21/06/2025
غزہ کی ایک خاتون لینا کوفہ جو گزشتہ سال اپنے تین بچوں اور شوہر کو کھونے کی قیامت جھیل چکی ہیں،لکھتی ہیں!
" ایک سال گزر گیا مگر تم میرے ساتھ نہیں ہو،
یا خدا! یادیں کتنی تکلیف دہ اور ظالم ہیں، تمہارے بنا یہ دنیا کتنی وحشت انگیز ہے،
میں اپنے دل کی حالت زار کہنے، تمہاری جدائی کا ماتم منانے، اور تمہارے چلے جانے کو سمجھنے یا قبول کرنے سے بالکل بے بس و لاچار ہوں،
اے احمد میرے محبوب! میں اب بھی منتظر رہتی ہوں کہ آپ مجھے گھر کی ضروریات جاننے کے لیے کال کریں گے،،
اے عارف میرے جگر کے ٹکڑے! میں اب بھی صبح کے الارم بجنے کا انتظار کرتی ہوں کہ تمہیں سکول جانے کے لیے جگاؤں،،
اے سارہ میری دختر! میں اب بھی انتظار کرتی ہوں کہ تم جھٹ سے آکر میرے گلے لگ جاؤ اور میں تمہارے بال سنواروں،،
اے عبدالرحمن میرے لخت جگر! میں اب بھی انتظار کرتی ترستی ہوں کہ تم مجھے کہہ رہے ہو، ماما میں آپ سے پیار کرتا ہوں،،
خدا ہی جانتا ہے ان دنوں کی سختی اور شدت کو جو مجھے تمہارے زیاں کی برسی تک لے آئی ہے،یادوں کی کیسٹ کبھی نہیں رکتی،میرے ذہن میں وہ ہردم چل رہی ہے،
تمہارے ساتھ گزرے آخری دن، تمہاری پیاری پیاری آوازیں، تمہارے قہقہے، تمہاری چلبلی حرکتیں، کھانے کے دسترخوان پر ہمارا اکٹھے بیٹھنا، نماز، تراویح، قرآن کی تلاوت کی نشستیں، خاندانی محفلیں،
چھوٹی سے چھوٹی باتیں جو ماضی میں مجھے یاد نہیں نہیں تھی، اس بار وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی،
میں جب بھی خود کو مضبوط کرتی ہوں تو مجھے تمہارا شوق شکستہ کردیتا ہے، تم لوگ میری زندگی کی خوشی تھے، زینت تھے،اسکا حُسن تھے،
میں تم کو یاد کر کر تھکتی نہیں ہوں، میں خدا سے دعا کرتی ہوں کہ وہ جلد مجھے تم لوگوں سے ملادے، اور میری فراق کشیدہ غمگین آنکھوں کو تمہیں دیکھنے سے نشاط و سرور بخشے "
😢💔