14/06/2026
. ججہ راجپوت (گوجر خان)
ججہ صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی کی سب سے بڑی تحصیل گوجرخان کا ایک تاریخی اور اہم گاؤں ہے جو خوبصورت خطہ پوٹھوہار میں واقع ہے۔ یہ گاؤں مندرہ چکوال روڈ کے قریب واقع ہے اور اپنی زرخیز زمینوں اور روایتی پوٹھوہاری ثقافت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
خطہ پوٹھوہار کے دیگر علاقوں کی طرح ججہ اور اس کے ارد گرد کے دیہات کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ، یورپ اور خلیجی ممالک میں مقیم ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی معیشت میں سمندر پار پاکستانیوں کا اہم کردار ہے۔
خطہ پوٹھوہار میں واقع ججہ کی فوج اور دفاعِ وطن کے حوالے سے شہرت کی سب سے بڑی وجہ یہاں پیدا ہونے والے نامور اور اعلیٰ رینک کے فوجی افسران ہیں۔ اس چھوٹے سے گاؤں نے پاک فوج کو کئی جرنیل، غازی اور شہداء دیے ہیں جن کی جرات کی داستانیں عسکری تاریخ کا حصہ ہیں۔
ججہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی نمایاں ترین فوجی شخصیات
1۔ میجر جنرل ممتاز علی پاک فوج کے ایک انتہائی مایہ ناز اور نڈر جنگی ہیرو تھے۔ سنہ 1971 کی جنگ تک وہ پاک فوج کے واحد افسر تھے جنہوں نے غیر معمولی بہادری پر دو بار ستارۂ جرات حاصل کیا تھا۔ انہوں نے 1965 کی جنگ میں راجستھان سیکٹر میں دشمن کے دانت کھٹے کیے اور کئی علاقے فتح کیے۔
2۔ لیفٹیننٹ جنرل لہراسب خان آپ ججہ گاؤں کی سب سے بڑی عسکری پہچان ہیں۔ وہ پاک فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔ انہوں نے اپنی زندگی اور فوجی سفر پر ایک مشہور بائیو گرافی بھی لکھی ہے جس کا نام انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کی نسبت سے (ججہ سے ججہ تک) رکھا۔
گاؤں کی پہچان، یہاں قائم کیڈٹ کالج ججہ سے بھی ہے، جو پاکستان کی مسلح افواج کو بہترین اور قابل افسران فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تحصیل گوجر خان کا گاؤں ججہ علمی، ادبی اور تحقیقی لحاظ سے انتہائی زرخیز رہا ہے اور فارسٹر راجہ ولایت حسین یقیناً اس دھرتی کا ایک بہت بڑا اثاثہ اور فخر ہیں۔ راجہ ولایت حسین نے پاکستان میں فارسٹری ریسرچ بالخصوص جنگلات کی افزائش، درختوں کی پیمائش اور ان کے پھیلاؤ کے سائنسی طریقوں پر گراں قدر کام کیا۔ انہوں نے پشاور میں واقع پاکستان کے سب سے بڑے جنگلات کے تحقیقی ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ میں بطور سائنسی محقق طویل خدمات سرانجام دیں۔ راجہ صاحب نے پاکستان میں پائے جانے والے مختلف اہم درختوں (جیسے چیڑ، دیودار، کیکر اور سفیدہ وغیرہ) کی بڑھوتری اور ان کی لکڑی کے حجم کا اندازہ لگانے کے لیے "والیم ٹیبلز" تیار کیے، جو آج بھی فارسٹری کے طلبہ اور ماہرین کے لیے گائیڈ لائن کا درجہ رکھتے ہیں۔ علاقے کے لیے باعثِ فخر پوٹھوہار اور بالخصوص تحصیل گوجر خان کو عام طور پر فوجیوں اور شہدا کی دھرتی کہا جاتا ہے، لیکن راجہ ولایت حسین جیسی شخصیات نے یہ ثابت کیا کہ یہ مٹی سائنسی تحقیق اور علم و دانش کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ ان کا کام پاکستان کے قدرتی ماحول اور جنگلاتی لائف کو دستاویزی شکل دینے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ججہ (پوٹھوہار) اپنی تاریخی، ثقافتی اور ادبی زرخیزی کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے، اور محترم شریف شاد صاحب بلاشبہ اس دھرتی کا ایک معتبر ادبی حوالہ اور اس کی شہرت کا ایک بڑا اثاثہ ہیں۔ پوٹھوہار کے ادبی اور ثقافتی منظر نامے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ان کی وجہِ شہرت میں سب سے نمایاں کارنامہ قرآن پاک کا پوٹھوہاری زبان میں ترجمہ ہے۔ پوٹھوہار کی مادری زبان بولنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے قرآنِ مجید کا فہم آسان بنانا ان کا بنیادی ہدف تھا۔ اس گراں قدر ادبی اور اسلامی خدمت پر انہیں قومی سطح پر پذیرائی اور خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
تحصیل گوجر خان کا تاریخی گاؤں "ججہ" کبڈی کے مایہ ناز کھلاڑی راجہ رفعت علی خان کی وجہ سے انتہائی مقبول ہے۔ وہ پوٹھوہار کے خطے کا ایک چمکتا ہوا ستارہ رہے ہیں جنہوں نے روایتی کھیل کبڈی میں اپنے منفرد انداز اور بہترین داؤ پیچ کی بدولت ججہ (گوجر خان) کا نام روشن کیا۔