03/09/2026
پاکستان اس وقت ایک ایسے دردناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں حادثات اب اتفاق نہیں رہے بلکہ تباہی روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ عوام ابھی ایک صدمے سے سنبھلنے بھی نہیں پاتے کہ دوسرا حادثہ ان کا گریبان آن پکڑتا ہے۔ چند روز قبل پمز ہسپتال میں چودہ نوزائیدہ بچوں کا زندہ جل جانا محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس ریاست کی اخلاقی موت تھا۔ وہ معصوم وجود جنہوں نے ابھی دنیا کو دیکھا بھی نہیں تھا، نظام کی بے حسی کی نذر ہو گئے۔ ابھی اس سانحے کی راکھ ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں ایک اور آگ بھڑک اٹھی، گویا آتش زدگی اور غفلت کا یہ سلسلہ اب ہر سرکاری دالان کا مقدر بن چکا ہو۔
ریل کا پٹری سے اترنا اب خبر ہی نہیں رہا۔ ریلوے کا نظام دیمک زدہ لکڑی کی طرح بوسیدہ ہو چکا ہے، جہاں سگنل کی خرابی ہو یا پٹری کی ٹوٹ پھوٹ، سفر موت کے کھیل میں بدل چکا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی تحویل میں دو بے گناہ لڑکیوں کی پراسرار موت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ جو فورس تحفظ کی ضامن ہونی چاہیے تھی، وہ خود خوف کی علامت بن چکی ہے۔ لاہور کے علاقے شادمان میں پیش آنے والا واقعہ اسی بے حسی کی ایک اور دردناک مثال ہے۔ زین نامی نوجوان الیکٹریشن، جس کی چند ہفتے پہلے ہی منگنی طے ہوئی تھی، ٹریفک وارڈن سے تصادم میں شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پولیس نے مقتول ہی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، میت کی حوالگی میں تاخیر کی، اور خاندان پر دباؤ ڈالا کہ وہ غلطی اپنے بیٹے کی تسلیم کر لے۔ یہ رویہ اس بات کی گواہی ہے کہ ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے متاثرین ہی کو مجرم بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ یہ تمام واقعات بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی منظم سازش کارفرما ہے؟ چند تجزیہ کار اس نکتہ نظر کے حامی ہیں کہ ان واقعات کا مقصد عوام کو مشتعل کر کے سڑکوں پر لانا اور حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے، اور یہ کہ سوشل میڈیا اور بیرونی عناصر اداروں کے اندر موجود کمزور کڑیوں کو استعمال کر کے موجودہ سیٹ اپ ناکام بنانے اور اپنی من پسند مرکزی حکومت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس بحث کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: اگر بیرونی ہاتھ موجود بھی ہو، تو ادارتی نااہلی اور اندرونی غفلت کا کیا جواز ہے؟
یہ سلسلہ آخر کب تھمے گا؟ ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور مقابلے کے امتحان پاس کر کے آنے والے بیوروکریٹس فائلوں میں گم ہیں۔ ان اعلیٰ ڈگریوں کا آخر کیا فائدہ جو ایک معصوم کی جان تک نہ بچا سکیں؟ بیوروکریسی اپنی مراعات بچانے میں مصروف ہے تو عوامی نمائندے اگلے الیکشن کی منصوبہ بندی میں، اور سدباب کے نام پر بس تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں جن کی رپورٹیں بالآخر ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتی ہیں۔
اس ساری صورتحال میں حکومت بھی برابر کی قصوروار ہے۔ حکمران طبقے کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور عوامی صحت و حفاظت اب ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار خود نظام کی ناکامی کا اعلان کر رہی ہے۔ غریب آدمی کا سرکاری ہسپتال پر اعتماد اس حد تک ٹوٹ چکا ہے کہ لوگ اب وہاں جانے سے گھبراتے ہیں، انہیں خدشہ رہتا ہے کہ وہ شفا کے بجائے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔
اس بگاڑ کا ایک اور پہلو وہ ادارے ہیں جیسے پیرا، جو تحفظ دینے کے بجائے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے چھوٹے تاجروں اور غریب عوام کو تنگ کر رہے ہیں۔ ناپائیدار پالیسیوں نے عوام کو بھوک اور افلاس کی طرف دھکیل دیا ہے، اور جب پیٹ خالی ہو اور سر پر چھت محفوظ نہ ہو تو غصہ جنم لیتا ہی ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے میں ناکام ہو چکی ہے، اور یہیں سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ سب اداروں اور حکمرانوں سے عوامی اعتماد ختم کرنے کی سازش ہے، تاکہ بعد میں انہیں بدنام کر کے ان کی نجکاری کی راہ ہموار کی جا سکے؟ ہسپتالوں، ریلوے اور دیگر قومی اداروں کو پہلے مفلوج کیا جاتا ہے، پھر ان کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، اور آخر میں انہیں سستے داموں نجی شعبے کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک بھیانک کھیل ہے جو عوام کے روزگار اور صحت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل دیکھیں تو غم و غصہ آخری حدوں کو چھوتا نظر آتا ہے۔ لوگ حکمرانوں کو بددعائیں دے رہے ہیں، تبصروں میں نفرت اور مایوسی صاف جھلکتی ہے، اور عوام اب کسی سرکاری بیانیے پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران ان کی لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں، اور یہ ردعمل شاید ہمیشہ الفاظ تک محدود نہ رہے۔ یہ غصہ کسی بھی وقت لاوے کی طرح پھٹ سکتا ہے۔
ریاست کو اب جاگنا ہو گا۔ صرف سازش کے بیانیے کے پیچھے چھپنا بند کرنا ہو گا اور اندرونی خامیوں کا اعتراف کرنا ہو گا۔ بیوروکریسی کو جوابدہ بنانا ہو گا، اور نااہل حکمرانوں و افسران کو سزا دینا ہو گی۔ اگر اب بھی اصلاحات نہ کی گئیں تو تباہی کا یہ دائرہ مزید وسیع ہوتا چلا جائے گا، اور پھر شاید سنبھلنے کا وقت بھی ہاتھ سے نکل جائے۔
تجزیہ: مرزا محمد عمر