CHECK & WATCH

CHECK & WATCH CHECK & WATCH NEWSPAPER
106/1 Ground Floor Press Building Court Road Near Sindh Secretariat Karachi

05/03/2015
05/03/2015

روينہ نے فلم کی کہانی کے مصنف کو اسکرپٹ میں تبدیلیوں کا مشورہ دیا ہے اور وہ اس فلم کو خود پروڈيوس بھی کرنا چاہتی ہیں۔

05/03/2015

تازہ ترین
ہارس اینڈ کیٹل شو میں داخلہ مفت ہے
شہری رنگا رنگ تقریبات سے محظوظ ہونے کے لئے بھرپور شرکت کریں۔ کمشنر لاہور

لاہور(ڈبلیو۔این ۔اے )صوبائی دارالحکومت میں روایتی ثقافتی پروگرام ’’ہارس اینڈ کیٹل شو‘‘ شروع ہو گیا جس سے زندہ دلان لاہور کیلئے ملک کے چاروں صوبوں کی ثقافت اور رواتی کھیل نیزہ بازی، گھوڑ سواری سمیت مختلف تقریبات اور مقابلوں سے محظوظ ہونے کے مواقع میسر آئیں گے ۔
کمشنر لاہور عبداللہ خان سنبل نے کہا ہے کہ عوام کے لئے فورٹریس سٹیڈیم میں داخلہ مفت ہے اور شہری اس صحت مند تفریح سے لطف اندوز ہونے اور مختلف مظاہرے دیکھنے کے لئے ہارس اینڈ کیٹل شو میں بھرپور شرکت کریں۔ کمشنر لاہور نے مزید کہا کہ ہارس اینڈ کیٹل شو 8 مارچ بروز اتوار تک جاری رہے گا ۔

04/03/2015

offers JF-17 Thunder Block-II jets to to Bulgaria.

04/03/2015

Cyber units fail to disable or block TTP website
ISLAMABAD: Senior officials admitted on Tuesday that they had no effective legal mechanism to take down or block access to the website of the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP), the banned outfit involved in most of the terrorist activities in the country.

It was the TTP that claimed responsibility for the Dec 16 attack on the Army Public School in Peshawar.
Neither the Pakistan Telecom-munication Authority (PTA) nor the Federal Investigation Agency can disable the TTP website or prevent people from accessing it through their cyber crime wings.

Officials attributed the cyber units’ helplessness against the TTP’s propaganda tool to the absence of proper legislation.

The group’s website, which was launched two years ago, is fully functional by the name of Umar Media. The Taliban continue to use the website to disseminate their propaganda.

The website carries the TTP flag, verses from the Holy Quran, statements and videos containing sectarian, hate and propaganda material, especially against security forces and a message of TTP’s Shaikh Khalid Haqqani for the people of Balochistan. It also has pictures of slain TTP chief Hakimullah Mehsud and his successor and the incumbent chief Mullah Fazlullah.

Officials tend to blame each other for their ineptness to disable the website.

The PTA chairman and other senior officials told The Express Tribune that the authority takes action only on written complaints, and that it is too difficult to trace out such sites. They sought cooperation of intelligence agencies for required actions. Abdul Samad, a senior official in PTA, said that the vigilance cell of the authority only deals with cases related to grey trafficking.

Grey trafficking refers to arrangements that fall outside the regular course of business between licenced telecom companies in each country.

Mudassir Hussain, an enforcement member at PTA, said that many such outfits are operating websites under changed names, compounding the task of restricting public access.

Anusha Rehman, the state minister for information technology, said that a bill on cyber crimes is being introduced to handle such issues. Yasin Farooq, director of the cyber crimes unit of the FIA, said that for blocking of such websites, the agency can initiate action with the cooperation of PTA.

Security analysts believe that terrorist groups’ online presence and activities are the launching pads for new entrants. Aamir Rana, director of Pakistan Institute for Peace Studies (PIPS), said that militants are also using the latest technology to recruit manpower in their ranks. Sajjad Azhar, a researcher at the institute, said it seems that the relevant authorities are not aware of the level of threat these websites pose.

“Cyber crimes bill 2015 (Prevention of Electronic Crimes Bill) is being thoroughly reviewed in order to make it consistent with the National Action Plan (NAP). This is so it can cater to the growing needs of the drastically changing and challenging scenario in the wake of increasing terrorism in cyber space,” said Rehman.

Replying to a question, she said that the bill on cyber crimes, proposed by PPP lawmaker Abdul Karim Khawaja, does not cater fully to the needs.

26/02/2015
19/01/2015
پریس ریلیز کراچی : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و لیبر ونگ پاکستان کے صدر محمد زبیر خان نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے ک...
19/01/2015

پریس ریلیز

کراچی : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و لیبر ونگ پاکستان کے صدر محمد زبیر خان نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ مزدور دوست تنظیمیں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں ، سرمایہ دار کبھی مزدور کا دوست نہیں ہوسکتا ، حکمران طبقہ بھی محض اپنے سیاسی استحکام کے لیے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا خیال کرتا ہے ۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ملک میں نہ تو ٹھوس اور مضبوط لیبر پالیسی تشکیل دی گئی ہے اور نہ ہی ان قوانین پر عملدرآمد کیا جاتا ہے جن سے مزدوروں کو کسی قسم کا ریلیف ملتا ہو۔ ان حالات کی ذمہ داری جہاں حکمران طبقے اور سرمایہ داروں پر آتی ہے اتنا ہی حصہ اس تباہی و بربادی میں مزدوروں کے حقوق تحفظ کے نام پر وجود میں آنے والی مزدور تنظیموں اور ان کی قیادت کرنے والے رہنما و قائدین کا بھی ہے ، جنہوں نے وقتی و معمولی فائدے اور ذاتی غرض کے لیے ہر سرمایہ دار کی دکان پر معصوم مزدوروں کا خون فروخت کرنے سے دریغ نہیں کیا ، اس ملک کے محنت کش اور مزدور دوست تنظیمیں اگر اب بھی نہ جاگیں تو ان کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی اپنے آپ کو اس غلامی سے نہیں نکال سکیں گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انصاف لیبر ونگ کراچی کے تحت کراچی پریس کلب پر منعقدہ سیمینار ’’ باعنون موجودہ حکومت کی مزدور دشمن پالیسی ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں ملک معروف اور سینئر مزدور رہنماؤں اور مختلف اداروں کی ٹریڈ یونینز کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ سیمینار سے ممتاز مزدور رہنماؤں جن میں عبدالعزیز میمن ، منظور رضی ، جعفر خان ، مخدوم ایوب قریشی ، خالد عمران ، گل محمد آفریدی ، روشن کلہوڑو، شیخ مجید ، راحیل اقبال ، عزیز الرحمن ، آصف شیخ ، نصیر احمد، عبید الرحمن، غلام مرتضیٰ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔ زبیر خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ملک بھر کے اہم ، حساس اور منافع بخش اداروں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے من پسند افسران اور ذاتی ٹھیکیداروں کے ذریعے کھوکھلا کر کے نجکاری کی راہ ہموار کررہی ہے تاکہ ان اداروں کو اپنے فرنٹ مینو ں کو اونے پونے داموں پر فروخت کر کے لوٹ مار کرنا چاہتی ہے ، تحریک انصاف اس تاریخی ڈکیتی پر خاموش نہیں بیٹھی گی ، حکومت نے اگر اپنا قبلہ درست نہ کیا اور اس کرپشن کا دروازہ بند نہ کیا تو پھر اس کے لیے حکومت میں رہنا آسان نہ ہوگا ، ہم ملک بھر کے محنت کشوں اور مزدور دوست تنظیموں کے ذریعے ان کا ناطقہ بند کردینگے اور ایسا احتجاج کرینگے کہ ان کو بھاگنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ملے گا ۔ زبیر خان نے کہا کہ مزدوروں کے خلاف متعدد قوانین بننے کے بعد اب NIRC کی جانب سے کالے احکامات کا اجراء بھی شروع کردیا گیا ہے ، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ NIRCکورٹس کا قیام مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور کسی زیادتی کے خلاف انہیں بروقت اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا ، لیکن اب لگتا ہے کہ 4-Aجیسے امتیازی ہدایت پر مبنی احکامات کا ذریعے یہ کورٹس بھی سرمایہ داروں کی اوطاقوں میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں جس کے ذریعے مزدوروں کے خلاف انصاف مہیا کرنے والے تمام دروازوں پر تالا لگایا جارہا ہے ۔ ہم اس سیمینار کے ذریعے NIRCکے چیئرمین سے مطالبہ کرتے ہیں جس طرح 4-Aکے ذریعے عدالتی چابک دستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ویسی ہی پھرتی 4-Bکے مقدمات پر بھی لاگو کی جائیں تاکہ مزدوروں کی اشک شوئی کا کوئی تو سامان پیدا ہوسکے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ہم ان کورٹس کا بھی گھیراؤ کرینگے کہ جہاں سرمایہ دار کے لیے تو سب کچھ ہے لیکن مزدور کے لیے کچھ بھی نہیں ۔

شادی بیاہ کی غیر شرعی رسمیںعلامہ سید شاہ تراب الحق قادری  جمعـء 16 جنوری 2015آج کل شادی بیاہ کے مواقع پر مختلف رسمیں رائ...
16/01/2015

شادی بیاہ کی غیر شرعی رسمیں
علامہ سید شاہ تراب الحق قادری جمعـء 16 جنوری 2015
آج کل شادی بیاہ کے مواقع پر مختلف رسمیں رائج ہوگئی ہیں، مثلا ً پھولوں کا سہرا، اُبٹن مایوں، مہندی، بری، فائرنگ، آتش بازی، پٹاخے، ویڈیو فلم اور گانا بجانا۔

صدرُالشریعہ فرماتے ہیں، رسوم کی بنا عرف پر ہے، یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ شرعا ًواجب یا سنت یا مستحب ہیں لہٰذا جب تک کسی رسم کی ممانعت شریعت سے ثابت نہ ہو اس وقت تک اسے حرام یا ناجائز نہیں کہہ سکتے، مگر یہ ضرور ی ہے کہ رسوم کی پابندی اس حد تک کرسکتا ہے کہ کسی حرام فعل میں مبتلا نہ ہو۔ بعض لوگ اس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پرواہ نہیں مگر رسم کا چھوڑنا گوارہ نہیں، مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسمیں چھوڑ دیں اور نکاح کردیں کہ سبک دوش ہوں اور فتنہ کا دروازہ بند ہو۔ اب رسوم کے پورا کرنے کی بھیک مانگتے، طرح طرح کی فکریں کرتے ہیں اس خیال میں کہ کہیں سے قرض مل جائے تو شادی کریں، برسوں گزار دیتے ہیں اور یوں بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ (بہارشریعت، حصہ ہفتم، ص69)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ؒ خان فاضل بریلوی نے رسوم کے متعلق دو اہم قواعد بیان فرمائے ہیں جن کا سمجھنا ضروری ہے۔ آپ فرماتے ہیں، شرع شریف کا قاعدہ ہے کہ جس چیز کو خدا اور رسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے بُرا فرمائیں وہ بُری، اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع میں نہ اس کی خوبی بیان ہوئی نہ برائی، وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل و ترک میں ثواب نہ عتاب۔ کسی سے مشابہت کی بنا پر کسی فعل کی ممانعت اسی وقت صحیح ہے کہ جب فاعل کا ارادہ مشابہت کا ہو، یا وہ فعل اہل باطل کا شعار و علامت خاصہ ہو جس کے سبب وہ پہچانے جاتے ہوں یا اگر خود اس فعل کی مذمت شرع مطہر سے ثابت ہو تو اسے بُرا کہا جائے گا ورنہ ہرگز نہیں اور پھولوں کا سہرا اِن سب باتوں سے پاک ہے لہٰذا جائز ہے۔ دولہا دلہن کو اُبٹن لگانا، مائیوں بٹھانا جائز ہے (بشرطیکہ کوئی اور خلاف شرع امور جیسے گانا بجانا اور نامحرموں سے اختلاط وغیرہ نہ پائے جائیں) دولہا کو مہندی لگانا ناجائز ہے۔ ڈال بَری کی رسم کہ کپڑے وغیرہ بھیجے جاتے ہیں جائز ہے البتہ دولہا کو ریشمی کپڑے پہننا پہنانا حرام ہے۔ (بہارِشریعت، حصہ ہفتم )

فی زمانہ صرف مہندی کی رسم پر لاکھوں خرچ کردیے جاتے ہیں جوکہ اسراف و حرام ہے پھر اس موقع پر عورتوں کا بن سنور کر بے پردہ نامحرموں کے سامنے آنا حرام۔ مزید یہ کہ گانا بجانا ہوتا ہے وہ بھی حرام۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان تمام خرافات کی ویڈیو فلم بنائی جاتی ہے تاکہ بے پردہ عورتوں کے ناچ گانے اور دیگر بے حیائی جب دل چاہے دیکھی جائیں، ظاہر ہے کہ یہ ویڈیو فلم بنانا اور بنوانا بھی حرام و سخت گناہ کا باعث ہیں۔ آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا، ارشاد ہوا ’’ اور فضول نہ اُڑا، بے شک (مال ) اُڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘(بنی اسرائیل)

ناچ گانے بجانے کی رسم کے متعلق صدرُالشریعہ مولانا امجد علی قادری قدس سرہ فرماتے ہیں ۔ اکثر جاہل خاندانوں میں رواج ہے کہ محلے کی یا رشتے دار عورتیں جمع ہوتی ہیں اور گاتی بجاتی ہیں یہ حرام ہے۔ اول ڈھول بجانا ہی حرام پھر عورتوں کا گانا، مزید برآں عورتوں کی آواز نامحرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی اور عشق و ہجر وصال کے اشعار۔ (بہارشریعت، حصہ ہفتم، ص70)

ناچ کے متعلق صدر الشریعہ رقم طراز ہیں، ناچ میں جن فواحش و بدکاریوں اور محرب اخلاق باتوں کا اجتماع ہوتا ہے ان کے بیان کی حاجت نہیں، ایسی ہی مجلسوں میں اکثر نوجوانوں آوارہ ہوجاتے ہیں، دھن دولت برباد کر بیٹھتے ہیں، بازاریوں سے تعلق اور بُرے نتائج رونما ہوتے ہیں اگر کوئی ان بدکاریوں سے محفوظ رہا تو اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ حیا و غیرت اٹھا کر طاق پر رکھ دیتا ہے۔ (بہار شریعت)

مذکورہ بالا ناجائز رسموں کو ایسا لازم سمجھ لیا گیا ہے کہ گویا ان کے بغیر شادی ہی نہ ہوگی۔ ناچ، باجے اور آتش بازی حرام ہیں، کون ان کی حرمت سے واقف نہیں مگر بعض لوگ ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو گویا شادی ہی نہ ہوئی بلکہ بعض تو اتنے بے باک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ حرام کام نہ ہوں تو اسے غمی اور جنازے سے تعبیر کرتے ہیں (خدا کی پناہ ) یہ خیال نہیں کرتے کہ بُری رسم ایک تو گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے دوسرے مال کا ضائع کرنا ہے، تیسرے تمام تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے گناہوں کے مجموعہ کے برابر اس اکیلے پر گناہ کا بوجھ ہے (کہ اگر یہ اپنے گھر گناہوں کے سامان نہ پھیلاتا تو آنے والے ان گناہوں میں مبتلا نہ ہوتے۔

توہین آمیز خاکے شائع کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلا جارہاہے، الطاف حسینلندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطا...
16/01/2015

توہین آمیز خاکے شائع کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلا جارہاہے، الطاف حسین

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے فرانسیسی میگزین میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کاعمل کرکے نہ صرف مسلمانوں کواشتعال دلانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ دنیا کوتیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے۔

لندن سے جاری بیان میں الطاف حسین نےکہا کہ اگر اس طرح کی گستاخیاں جاری رہیں اور قوموں کے جذبات قابوسے باہرہوگئے توکہیں تیسری عالمی جنگ نہ ہوجائے لہٰذا ملت اسلامیہ اس معاملے پر ہوش مندی کامظاہرہ کرے اور اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے اندر اتحاد پیدا کرے۔ انہوں نےکہا کہ ہم فرقہ واریت کی آگ میں جل رہے ہیں ہمیں پہلے کچھ نکتوں پر متحد ہونا چاہئے۔

الطاف حسین نےکہا کہ دہشت گردی کرنے والوں اور گستاخانہ کارٹون شائع کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے، توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت قابل مذمت ہے اس کی پرامن طریقے سے جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہروں سے جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و دوستی ممکن نہیں، ترجمان پاک فوجلندن: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل ...
16/01/2015

مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و دوستی ممکن نہیں، ترجمان پاک فوج
لندن: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا ہےکہ وزیراعظم نوازشریف نے بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و دوستی ممکن نہیں.

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ دورہ برطانیہ میں شریک ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے برطانوی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے سیکریٹری سطح مذاکرات خود ختم کیے جبکہ وزیراعظم نوازشریف نے نریندرمودی سے ملاقات اور مذاکرات بھی کیے اور بھارت کو ڈی جی سطح پر مذاکرات کی دعوت بھی دی گئی لیکن بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے پاکستان پر غلط الزمات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و دوستی ممکن نہیں۔

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو ہر حال میں شکست دی جائے گی، شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں بلا امتیاز کارروائیاں ہورہی ہیں اور اس میں دہشت گردوں کے خلاف اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں،آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک 2 ہزار دہشتگرد ہلاک اور 200 فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں لہٰذا یہ آپریشن گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ ترجمان پاک فوج نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سپورٹ بہت ضروری ہے اور دہشتگردوں کے معاشی وسائل اور فنڈنگ کے ذرائع ختم کرنا ہوں گے کیونکہ کوئی بھی دہشت گرد تنظیم مالی وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ بلوچستان میں ایک سیاسی اور قومی جدوجہد کی جارہی ہے، صوبے میں دہشت گردی کو ہمسائے ممالک کی سپورٹ حاصل ہے جبکہ بلوچستان کے دہشت گردوں کے افغانستان میں کیمپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ حملہ ناکام بنایا اور یہی حملہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی بڑی وجہ بنا۔

16/01/2015

غیرملکیوں کے جعلی شناختی کارڈ بنانے والے نادرا اہلکار کو 7 سال قید کی سزا

Address

106/1, High Court Road Near Sindh Secretariat Opposite Sindh High Court
Karachi

Telephone

+92-21-32630830

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CHECK & WATCH posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to CHECK & WATCH:

Share

Category