Islam Walay

Islam Walay Islamic post ko zyda se zyda like or share karen take ap k is chote se amal se koi burai se bache

29/06/2026
مدینہ منورہ میں روضہ رسول ؐ کے اندر  نبی کریم ؐ کی قبر مبارک کے بارے میں اہم معلومات : ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی آپ ﷺ کی...
26/06/2026

مدینہ منورہ میں روضہ رسول ؐ کے اندر نبی کریم ؐ کی قبر مبارک کے بارے میں اہم معلومات : ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی آپ ﷺ کی قبر انور تک نہیں جا سکا۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں ہوا تھا اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی اس کے بعد پھر حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہما بھی وہاں مدفون ہوئے اس طرح روضہ شریف کے اندر اس وقت تین آرام گاہ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِمبارک کی کوئی تصویر دنیا میں موجود نہیں ہے اس لیے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔ وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحاب کے قبریں ہیں اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔ اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ روضہ رسول ﷺ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر لٹکے ہوئے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔روضہ رسول ﷺ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیوں کے سوراخوں سے انہیں بس وہ پردہ ہی نظر آ سکتا ہے، جو حجرہ شریف کی پنج دیواری پر ہے۔ اس طرح سلام پیش کرنے والے زائرین اور آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر اطہر کے درمیان گو کہ چند گز کا فاصلہ ہوتا ہے لیکن درمیان میں کل چار دیواریں حائل ہوتی ہیں۔ ایک سنہری جالیوں والی دیوار، دوسری پانچ کونوں والی دیوار، تیسری ایک اور پنج دیواری، اور چوتھی وہ چار دیواری جو کہ اصل حجرے کی دیوار تھی۔ گزشتہ تیرہ سو سال سے اس پنج دیواری حجرے کے اندر کوئی نہیں جا سکا ہے سوائے دو مواقع کے۔ ایک بار 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں ان کا غلام اور دوسری بار 881 ہجری میں معروف مورخ علامہ السمہودی کے بیان کے مطابق وہ خود۔مسجد نبوی میں قبلہ کا رخ جنوب کی جانب ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔ بڑے ہال کمرے کے اندر جانے کا دروازہ مشرقی جانب ہے یعنی جنت البقیع کی سمت۔ یہ دروازہ صرف خاص شخصیات کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہوں تو بائیں جانب حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی محراب ہے۔ اس کے پیچھے ان کی چارپائی (سریر) ہے۔ العربیہ ویب سائٹ نے محقق محی الدین الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ ہال کمرے میں روضہ مبارک کی طرف جائیں تو سبز غلاف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوار نظر آتی ہے۔ 1406 ہجری میں شاہ فہد کے دور میں اس غلاف کو تبدیل کیا گیا۔ اس سے قبل ڈھانپا جانے والا پردہ 1370 ہجری میں شاہ عبد العزیز آل سعود کے زمانے میں تیار کیا گیا تھا۔ مذکورہ دیوار 881 ہجری میں اُس دیوار کے اطراف تعمیر کی گئی جو 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تعمیر کی تھی۔ اس بند دیوار میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ قبلے کی سمت اس کی لمبائی 8 میٹر، مشرق اور مغرب کی سمت 6.5 میٹر اور شمال کی جانب دونوں دیواروں کی لمبائی ملا کر 14 میٹر ہے۔کہا جاتا ہے کہ 91 ہجری سے لے کر 881 ہجری تک تقریباً آٹھ صدیاں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو نہیں دیکھ پایا۔ اس کے بعد 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے کمزور ہو جانے کے باعث ان کی تعمیر نو کرنا پڑی۔ اس وقت نامور مورخ اور فقیہ علّامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی مدینہ منورہ میں موجود تھے، جنہیں ان دیواروں کی تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں 14 شعبان 881 ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ میں نے رسول اللہ اورآپ کے دونوں خلفاء کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہٴ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔ میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا ابھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر کی قبر تھی۔ قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔السمہودی نے اپنی کتاب میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔ حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔ اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“یہ سب معلومات معروف کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے مؤلف السمہودی نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں۔ مسجد نبوی، حجرہ شریف اور قبر مبارک کے حوالے سے یہ کتاب سب سے مستند حوالہ ہے۔اس کتاب میں مدینہ منورہ کی تاریخ سے متعلق تمام معلومات جمع کی گئی ہیں. علامہ السمہودی کی وفات 911 ہجری میں ہوئی۔ 881 ہجری یا 1477 عیسوی سے لے کر اب تک تقریباً ساڑھے پانچ سو سال کے عرصے میں کوئی انسان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت نہیں کر سکا ہے

ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُواقعۂ کربلا عراق کے شہر کربلا میں 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا، جسے...
26/06/2026

ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ
واقعۂ کربلا عراق کے شہر کربلا میں 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا، جسے عیسوی تاریخ کے حساب سے عموماً 10 اکتوبر 680ء بتایا جاتا ہے۔ آج 2026ء کے حساب سے اس واقعے کو تقریباً 1346 عیسوی سال ہو چکے ہیں۔ اسلامی ہجری حساب سے 61 ہجری سے 1448 ہجری تک تقریباً 1387 ہجری سال بنتے ہیں۔
کربلا کا خلاصہ:
حضرت امام حسینؓ/علیہ السلام نے ظلم، ناانصافی اور باطل نظام کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ آپ اپنے اہلِ بیت اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا پہنچے۔ پانی بند کیا گیا، بچوں اور اہلِ خانہ نے سخت پیاس برداشت کی، مگر امام حسینؓ نے حق کا دامن نہ چھوڑا۔ 10 محرم کو آپ اور آپ کے جانثار ساتھیوں نے عظیم قربانی پیش کی۔
نمایاں قربانیاں:
حضرت امام حسینؓ، حضرت عباس علمدارؓ، حضرت علی اکبرؓ، ننھے حضرت علی اصغرؓ، حضرت قاسم بن حسنؓ، حضرت عون و محمدؓ، حضرت حبیب بن مظاہرؓ، حضرت مسلم بن عوسجہؓ، حضرت زہیر بن قینؓ، حضرت حر بن یزید ریاحیؓ اور دیگر وفادار ساتھیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ عام طور پر شہدائے کربلا کی تعداد 72 بیان کی جاتی ہے۔
اہلِ بیت کی آزمائش:
کربلا کے بعد حضرت زینبؓ، امام زین العابدینؓ اور اہلِ بیت کی خواتین و بچوں نے قید و سفر کی سختیاں برداشت کیں۔ حضرت زینبؓ نے صبر، حوصلے اور حق گوئی سے کربلا کا پیغام دنیا تک پہنچایا۔
کربلا کا پیغام:
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے لیے قربانی دینا، ظلم کے سامنے نہ جھکنا، دین پر ثابت قدم رہنا، صبر کرنا اور انسانیت کا احترام کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک سبق ہے؛
کربلا قربانی، وفا، صبر اور حق کی پہچان ہے۔۔۔۔

Address

Karachi
75210

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam Walay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share