21/06/2026
*🥀 دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے والے کبھی مطمئن نہیں ہوتے 🥀*
اصل غربت جیب کی نہیں سوچ کی ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جن کے پاس بہت کچھ ہے مگر پھر بھی وہ خود کو محروم سمجھتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس بہت کم ہے مگر ان کے دل شکر سے بھرے ہوئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ انسان کو تھکانے والی چیز نعمتوں کی کمی نہیں بلکہ دوسروں کی نعمتوں پر مسلسل نظر رکھنا ہے
شیطان انسان سے نعمتیں چھیننے سے پہلے اس کے دل کا سکون چھینتا ہے وہ اسے یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ کافی نہیں ہے فلاں تم سے زیادہ خوش ہے فلاں تم سے زیادہ کامیاب ہے فلاں کی زندگی تم سے بہتر ہے اور انسان اس موازنہ کی آگ میں جلتے جلتے اپنی زندگی کے خوبصورت ترین تحفوں کو بھی بھول جاتا ہے
کتنی عجیب بات ہے کہ بعض لوگ اپنے دسترخوان پر موجود رزق سے لطف اندوز ہونے کے بجائے دوسروں کی پلیٹوں کو دیکھتے رہتے ہیں اپنے گھر کی نعمتوں کے بجائے دوسروں کے گھروں کی آسائشوں کا حساب لگاتے رہتے ہیں اپنی کامیابیوں کے بجائے دوسروں کی کامیابیوں پر نظر رکھتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ دل کو سکون کیوں نہیں ملتا
سکون وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں شکر پیدا ہوتا ہے اور شکر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان اپنی نگاہ دوسروں سے ہٹا کر اپنے رب کی عطاؤں پر ڈال دیتا ہے جب انسان یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ میرے پاس کیا نہیں ہے تو اس کی زندگی شکایت بن جاتی ہے لیکن جب وہ یہ سوچتا ہے کہ میرے پاس کیا کیا ہے تو اس کا دل عاجزی اور شکر سے بھر جاتا ہے
ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں کتنی نعمتیں ایسی ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ایک صحت مند جسم ایک دھڑکتا ہوا دل ایک پرسکون نیند ایک وفادار رشتہ ایک دعا کرنے والی ماں ایک خیرخواہ دوست اور ایمان جیسی عظیم نعمت یہ سب ایسی دولتیں ہیں جو دنیا کے بڑے خزانوں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں مگر انسان اکثر ان نعمتوں کو اس وقت پہچانتا ہے جب وہ اس سے چھن جاتی ہیں
دانشمند وہ نہیں جو زیادہ جمع کر لے بلکہ وہ ہے جو موجود نعمتوں کی قدر کرنا سیکھ لے کیونکہ حرص کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا آج ایک چیز مل جائے تو کل دوسری کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے پھر تیسری پھر چوتھی اور یوں پوری زندگی دوڑ میں گزر جاتی ہے مگر دل خالی رہتا ہے
یاد رکھو شکر کرنے والا انسان ہمیشہ امیر رہتا ہے چاہے اس کی جیب میں تھوڑا ہو اور ناشکرا انسان ہمیشہ غریب رہتا ہے چاہے اس کے پاس دنیا بھر کا مال کیوں نہ ہو اس لیے اپنی نگاہ دوسروں کے حصے پر نہیں اپنے رب کی عطاؤں پر رکھو کیونکہ جس دن تمہیں اپنی نعمتیں نظر آنا شروع ہو جائیں گی اسی دن تمہیں احساس ہوگا کہ تم محروم نہیں بلکہ اللہ کی بے شمار رحمتوں میں گھرے ہوئے ہو۔