16/09/2026
جب خیرات بھی نمائش بن جائے: کیا یہ اب بھی خیرات رہتی ہے؟
آج کے سوشل میڈیا کے دور میں شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہر نیکی کو دکھانا بھی ضروری ہے؟ کیا خیرات اس وقت بھی خیرات رہتی ہے جب اسے کیمرے کے سامنے کیا جائے، ویڈیو بنائی جائے، ریلز تیار ہوں، بینرز لگائے جائیں اور ضرورت مند انسان کی بے بسی ہزاروں لوگوں کے سامنے نمائش کے لیے پیش کر دی جائے؟
یہ ہمارے دور کا ایک تلخ تضاد ہے کہ جس عمل کا بنیادی مقصد کسی انسان کی مدد، اس کی تکلیف کم کرنا اور اسے عزت کے ساتھ سہارا دینا ہونا چاہیے، وہ بعض اوقات تشہیر، فالوورز، چندے اور ذاتی شہرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کی رضا کے لیے نیکی کر رہے ہیں، مگر کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ضرورت مند کی مدد سے زیادہ اپنی نیکی کی تشہیر کر رہے ہیں؟
خیرات صرف دینا نہیں، عزت بچانا بھی ہے
اسلام میں صدقہ و خیرات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بھوکے کو کھانا دینا، بیمار کا علاج کرانا، یتیم اور محتاج کا سہارا بننا، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا یقیناً عظیم انسانی اور دینی عمل ہیں۔ مگر خیرات کی روح صرف کسی کو کچھ دے دینا نہیں؛ اس کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔
ضرورت مند کی کوئی ذات، برادری، مذہب، نسل یا سماجی حیثیت نہیں دیکھی جانی چاہیے۔ وہ انسان ہے، اور اس کی ضرورت ہی مدد کے لیے کافی ہونی چاہیے۔
لیکن جب کسی غریب بچے کو کھانا دیتے ہوئے اس کا چہرہ بار بار کیمرے میں دکھایا جائے، کسی بے گھر عورت کی بے بسی کو ویڈیو کا حصہ بنایا جائے یا راشن تقسیم کرتے ہوئے لوگوں کی قطاریں اور ان کے چہرے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جائیں تو سوال صرف تصویر کا نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس انسان کی ضرورت پوری کی یا اس کی مجبوری کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا؟
غربت کہیں ہمارے لیے کاروبار تو نہیں بن رہی؟
سب سے زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمدردی بھی کاروباری ماڈل بن جائے۔
ایک غریب بچہ جتنا زیادہ پریشان نظر آئے، ویڈیو اتنی زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ جتنی زیادہ جذباتی کہانی ہو، اتنے زیادہ ویوز اور شیئرز مل سکتے ہیں۔ زیادہ ویوز کا مطلب زیادہ فالوورز، زیادہ فالوورز کا مطلب زیادہ چندہ، اور یوں کسی انسان کی غربت کسی دوسرے شخص کے لیے ایک ایسا ذریعہ بن سکتی ہے جس سے وہ اپنی شہرت یا آمدنی میں اضافہ کرے۔
یہاں ہمیں اپنے آپ سے بہت سخت سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم غریب کی مدد کر رہے ہیں، یا اس کی غربت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟
اگر ایک شخص کی بھوک ہماری ویڈیو کی مقبولیت کا ذریعہ بن جائے، اس کے پھٹے کپڑے ہماری تشہیر کا حصہ بن جائیں اور اس کے آنسو چندہ جمع کرنے کا ذریعہ بن جائیں تو پھر ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کتنی رقم جمع ہوئی۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس عمل میں اس انسان کی عزتِ نفس کی کتنی قیمت ادا ہوئی۔
نیکی ایسی ہو کہ لینے والا شرمندہ نہ ہو
ضرورت مند شخص کے لیے مدد مانگنا خود ایک مشکل تجربہ ہوتا ہے۔ اسے اپنی مجبوری بیان کرنا پڑتی ہے، دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے اور اپنی نجی زندگی کے ایسے حالات بتانے پڑتے ہیں جنہیں وہ شاید دنیا سے چھپانا چاہتا ہو۔
ایسے میں اگر اس کی بھوک، بیماری، غربت اور بے بسی کو کیمرے کے سامنے لا کر ہزاروں لوگوں کے ساتھ شیئر کر دیا جائے تو ہم شاید اس کی مالی ضرورت تو پوری کر دیں، مگر اس کی عزتِ نفس کو زخمی کر دیتے ہیں۔
سوچیے، جس بچے کو ہم کھانا دے رہے ہیں، اگر وہ برسوں بعد وہی ویڈیو دیکھے تو اسے کیسا محسوس ہوگا؟
جس عورت کی غربت ہم آج اپنی پوسٹ کی مقبولیت کے لیے دکھا رہے ہیں، کیا اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اس کی زندگی کا سب سے مشکل لمحہ اس کی اجازت کے بغیر دنیا کے سامنے نہ لایا جائے؟
مدد کرنے والے کو تعریف، فالوورز اور چندہ مل سکتا ہے، مگر ضرورت مند کے لیے اس کی غربت کا وہ منظر ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ پر محفوظ ہو جاتا ہے۔
ہر مانگنے والا واقعی ضرورت مند بھی نہیں
یہ بھی حقیقت ہے کہ خیرات کے نظام میں صرف دینے والوں ہی کو نہیں، دھوکا دہی کرنے والوں کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔
کووڈ-19 کے دوران مجھے ذاتی طور پر یہ احساس ہوا کہ غربت اور بے روزگاری کو سمجھنے کے لیے صرف سڑک پر پیسے بانٹ دینا کافی نہیں۔ ایک دوست کے ساتھ ہم نے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا جو روزگار سے محروم ہو گئے تھے، اور انہیں تعمیراتی کام کی پیشکش کی۔ ہماری کوشش تھی کہ وقتی رقم دینے کے بجائے انہیں کام کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے گھر کا خرچ خود چلا سکیں۔ چند لوگوں نے یہ کام قبول کیا اور انہیں بحران کے دوران گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے 30 ہزار روپے دیے گئے۔
اس تجربے نے ایک اہم سوال پیدا کیا:
کیا خیرات کا مقصد صرف آج کا مسئلہ حل کرنا ہے، یا انسان کو کل کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا کرنا بھی ہے؟
ہر ضرورت مند کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ واقعی انتہائی مشکل حالات میں ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مدد کے نظام کو دھوکے سے استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ چند لوگوں کی بددیانتی کا نقصان بالآخر ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو حقیقت میں مستحق ہوتے ہیں۔
ایک واقعہ جس نے خیرات پر اعتماد ہلا دیا
حال ہی میں ایک شخص مجھ سے اپنی بیمار بیٹی کی دوائیوں کے لیے رقم مانگنے آیا۔ اس نے ڈاکٹر کا نسخہ بھی دکھایا۔ بظاہر وہ واقعی پریشان اور مجبور معلوم ہوتا تھا۔ مجھے اس کی بات پر یقین آیا، چنانچہ میں نے اس کے لیے دوائیں خرید دیں۔
لیکن کچھ دیر بعد ایک حیران کن بات سامنے آئی۔ وہ شخص وہی دوائیں واپس فارمیسی پر لے گیا اور ان کے بدلے رقم حاصل کرنے کی کوشش کی۔
جب میں نے فارماسسٹ سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے مطابق ایسے لوگ مختلف افراد کے پاس الگ الگ کہانیاں لے کر جاتے ہیں، کبھی بیمار بچی کا ذکر کرتے ہیں، کبھی کسی اور مجبوری کا۔ لوگوں کو قائل کر کے دوائیں خریدواتے ہیں اور مدد کرنے والا شخص جیسے ہی وہاں سے جاتا ہے، وہ دوائیں واپس کرکے نقد رقم حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ صرف ایک شخص کی دھوکا دہی نہیں۔ ایسے واقعات انسانی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی حقیقی ضرورت مند مدد کے لیے سامنے آتا ہے تو لوگ شک کرنے لگتے ہیں۔ یوں چند دھوکے باز لوگ ہزاروں حقیقی مستحق افراد کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔
خیرات کی مقدار نہیں، اس کا اثر اہم ہے
ہمیں خیرات کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری ویڈیو کو کتنے لوگوں نے دیکھا۔
یہ پوچھنا چاہیے کہ ہماری مدد سے کتنی زندگی بدلی؟
یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کتنے راشن کے تھیلے تقسیم کیے گئے۔
یہ دیکھنا چاہیے کہ کتنے خاندان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے؟
صرف سستا کھانا، پرانے کپڑے یا وقتی رقم دے دینا بعض حالات میں فوری ضرورت پوری کر سکتا ہے، لیکن اگر کسی شخص کو بار بار خیرات کی ضرورت پڑ رہی ہے تو شاید ہمیں مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم، صحت، فنی تربیت، روزگار اور چھوٹے کاروبار کے مواقع ایسے راستے ہیں جو انسان کو مستقل طور پر مضبوط بنا سکتے ہیں۔
بہترین مدد وہ ہے جو انسان کو ہمیشہ مدد کا محتاج نہ رکھے۔
اصل سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے
خیرات کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ دینے والے نے کتنی رقم دی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس نے کس نیت سے دی، کس طریقے سے دی اور لینے والے کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
اگر کسی غریب کی مدد کرتے ہوئے ہم اس کی عزت بچاتے ہیں، اسے خود انحصاری کی طرف لے جاتے ہیں اور اپنی نیکی کو نمائش نہیں بناتے تو خیرات واقعی انسانیت کی خدمت بن جاتی ہے۔
لیکن اگر کسی کی غربت ہماری ویڈیو کا مواد بن جائے، اس کی بے بسی ہمارے فالوورز بڑھائے اور اس کی مجبوری ہمارے لیے چندہ یا آمدنی کا ذریعہ بن جائے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
آخر میں شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:
ہم غریبوں کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ہماری ضرورت ہے، یا ہم غریبوں کی غربت اس لیے دکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنی نیکی ثابت کرنے کے لیے ان کی مجبوری کی ضرورت ہے؟
کیونکہ حقیقی خیرات وہ نہیں جو کیمرے کے سامنے دکھائی جائے۔
حقیقی خیرات وہ ہے جس کے بعد ضرورت مند کے چہرے پر کیمرے کی چمک نہیں، بلکہ زندگی میں امید کی روشنی نظر آئے۔
اور شاید نیکی کی سب سے خوبصورت صورت یہی ہے کہ دائیں ہاتھ سے دیا جائے تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو، اور لینے والے کی عزت دنیا سے بھی محفوظ رہے۔
Source Express Tribune