Kharaak Magzine by Sahara Group Publication

Kharaak Magzine by Sahara Group Publication Read E-KHARAAK Magazine

11/08/2026

"رشوت کا جال صرف پٹواری تک محدود نہیں، کرپشن کی زنجیر کی اصل کڑیاں بھی بے نقاب ہونی چاہئیں"

اینٹی کرپشن کی کارروائیاں قابلِ تحسین، مگر غیرجانبدار تحقیقات سے ہی نظامی کرپشن کی جڑیں ختم ہو سکتی ہیں

تحریر: فیاض احمد بٹ
پنجاب میں گزشتہ کچھ عرصے سے اینٹی کرپشن کی جانب سے کرپشن کے خلاف مسلسل کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور ملازمین کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ تعداد پٹواریوں کی سامنے آ رہی ہے، جو مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں یقیناً حوصلہ افزا ہیں اور عوام میں قانون کی بالادستی کا تاثر مضبوط کرتی ہیں۔
تاہم ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا رشوت لینے والا نچلے درجے کا ملازم یا پٹواری اس غیرقانونی رقم کا واحد فائدہ اٹھانے والا ہوتا ہے؟ عوامی تاثر یہی ہے کہ اگر کسی محکمے میں کرپشن منظم انداز میں جاری ہو تو اس کے تانے بانے اکثر اوپر تک جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کی گرفتاری سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔
جس طرح کسی اعلیٰ افسر کے دفتر میں اگر کوئی کلرک یا ملازم رشوت لیتے ہوئے پکڑا جائے تو غیرجانبدار تحقیقات یہ بھی جانچتی ہیں کہ آیا وہ ذاتی حیثیت میں کام کر رہا تھا یا کسی منظم نظام کا حصہ تھا، اسی اصول کا اطلاق دیگر محکموں پر بھی ہونا چاہیے۔ اگر تحقیقات مکمل شفافیت اور غیرجانبداری سے کی جائیں تو حقیقت سامنے آ سکتی ہے اور اگر کسی اعلیٰ سطح تک ذمہ داری بنتی ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
کرپشن کے خلاف مؤثر جنگ اسی وقت کامیاب ہوگی جب احتساب بلاامتیاز ہو، کسی عہدے یا منصب کو رعایت نہ دی جائے اور ہر الزام کی مکمل، شفاف اور قانونی تحقیقات کی جائیں۔ صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کو سزا دینے کے بجائے پورے نظام کا احتساب ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔
اینٹی کرپشن پنجاب کی حالیہ کارروائیاں قابلِ ستائش ہیں، لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وہاں تک بھی پہنچے جہاں سے اگر کسی قسم کی سرپرستی یا بندربانٹ کا ثبوت ملے تو قانون سب کے لیے یکساں طور پر حرکت میں آئے۔ یہی حقیقی احتساب اور کرپشن کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
#

11/08/2026

گجرانوالہ: سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل کا بڑا محکمانہ ایکشن، 10 اہلکار برطرف، 5 کی رینک تنزلی
گجرانوالہ: سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل نے محکمہ پولیس میں بدعنوانی، غفلت اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 15 پولیس اہلکاروں کو بڑی محکمانہ سزائیں سنا دیں۔
تفصیلات کے مطابق جوئے کے اڈے پر کارروائی میں مبینہ بے ضابطگی، ناقص تفتیش، رشوت ستانی، منشیات فروشوں کے خلاف غفلت اور ڈیوٹی سے غیرحاضری ثابت ہونے پر 10 اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف جبکہ 5 پولیس افسران کی رینک میں تنزلی کردی گئی۔
انسپکٹر ندیم خالد بھٹہ کو جوئے کے اڈے پر چھاپے کے دوران 33 لاکھ روپے نقدی برآمد ہونے کے واقعہ کی اہم معلومات اعلیٰ افسران سے چھپانے، گرفتار افراد کو مبینہ طور پر غیرقانونی حراست میں رکھنے اور ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے الزام پر انسپکٹر سے سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔
سب انسپکٹر امتیاز شاہین کو مقدمہ نمبر 403/26 تھانہ صدر کامونکی میں ناقص اور غیرمنصفانہ تفتیش پر سب انسپکٹر سے اے ایس آئی، جبکہ سب انسپکٹر فاروق احمد کو کیس پراپرٹی میں غفلت پر اے ایس آئی کے عہدے پر تنزلی دی گئی۔
ایس آئی نوید اختر کو مبینہ طور پر دو لاکھ روپے رشوت لینے اور جھوٹے مقدمے کے اندراج میں سہولت کاری پر سب انسپکٹر سے اے ایس آئی، جبکہ ہیڈ کانسٹیبل اعزاز عارف کو 20 ہزار روپے غیرقانونی رقم وصول کرکے ایک مشتبہ شخص کی رہائی میں سہولت کاری پر کانسٹیبل کے عہدے پر تنزیل کر دیا گیا۔
سی پی او کے احکامات کے مطابق کانسٹیبل محمد منظور کو مبینہ طور پر 6 لاکھ روپے غیرقانونی رقم وصول کرکے ملزمان کو ناجائز فائدہ پہنچانے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ کانسٹیبل مبشر کو منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے، کانسٹیبل طارق نواز کو غیرحاضری، جبکہ ڈرائیور کانسٹیبل شوکت جمیل کو مبینہ بدسلوکی اور منشیات کے عادی ہونے کے الزام پر بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
مزید برآں آزاد کشمیر انتخابات 2026 کے دوران خصوصی لاء اینڈ آرڈر ڈیوٹی پر عدم حاضری کے الزام میں کانسٹیبل محمد رضوان، قیصر شہزاد، محمد عمران قیصر، عبدالباسط اور واجد علی کو برطرف کر دیا گیا، جبکہ کانسٹیبل افتخار احمد کو محرم الحرام کی خصوصی ڈیوٹی سے مسلسل غیرحاضری پر بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل نے واضح کیا کہ محکمہ پولیس میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت، غفلت اور غیرحاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور قانون و ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

11/08/2026

گجرات پولیس کی بروقت کارروائی، صرافہ بازار سے لاکھوں کے طلائی زیورات لے کر فرار ہونے والی 2 خواتین گرفتار
گجرات: گجرات پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صرافہ بازار کی ایک دکان سے لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات لے کر فرار ہونے والی دو خواتین کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے 22 لاکھ 66 ہزار روپے مالیت کے طلائی زیورات برآمد کر لیے۔
پولیس کے مطابق صرافہ بازار کے ایک تاجر نے تھانہ بی ڈویژن پولیس کو اطلاع دی کہ دو خواتین اس کی دکان سے طلائی زیورات لے کر فرار ہو گئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ بی ڈویژن سب انسپکٹر شیروز احمد نے فوری مقدمہ درج کر کے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی شروع کی۔
پیشہ ورانہ مہارت اور جدید تفتیشی حکمت عملی کے ذریعے پولیس نے مختصر وقت میں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار خواتین کی شناخت عابدہ بی بی اور فاطمہ بی بی کے نام سے ہوئی، جو چنگر کالونی، گجرات کی رہائشی ہیں۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 22 لاکھ 66 ہزار روپے مالیت کے طلائی زیورات برآمد کر لیے ہیں، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

11/08/2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے لیے صوبائی کابینہ کمیٹی بنانے کی ہدایت کر دی....!!!!*

الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کے درمیان مشاورتی اجلاس 20 اگست 2026 کو اسلام آباد میں ہوگا....!!!!*

الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کر کہا کہ انتخابات ایکٹ 2017 اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت مشاورت لازمی ہے....!!!!*
خط میں کہا گیا کہ صوبائی کابینہ کی کمیٹی انتخابی تاریخ کے اعلان پر کمیشن سے مشاورت کرے گی....!!!!*

الیکشن کمیشن آف پاکستان ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم....!!!!

11/08/2026

نجی میڈیکل کالجز من مانے طریقے سے فیس نہیں بڑھا سکتے، زائد فیس وصول کرنے والوں کو نوٹس جاری
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی، خالی نشستوں اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی مہیش کمار ملانی اور دیگر ارکان نے نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے بھاری فیسوں کی وصولی اور متعدد اداروں میں نشستیں خالی رہنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ کئی کالجز میں میرٹ کم کرنے کے باوجود نشستیں پُر نہ ہونا داخلوں اور فیسوں کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج اپنی مرضی سے فیس میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ 61 نجی میڈیکل کالجز نے فیس بڑھانے کی درخواست دی تھی، تاہم مقررہ معیار پر پورا اترنے والے صرف 35 کالجز کو ہی فیس میں اضافے کی اجازت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ فیسوں میں اضافہ صرف قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جاتا ہے اور کسی ادارے کو طلبہ سے من مانی اضافی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے والے نجی میڈیکل کالجز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے تاکہ زیادہ طلبہ کو داخلے کا موقع مل سکے۔
قائمہ کمیٹی کو نرسنگ کے شعبے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ نرسنگ کونسل کے حکام نے بتایا کہ نرسنگ کالجز کی انسپکشن اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے، جس سے نگرانی کا عمل مزید شفاف اور مؤثر ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر ارکان نے طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، فیسوں کے شفاف تعین اور طلبہ کے مسائل کے بروقت حل کے لیے سخت اور مؤثر نگرانی پر زور دیا۔

11/08/2026

اگر مظلوم ہی خوفزدہ ہو جائے تو انصاف کس کے دروازے پر دستک دے؟
شکایت کرنا جرم نہیں، ہر شہری کا آئینی حق ہے
تحریر: فیاض احمد بٹ
یہ ریاست صرف طاقتور، بااثر اور دولت مند افراد کی نہیں، بلکہ اس ریڑھی بان، مزدور، محنت کش اور عام شہری کی بھی ہے جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ اگر ایک غریب کو یہ احساس ہو جائے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی قیمت اسے یا اس کے خاندان کو دباؤ، خوف یا ہراسانی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ انصاف پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
چند روز قبل دو ریڑھی بانوں نے سہارا گروپ آف نیوز پیپرز کو ویڈیو بیانات دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پیرا کے بعض اہلکاروں نے ان کے ساتھ اختیارات سے تجاوز، نامناسب رویہ اور بدزبانی کی۔ سہارا گروپ آف نیوز پیپرز نے اپنی صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان کا مؤقف عوام تک پہنچایا۔ ساتھ ہی پیرا کے ایک انسپکٹر کا مؤقف بھی اشاعت میں شامل کیا گیا تاکہ خبر یکطرفہ نہ رہے۔
بعدازاں بعض معززین نے ان متاثرین کی ویڈیو ہٹانے کی درخواست کی، مگر انہیں واضح طور پر کہا گیا کہ اگر جن اہلکاروں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ اپنا مؤقف یا ویڈیو بیان دینا چاہیں تو سہارا گروپ آف نیوز پیپرز اسے بھی من و عن نشر کرے گا تاکہ عوام کے سامنے معاملے کے دونوں پہلو موجود ہوں۔ تاہم اس پیشکش کے باوجود متعلقہ اہلکاروں کی جانب سے کوئی مزید مؤقف موصول نہ ہو سکا۔
اس کے بعد متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی جی پیرا پنجاب اور ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین کو درخواستیں دے کر غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق انکوائری اسی دفتر میں مقرر کی گئی جہاں مبینہ طور پر یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو شفافیت کے حوالے سے یہ پہلو خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اسی دوران شکایت کنندگان میں سے ایک کے بھائی کے خلاف پرائس کنٹرول سے متعلق کارروائی عمل میں آئی۔ عوامی حلقوں میں اس پر مختلف آراء سامنے آئیں اور بعض افراد نے اسے مبینہ دباؤ یا انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا۔ دوسری جانب پیرا کے متعلقہ افسر نے سہارا گروپ آف نیوز پیپرز سے گفتگو میں واضح کیا کہ اگر کوئی شخص زائد نرخ وصول کرتا ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہر صورت ہو سکتی ہے، خواہ اس کے کسی عزیز کی انکوائری ہی کیوں نہ چل رہی ہو۔ یہ ادارے کا مؤقف ہے، جسے ہم دیانت داری سے اپنے قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔
لیکن اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر شکایت کرنے والا خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے، اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ انصاف مانگنے کے نتیجے میں وہ یا اس کے اہلِ خانہ دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، تو پھر آئندہ کون ظلم کے خلاف آواز بلند کرے گا؟ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔
میں نے اپنی اٹھائیس سالہ صحافتی زندگی میں بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں، مگر ہمیشہ ایک اصول پر قائم رہا ہوں کہ صحافت کا مقصد کسی ادارے یا شخصیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مظلوم کی آواز بننا، حقائق کو ذمہ داری کے ساتھ عوام تک پہنچانا اور انصاف کے عمل کو مضبوط کرنا ہے۔
اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو آزاد اور شفاف تحقیقات انہیں غلط ثابت کر دیں گی، اور اگر کسی اہلکار سے اختیارات سے تجاوز ہوا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرے گی بلکہ متعلقہ ادارے کی ساکھ میں بھی اضافہ کرے گی۔ مضبوط ادارے وہی ہوتے ہیں جو تنقید سے نہیں گھبراتے بلکہ احتساب کے عمل کو اپنی طاقت بناتے ہیں۔
میں میاں نواز شریف، وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مؤدبانہ اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کی آزاد، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ہر غریب، ہر مزدور، ہر ریڑھی بان اور ہر عام شہری کو یہ یقین ہو کہ پاکستان میں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور انصاف صرف طاقتور کا نہیں بلکہ کمزور کا بھی حق ہے۔
خاموش معاشرے ترقی نہیں کرتے، انصاف پر قائم معاشرے ہی مضبوط، پرامن اور خوشحال بنتے ہیں۔
تحریر:
فیاض احمد بٹ
چیئرمین، سہارا گروپ آف نیوز پیپرز
نوٹ
پیرا فورس یا متعلقہ حکام اگر اس معاملے پر اپنا مزید مؤقف، وضاحت یا تردید دینا چاہیں تو سہارا گروپ آف نیوز پیپرز اسے من و عن شائع/اپ لوڈ کرے گا تاکہ عوام کے سامنے ہر پہلو موجود رہے۔

گھوٹکی: دو خطرناک ڈاکوؤں کے فرار پر 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج، کچے میں آپریشن جاری50 لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاک...
11/08/2026

گھوٹکی: دو خطرناک ڈاکوؤں کے فرار پر 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج، کچے میں آپریشن جاری

50 لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاکو راحب شر بھی فرار ہونے والوں میں شامل، دریائے سندھ کے کچے میں پانی آپریشن میں رکاوٹ بن گیا
گھوٹکی: اوباڑو سول کورٹ میں پیشی کے دوران دو خطرناک ڈاکوؤں، راحب شر اور موریو شر، کے فرار ہونے کے معاملے پر غفلت برتنے کے الزام میں 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ سرکار کی مدعیت میں تھانہ اوباڑو میں درج کیا گیا ہے۔ فرار ہونے والے ڈاکو راحب شر کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی اور وہ پولیس کو متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقے میں پانی بھر جانے کے باعث آپریشن کے دوران شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
#

10/08/2026

اینٹی کرپشن کی بڑی کارروائی، مبینہ رشوت لینے والے پٹواری شاہ زیب کے خلاف مقدمہ درج
مظفرگڑھ: اینٹی کرپشن نے مبینہ طور پر رشوت وصول کرنے کے الزام میں پٹواری شاہ زیب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹواری شاہ زیب پر فرد کے اجراء کے عوض ایک شہری سے 50 ہزار روپے رشوت طلب کرنے کا الزام ہے۔ اینٹی کرپشن نے کارروائی کے دوران مبینہ رشوت کی رقم 50 ہزار روپے بھی برآمد کر لی۔
ترجمان کے مطابق ملزم کے خلاف دفعہ 161 تعزیراتِ پاکستان اور سیکشن 5(2) پریونشن آف کرپشن ایکٹ (PCA) کے تحت مقدمہ نمبر 54/2026 درج کر لیا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن کی رپورٹ میں مبینہ رشوت وصولی کا انکشاف کیا گیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

10/08/2026

منڈی بہاءالدین:تفصیلی مضمون جلداپ لوڈکردیاجائیگا

10/08/2026

ایس پی بینش فاطمہ کو ڈی پی او لودھراں تعینات کر دیا گیا
لاہور: پنجاب حکومت نے پولیس میں اہم تقرری کرتے ہوئے ایس پی بینش فاطمہ کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لودھراں تعینات کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
بینش فاطمہ پنجاب پولیس کی پیشہ ور اور باصلاحیت افسران میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ اس سے قبل مختلف اضلاع میں اہم انتظامی، آپریشنل اور ٹریفک سے متعلق ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔ ان کی لودھراں تعیناتی کو پولیس انتظامیہ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kharaak Magzine by Sahara Group Publication posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share