Abdul Rasool Speaks

Abdul Rasool Speaks From serious insights to fun updates, Let's embark on this exciting learning journey together.

I am a Passionate teacher/mentor, dedicated,digital creator sharing a mix of everything literature, history,sports, showbiz, media trends, and trending stories.

جب خیرات بھی نمائش بن جائے: کیا یہ اب بھی خیرات رہتی ہے؟آج کے سوشل میڈیا کے دور میں شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ س...
16/09/2026

جب خیرات بھی نمائش بن جائے: کیا یہ اب بھی خیرات رہتی ہے؟

آج کے سوشل میڈیا کے دور میں شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہر نیکی کو دکھانا بھی ضروری ہے؟ کیا خیرات اس وقت بھی خیرات رہتی ہے جب اسے کیمرے کے سامنے کیا جائے، ویڈیو بنائی جائے، ریلز تیار ہوں، بینرز لگائے جائیں اور ضرورت مند انسان کی بے بسی ہزاروں لوگوں کے سامنے نمائش کے لیے پیش کر دی جائے؟

یہ ہمارے دور کا ایک تلخ تضاد ہے کہ جس عمل کا بنیادی مقصد کسی انسان کی مدد، اس کی تکلیف کم کرنا اور اسے عزت کے ساتھ سہارا دینا ہونا چاہیے، وہ بعض اوقات تشہیر، فالوورز، چندے اور ذاتی شہرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کی رضا کے لیے نیکی کر رہے ہیں، مگر کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ضرورت مند کی مدد سے زیادہ اپنی نیکی کی تشہیر کر رہے ہیں؟

خیرات صرف دینا نہیں، عزت بچانا بھی ہے

اسلام میں صدقہ و خیرات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بھوکے کو کھانا دینا، بیمار کا علاج کرانا، یتیم اور محتاج کا سہارا بننا، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا یقیناً عظیم انسانی اور دینی عمل ہیں۔ مگر خیرات کی روح صرف کسی کو کچھ دے دینا نہیں؛ اس کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔

ضرورت مند کی کوئی ذات، برادری، مذہب، نسل یا سماجی حیثیت نہیں دیکھی جانی چاہیے۔ وہ انسان ہے، اور اس کی ضرورت ہی مدد کے لیے کافی ہونی چاہیے۔

لیکن جب کسی غریب بچے کو کھانا دیتے ہوئے اس کا چہرہ بار بار کیمرے میں دکھایا جائے، کسی بے گھر عورت کی بے بسی کو ویڈیو کا حصہ بنایا جائے یا راشن تقسیم کرتے ہوئے لوگوں کی قطاریں اور ان کے چہرے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جائیں تو سوال صرف تصویر کا نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس انسان کی ضرورت پوری کی یا اس کی مجبوری کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا؟

غربت کہیں ہمارے لیے کاروبار تو نہیں بن رہی؟

سب سے زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمدردی بھی کاروباری ماڈل بن جائے۔

ایک غریب بچہ جتنا زیادہ پریشان نظر آئے، ویڈیو اتنی زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ جتنی زیادہ جذباتی کہانی ہو، اتنے زیادہ ویوز اور شیئرز مل سکتے ہیں۔ زیادہ ویوز کا مطلب زیادہ فالوورز، زیادہ فالوورز کا مطلب زیادہ چندہ، اور یوں کسی انسان کی غربت کسی دوسرے شخص کے لیے ایک ایسا ذریعہ بن سکتی ہے جس سے وہ اپنی شہرت یا آمدنی میں اضافہ کرے۔

یہاں ہمیں اپنے آپ سے بہت سخت سوال کرنا ہوگا:

کیا ہم غریب کی مدد کر رہے ہیں، یا اس کی غربت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟

اگر ایک شخص کی بھوک ہماری ویڈیو کی مقبولیت کا ذریعہ بن جائے، اس کے پھٹے کپڑے ہماری تشہیر کا حصہ بن جائیں اور اس کے آنسو چندہ جمع کرنے کا ذریعہ بن جائیں تو پھر ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کتنی رقم جمع ہوئی۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس عمل میں اس انسان کی عزتِ نفس کی کتنی قیمت ادا ہوئی۔

نیکی ایسی ہو کہ لینے والا شرمندہ نہ ہو

ضرورت مند شخص کے لیے مدد مانگنا خود ایک مشکل تجربہ ہوتا ہے۔ اسے اپنی مجبوری بیان کرنا پڑتی ہے، دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے اور اپنی نجی زندگی کے ایسے حالات بتانے پڑتے ہیں جنہیں وہ شاید دنیا سے چھپانا چاہتا ہو۔

ایسے میں اگر اس کی بھوک، بیماری، غربت اور بے بسی کو کیمرے کے سامنے لا کر ہزاروں لوگوں کے ساتھ شیئر کر دیا جائے تو ہم شاید اس کی مالی ضرورت تو پوری کر دیں، مگر اس کی عزتِ نفس کو زخمی کر دیتے ہیں۔

سوچیے، جس بچے کو ہم کھانا دے رہے ہیں، اگر وہ برسوں بعد وہی ویڈیو دیکھے تو اسے کیسا محسوس ہوگا؟

جس عورت کی غربت ہم آج اپنی پوسٹ کی مقبولیت کے لیے دکھا رہے ہیں، کیا اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اس کی زندگی کا سب سے مشکل لمحہ اس کی اجازت کے بغیر دنیا کے سامنے نہ لایا جائے؟

مدد کرنے والے کو تعریف، فالوورز اور چندہ مل سکتا ہے، مگر ضرورت مند کے لیے اس کی غربت کا وہ منظر ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ پر محفوظ ہو جاتا ہے۔

ہر مانگنے والا واقعی ضرورت مند بھی نہیں

یہ بھی حقیقت ہے کہ خیرات کے نظام میں صرف دینے والوں ہی کو نہیں، دھوکا دہی کرنے والوں کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔

کووڈ-19 کے دوران مجھے ذاتی طور پر یہ احساس ہوا کہ غربت اور بے روزگاری کو سمجھنے کے لیے صرف سڑک پر پیسے بانٹ دینا کافی نہیں۔ ایک دوست کے ساتھ ہم نے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا جو روزگار سے محروم ہو گئے تھے، اور انہیں تعمیراتی کام کی پیشکش کی۔ ہماری کوشش تھی کہ وقتی رقم دینے کے بجائے انہیں کام کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے گھر کا خرچ خود چلا سکیں۔ چند لوگوں نے یہ کام قبول کیا اور انہیں بحران کے دوران گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے 30 ہزار روپے دیے گئے۔

اس تجربے نے ایک اہم سوال پیدا کیا:

کیا خیرات کا مقصد صرف آج کا مسئلہ حل کرنا ہے، یا انسان کو کل کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا کرنا بھی ہے؟

ہر ضرورت مند کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ واقعی انتہائی مشکل حالات میں ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مدد کے نظام کو دھوکے سے استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ چند لوگوں کی بددیانتی کا نقصان بالآخر ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو حقیقت میں مستحق ہوتے ہیں۔

ایک واقعہ جس نے خیرات پر اعتماد ہلا دیا

حال ہی میں ایک شخص مجھ سے اپنی بیمار بیٹی کی دوائیوں کے لیے رقم مانگنے آیا۔ اس نے ڈاکٹر کا نسخہ بھی دکھایا۔ بظاہر وہ واقعی پریشان اور مجبور معلوم ہوتا تھا۔ مجھے اس کی بات پر یقین آیا، چنانچہ میں نے اس کے لیے دوائیں خرید دیں۔

لیکن کچھ دیر بعد ایک حیران کن بات سامنے آئی۔ وہ شخص وہی دوائیں واپس فارمیسی پر لے گیا اور ان کے بدلے رقم حاصل کرنے کی کوشش کی۔

جب میں نے فارماسسٹ سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے مطابق ایسے لوگ مختلف افراد کے پاس الگ الگ کہانیاں لے کر جاتے ہیں، کبھی بیمار بچی کا ذکر کرتے ہیں، کبھی کسی اور مجبوری کا۔ لوگوں کو قائل کر کے دوائیں خریدواتے ہیں اور مدد کرنے والا شخص جیسے ہی وہاں سے جاتا ہے، وہ دوائیں واپس کرکے نقد رقم حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ صرف ایک شخص کی دھوکا دہی نہیں۔ ایسے واقعات انسانی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی حقیقی ضرورت مند مدد کے لیے سامنے آتا ہے تو لوگ شک کرنے لگتے ہیں۔ یوں چند دھوکے باز لوگ ہزاروں حقیقی مستحق افراد کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔

خیرات کی مقدار نہیں، اس کا اثر اہم ہے

ہمیں خیرات کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری ویڈیو کو کتنے لوگوں نے دیکھا۔

یہ پوچھنا چاہیے کہ ہماری مدد سے کتنی زندگی بدلی؟

یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کتنے راشن کے تھیلے تقسیم کیے گئے۔

یہ دیکھنا چاہیے کہ کتنے خاندان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے؟

صرف سستا کھانا، پرانے کپڑے یا وقتی رقم دے دینا بعض حالات میں فوری ضرورت پوری کر سکتا ہے، لیکن اگر کسی شخص کو بار بار خیرات کی ضرورت پڑ رہی ہے تو شاید ہمیں مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

تعلیم، صحت، فنی تربیت، روزگار اور چھوٹے کاروبار کے مواقع ایسے راستے ہیں جو انسان کو مستقل طور پر مضبوط بنا سکتے ہیں۔

بہترین مدد وہ ہے جو انسان کو ہمیشہ مدد کا محتاج نہ رکھے۔

اصل سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے

خیرات کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ دینے والے نے کتنی رقم دی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس نے کس نیت سے دی، کس طریقے سے دی اور لینے والے کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔

اگر کسی غریب کی مدد کرتے ہوئے ہم اس کی عزت بچاتے ہیں، اسے خود انحصاری کی طرف لے جاتے ہیں اور اپنی نیکی کو نمائش نہیں بناتے تو خیرات واقعی انسانیت کی خدمت بن جاتی ہے۔

لیکن اگر کسی کی غربت ہماری ویڈیو کا مواد بن جائے، اس کی بے بسی ہمارے فالوورز بڑھائے اور اس کی مجبوری ہمارے لیے چندہ یا آمدنی کا ذریعہ بن جائے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔

آخر میں شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:

ہم غریبوں کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ہماری ضرورت ہے، یا ہم غریبوں کی غربت اس لیے دکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنی نیکی ثابت کرنے کے لیے ان کی مجبوری کی ضرورت ہے؟

کیونکہ حقیقی خیرات وہ نہیں جو کیمرے کے سامنے دکھائی جائے۔

حقیقی خیرات وہ ہے جس کے بعد ضرورت مند کے چہرے پر کیمرے کی چمک نہیں، بلکہ زندگی میں امید کی روشنی نظر آئے۔

اور شاید نیکی کی سب سے خوبصورت صورت یہی ہے کہ دائیں ہاتھ سے دیا جائے تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو، اور لینے والے کی عزت دنیا سے بھی محفوظ رہے۔

Source Express Tribune

13 مرد، ایک بھی عورت نہیں: پاکستان میں علمی نمائندگی کا سوال’’پورے پاکستان‘‘ پر گفتگو، مگر خواتین کہاں ہیں؟سال 2026 ہے۔ ...
16/09/2026

13 مرد، ایک بھی عورت نہیں: پاکستان میں علمی نمائندگی کا سوال
’’پورے پاکستان‘‘ پر گفتگو، مگر خواتین کہاں ہیں؟

سال 2026 ہے۔ 25 کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ ایسے ملک میں اگر کسی تعلیمی ادارے میں ’’پاکستان اور اس کے عوام کے لیے سیاسیات کو نئے سرے سے سوچنا‘‘ کے عنوان سے ایک اہم کانفرنس منعقد ہو تو توقع کی جاتی ہے کہ اس میں ملک کے مختلف طبقات، علاقوں اور خصوصاً خواتین کی آواز بھی شامل ہوگی۔

لیکن اس کانفرنس کی 13 رکنی پینل میں ایک بھی خاتون شامل نہیں تھی۔

13 مرد، صفر خواتین۔

یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ہمارے علمی اور سیاسی رویوں کی ایک ایسی تصویر ہے جو کئی بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔

اگر موضوع انتہائی مخصوص اور تکنیکی نوعیت کا ہوتا اور دنیا بھر میں اس شعبے کے ماہرین میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث ایسا ہوتا تو شاید اس کی ایک وضاحت موجود ہوتی۔ لیکن یہاں صورتحال مختلف تھی۔ مقررین میں زیادہ تر صحافی اور سیاست دان شامل تھے، اور انتخاب صرف کسی انتہائی مخصوص علمی تخصص یا غیر معمولی تحقیقی قابلیت کی بنیاد پر نہیں کیا گیا تھا۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان کی باصلاحیت خواتین صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سیاست دانوں اور سیاسیات کے ماہرین میں سے ایک بھی آواز اس بحث کے لیے کیوں موزوں نہ سمجھی گئی؟

مسئلہ صرف ایک کانفرنس کا نہیں

یہ کہنا آسان ہوگا کہ یہ صرف منتظمین کی ایک غلطی تھی۔ لیکن مسئلہ اس سے کہیں گہرا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر یہ طے کرتے وقت کہ کسی موضوع پر ’’ماہر‘‘ یا ’’بااختیار آواز‘‘ کس کی ہوگی، لاشعوری طور پر مرد کو پہلے ذہن میں رکھا جاتا ہے۔ خاتون کو اسی مقام تک پہنچنے کے باوجود خود کو ثابت کرنے کی ایک اضافی شرط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید یہ کہ اگر کانفرنس کا موضوع پورے پاکستان کا سیاسی مستقبل ہو تو مقررین میں کسی ایک صوبے کی نمایاں اکثریت بھی سوال پیدا کرتی ہے۔ پاکستان محض ایک صوبہ نہیں، نہ ہی اس کا سیاسی تجربہ ایک ہی خطے تک محدود ہے۔

اگر ہم واقعی وفاق، صوبائی تعلقات، نمائندگی اور مستقبل کے پاکستان پر بات کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کی جغرافیائی اور صنفی تنوع کو گفتگو کا حصہ بنانا ہوگا۔

خواتین صرف ’’خواتین کے مسائل‘‘ پر کیوں بولیں؟

یہاں ایک بنیادی ذہنی رویے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اکثر خواتین کو ایسے موضوعات پر مدعو کیا جاتا ہے جنہیں ’’خواتین کے مسائل‘‘ سمجھا جاتا ہے: تعلیم، صحت، بچوں کی تربیت، صنفی مساوات یا خاندانی معاملات۔

لیکن جب موضوع سیاست، معیشت، دفاع، وفاق، آئین، خارجہ پالیسی یا ریاست کے مستقبل کا ہو تو ’’ماہر‘‘ کی ہماری عمومی تصویر اچانک مرد بن جاتی ہے۔

یہ تصور خود ایک مسئلہ ہے۔

پاکستان کے مستقبل کا سوال مردوں اور خواتین دونوں کا سوال ہے۔ وفاق کی نوعیت، صوبوں کے اختیارات، معیشت، تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، جمہوریت اور سیاسی نظام کے اثرات بھی دونوں جنسوں پر پڑتے ہیں۔ پھر ان موضوعات پر ہونے والی گفتگو میں ایک بڑی آبادی کی آواز غیر ضروری کیسے قرار دی جاسکتی ہے؟

تعلیمی ادارے سے زیادہ توقع کیوں؟

یہ واقعہ کسی عام سیاسی جلسے میں نہیں بلکہ ایک تعلیمی ادارے میں پیش آیا۔ یہی بات اسے زیادہ اہم بناتی ہے۔

یونیورسٹیاں اور علمی ادارے معاشرے کے اس حصے کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں علم، تحقیق اور میرٹ کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ انہیں ملک کے علمی اور پیشہ ورانہ ٹیلنٹ کی وسعت کا دوسروں سے زیادہ علم ہونا چاہیے۔

پاکستان میں تعلیمی میدان کے اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ خواتین کسی بھی لحاظ سے صلاحیت کے میدان میں پیچھے نہیں۔

مثلاً رواں سال وفاقی بورڈ کے ایچ ایس ایس سی نتائج میں پانچوں گروپس کی مجموعی طور پر پہلی 15 پوزیشنز میں 11 لڑکیوں نے حاصل کیں۔ اسی طرح ایچ ایس ایس سی پارٹ ٹو میں لڑکیوں کی کامیابی کا تناسب تقریباً 90 فیصد جبکہ لڑکوں کا 79 فیصد رہا۔

اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس باصلاحیت خواتین موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی صلاحیت کو فیصلہ سازی، علمی مباحث اور قومی پالیسی کی گفتگو میں وہ جگہ دینے کے لیے تیار ہیں جس کی وہ اہل ہیں؟

’’خواتین کم ہیں‘‘ کہنا کافی نہیں

اس صورتحال کا دفاع کرتے ہوئے اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کی تعداد مردوں سے کم ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہوسکتی ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جان بوجھ کر نظرانداز ہوجاتا ہے:

خواتین کم کیوں ہیں؟

کیا ہر لڑکی کو اپنی تعلیم مکمل کرنے، اپنی پسند کا پیشہ اختیار کرنے اور اسے جاری رکھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوتے ہیں؟

کتنی خواتین نے تعلیم تو حاصل کی مگر شادی، خاندانی دباؤ، سماجی توقعات یا دیگر رکاوٹوں کے باعث عملی میدان چھوڑ دیا؟ کتنی خواتین نے کسی پیشے میں قدم رکھا لیکن ترقی کے مواقع، کام کے ماحول یا گھریلو ذمہ داریوں کے باعث آگے نہ بڑھ سکیں؟

اس لیے صرف یہ کہنا کہ ’’خواتین پروفیشنل شعبوں میں کم ہیں‘‘ مسئلے کی وجہ نہیں بتاتا۔ یہ تو صرف نتیجہ بیان کرتا ہے۔

میڈیکل کالج سے عملی زندگی تک کا سفر

خواتین کے حوالے سے ایک عام مشاہدہ یہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود عملی طور پر ڈاکٹر کے طور پر کام نہیں کرتیں۔

لیکن ایسے اعداد و شمار کے پیچھے موجود سماجی سوال زیادہ اہم ہے۔

کیا ہر خاتون کو اپنے والدین، شوہر اور خاندان کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی جاری رکھ سکے؟ کیا اسے گھر اور کام کے درمیان تمام ذمہ داریاں برابر تقسیم کرنے میں مدد ملتی ہے؟

اگر نہیں، تو پھر صرف یہ کہنا کہ ’’خواتین خود ملازمت چھوڑ دیتی ہیں‘‘ مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

بعض اوقات معاشرہ پہلے راستے محدود کرتا ہے اور پھر اسی محدودیت کو خواتین کی اپنی پسند قرار دے دیتا ہے۔

اصل رکاوٹ ذہنوں میں ہے

یہ مسئلہ صرف کانفرنسوں، سیمیناروں یا پینل ڈسکشنز تک محدود نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی ذہن میں موجود ایک گہرے تعصب سے جڑا ہوا ہے۔

ہم جب کسی موضوع پر ماہر کا نام سوچتے ہیں تو اکثر ذہن میں مرد کا نام پہلے آتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض شعبوں میں ایسی خواتین بھی موجود ہوتی ہیں جن کی تحقیق، تجربہ اور علمی کام کسی بھی مرد ماہر سے کم نہیں، مگر انہیں اتنی آسانی سے ’’اتھارٹی‘‘ نہیں سمجھا جاتا۔

یہ تعصب ہمیشہ شعوری نہیں ہوتا۔ یہی اس کی خطرناک خصوصیت ہے۔

کبھی منتظمین جان بوجھ کر خواتین کو نظرانداز نہیں کرتے؛ وہ صرف یہ سوچتے ہی نہیں کہ پینل میں خواتین کیوں نہیں ہیں۔ لیکن غور نہ کرنا بھی بعض اوقات ایک رویہ بن جاتا ہے۔

نمائندگی صرف تعداد کا کھیل نہیں

خواتین کی نمائندگی کا مطالبہ محض یہ نہیں کہ ہر پینل میں لازماً ایک مخصوص تعداد میں خواتین ہونی چاہئیں۔ اصل مسئلہ اس سے زیادہ بنیادی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا فیصلہ سازی اور علمی گفتگو کے دروازے سب کے لیے یکساں طور پر کھلے ہیں؟

اگر کسی کانفرنس کا موضوع پورے معاشرے کا مستقبل ہے تو مختلف تجربات، نقطۂ نظر اور زندگی کے تجربات اس گفتگو کو زیادہ وسیع بناتے ہیں۔ خواتین کی شمولیت کسی ’’احسان‘‘ یا رسمی خانہ پُری کا نام نہیں بلکہ علمی مکالمے کو مکمل کرنے کا ذریعہ ہے۔

تبدیلی نعروں سے نہیں، اپنے عمل سے آئے گی

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی کانفرنسوں کے کئی شرکا ایک زیادہ مساوی اور منصفانہ معاشرے کی حمایت کرتے ہوئے تقاریر بھی کرتے ہیں۔

لیکن کسی نظریے کی اصل آزمائش تقریر میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتی ہے۔

اگر ہم مساوات، نمائندگی اور شمولیت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اداروں، کانفرنسوں، کمیٹیوں اور پینلوں کو بھی اسی معیار پر پرکھنا ہوگا۔

اگلی بار جب پاکستان کے مستقبل، سیاست، وفاق، معیشت یا کسی بھی بڑے قومی مسئلے پر کانفرنس منعقد ہو تو منتظمین اور مقررین کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون دستیاب ہے؟

انہیں یہ بھی پوچھنا چاہیے:

کیا ہم نے واقعی ان لوگوں کو مدعو کیا ہے جو اس ملک کی مختلف حقیقتوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟

اور جو لوگ خود کو ایک زیادہ مساوی معاشرے کا حامی سمجھتے ہیں، انہیں بھی اگلی دعوت قبول کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اپنے اردگرد دیکھ لینا چاہیے۔

کیونکہ کبھی کبھی ہم جس معاشرے کی تقریر کرتے ہیں، ہماری اپنی محفل اس معاشرے کی اصل تصویر پیش کر رہی ہوتی ہے۔

13 مرد، ایک بھی عورت نہیں — شاید یہی وہ آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنے دعووں اور اپنے عمل کے درمیان فاصلے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Source Express Tribune

بہار میں تباہ کن سیلاب: 50 لاکھ افراد متاثر، مگر ہر سال کا سوال برقرارپانچ کروڑ نہیں، 50 لاکھ زندگیاں پانی میں گھِر گئیں...
16/09/2026

بہار میں تباہ کن سیلاب: 50 لاکھ افراد متاثر، مگر ہر سال کا سوال برقرار
پانچ کروڑ نہیں، 50 لاکھ زندگیاں پانی میں گھِر گئیں

بھارت کی مشرقی ریاست بہار ایک بار پھر شدید سیلاب کی زد میں ہے اور حکام کے مطابق تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ شدید بارشوں کے بعد ریاست کے تمام سات بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح منگل کے روز خطرے کے نشان سے اوپر ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن سیلاب نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر بہار کے لاکھوں شہری ہر سال قدرتی آفت کے سامنے اتنے بے بس کیوں ہوجاتے ہیں؟

’’سیلاب ہماری قسمت ہے‘‘ — ایک تلخ حقیقت

سارن ضلع کے 46 سالہ چندن کمار مہتو کا کہنا ہے:

’’سیلاب ہماری قسمت بن چکا ہے، ہر سال ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم بے بس ہیں اور خوراک، صاف پانی اور بچوں کے لیے دودھ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔‘‘

یہ صرف ایک متاثرہ شخص کی شکایت نہیں بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کی تصویر ہے جو ہر سال سیلاب، بے گھر ہونے، فصلوں کی تباہی اور بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔

اگر کسی خطے میں ایک ہی قدرتی آفت ہر سال بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتی رہے تو اسے صرف ’’قدرتی آفت‘‘ کہہ کر معاملہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سوال پھر پیشگی منصوبہ بندی، نکاسیٔ آب، بندوں کی حالت، دریاؤں کے انتظام اور آبادیوں کی منصوبہ بندی کا بھی بن جاتا ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری، ہزاروں خاندانوں کو مالی مدد

بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے مطابق سیلاب سے متاثرہ 8 لاکھ 27 ہزار سے زائد خاندانوں کو فی خاندان 7,000 بھارتی روپے منتقل کیے جاچکے ہیں۔

نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری نے کہا کہ ضرورت مند خاندانوں کو خوراک، صاف پینے کا پانی، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات مسلسل فراہم کی جارہی ہیں۔

حکومت نے متاثرہ علاقوں میں 13 امدادی کیمپ، ایک ہزار سے زائد کمیونٹی کچن اور تقریباً 1,800 کشتیاں بھی تعینات کی ہیں تاکہ متاثرہ آبادی تک خوراک اور دیگر ضروری اشیا پہنچائی جاسکیں۔

اصل نقصان صرف گھروں کا نہیں

سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر زرعی زمین بھی زیرِ آب آگئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ بحران کے ساتھ ساتھ آنے والے مہینوں میں بھی ہزاروں کسان خاندانوں کو آمدنی، خوراک اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کسی غریب یا متوسط کسان کے لیے فصل کا تباہ ہونا صرف ایک فصل کا نقصان نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ گھر کا بجٹ، بچوں کی تعلیم، قرض کی ادائیگی اور اگلے سیزن کی کاشت بھی متاثر ہوتی ہے۔

اسی لیے سیلاب سے نمٹنے کی پالیسی کو صرف امدادی سامان تقسیم کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے بحالی اور روزگار کی بحالی تک لے جانا ضروری ہے۔

نیپال سے آنے والا پانی، مگر مسئلہ صرف سرحد پار کا نہیں

بہار جغرافیائی طور پر نیپال کے نشیبی علاقے میں واقع ہے۔ گزشتہ ماہ نیپال میں بھی تباہ کن سیلاب آیا تھا، جس سے وہاں جانی نقصان ہوا۔

اس جغرافیائی حقیقت کے باعث بہار کے لیے سیلاب کا مسئلہ صرف ریاستی یا ملکی حدود کے اندر کا معاملہ نہیں۔ دریاؤں کے پانی، بارش اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے بھارت اور نیپال کے درمیان بروقت معلومات، پیشگی انتباہ اور مشترکہ منصوبہ بندی بھی اہم ہوسکتی ہے۔

’’ہر سال سیلاب‘‘ کو قسمت سمجھ لینا حل نہیں

بہار کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ سیلاب یہاں کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ ریاست پہلے ہی بھارت کی سب سے زیادہ سیلاب سے متاثر ہونے والی ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔

اس لیے ہر سال امدادی کیمپ قائم کرنا، کشتیاں چلانا اور نقد رقم تقسیم کرنا ضروری تو ہے، مگر کافی نہیں۔ اگر سیلاب ایک مستقل مسئلہ ہے تو اس کے لیے بھی مستقل اور طویل المدتی حکمتِ عملی ہونی چاہیے۔

دریاؤں کے بہاؤ، پشتوں کی مضبوطی، آبی ذخائر، نکاسیٔ آب، سیلابی میدانوں میں تعمیرات، جنگلات اور زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی جیسے معاملات کو ایک جامع پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

’’Build Back Better‘‘ کا اصل امتحان

وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے مطابق حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ ہر متاثرہ خاندان کو امداد ملے اور تعمیرِ نو اس انداز میں کی جائے کہ مستقبل میں بہتر حالات پیدا ہوں۔

یہ وعدہ اہم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ امدادی رقم یا کیمپوں کی تعداد نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ اگلے سیلاب سے پہلے کتنی تیاری کی گئی اور کتنے خاندانوں کو دوبارہ اسی تباہی سے بچایا جاسکا۔

قدرتی آفت یا انتظامی چیلنج؟

سیلاب یقیناً قدرتی عوامل سے پیدا ہوتا ہے، لیکن اس سے ہونے والی تباہی کی شدت ہمیشہ صرف قدرت کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ بہتر پیشگی انتباہ، مضبوط انفراسٹرکچر، مؤثر نکاسیٔ آب، محفوظ رہائشی منصوبہ بندی اور بروقت انخلا انسانی نقصان کو کم کرسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہار کے موجودہ بحران کو صرف ایک ہنگامی امدادی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ماحولیاتی، زرعی، انتظامی اور انسانی بحران کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

لاکھوں متاثرین کے لیے اصل سوال

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے وفاقی ٹیم بہار بھیجی ہے۔ یہ جائزہ امداد اور بحالی کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔

لیکن بہار کے لاکھوں متاثرین کے لیے اصل سوال اس سے بڑا ہے: کیا اگلے سال بھی یہی منظر دہرایا جائے گا؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو ہر سال امداد دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بحران کو وقتی طور پر سنبھالنا ہے۔

بہار کے شہریوں کو صرف سیلاب کے بعد کشتی، کھانا اور نقد رقم نہیں چاہیے؛ انہیں ایسا نظام چاہیے جو سیلاب آنے سے پہلے ان کے گھروں، فصلوں، روزگار اور بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے۔

قدرتی آفت کو شاید روکا نہ جاسکے، لیکن اس کی تباہ کاری کو کم کرنا حکومت، اداروں اور منصوبہ بندی کی ذمہ داری ضرور ہے۔

عوام مہنگائی میں الجھے ہیں، حکومت صوبوں کے نقشے بدلنے میںعوام کی پریشانی کچھ اور، حکومت کی ترجیح کچھ اورپاکستان میں اس و...
16/09/2026

عوام مہنگائی میں الجھے ہیں، حکومت صوبوں کے نقشے بدلنے میں
عوام کی پریشانی کچھ اور، حکومت کی ترجیح کچھ اور

پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ملک کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی کب بہتر ہوگی۔ مہنگائی، روزگار، کم آمدنی، بجلی اور گیس کے بل، معاشی بے یقینی اور مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش عوام کے حقیقی مسائل ہیں۔ اس کے برعکس حکومتی سطح پر ملک کے انتظامی نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے اور نئے صوبے بنانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

تازہ Ipsos سروے کے مطابق ہر چار میں سے تقریباً تین پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ معیشت اور بالخصوص مہنگائی عوام کی سب سے بڑی تشویش ہیں، جبکہ اکثریت ملکی معیشت کو مضبوط نہیں سمجھتی۔

یہ اعداد حکومت کے لیے محض ایک سروے نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی اور انتظامی پیغام ہیں: لوگ سب سے پہلے اپنی روزمرہ زندگی میں بہتری چاہتے ہیں۔

نئے صوبے: مسئلے کا حل یا توجہ کا رخ؟

نئے صوبوں کی بحث اپنی جگہ قابلِ غور ہے۔ بڑے انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنا بعض حالات میں انتظامیہ کو عوام کے قریب لاسکتا ہے، خدمات کی فراہمی بہتر ہوسکتی ہے اور دور دراز علاقوں کو زیادہ سیاسی و انتظامی نمائندگی مل سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف صوبائی سرحدیں تبدیل کرنے سے پاکستان کے بنیادی مسائل حل ہوجائیں گے؟

اب تک حکومت کی طرف سے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی ایسا جامع مطالعہ یا واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا جس سے معلوم ہوسکے کہ نئے صوبے بنانے کے بعد انتظامی اخراجات، وسائل کی تقسیم، روزگار، بیوروکریسی، پانی، بجلی، مالیاتی وسائل اور سیاسی نمائندگی کے مسائل کس طرح حل ہوں گے۔

محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچ دینا گورننس کی اصلاح نہیں۔ اگر ادارے کمزور، نظامِ احتساب ناقص اور انتظامیہ غیر مؤثر ہو تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل ہی کو نئی حدود میں منتقل کرسکتے ہیں۔

15 صوبے اور 160 ضلعی حکومتوں کی تجویز

یہ بحث اس وقت نمایاں ہوئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کی ضرورت کی بات کی۔ بعد ازاں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے 15 نئے صوبوں کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق ہر صوبے کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جبکہ ایک متبادل تجویز کے طور پر تقریباً 160 ضلعی حکومتوں کا تصور بھی پیش کیا گیا۔

اس دلیل میں ایک بنیادی نکتہ موجود ہے: حکومت عوام کے قریب ہو اور انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی ہوں تو فیصلہ سازی اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوسکتی ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اصل مقصد عوام کو بہتر حکومت فراہم کرنا ہے تو پھر مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے پر وہی توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟

سندھ نے واضح مخالفت کردی

نئے صوبوں کی بحث نے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بجائے فوری طور پر نئی سیاسی کشیدگی پیدا کردی۔ حکومت کی اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی اور سندھ اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کرائی جس میں صوبے کو تقسیم کرنے یا اس کے اندر سے نیا صوبہ بنانے کی تجاویز مسترد کی گئیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم نے قرارداد کے حوالے سے اپنے تحفظات ظاہر کیے اور اجلاس کا بائیکاٹ کیا، کیونکہ اس کے مطابق اس کی بعض تجاویز کو قرارداد میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معاملہ صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں۔ صوبائی شناخت، سیاسی مفادات، وسائل کی تقسیم اور وفاقی ڈھانچے کا سوال بھی اس بحث سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

حکومت کے اندر بھی یکساں مؤقف نہیں

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومتی صفوں سے بھی اس معاملے پر یکساں مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ایک طرف بعض وفاقی وزرا نئے صوبوں کو ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے مختلف رہنماؤں کے بیانات میں تضاد نظر آیا۔

پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف سامنے لائیں۔ پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ مریم نواز کے بارے میں اختلافی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

جب حکومتی اتحاد ہی کسی بنیادی آئینی اور انتظامی معاملے پر ایک صفحے پر نہ ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی کے لیے مطلوبہ سیاسی اتفاقِ رائے کیسے پیدا ہوگا؟

اپوزیشن بھی تقسیم کے خلاف

معاملہ صرف حکومتی اتحاد تک محدود نہیں۔ تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی اتحاد نے بھی صوبوں کی تقسیم کے منصوبے کو مسترد کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ معاشی اور سکیورٹی حالات میں صوبوں کی تقسیم کو ترجیح دینا مناسب نہیں۔ تحریک انصاف کا مؤقف بھی مکمل طور پر واضح نہیں رہا۔ ماضی میں پارٹی جنوبی پنجاب کے لیے الگ صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، جبکہ اب اس کے بعض رہنما موجودہ سیاسی بندوبست کے تحت کسی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں۔

بلوچستان میں نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ نئے صوبے موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

یوں اس وقت تصویر یہ بنتی ہے کہ نئے صوبوں کے حق میں سیاسی اتفاقِ رائے موجود نہیں، بلکہ خود یہ تجویز نئی سیاسی تقسیم پیدا کر رہی ہے۔

’’عوام کی مرضی‘‘ کا سوال

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ انتظامی تبدیلی ضروری ہے، لیکن یہ عوام کی مرضی سے ہوگی۔ اس بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

لیکن یہ راستہ خود کئی آئینی اور سیاسی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان میں ماضی کے متنازع ریفرنڈمز کی تاریخ بھی موجود ہے، اس لیے کسی بھی ایسے عمل کی ساکھ اور شفافیت بنیادی اہمیت رکھتی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا ریفرنڈم آئین میں مقررہ طریقۂ کار کو تبدیل یا نظرانداز کرسکتا ہے؟

اس لیے ’’عوام کی مرضی‘‘ کا اصول اپنی جگہ اہم ہے، مگر اسے آئینی طریقۂ کار اور حقیقی سیاسی اتفاقِ رائے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

صوبائی حدود بدلنے کا آئینی راستہ

پاکستان کے آئین میں صوبائی حدود تبدیل کرنے کے لیے واضح طریقۂ کار موجود ہے۔ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد درکار ہوتی ہے۔ اس کے بعد آئینی ترمیم کو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی صوبے کی مرضی کو نظرانداز کرکے محض سیاسی طاقت کے ذریعے اس کی حدود تبدیل کرنا آسان نہیں۔ یہی آئینی تحفظ وفاقی نظام میں صوبوں کے حقوق اور سیاسی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

لہٰذا اگر کوئی حکومت انتظامی اصلاحات کے نام پر اس آئینی راستے کو نظرانداز کرنے یا اس کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کرے تو یہ خود ایک بڑا آئینی تنازع پیدا کرسکتا ہے۔

اصل حل: صوبے نہیں، مقامی حکومتیں؟

اگر واقعی مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا، سرکاری خدمات بہتر بنانا اور عام شہری کو بااختیار کرنا ہے تو اس کے لیے ایک زیادہ بنیادی سوال مقامی حکومتوں کا ہے۔

پاکستان میں مقامی حکومتیں آئینی طور پر تسلیم شدہ تیسری سطحِ حکومت ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں اکثر محدود اختیارات، کم مالی وسائل اور غیر یقینی سیاسی حیثیت کا سامنا رہتا ہے۔

اس کے نتیجے میں شہریوں کو اپنے روزمرہ مسائل کے لیے صوبائی دارالحکومت یا ضلعی انتظامیہ تک جانا پڑتا ہے۔ اگر اختیارات، وسائل اور ذمہ داریاں واقعی نچلی سطح تک منتقل کردی جائیں تو ممکن ہے کہ نئے صوبوں کی ضرورت سے متعلق بہت سے دلائل خود کمزور پڑ جائیں۔

عوام کو نئے نقشے سے زیادہ بااختیار مقامی ادارے، بہتر اسکول، فعال اسپتال، صاف پانی، روزگار اور مؤثر انتظامیہ درکار ہے۔

انتظامی اصلاحات ضروری ہیں، مگر بنیادیں درست کرنا پہلے ہوگا

یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کو انتظامی اصلاحات کی ضرورت نہیں۔ بڑے صوبوں کے انتظامی مسائل، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، دور دراز علاقوں کی محرومی اور حکومت تک محدود رسائی حقیقی مسائل ہیں۔

لیکن انتظامی اصلاحات کو جادوئی حل سمجھنا بھی درست نہیں۔ اچھا نظام صرف نقشے بدلنے سے نہیں بنتا۔ اس کے لیے قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی احتساب، میرٹ، مؤثر بیوروکریسی، سیاسی استحکام، شفاف مالیاتی نظام اور قابلِ جواب دہ قیادت ضروری ہے۔

اگر یہ بنیادی عناصر موجود نہ ہوں تو ایک صوبے کو دو یا تین صوبوں میں تقسیم کرنے سے بدعنوانی، مہنگائی، بیروزگاری یا کمزور ادارے خود بخود ختم نہیں ہوں گے۔

عوام کی ترجیحات کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے

سب سے اہم مسئلہ یہی ہے کہ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی نظر میں اس وقت ’’گورننس‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ مہنگائی، روزگار، بجلی کے بل، معاشی عدم تحفظ اور بنیادی سہولیات کی کمی سے پریشان ہوں، وہاں صوبوں کی نئی حد بندی کو اولین ترجیح بنانا سیاسی طور پر بھی حساس اور انتظامی طور پر بھی مشکل سوال ہے۔

اصلاحات وہی مؤثر ہوتی ہیں جو مسئلے کی جڑ کو نشانہ بنائیں۔ اگر مسئلہ کمزور مقامی حکومت، ناقص سروس ڈیلیوری اور غیر مؤثر انتظامیہ ہے تو حل بھی انہی شعبوں میں تلاش کرنا ہوگا۔

اصل ضرورت نقشے نہیں، اتفاقِ رائے اور مؤثر حکمرانی ہے

نئے صوبوں پر بحث ہونی چاہیے، مگر اسے جذباتی یا سیاسی کشمکش کے بجائے اعداد و شمار، انتظامی مطالعات، معاشی تجزیے اور وسیع قومی مشاورت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کو بہتر انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے، لیکن انتظامی نقشے تبدیل کرنا بذاتِ خود قومی مسائل کا علاج نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ شہری کو ریاست سے بہتر تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، تحفظ اور بنیادی سہولیات کیسے ملیں۔

ملک کے مسائل نقشے کی لکیروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، بہتر پالیسیوں، بااختیار مقامی حکومتوں اور عوامی اعتماد سے حل ہوں گے۔

اور شاید اس وقت حکومت کے لیے سب سے اہم پیغام یہی ہے: عوام جس مسئلے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ رہے ہیں، اصلاحات کا آغاز بھی وہیں سے ہونا چاہیے۔

Source Dawn News

میسی کا آخری الوداعی میچ: ارجنٹینا نے اسکواڈ میں شامل کرلیادو دہائیوں پر محیط شاندار عالمی سفر کا اختتامارجنٹینا کے عظیم...
16/09/2026

میسی کا آخری الوداعی میچ: ارجنٹینا نے اسکواڈ میں شامل کرلیا
دو دہائیوں پر محیط شاندار عالمی سفر کا اختتام

ارجنٹینا کے عظیم فٹبالر لیونل میسی کو 6 اکتوبر کو بینن کے خلاف ہونے والے دوستانہ میچ کے لیے قومی ٹیم کے اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہ میچ میسی کے لیے ارجنٹینا کی جانب سے ممکنہ طور پر آخری میچ ہوگا، جس کے بعد وہ بین الاقوامی فٹبال کو باضابطہ طور پر الوداع کہیں گے۔

39 سالہ میسی نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط اپنے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام کررہے ہیں۔ ان کے اس سفر میں 2022 کا ورلڈ کپ اور 2021 اور 2024 کے کوپا امریکا ٹائٹلز سمیت کئی بڑی کامیابیاں شامل ہیں۔

’’میسی کو وہ الوداع ملنا چاہیے جس کے وہ مستحق ہیں‘‘

ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا نے کہا کہ ملک نے دنیا کے بہترین کھلاڑی اور قومی ٹیم کے کپتان میسی کو ان کی خواہش اور مقام کے مطابق الوداع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق 6 اکتوبر کو ارجنٹینا میں ہونے والا یہ میچ میسی کے لیے ایک یادگار موقع ہوگا۔

85 ہزار تماشائیوں کے سامنے آخری میچ

میسی کا الوداعی میچ بیونس آئرس کے مشہور ایستادیو مونومینتال میں کھیلا جائے گا، جہاں تقریباً 85 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر نے 2022 ورلڈ کپ جیتنے والی پوری ٹیم کو بھی میسی کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ ورلڈ کپ کی تاریخی کامیابی سے جڑے کھلاڑی اپنے کپتان کے آخری قومی میچ کا حصہ بن سکیں۔

قومی ٹیم کے لیے 208واں اور آخری میچ؟

بینن کے خلاف میچ میسی کی ارجنٹینا کے لیے 208ویں اور ممکنہ طور پر آخری پیشی ہوگی۔ وہ قومی ٹیم کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں اور اب تک 125 گول کرچکے ہیں۔

ان کا بین الاقوامی سفر کئی اتار چڑھاؤ سے گزرا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب بڑے ٹورنامنٹس میں ناکامیوں کے باعث میسی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد کے برسوں میں انہوں نے ارجنٹینا کو بڑی کامیابیاں دلا کر اپنے کیریئر کا سب سے یادگار دور دیکھا۔

ورلڈ کپ اور کوپا امریکا کی کامیابیاں

میسی نے 2021 میں ارجنٹینا کو کوپا امریکا کا چیمپئن بنوایا، پھر 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ارجنٹینا نے فرانس کو شکست دے کر عالمی اعزاز حاصل کیا۔ 2024 میں بھی ارجنٹینا نے کوپا امریکا جیتا۔

یوں میسی نے اپنے کیریئر کے آخری حصے میں وہ بڑے بین الاقوامی اعزاز حاصل کیے جن کی کمی ان کے ابتدائی دور میں محسوس کی جاتی تھی۔

والد کی وفات کے بعد مستقبل پر سوالات

گزشتہ ماہ اپنے والد خورخے میسی کی وفات کے بعد میسی نے کہا تھا کہ انہیں اس بات پر ’’سنجیدہ شکوک‘‘ ہیں کہ وہ مزید زیادہ عرصے تک کسی بھی قسم کی فٹبال کھیل سکیں گے۔

ارجنٹینا کی قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ ایسا فیصلہ تھا جس نے انہیں اندر سے تکلیف دی، لیکن ان کے خیال میں اب یہی درست وقت تھا۔

میسی اس وقت میجر لیگ سوکر کی ٹیم انٹر میامی کے ساتھ معاہدے میں ہیں، جو 2028 کے سیزن کے اختتام تک جاری ہے۔

ارجنٹینا کے لیے ایک اور چیلنج

میسی کا الوداعی میچ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ارجنٹینا کی قومی ٹیم کو حالیہ واقعات کے باعث فیفا کی تادیبی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے۔

فیفا نے گزشتہ ماہ ارجنٹینا کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنا اگلا ہوم میچ صرف 50 فیصد تماشائیوں کی گنجائش کے ساتھ کھیلے۔ یہ کارروائی کھیل کے دوران غیر کھیلوں سے متعلق مظاہروں کے حوالے سے فیفا کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کی گئی۔

عالمی فٹبال کا ایک یادگار باب

میسی کے الوداعی میچ میں 2022 ورلڈ کپ کے بعد عائد بعض معطلیوں کا اثر بھی متوقع ہے۔ ارجنٹینا کے مڈفیلڈر لیانڈرو پاریڈیس پر 10 میچز، دفاعی کھلاڑی نہوئل مولینا پر سات میچز اور تھیاغو الماڈا پر ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

تاہم ان تمام معاملات سے قطع نظر، 6 اکتوبر کا دن ارجنٹینا کے فٹبال شائقین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک قومی ٹیم کی قیادت کرنے، ریکارڈ 125 گول کرنے اور بالآخر ورلڈ کپ سمیت بڑے عالمی اعزاز جیتنے کے بعد میسی اگر واقعی قومی ٹیم کو الوداع کہتے ہیں تو یہ صرف ایک کھلاڑی کا آخری میچ نہیں ہوگا، بلکہ ارجنٹینا کے فٹبال کے ایک پورے عہد کا اختتام ہوگا۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Rasool Speaks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share