08/06/2026
*🎯 سفر، اقامت اور نمازِ قصر کے اصول*
اگر کوئی شخص اپنے وطنِ اصلی (یعنی مستقل جائے سکونت) سے ایسے سفر پر نکلے جو اس کے شہر یا گاؤں کی حدود سے تقریباً 48 میل (77.25 کلومیٹر) یا اس سے زائد ہو، تو حدودِ شہر یا گاؤں سے نکلتے ہی وہ شرعاً مسافر شمار ہوگا۔
اب اگر وہ کسی دوسرے شہر یا گاؤں میں پہنچ کر وہاں 15 دن یا اس سے زیادہ ٹہرنے کی نیت کرلے تو وہ اس جگہ پر مقیم شمار ہوگا اور اس پر مقیم کے احکام جاری ہوں گے اور اگر وہاں قیام کی نیت 15 دن سے کم ہو تو وہ بدستور مسافر ہی رہے گا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص ایک عارضی وطن میں دو تین دن قیام کرے، پھر کسی دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور اس کا مجموعی یا مستقل قیام کسی ایک مقام پر 15 دن کا نہ ہو تو وہ مسلسل مسافر ہی شمار ہوگا، جب تک کسی ایک شہر یا گاؤں میں 15 دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہ کر لے۔
نوٹ : واضح رہے کہ یہاں "شہر یا گاؤں" سے مراد اس کی اصل مستقل آبادی اور مرکزی علاقہ ہے، نہ کہ اس کے اندرونی محلے یا ذیلی بستیاں، کیونکہ ایک ہی شہر یا گاؤں کے تمام محلّات اور ذیلی آبادیاں شرعاً ایک ہی حکم میں شمار ہوتی ہیں، جب تک وہ اسی مرکزی آبادی کے تابع ہوں۔
واللہ اعلم بالصواب
✍️ مفتی سفیان بلند
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری
*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌏 دارالریـــان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درسـگاہ)