اجرت مقرر کر دی ہے تو پھر بہت سے نجی اداروں، فیکٹریوں اور بعض اداروں میں اس سے کم تنخواہ کیوں دی جا رہی ہے؟
یہ سوال صرف تنخواہ کا نہیں، قانون کی بالادستی اور مزدور کے بنیادی حق کا سوال ہے۔
ایک طرف بجٹ تقریر میں مزدور کی اجرت بڑھانے کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری طرف عملی زندگی میں ایک مزدور سے 10، 12 بلکہ 14 گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور اس کے بدلے ایسی تنخواہ دی جاتی ہے جس سے ایک خاندان کا بنیادی گزارا بھی مشکل ہے۔ حکومت خود اعتراف کرتی ہے کہ کم از کم اجرت میں اضافہ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
تو پھر سوال بنتا ہے:
اگر 40,700 روپے بھی کم از کم ہیں تو اس سے کم دینے والا مالک کس قانون کے تحت دے رہا ہے؟
اور اگر قانون موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کون کروا رہا ہے؟
مزدور قانون کی کتاب میں نہیں، حقیقت میں بھی انسان ہے
پاکستان کا مزدور کسی خیرات کا طلب گار نہیں۔ وہ اپنی محنت کا معاوضہ مانگتا ہے۔
فیکٹری کا پہیہ مزدور کے ہاتھ سے چلتا ہے، تعمیراتی منصوبے مزدور کے ہاتھوں مکمل ہوتے ہیں، سڑکیں، عمارتیں، کارخانے، مارکیٹیں اور صنعتیں اسی طبقے کی محنت سے آباد ہوتی ہیں۔
لیکن افسوس کہ جب مزدور کی تنخواہ مقرر کرنے کی باری آتی ہے تو بعض مالکان کے پاس مہنگائی، کاروباری مشکلات اور اخراجات کی لمبی فہرست آ جاتی ہے۔
مگر جب مزدور کے حقوق ادا کرنے کی باری آئے تو وہی مزدور سب سے سستا انسان کیوں بن جاتا ہے؟
سرکاری ادارے بھی جواب دیں
بات صرف نجی فیکٹریوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
اگر کسی سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار یا ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والے ملازم کو قانونی کم از کم اجرت سے کم ادائیگی ہو رہی ہے تو متعلقہ محکمے اور افسران سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے۔
خاص طور پر آؤٹ سورسنگ اور کنٹریکٹ ملازمین کے معاملے میں صورتحال انتہائی اہم ہے۔ حکومت ایک کمپنی یا ٹھیکیدار کو ادائیگی کرتی ہے، ٹھیکیدار آگے مزدور کو تنخواہ دیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مزدور کو مقررہ قانونی اجرت واقعی مل رہی ہے؟
اگر نہیں مل رہی تو صرف ٹھیکیدار نہیں، نگرانی کرنے والا ادارہ بھی ذمہ دار ہونا چاہیے۔
لیبر ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے؟
سب سے بڑا سوال متعلقہ لیبر محکموں سے ہے۔
اگر حکومت نے کم از کم اجرت مقرر کی ہے تو ہر فیکٹری، کارخانے، دکان، ادارے اور ورکشاپ میں اس پر عمل درآمد کی نگرانی ہونی چاہیے۔
صرف نوٹیفکیشن جاری کرنا کافی نہیں۔
نوٹیفکیشن مزدور کے گھر کا چولہا نہیں جلاتا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ فیکٹریوں کا باقاعدہ معائنہ ہو، ملازمین کا ریکارڈ چیک کیا جائے، تنخواہوں کی ادائیگی کا ریکارڈ دیکھا جائے اور جہاں قانون کی خلاف ورزی ہو وہاں بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
مزدور خاموش ہے، بے خبر نہیں
مزدور شاید احتجاج نہ کرے، دفتر کے باہر نعرے نہ لگائے، عدالت کے دروازے پر روز نہ پہنچے، مگر وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
وہ دیکھ رہا ہے کہ ایک طرف حکمران طبقہ مراعات لیتا ہے، دوسری طرف صنعت کار اپنے منافع کا حساب کرتا ہے اور تیسری طرف مزدور اپنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، راشن اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہے۔
40,700 روپے آج کے مہنگائی کے دور میں کوئی شاہانہ رقم نہیں، بلکہ ایک غریب خاندان کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کی کم از کم کوشش ہے۔
پھر اس سے بھی کم اجرت دینا صرف مالی ناانصافی نہیں بلکہ مزدور کی محنت کی توہین ہے۔
حکومت کو اب اعلان نہیں، آپریشن کرنا ہوگا
حکومت کو چاہیے کہ کم از کم اجرت کے نفاذ کے لیے صنعتی اداروں، فیکٹریوں اور کنٹریکٹرز کا ملک گیر آڈٹ کرائے۔
ہر ادارے میں واضح کیا جائے:
کتنے مزدور کام کر رہے ہیں؟
ہر مزدور کی ماہانہ تنخواہ کتنی ہے؟
روزانہ کام کے اوقات کتنے ہیں؟
اوور ٹائم کی ادائیگی ہو رہی ہے یا نہیں؟
سوشل سکیورٹی اور دیگر قانونی حقوق دیے جا رہے ہیں یا نہیں؟
اور سب سے اہم: کیا کسی مزدور کو مقررہ کم از کم اجرت سے کم ادا کیا جا رہا ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر جرمانہ بھی ہو، قانونی کارروائی بھی ہو اور مزدور کو اس کا بقایا حق بھی دلوایا جائے۔
آخر میں ایک دوٹوک سوال
حکومت نے بجٹ میں مزدور کی کم از کم اجرت 40,700 روپے مقرر کی ہے۔

تو پھر حکومت خود بتائے:
40,700 سے کم تنخواہ دینے والے اداروں کے خلاف کتنی کارروائیاں ہوئیں؟
کتنے مالکان کو نوٹس جاری ہوئے؟
کتنے مزدوروں کو ان کا بقایا حق واپس دلایا گیا؟
اور کتنے ایسے ادارے ہیں جہاں آج بھی مزدور حکومتی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم پر کام کرنے پر مجبور ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ مزدور کے حق کو صرف بجٹ تقریر کا خوبصورت جملہ نہ بنایا جائے بلکہ فیکٹری کے گیٹ سے مزدور کے گھر تک نافذ کیا جائے۔
کیونکہ ریاست کا قانون اگر طاقتور کے لیے کاغذ اور غریب کے لیے صرف اعلان بن جائے تو پھر سوال صرف تنخواہ کا نہیں رہتا، سوال نظامِ انصاف کا بن جاتا ہے۔
**مزدور کو خیرات نہیں، اس کی محنت کی پوری قیمت چاہیے۔
اور 40,700 روپے سے کم اجرت دینے والوں سے پوچھا جانا چاہیے: آخر قانون آپ کے لیے ہے یا صرف غریب مزدور کے لیے؟**

12/09/26 Daily Umeed e Pakistan / Ehad News
12/09/2026

12/09/26 Daily Umeed e Pakistan / Ehad News

11/09/26 Daily Umeed e Pakistan/Ehad news
11/09/2026

11/09/26 Daily Umeed e Pakistan/Ehad news

Address

Karachi
75850

Telephone

03128285803

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ehed News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ehed News:

Shortcuts

Share