27/11/2025
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں گرتی تھیں جب پہلی بار اُن کی نظر ایک دوسرے پر پڑی۔
وہ ایک لائبریری تھی—خاموش، پرسکون، مگر ان دونوں کے دلوں میں طوفان برپا تھا۔
علی ہمیشہ کی طرح آخری شیلف سے اپنی پسند کی کتاب نکال رہا تھا کہ اچانک اس کے ہاتھ کسی اور کے ہاتھ سے ٹکرا گئے۔
وہ ایک لڑکی تھی… حنا۔
نظریں ملیں، اور یوں لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔
چند ہفتے گزرے اور لائبریری اُن دونوں کے ملنے کی جگہ بن گئی۔
ایک نشست، ایک کتاب، ایک مسکراہٹ…
اور محبت آہستہ آہستہ دلوں میں اترتی گئی۔
علی خاموش طبیعت کا لڑکا تھا،
جبکہ حنا خوش مزاج، زندگی سے بھرپور—
مگر دونوں ایک دوسرے کی کمی پوری کرتے تھے۔
دونوں کے خواب جڑنے لگے،
دونوں کے دل ایک دوسرے میں بسیرا کرنے لگے۔
لیکن قسمت…
وہ ہمیشہ خوبصورت کہانیوں کے پیچھے چھپی رہتی ہے،
اور جب سامنے آتی ہے تو سب کچھ بدل دیتی ہے۔
حنا ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا تھی،
جس کا پتہ علی کو اُس دن چلا جب وہ ہسپتال کے کمرے میں بے سدھ پڑی تھی۔
’’علی…‘‘
اس نے کمزور آواز میں کہا،
’’مجھے معلوم ہے میں زیادہ دیر نہیں رہوں گی، لیکن تم… تم ہمت نہیں ہارنا۔‘‘
علی کی دنیا ایک لمحے میں ٹوٹ گئی۔
جس شخص کے ساتھ وہ زندگی گزارنے کے خواب بُن رہا تھا،
وہ اس کی آنکھوں کے سامنے مٹ رہا تھا۔
دن، ہفتے، مہینے…
حنا کی زندگی لمحہ لمحہ کم ہوتی گئی۔
علی ہر روز اس کے پاس بیٹھتا،
اس کے ہاتھ تھامے رکھتا،
اور خاموشی میں وہ سب کہانیاں سناتا جو وہ دونوں مل کر جینا چاہتے تھے۔
ایک صبح، جب سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا،
حنا نے آنکھیں کھولیں،
ہولے سے مسکرائی،
اور کہا:
’’علی… تم سے محبت کرنا میری زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ تھا…‘‘
اس کی سانس ہلکی ہوتی گئی…
اور پھر وہ رک گئی۔
علی نے اس لمحے محسوس کیا کہ انسان کے اندر کبھی کبھی اتنا خالی پن بھر جاتا ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
وہ لائبریری آج بھی جاتا ہے،
وہی کتابیں، وہی خاموشی…
مگر اب وہ خلاء، وہ ادھوری کہانی،
اور حنا کی یادیں—
اس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہیں۔
محبت کبھی ختم نہیں ہوتی،
بعض دفعہ بس انسان ختم ہو جاتا ہے۔
اور کہانی… ادھوری رہ جاتی ہے۔