Karwan-e-Murad

Karwan-e-Murad Real based story teller

دیوالیہ ریاست کے چوکیدار "کاکول" میں مصروف ہیں کچےکا علاقہ پاکستان میں نہیں ہے ؟
06/04/2024

دیوالیہ ریاست کے چوکیدار "کاکول" میں مصروف ہیں کچےکا علاقہ پاکستان میں نہیں ہے ؟

شانگلہ: بشام کے مقام پر چینی انجینیئرز کی گاڑی پر خودکش حملہ، پانچ چینی باشندوں سمیت چھ افراد ہلاکعزیزاللہ خان اور عمر ب...
26/03/2024

شانگلہ: بشام کے مقام پر چینی انجینیئرز کی گاڑی پر خودکش حملہ، پانچ چینی باشندوں سمیت چھ افراد ہلاک
عزیزاللہ خان اور عمر باچا

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام میں مبینہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی انجینیئرز کی گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں پانچ چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

بشام سے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ چینی انجینیئرز ایک قافلے کی شکل میں داسو ڈیم کی جانب جا رہے تھے۔ ضلع شانگلہ میں بشام کے علاقے میں رودکی کیچ کے مقام پر دوسری گاڑی میں سوار خود کش حملہ آور نے چائنیز کی گاڑی کو ٹکر ماری جس سے دھماکہ ہوا اور گاڑی کھائی میں گر گئی۔

ریسکیو 1122 اہلکاروں کے مطابق دھماکے کے باعث گاڑی میں آگ لگ گئی تھی جسے بجھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید ٹیمیں موقع پر پہنچ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ ضلع کوہستان اور ضلع شانگلہ کی سرحد پر واقع ہے اور ان علاقوں میں چینی انجینیئرز مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

مقامی پولیس اہلکار بخت ظاہر نے بتایا کہ چینی ٹیم میں چار مرد اور خاتون شامل تھیں جبکہ ان کی گاڑی کے ڈرائیور ایک پاکستانی شہری تھے۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی انجینیئرز کی گاڑی سے ٹکرائی۔ اس واقعے کے بعد پولیس حکام سمیت بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

اس سے پہلے 2021 میں بھی داسو ہائیڈل پاور ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینیئرز کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 9 چینی انجینیئرز سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ بھی داسو ڈیم پر کام کرنے والے غیر ملکی انجینیئرز پر کیا گیا تھا۔

ڈی ایس پی جمعہ الرحمن نے بی بی سی کے نامہ نگار عثمان زاہد سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس خودکش حملے میں پانچ چینی باشندے جبکہ ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا۔

واضح رہے کہ داسو میں ایک بڑا ڈیم واقع ہے، اس علاقے پر ماضی میں بھی دہشت گردوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں، 2021 میں ایک بس میں ہونے والے دھماکے میں 9 چینی شہریوں سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکمران تو بے ایماں ہوگئے اور ملک کو بھی اداروں نے کھالیا لیکن ایک معاملہ سمجھ نہیں آیا کہ فروٹ کے ریٹ میں ایک ٹھیلے سے د...
26/03/2024

حکمران تو بے ایماں ہوگئے اور ملک کو بھی اداروں نے کھالیا لیکن ایک معاملہ سمجھ نہیں آیا کہ فروٹ کے ریٹ میں ایک ٹھیلے سے دوسرے ٹھیلے تک اتنا تغیر کیوں ہے ؟ اسٹرابری ایک جگہ 700 روپے کلو ، دوسری جگہ 600 جبکہ تیسری جگہ 400 روپے کلو مل رہا ہے جبکہ سرکاری نرخ نامہ پر درجہ اول کا ریٹ 190 روپے فی ڈبہ وزن 450 گرام درج ہے۔
یہ بات ہورہی ہےسخی حسن چورنگی کی

26/03/2024

شانگلہ : چائینز پر د ھ م ا ک ہ 5 افراد زندگی کی بازی ہارگئے 😔

23/12/2023

بچپن میں کھیلتے کھیلتے جب کوئی آوٹ نہ ہو رہا ہوتا تو " بلّا" ہی لیکر بھاگ جانے میں فائدہ تھا ✌

The Name Of Resistance ❤✊Dr Mahrang Baloch❤️ماہ رنگ بلوچ کون ہیں؟ تفصیلات بی بی سی اردوماہ رنگ بلوچ سنہ 2020 میں اس وقت ...
23/12/2023

The Name Of Resistance ❤✊
Dr Mahrang Baloch❤️
ماہ رنگ بلوچ کون ہیں؟
تفصیلات بی بی سی اردو
ماہ رنگ بلوچ سنہ 2020 میں اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنی تھی جب صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں طلبا کے آن لائن کلاسز کے خلاف ایک احتجاج کے دوران بولان میڈیکل کالج کے طلبا کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس احتجاج میں ماہ رنگ بلوچ کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور وہ پولیس وین میں بٹھائے جانے تک اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کر رہی تھی۔

بعد ازاں اسی روز انھیں رہا کر دیا گیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بیان جاری کیا تھا کہ ’حکومت نے کسی طالب علم کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا تھا۔‘

ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ان کا آبائی ضلع قلات ہے۔ وہ پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہے اور سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد عبدالغفار واپڈا میں ملازمت کرنے کے علاوہ مزدور، قوم پرست اور بائیں بازو کی سیاست کرتے تھے۔

ماہ رنگ کا دعویٰ ہے کہ ’سنہ 2006 میں وہ (ماہ رنگ کے والد) پہلی مرتبہ لاپتہ ہوئے جس کے کچھ عرصے بعد وہ واپس آ گئے تھے۔ پھر وہ 2009 میں لاپتہ ہوئے اور 2011 میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی
ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ’اس کے بعد ہم سب بہن بھائی والدہ کے ہمراہ کراچی چلے گئے جہاں کئی سال تک خاموشی سے زیر تعلیم رہے۔ بلوچستان سے طویل عرصے بعد اس وقت میرا رابطہ بحال ہوا جب مجھے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ ملا۔‘

’بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں داخلے کے دوران میں نقاب کیا کرتی تھی اور خاموشی سے پڑھائی کر رہی تھی۔ خیال تھا کہ کسی بھی طرح پہلے اپنی پڑھائی مکمل کر لوں اور پھر اس کے بعد سیاست میں بھی فعال کردار ادا کروں گی۔ مگر پتا نہیں کیا ہوا کہ 2016 میں میرے بھائی کو لاپتہ کر دیا گیا۔ جس پر میں نے اپنا نقاب اُتارا اور احتجاج شروع کر دیا۔‘

ان کے مطابق اُس کے بعد سے وہ طلبا سیاست میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2006 میں جب میرے والد لاپتہ ہوئے تو اس وقت میں پانچویں کلاس میں پڑھتی تھی۔ اس وقت بھی والد کو بازیاب کروانے کے لیے میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج میں شامل تھی۔‘

’اس احتجاج میں میرے والد کے دوست ذاکر مجید بلوچ نے مجھ سے کہا کہ مجھے تقریر کرنی ہے۔ وہ میری پہلی تقریر تھی۔

’میں جب تقریر کے لیے کھڑی ہوئی تو اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ مجھے میرے والد یاد آ رہے تھے۔ والد کو یاد کر کے میں نے رونا شروع کر دیا اور زور زور سے رونے لگی۔ اس موقع پر صرف یہ ہی کہہ سکی کہ میرے والد کو چھوڑ دیں۔‘

07/12/2023

زندگی نہیں DiscoveyChannel # ہے کوئی سانپ کوئی لومڑی تو کوئی گرگٹ بنا پھر رہا ہے ❤❤

Johar chowrangi flyover ready for opening.
21/03/2023

Johar chowrangi flyover ready for opening.

Follow for more motivational posts ❤❤
21/03/2023

Follow for more motivational posts ❤❤

Address

Karachi

Telephone

03463234440

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karwan-e-Murad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Karwan-e-Murad:

Share