05/07/2018
کمال کمالات نا دکھا سکے
بلاگز
umairsolangi
July 4, 2018
سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنے کا فارمولہ نیا نہیں۔ مختلف دہائیوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے مگر کبھی بھی یہ فارمولا کامیاب نہیں ہوا، اسی طرح ایم کیو ایم کی تقسیم کا فارمولا بھی ناکام دکھائی دیتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد سیاسی وفاداریاں بدلنے کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی پی ایس پی کے چیئرمین مصطفی کمال سے ملاقات کے بعد پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر رہے تھے۔ بھرپور میڈیا کوریج اور عوامی ردعمل کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ پی ایس پی کراچی، حیدر آباد اور میرپورخاص میں ایم کیو ایم کا متبادل ثابت ہوگی مگر جیسے جیسے وقت گزرتا رہا صورتحال واضح ہوتی رہی۔
پی ایس پی کے قیام کے فوری بعد ہر روز ایم کیو ایم کا کوئی نا کوئی رکن اسمبلی مصطفی کمال کے دربار میں بیٹھا ہوتا تھا اور خود اقرار کرتا تھا کہ ایم کیو ایم کے بانی ان سے فلاں فلاں جرم کرواتے تھے مگر اب ان کا سویا ہوا ضمیر جاگ گیا ہے۔ میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں کہ اگر کوئی قاتل بے گناہوں کا قتل کرے یا کوئی ڈاکو غریبوں کا مال لوٹ لے یا کوئی چور رنگے ہاتھوں چوری کرتے ہوئے پکڑا جائے تو کیا ایسے لوگوں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا؟ یا انہیں اس بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ جرم کرتے وقت ان کا ضمیر سویا ہوا تھا اور اب انکا ضمیر جاگ گیا ہے؟۔ اگر نہیں تو پریس کانفرنسوں میں اپنے جرم کا اقرار اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے والے آزاد کیوں ہیں؟
پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے مگر ان دنوں وہ عالیشان زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ سابق میئر کراچی مصطفی کمال نے کیسے کراچی کے پوش علاقے میں بنگلہ خریدا جس کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ مصطفی کمال جس گاڑی میں سفر کرتے ہیں اسکی مالیت بھی تقریبا ڈھائی کروڑ روپے ہے۔ میں سماء ٹی وی کا پروگرام دیکھ رہا تھا جس کی میزبانی شہزاد اقبال کر رہے تھے، پروگرام میں ایک نوجوان نے مصطفی کمال سے وہی سوال کیا جو میں کرنا چاہتا تھا۔ نوجوان نے پوچھا کہ مصطفی کمال صاحب کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی آپ کے پاس کیسے آئی تو مصطفی کمال نے جواب دیا کہ ان کے ایک چاہنے والے نے انہیں یہ گاڑی تحفے میں دی ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ مصطفی کمال اپنے چاہنے والے کا نام بھی بتا دیتے، خیر مصطفی کمال گاڑی اور بنگلہ حاصل کرنے میں تو کامیاب ہوگئے مگر الیکشن میں ووٹ حاصل کرنا انکے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن لگ رہا ہے۔
جو لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ مصطفی کمال الیکشن میں کمالات دکھائیں گے انہیں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پی ایس پی کو کراچی شہر سے امیدوار تک نہیں مل سکے۔ پی ایس پی کا ٹکٹ لینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا تو پی ایس پی نے آزاد امیدواروں سے رابطے شروع کئے اور انہیں ڈولفن کے نشان پر الیکشن لڑنے کی دعوت دی۔ مصطفی کمال پچھلے کئی ماہ سے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ سندھ کا اگلا وزیراعلی پی ایس پی سے ہوگا، یہ مضحکہ خیز دعوی تو اب تک عمران خان نے بھی نہیں کیا جنکی مقبولیت مصطفی کمال سے کہیں زیادہ ہے۔ صوبہ سندھ اور اسکے درالخلافہ کراچی کی صورتحال یہ ہے کہ سندھ کا وزیراعلی لانا تو دور مصطفی کمال کا اپنی سیٹ جیتنا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ میں آج یہ دعوی کر رہا ہوں لیکن الیکشن کے نتائج دیکھنے کے بعد ہر کوئی یہی کہے گا کہ کمال کمالات نا دکھا سکے۔