Live Laugh Love.

Live Laugh Love. Assalam-o-Alaikum

19/09/2023

Please subscribe my channel

31/01/2022
سیرت صحابیات رضی اللہ عنہنحضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہانام و نسب: عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، اُمّ عبداللہ کنیت، حضرت اب...
24/02/2020

سیرت صحابیات رضی اللہ عنہن

حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا

نام و نسب:

عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، اُمّ عبداللہ کنیت، حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی صاحب زادی ہیں۔ ماں کا نام زینب تھا، اُمّ رومان کنیت تھی، اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں۔

حضرت عائشہؓ بعثت کے چار سال بعد شوال کے مہینہ میں پیدا ہوئیں، صدیق اکبر ؓ کا کاشانہ دو برجِ سعادت تھا جہاں خورشیدِ اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے پر تو فگن ہوئیں، اس بنا پر حضرت عائشہؓ اسلام کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں ہیں، جن کے کانوں نے کبھی کفر و شرک کی آواز نہیں سنی، خود حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا ان کو مسلمان پایا۔
حضرت عائشہؓ کو وائل ؓ کی بیوی نے دودھ پلایا۔ وائل کی کنیت ابوالفقیعس تھی، وائل کے بھائی افلحؓ حضرت عائشہؓ کے رضاعی چچا کبھی کبھی ان سے ملنے آیا کرتے اور رسول اللہﷺ کی اجازت سے وہ ان کے سامنے آتی تھیں۔ رضاعی بھائی بھی کبھی کبھی ملنے آیا کرتا تھا۔

نکاح:

تمام ازواجِ مطہرّاتؓ میں یہ شرف صرف حضرت عائشہؓ کو حاصل ہے کہ وہ آنحضرتﷺ کی کنواری بیوی تھیں، آنحضرتﷺ سے پہلے وہ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب ہوئی تھیں، لیکن جب حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد خ*لہ بنت حکیمؓ آنحضرتﷺ سے اجازت لیکر اُمّ رومان سے کہا اور انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ذکر کیا تو چونکہ یہ ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی، بولے کہ ۔ُجبیر بن مطعم سے وعدہ کرچکا ہوں، لیکن مطعم نے خود اس بنا پر انکار کردیا کہ اگر حضرت عائشہؓ ان کے گھر میں گئیں تو گھر میں اسلام کا قدم آجائے گا۔ بہر حال حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خ*لہؓ کے ذریعہ سے آنحضرتﷺ سے عقد کردیا۔ پانچ سو درہم مہر قرار پایا۔ یہ ۱۰ نبوی کا واقعہ ہے اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر چھ برس تھی۔

یہ نکاح اسلام کی سادگی کا حقیقی تصویر تھا، عطیہؓ اس کا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہؓ لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں ان کی اَنا آئی اور ان کو لے گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے آکر نکاح پڑھا دیا۔ حضرت عائشہؓ خود کہتی ہیں کہ جب میرا نکاح ہوا تو مجھ کو خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی، تب میں سمجھی کہ میرا نکاح ہوگیا ہے، اس کے بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا۔

نکاح کے بعد آنحضرتﷺ کا قیام مکہ میں تین سال تک رہا۔ ۱۳ نبوی میں آپ نے ہجرت کی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ساتھ تھے اور اہل و عیال کو دشمنوں کے نرغہ میں چھوڑ آئے تھے جب مدینہ میں اطمینان ہوا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عبداللہ بن اریقظ کو بھیجا کہ اُمّ رومان، اسماء اور عائشہؓ کو لے آئیں، مدینہ میں آکر حضرت عائشہؓ سخت بخار میں مبتلاہوئیں۔ اشتدادِ مرض سے سر کے بال جھڑ گئے۔ صحت ہوئی تو اُمّ رومان کو رسم عروسی ادا کرنے کا خیال آیا۔ اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر۹ سال کی تھی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں کہ اُمّ رومان نے آواز دی، ان کو اس واقعہ کی خبر تک نہیں تھی، ماں کے پاس آئیں انہوں نے منہ دھویا، بال درست کیے، گھر میں لے گئیں۔ انصار کی عورتیں انتظار میں تھیں یہ گھر میں داخل ہوئیں تو سب نے مبارک باد دی۔ تھوڑی دیر بعد خود آنحضرتﷺ تشریف لائے۔2 شوال میں نکاح ہوا تھا اور شوال ہی میں یہ رسم ادا کی گئی۔
حضرت عائشہؓ کے نکاح سے عرب کے بعض بیہودہ خیالات میں اصلاح ہوئی :

(۱) عرب منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہیں کرتے تھے، اسی بنا پر جب خ*لہؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے آنحضرتﷺ کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے حیرت سے کہا کہ ’’کیا یہ جائز ہے؟ عائشہؓ تو رسول اللہﷺ کی بھتیجی ہے، لیکن آنحضرتﷺ نے فرمایا : اَنْتَ اَخِيْ فِي الْاِسْلَامِ’’تم تو صرف مذہبی بھائی ہو۔‘‘

(۲) اہلِ عرب شوال میں شادی نہیں کرتے تھے، زمانۂ قدیم میں اس مہینہ میں طاعون آیا تھا۔ حضرت عائشہؓ کی شادی اور رخصتی دونوں شوال میں ہوئی۔

عام حالات:

غزوات میں سے صرف غزوہ اُحد میں حضرت عائشہؓ کی شرکت کا پتہ چلتا ہے، صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ اور اُمّ ۔ُسلیمؓ کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کرلاتیں تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتیں تھیں۔
غزوہ مصطلق جو ۵ ہجری کا واقعہ ہے، حضرت عائشہؓ آپ کے ساتھ تھیں، واپسی میں ان کا ہار کہیں گرگیا، پورے قافلہ کو اترنا پڑا، نماز کا وقت آیا تو پانی نہ ملا، تمام صحابہؓ پریشان تھے، آنحضرتﷺ کو خبر ہوئی اور تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس اجازت سے تمام لوگ خوش ہوئے، اُسید بن حضیرؓ نے کہا: ’’اے آل ابی بکر! تم لوگوں کے لیے سرمایۂ برکت ہو۔‘‘

اسی لڑائی میں واقعۂ اِفک بھی پیش آیا یعنی منافقین نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگائی، احادیث اور سیر کی کتابوں میں اس واقعہ کو نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، لیکن جس واقعہ کی نسبت قرآن مجید میں صاف مذکور ہے کہ ’’سننے کے ساتھ لوگوں نے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بالکل افتراء ہے‘‘ اس کو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

۹ ہجری میں تحریم اور اِیلاء و تخییر کا واقعہ پیش آیا اور واقعۂ تحریم کی تفصیل حضرت حفصہؓ کے حالات میں آئے گی البتہ واقعۂ اِیلاء کی تفصیل اس مقام پر کی جاتی ہے۔
آنحضرتﷺ زاہدانہ زندگی بسر فرماتے تھے، دو دو مہینے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، آئے دن فاقے ہوتے رہتے تھے۔ ازواجِ مطہراتؓ گو شرف صحبت کی برکت سے تمام ابنائے جنس سے ممتاز ہوگئی تھیں تاہم بشریت بالکل معدوم نہیں ہوسکتی تھی، خصوصاً وہ دیکھتی تھیں کہ فتوحاتِ اسلام کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے، اور غنیمت کا سرمایہ اس قدر پہنچ گیا ہے کہ اس کا ادنیٰ حصہ بھی ان کی راحت و آرام کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کا اقتضا تھا کہ ان کے صبر و قناعت کا جام لبریز ہوجاتا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق و عمرفاروق ؓ خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ بیچ میں آپ ہیں اِدھر اُدھر بیویاں بیٹھی ہیں اور توسیعِ نفقہ کا تقاضا ہے۔ دونوں اپنی صاحبزادیوں کی تنبیہ پر آمادہ ہوگئے، لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم آئندہ آنحضرتﷺ کو زائد مصارف کی تکلیف نہ دیں گے۔
دیگر ازواج اپنے مطالبہ پر قائم رہیں۔ آنحضرتﷺ کے سکونِ خاطر میں یہ چیز اس قدر خلل انداز ہوئی کہ آپ نے عہد فرمایا کہ ایک مہینہ تک ازواجِ مطہرّات سے نہ ملیں گے، اتفاق یہ کہ اسی زمانہ میں آپ گھوڑے سے گر پڑے اور ساق مبارک پر زخم آیا، آپ نے بالا خانہ پر تنہا نشینی اختیار کی، واقعات کے قرینہ سے لوگوں نے خیال کیا کہ آپ نے تمام ازواج کو طلاق دے دی، لیکن جب حضرت عمرؓ نے آنحضرتﷺ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے ازواج کو طلاق دے دی؟ تو آپ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ یہ سن کر حضرت عمرؓ ’’اللہ اکبر‘‘ پکار اُٹھے۔

جب ایلاء کی مدّت یعنی ایک مہینہ گزر چکا توآپ بالا خانہ سے اُتر آئے، سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لائے، وہ ایک ایک دن گنتی تھیں۔ بولیں: یارسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کے لیے عہد فرمایا تھا، ابھی تو اُنتیس ہی دن ہوئے ہیں ارشاد ہوا کہ ’’مہینہ کبھی انتیس کا بھی ہوتا ہے۔‘‘
اس کے بعد آیتِ تخییر نازل ہوئی، اس آیت کی رو سے آنحضرتﷺ کو حکم دیا گیا کہ ازواجِ مطہرات ؓ کو مطلع فرمادیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں(۱) دنیا اور (۲)آخرت۔ اگرتم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو رخصتی جوڑے دیکر عزّت و احترام کے ساتھ رخصت کردوں اور اگر تم خدا اور رسولﷺ اور ابدی راحت کے طلب گار ہو تو خدا نے نیکو کاروں کے لیے بڑا اجر مہیا کررکھا ہے۔ چونکہ حضرت عائشہؓ ان تمام معاملات میں پیش پیش تھیں، آپ نے ان کو ارشادِ الٰہی سے مطلع فرمایا۔ انہوں نے کہا: ’’میں سب کچھ چھوڑ کر خدا اور رسولﷺ کو لیتی ہوں۔‘‘ تمام اور ازواج نے بھی یہی جواب دیا۔

ربیع الاوّل ۱۱ ہجری میں آنحضرتﷺ نے وفات پائی۔ ۱۳ دن علیل رہے جن میں ۸ دن حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں اقامت فرمائی۔ ُخلقِ عمیم کی بنا پر ازواجِ مطہرّات ؓ سے صاف طور پر اجازت نہیں طلب کی بلکہ پوچھا کہ کل میں کس کے گھر میں رہوں گا؟ دوسرا دن (دو شنبہ) حضرت عائشہؓ کے ہاں قیام فرمانے کا تھا ازواجِ مطہرات ؓ نے مرضیٔ اقدس سمجھ کر عرض کی کہ آپ جہاں چاہیں قیام فرمائیں۔ ضعف اس قدر زیادہ ہوگیا تھا کہ چلا نہیں جاتا تھا، حضرت علی اور حضرت عباسؓ دونوں بازو تھام کر بہ مشکل حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں لائے۔
وفات سے پانچ روز پہلے (جمعرات) کو آپ کو یاد آیا کہ حضرت عائشہؓ کے پاس کچھ اشرفیاں رکھوائی تھیں، دریافت فرمایا کہ عائشہ! وہ اشرفیاں کہاں ہیں؟ کیا محمد خدا سے بدگمان ہو کر ملے گا؟ جاؤ! ان کو خدا کی راہ میں خیرات کردو۔
جس دن وفات ہوئی (یعنی دو شنبہ کے روز) بظاہر طبیعت کو سکون تھا لیکن دن جیسے جیسے چڑھتا جاتا تھا آپ پر غشی طاری ہوتی تھی، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: آپ جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ موت کو قبول کریں یا حیاتِ دنیا کو ترجیح دیں۔ اس حالت میں اکثر آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوتے رہے: مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔ اور کبھی یہ فرماتے: اَللّٰہُمَّ! فِي الرَّفِیْقِ الاَْعْلٰی۔ وہ سمجھ گئیں کہ اب صرف رفاقتِ الٰہی مطلوب ہے۔
وفات سے ذرا پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے صاحبزادے عبدالرحمنؓ خدمتِ اقدس میں آئے۔ آپ حضرت عائشہؓ کے سینہ پر سر ٹیک کر لیٹے تھے عبدالرحمنؓ کے ہاتھ میں مسواک تھی، مسواک کی طرف نظر جما کر دیکھا، حضرت عائشہؓ سمجھیں کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ عبدالرحمنؓ سے مسواک لے کر دانتوں سے نرم کی اور خدمتِ اقدس میں پیش کی آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کیا حضرت عائشہؓ فخریہ کہا کرتی تھیں کہ ’’تمام بیویوں میں مجھ ہی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخر وقت میں بھی میرا جھوٹا آپ نے منہ میں لگایا۔‘‘

اب وفات کا وقت قریب آرہا تھا۔ حضرت عائشہؓ آپ کو سنبھالے بیٹھی تھیں کہ دفعۃً بدن کا بوجھ معلوم ہوا دیکھا تو آنکھیں پھٹ کر چھت سے لگ گئی تھیں اور روحِ پاکﷺ عالم اقدس میں پرواز کر گئی تھی، حضرت عائشہؓ نے آہستہ سے سرِ اقدس تکیہ پر رکھ دیا اور رونے لگیں۔
حضرت عائشہؓ کے ابوابِ مناقب کے سب سے زرّیں باب یہ ہے کہ ان کے حجرہ کو آنحضرتﷺ کا مدفن بننا نصیب ہوا اور نعش مبارک اسی حجرہ کے ایک گوشہ میں سپردِ خاک کی گئی۔ چونکہ ازواجِ مطہرّات کے لیے خدا نے دوسری شادی ممنوع کردی تھی اس لیے آنحضرتﷺ کے بعد حضرت عائشہؓ نے ۴۸ سال بیوگی کی حالت میں بسر کیے۔ اس زمانہ میں ان کی زندگی کا مقصدِ و حید قرآن و حدیث کی تعلیم تھا، جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
آنحضرتﷺ کی وفات کے دو برس بعد ۱۳ ہجری میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انتقال فرمایا اور حضرت عائشہؓ کے لیے یہ سایۂ شفقت بھی باقی نہ رہا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت عائشہؓ کی جس قدر دلجوئی کی وہ خود اس کو اس طرح بیان فرماتی ہیں: ’’ابن خطابؓ نے آنحضرتﷺ کے بعد مجھ پر بڑے بڑے احسانات کیے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے تمام ازواجِ مطہرات ؓ کے لیے دس دس ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر فرمایا تھا۔ لیکن حضرت عائشہؓ کا وظیفہ بارہ ہزار تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرتﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔

حضرت عثمانؓ کے واقعہ شہادت میں حضرت عائشہؓ مکہ میں مقیم تھیں۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ نے مدینہ سے جاکر ان کو واقعات سے آگاہ کیا تو دعوتِ اصلاح کے لیے بصرہ گئیں اور وہاں حضرت علیؓ سے جنگ پیش آئی، جو جنگِ جمل کے نام سے مشہور ہے جمل اونٹ کو کہتے ہیں، چونکہ حضرت عائشہؓ ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اس نے اس معرکہ میں بڑی اہمیت حاصل کی تھی اس لیے یہ جنگ بھی اسی کی نسبت سے مشہور ہوگئی یہ جنگ اگرچہ بالکل اتفاقی طور پر پیش آگئی تھی۔ تاہم حضرت عائشہؓ کو اس کا ہمیشہ افسوس رہا۔
بخاری میں ہے کہ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی کہ ’’مجھے روضہ نبویﷺ میں آپ کے ساتھ دفن نہ کرنا بلکہ بقیع میں اور ازواج کے ساتھ دفن کرنا کیونکہ میں نے آپ کے بعد ایک جرم کیا ہے۔ ‘‘ ابن سعد میں ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتی تھیں: وَقَرْنَ فِی بُیُوْتِکُنَّ۔ ’’اے پیغمبر کی بیویو! اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو۔‘‘ تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہوجاتا تھا۔
حضرت علیؓ کے بعد حضرت عائشہؓ اٹھارہ برس اور زندہ رہیں اور یہ تمام زمانہ سکون اور خاموشی سے گزرا۔

وفات:

حضرت امیر معاویہؓ کا اخیر زمانۂ خلافت تھا کہ رمضان ۵۸ ہجری میں حضرت عائشہؓ نے رحلت فرمائی، اس وقت سڑسٹھ(۶۷) برس کا سن تھا اور وصیت کے مطابق جنت البقیع میں رات کے وقت مدفون ہوئیں۔ قاسم بن محمد، عبداللہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن ابی عتیق، عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر ؓ نے قبر میں اُتارا، اس وقت حضرت ابوہریرہؓ مروان بن حکم کی طرف سے مدینہ کے حاکم تھے، اس لیے انہوں نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔

اولاد:

حضرت عائشہؓ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، ابن الاعرابی نے لکھا ہے کہ ایک ناتمام بچہ ساقط ہوا تھا اس کا نام عبداللہ تھا اور اسی کے نام پر انہوں نے کنیت رکھی تھی لیکن یہ قطعاً غلط ہے۔ حضرت عائشہؓ کی کنیت اُمّ عبداللہ ان کے بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ کے تعلق سے تھی جن کو انہوں نے متبنّٰی بنایا تھا۔

حلیہ:

حضرت عائشہؓ خوش رو اور صاحبِ جمال تھیں، رنگ سرخ و سفید تھا۔

فضل و کمال:

علمی حیثیت سے حضرت عائشہؓ کو نہ صرف عورتوں پر، نہ صرف دوسری امہات المؤمنین پر، نہ صرف خاص خاص صحابیوں پر، بلکہ باستثنائے چند، تمام صحابہؓ پر فوقیت حاصل تھی۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے۔
مَااَشْکَلَ عَلَیْنَا اَصْحَابَ مُحَمَّدٍﷺ حَدِیْثٌ قَطُّ فَسَاَلْنَا عَائِشَۃَ اِلَّاوَجَدْنَا عِنْدَھَا مِنْہُ عِلْمًا۔

’’ہم کو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جس کو ہم نے عائشہؓ سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس کے متعلق کچھ معلومات نہ ہوں۔‘‘

امام زہری ؒ جو سرخیل تابعین تھے، فرماتے ہیں:

کَانَتْ عَائِشَۃَ أَعْلَمَ النَّاسِ یَسْئَلُھَا الْأَکَابِرُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔

’’عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں۔ بڑے بڑے اکابر صحابہؓ ان سے پوچھا کرتے تھے۔‘‘
عروہ بن زبیرؓ کا قول ہے:

مَارَأَیْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِالْقُرْاٰنِ وَلَا بِفَرِیْضَۃٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَلَا بِفِقْہٍ وَلَا بِشِعْرٍ وَلَا بِطِبٍّ وَلَا بِحَدِیْثِ الْعَرَبِ وَلَا نَسَبٍ مِنْ عَائِشَۃَ۔

’’قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔‘

امام زہری ؒ کی ایک شہادت ہے:

لَوْ جُمِعَ عِلْمُ النَّاسِ کُلِّھِمْ، ثُمَّ عِلْمُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَکَانَتْ عَائِشَۃُ اَوْسَعُھُمْ عِلْمًا۔

’’اگر تمام مردوں کا اور امہات المومنین کا علم ایک جگہ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہؓ کا علم وسیع تر ہوگا۔‘‘

حضرت عائشہؓ کا شمار مجتہدین صحابہؓ میں ہے اور اس حیثیت سے وہ اس قدر بلند ہیں کہ بے تکلف ان کا نام حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباسؓ کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔ وہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں فتویٰ دیتی تھیں اور اکابر صحابہ پر انہوں نے جو دقیق اعتراضات کیے ہیں ان کو علامہ سیوطی ؒ نے ایک رسالہ میں جمع کردیا ہے اس رسالہ کا نام ’’عین الإصابہ في ما استدرکتہ السیّدۃ عائشۃ ؓ علی الصحابۃ‘‘ ہے۔
حضرت عائشہؓ ’’مکثرین صحابہؓ‘‘ میں داخل ہیں۔ ان سے ۲۲۱۰ حدیثیں مروی ہیں، جن میں ۱۷۴ حدیثوں پر شیخین نے اتفاق کیا ہے۔ امام بخاری ؒ نے منفرداً ان سے ۵۴ حدیثیں روایت کی ہیں۔ ۶۸ حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ احکامِ شرعیہ میں سے ایک چوتھائی ان سے منقول ہے۔
علم کلام کے متعدد مسائل ان کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ چنانچہ رؤیتِ باری، علم غیب، عصمتِ انبیاء، معراج، ترتیبِ خلافت اور سماعِ موتی وغیرہ کے متعلق انہوں نے جو خیالات ظاہر کیے ہیں، انصاف یہ ہے کہ ان میں ان کی دقتِ نظر کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔
علم اسرِار الدّین کے متعلق بھی ان سے بہت سے مسائل مروی ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید کی ترتیب نزول، مدینہ میں کامیابیٔ اسلام کے اسباب، غسلِ جمعہ، نمازِ قصر کی علت، صومِ عاشورا کا سبب، حج کی حقیقت اور ہجرت کے معنی کی انہوں نے خاص تشریحات کی ہیں۔
طب کے متعلق وہی عام معلومات تھیں جو گھر کی عورتوں کو عام طور پر ہوتی ہیں۔ البتہ تاریخِ عرب میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ عرب جاہلیت کے حالات، انکے رسم و رواج، انکے انساب اور انکی طرزِ معاشرت کے متعلق انہوں نے بعض ایسی باتیں بیان کی ہیں جو دوسری جگہ نہیں مل سکتیں۔ اسلامی تاریخ کے متعلق بھی بعض اہم واقعات ان سے منقول ہیں، مثلاً آغازِ وحی کی کیفیت، ہجرت کے واقعات، واقعۂ اِفک، نزولِ قرآن اور اس کی ترتیب، نماز کی صورتیں، آنحضرتﷺ کے مرض الموت کے حالات، غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، خندق، قریظہ کے واقعات، غزوۂ ذات الرقاع میں نمازِ خوف کی کیفیت، فتحِ مکہ میں عورتوں کی بیعت، حجۃ الوِداع کے ضروری حالات، آنحضرتﷺ کے اخلاق و عادات، خلافتِ صدیقی، حضرت فاطمہؓ اور ازواجِ مطہرات ؓ کا دعوائے میراث، حضرت علیؓ کا ملالِ خاطر اور پھر بیعت کے تمام مفصل حالات ان ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوئے ہیں۔
ادبی حیثیت سے وہ نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں۔ ترمذی میں موسیٰ بن طلحہ کا یہ قول نقل ہے:

مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَۃَ۔

’’میں نے عائشہ سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔‘‘

اگرچہ احادیث میں روایت بالمعنی کا عام طور پر رواج ہے اور روایت باللفظ کم اور نہایت کم ہوتی ہے، تاہم جہاں حضرت عائشہؓ کے اصلی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں پوری حدیث میں جان پڑگئی ہے مثلاً آغازِ وحی کے سلسلہ میں فرماتی ہیں:

فَمَا رَأَی رُؤْیًا اِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ۔

’’آپ جو خواب دیکھتے تھے سپیدۂ سحر کی طرح نمودار ہوجاتا تھا۔‘‘

آپ پر جب وحی کی کیفیت طاری ہوتی تو جبیں مبارک پر عرق آجاتا تھا۔ اس کو اس طرح ادا کرتی ہیں:

مِثْلُ الْجُمَانِ۔
’’پیشانی پر موتی ڈھلکتے تھے۔‘‘

واقعۂ اِفک میں انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی ۔اس کو اس طرح بیان فرماتی ہیں:

مَا اَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ۔
’’میں نے سرمۂ خواب نہیں لگایا۔‘‘

صحیح بخاری میں ان کے ذریعہ سے اُمّ زرع کا جو قصہ مذکور ہے وہ جانِ ادب ہے اور اہلِ ادب نے اس کی مفصل شرحیں اور حاشیے لکھے ہیں۔
خطابت کے لحاظ سے بھی حضرت عمر اور حضرت علیؓ کے سوا تمام صحابہ کرام میں ممتاز تھیں۔ جنگِ جمل میں انہوں نے جو تقریریں کی ہیں وہ جوش اور زور کے لحاظ سے اپنا جواب نہیں رکھتیں، ایک تقریر میں فرماتی ہیں:
’’لوگو! خاموش، خاموش، تم پر میرا مادری حق ہے، مجھے نصیحت کی عزّت حاصل ہے۔ سو! اس شخص کے جو خدا کا فرمان بردار ہے، مجھ کو کوئی الزام نہیں دے سکتا۔ آنحضرتﷺ نے میرے سینہ پر سر رکھے ہوئے وفات پائی ہے۔ میں آپ کی محبوب ترین بیوی ہوں۔ خدا نے مجھ کو دوسروں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور میری ذات سے مومن و منافق میں تمیز ہوئی اور میرے ہی سبب سے تم پر خدا نے تیمم کا حکم نازل فرمایا۔
پھر میرا باپ دنیا میں تیسرا مسلمان ہے اور غارِ ثور میں دو کا دوسرا تھا۔ اور پہلا شخص تھا جو صدیق کے لقب سے مخاطب ہوا۔ آنحضرتﷺ نے اس سے خوش ہو کر اور اس کو طوقِ خلافت پہنا کر وفات پائی۔ اس کے بعد جب مذہبِ اسلام کی رسی ہلنے ڈولنے لگی تو میرا ہی باپ تھا جس نے اس کے دونوں سرے تھام لیے۔ جس نے نفاق کی باگ روک دی۔ جس نے ارتداد کا سر چشمہ خشک کردیا۔ جس نے یہودیوں کی آتش افروزی سرد کی۔ تم لوگ اس وقت آنکھیں بند کیے غدر و فتنہ کے منتظر تھے اور شور و غوغا پر گوش بر آواز تھے، اس نے شگاف کو برابر کیا۔ بیکار کو درست کیا۔ گرتوں کو سنبھالا۔ دلوں کی مدفون بیماریوں کو دور کیا۔ جو پانی سے سیراب ہوچکے تھے ان کو تھان تک پہنچادیا۔ جو پیاسے تھے ان کو گھاٹ پر لے آیا اور جو ایک بار پانی پی چکے تھے انہیں دوبارہ پلایا۔ جب وہ نفاق کا سر کچل چکا اور اہلِ شرک کے لیے آتشِ جنگ مشتعل کرچکا اور تمہارے سامان کی گٹھڑی کو ڈوری سے باندھ چکا تو خدا نے اسے اُٹھالیا۔
ہاں! میں سوال کا نشانہ بن گئی ہوں کہ فوج لے کر نکلی؟ میرا مقصد اس سے گناہ کی تلاش اور فتنہ کی جستجو نہیں ہے جس کو میں پامال کرنا چاہتی ہوں، جو کچھ کہہ رہی ہوں سچائی اور انصاف کے ساتھ تنبیہ اور اتمامِ حجت کے لیے۔‘‘

حضرت عائشہؓ گو شعر نہیں کہتی تھیں، تاہم شاعرانہ مذاق اس قدر عمدہ پایا تھا کہ حضرت حسان بن ثابتؓ جو عرب کے مسلم الثبوت شاعر تھے ان کی خدمت میں اشعار سنانے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ امام بخاری ؒ نے الادب المفرد میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہؓ کو کعب بن مالکؓ کا پورا قصیدہ یاد تھا، اس قصیدہ میں کم وبیش چالیس شعر تھے۔ کعبؓ کے علاوہ ان کو دیگر جاہلی اور اسلامی شعراء کے اشعار بھی بکثرت یاد تھے جن کو وہ مناسب موقعوں پر پڑھا کرتی تھیں، چنانچہ وہ احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں۔
حضرت عائشہؓ نہ صرف ان تمام علوم کی ماہر تھیں بلکہ دوسروں کو بھی ماہر بنادیتی تھیں۔ چنانچہ ان کے دامنِ تربیت میں جو لوگ پرورش پاکر نکلے اگرچہ ان کی تعداد دو سو کے قریب ہے، لیکن ان میں جن کو زیادہ قرب و اختصاص حاصل تھا وہ حسبِ ذیل ہیں:

عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، مسروق، عمرہ، صفیہ بنت شیبہ، عائشہ بنت طلحہ، معاویۃ عدویہؓ۔

اخلاق و عادات:

اخلاقی حیثیت سے بھی حضرت عائشہؓ بلند مرتبہ رکھتی تھیں، وہ نہایت قانع تھیں، غیبت سے احتراز کرتی تھیں، احسان کم قبول کرتیں، اگرچہ خود ستائی ناپسند تھی تاہم نہایت خود دار تھیں، شجاعت اور دلیری بھی ان کا خاص جوہر تھا۔
ان کا سب سے نمایاں وصف جو دوسخا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ امیر معاویہؓ نے ان کی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے ہوتے سب خیرات کردیئے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھا۔ اتفاق سے اس دن روزہ رکھا تھا، لونڈی نے عرض کیا کہ افطار کے لیے کچھ نہیں ہے، فرمایا: پہلے سے کیوں نہ یاد دلایا۔

ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ جو ان کے متبنّٰی فرزند تھے، ان کی فیاضی دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ اب ان کا ہاتھ روکنا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ کو معلوم ہوا تو سخت برہم ہوئیں اور قسم کھائی کہ ان سے بات نہ کریں گی۔ چنانچہ ابن زبیرؓ مدّت تک معتوب رہے اور بڑی دقت سے ان کا غصہ فرو ہوا۔

نہایت خاشع، متضرع اور عبادت گزار تھیں، چاشت کی نماز برابر پڑھتیں، فرماتی تھیں کہ اگر میرا باپ بھی قبر سے اُٹھ آئے اور مجھ کو منع کرے تب بھی باز نہ آؤں گی۔ آنحضرتﷺ کے ساتھ راتوں کو اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتی تھیں اور اس کی اس قدر پابند تھیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد جب کبھی یہ نماز قضا ہوجاتی تو نماز فجر سے پہلے اُٹھ کر پڑھ لیتی تھیں۔ رمضان میں تراویح کا اہتمام کرتی تھیں۔ ذکوان ان کا غلام امامت کرتا اور وہ مقتدی ہوتیں۔
اکثر روزے رکھا کرتی تھیں، حج کی بھی شدّت سے پابند تھیں اور ہر سال اس فرض کو ادا کرتیں۔ غلاموں پر شفقت کرتیں اور ان کو خرید کر آزاد کرتی تھیں، ان کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد انہتر (۶۹) ہے۔

05/02/2019

گوانتانا موبے کا جہنم، سابق افغان سفیر
مُلّا عبدالسلام ضعیف کی کہانی ۔۔۔۔۔۔

*قسط 2⃣*

بحری بیڑے میں:
مجھے اس جگہ دو گھنٹے اسی کرب میں رکھا گیا پھر دوسرے ہیلی کاپٹر میں سوار کرا کر ایک آہنی کرسی سے باندھ دیا گیا۔ اب کی بار مجھے مار نہیں پڑ رہی تھی۔25/20منٹ بعد ہیلی کاپٹر نیچے اترا۔ مجھے اندر ہی کھڑا کیا گیا۔ یہاں متعدد جہازوں کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔ مجھے نیچے اتار کر چہرے سے نقاب ہٹا دیا گیا اور آنکھوں کی پٹی بھی اتار دی گئی۔ دیکھا کہ چند امریکی فوجی کھڑے ہیں۔ بائیں جانب ایک قید خانہ نظر آیا جس میں چند قیدیوں کو باندھا گیا تھا۔ اسی جگہ مجھے بھی ڈال دیاگیا یہاں موجود ایک چھوٹے سے واش روم میں مجھے منہ ہاتھ دھونے کو کہا گیا مگر میرے ہاتھوں میں سکت نہیں تھی (کہ میں اپنے ہاتھ دھو لیتا) میں نے اتنا کیا کہ خود کو گیلا کر دیا پھر مجھے ایک چادر دے کر ایسے کمرے میں لے جایا گیا جو دو میٹر لمبا اور ایک میٹر اونچا تھا۔ رفع حاجت کی جگہ بھی اتنی سی جگہ میں تھی۔ کمرے کی دیواریں آہنی تھیں اوپر سے مضبوط آہنی جالیاں بھی لگائی گئی تھیں۔مجھے سونے کا کہا گیا مگر نہ بستر تھا نہ تکیہ حیران تھا کہ میں کہاں لایا گیا ہوں اور مزید کس سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا؟
ایک فوجی کمرے کے سامنے کھڑا تھا خوب سوچ بچار کے بعد مجھے علم ہو اکہ یہ ایک بالکل بند جگہ تھی تین اور چھوٹے کمرے تھے اور ایک کلینک ، ایک میڈیکل اسٹور تھا جس کے ساتھ ایک کمپوڈر ہمیشہ بیٹھا رہتا تھا ۔اس کمرے کا ایک دروازہ تھا اور پانی کی بھی کمی تھی یہاں پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ شاید انڈر گراؤنڈ جیل ہو جنہیں افغانستان کی جنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہو۔ صبح و شام نقل و حرکت اور بھاری مشینری کی آوازوں سے بہت جلد میرے احساسات یقینات میں بدل گئے اور یہ واقعی ایک انڈر گراؤنڈ جیل تھی۔ جنہیں افغانستان کی جنگ کے لیے مختص کیا گیا تھا اور ہم اس کے نیچے چھٹے بلاک میں تھے۔
دیگر طالبان رہنماؤں کے ساتھ:
اس کے علاوہ میں بہت زیادہ ڈر گیا تھا اور بہت کم پلکوں کو حرکت دیتا تھا اور زبان تالو کے ساتھ چپک گئی لیکن میں سوچتا رہا بائیں جناب ایک بڑا کمرہ دکھائی دے رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں بھی قیدی ہیں۔ میں نے یہ سوچا کہ شاید بعض طالبان بھائی بھی یہاں ہوں۔ صبح کھانے پر تمام قیدی بھائیوں کو معلوم ہوا کہ ان کا ایک اور بھائی بھی یہاں قیدی بن کر آیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بات نہیں کر سکتے تھے۔ البتہ ہم روٹی کی آڑ میں چپکے چپکے چوری سے ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے ۔دو دن کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ملا فاضل محمد، نور اللہ نوری صاحب، برہان وثیق صاحب اور غلام روحانی بھی یہاں قید ہیں لیکن پھر بھی ہم آپس میں گفتگو نہ کر سکے ۔یہ تمام طالبان رہنما تھے۔
بتاؤملا عمر کہاں ہیں؟
صبح مجھے ہتھکڑی پہنا کر ایک دوسرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں تفتیش کا پہلا دور شروع ہوا۔ میری انگلیوں کے نشانات لیے گے، فوٹو گرافی ہوئی اور بائیو گرافی لکھی گئی۔ اس کے علاوہ کوئی سوال جواب کیے بغیر واپس اسی قید خانے میں لایا گیا جہاں رات کا کھانا پلاسٹک کے برتنوں میں پڑا ملا۔ ہلکا پھلکا کھانے کے بعد برتن فوجیوں کو واپس کر دیے جس کے بعد سونے کا ارادہ باندھا۔ ابھی آنکھیں بند ہی ہو رہی تھیں کہ فوجیوں کے شور سے جاگ گیا۔ مجھے پکڑ کر دوبارہ تفتیش والے کمرے میں لے جایا گیا جہاں پہلی دفعہ مجھ سے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے بارے میں سوالات پوچھے گئے کہ وہ کہاں تھے؟ کدھر چلے گئے؟ ابھی کہاں ہوں گے؟ اور کیسے ہوں گے؟ عام طور پر طالبان کے رہنماؤں کے متعلق پوچھا گیا کہ ان کا کیا بنا؟ وہ کدھر ہیں؟ اور کیسی حالت میں ہیں؟ وہ کہاں چلے گئے؟ ایک سوال وہ بار بار پوچھتے رہے کہ نائن الیون کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ کو کوئی معلومات ہیں؟ یا آپ نے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟
البتہ یہ وہ مقصودی سوالات تھے کہ پہلی بار وہ اس کے جوابات کے متلاشی تھے اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ علم بھی تھا کہ اس واقعے سے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے۔ا بھی تک کسی کو بھی اس کا سراغ نہ مل سکا۔ ہزاروں لوگ بے عزت کیے گئے، ہزاروں مسلمان شہید ہوئے، ہزاروں مسلمان قیدی بنائے گئے اور ابھی تک قتل و غارت گری اور قید و بند کاسلسلہ جاری ہے۔
ابھی تک اس کے کوئی شواہد عدالت کو پیش کیے گئے اور نہ ہی امریکی قوم کو اطمینان بخش جواب دیا گیا(جب شواہد اور ثبوت ہی نہیں تھے کہاں سے عدالت میں پیش کرتے اور کیسے اپنے عوام کو اس پر مطمئن کرتے؟ بلکہ آہستہ آہستہ اس صہیونی سازش کی حقیقت کھلتی چلی گئی اور پس پردہ سازش سے پردہ اٹھا) یکطرفہ طور پر بغیر کسی دلیل و شواہد کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور بغیر کسی قانون و قاعدہ کے ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھاہے
فولادی پنجہ:
دہشت گردی کا لفظ امریکیوں کے لیے ا یک فولادی پنجہ ہے جسے چاہتے ہیں وہ اس سے اس کا سر دے مارتے ہیں اور ان کی گرفتاری اور رہائی عمل میں لاتے اور ان کا یہ مکرہ و فریب دوسرے تمام ملکوں پر آشکار ہو چکا ہے۔ چار پانچ دن تک یومیہ تفتیش دو مرتبہ مکرر ہوتی رہی اور وہی پرانے سوالات پوچھے جاتے رہے لیکن میرے لیے یہاں اچھی بات یہ تھی کہ یہاں کوئی سختی، مار پیٹ اور سزا نہ تھی لیکن طبعی طور پر ایسے تنگ مکان میں زندہ رہنے کے باوجود زندگی بڑی مشکل سے بسر ہوتی ہے۔
’’باتیں مت کرو اور ہلو مت‘‘
پانچ چھ دن کے بعد صبح ناشتے پر مجھے خاکی رنگ کا یونیفارم دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ پرانے یونیفارم کی جگہ اسے پہن لو، یونیفارم تبدیل کرنے کے فوراً بعد منتقلی کا کام شروع ہوگیا۔ تمام قیدیوں کے ہاتھوں کو پلاسٹک کی رسی سے باندھا گیا اور ان کے سروں پر تھیلے چڑھائے گئے۔ تھیلوں کے تسموں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھا گیا۔ آخری باری میری تھی۔ میرے ہاتھوں کو بھی رسیوں سے باندھا گیا، سر پر تھیلی چڑھائی گئی اور تہہ خانے سے اوپر لا کر ان قیدی بھائیوں کے ساتھ بٹھایا گیا جنہیں مجھ سے پہلے لایا گیا تھا۔ قیدیوں میں پانچ افغان تھے جن کے نام میں نے پہلے ذکر کر دیئے۔دو عرب، اور ایک امریکی مسلمان تھا اور نواں میں تھا۔
یاد رہے کہ میرے اور ان کے یونیفارم میں فرق تھا۔ میرا یونیفارم خاکی اور ان کا آسمانی کلر کا تھا۔ کافی دیر تک ہمیں وہاں اس بند حالت میں بٹھایا گیا ۔سخت رسی سے باندھنے اور دم گھنٹے کی شکایت کی وجہ سے ساتھیوں کی مسلسل چیخیں نکل رہی تھیں۔ کوئی قیدی پانی مانگ رہا تھا تو کوئی ہاتھوں کے درد کی شکایت کر رہا تھا۔ کوئی چیختا تھا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن انسانیت نام کی کوئی چیز نہ تھی جو ہماری آوازوں کو سنتے اور ہمیں درد و قید سے چھڑا کر پانی پلاتے اور سروں سے تھیلے ہٹا کر ہمیں سانس لینے دیا جاتا۔ خالی فوجیوں کی آوازیں اور نعرے تھے جو ہمیں انگریزی زبان میں لتاڑتے تھے اور کہتے تھے (Shut up and Stop Movement)(باتیں مت کرو اور ہلو مت)
اس سے پہلے کیا کچھ ہوتا رہا،
یہاں مسلسل ہیلی کاپٹروں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ دو تین گھنٹے ہمیں یہاں رکھا گیا اور پھر ہیلی کاپٹروں کے اندر ڈال کر باندھا گیا۔ تقریبا 25منٹ سفر کے بعد ہمیں ایک اور جگہ منتقل کیا گیا ہمیں ہیلی کاپٹر سے نیچے زمین پر گرایا گیا اور وہاں موجود فوجیوں نے ہمارے جسموں کے ساتھ فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔
لاتیں اور گھونسے:
مختلف فوجی آتے رہے اور ہمیں لاتوں اور گھونسوں سے سخت مارتے رہے ۔یہاں تک کہ فوجی اپنے بوٹوں سے ہماری انگلیاں زمین کے ساتھ روندتے رہے اور ہماری چیخیں بلند ہوتی رہیں ۔اسی اثناء میں ایک فوجی مجھے تلاش کرنے کے سلسلے میں میرے پاس آیا، میرے سر سے تھیلا اٹھایا اور پھر دوبارہ پہنا کر شناخت کے بعد چپ چاپ چلا گیا ۔میں نے اس وقت اپنے دوسرے قیدی بھائیوں کو دیکھا کہ وہ سخت تکلیف میں تھے۔امریکی فوجی ان کے جسموں سے لاتوں اور گھونسوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور ان کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں۔ یہاں ہم اتنے سخت عذاب میں تھے کہ وضو اور نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اشارے سے نماز پڑھ سکتے تھے۔ اس لیے کہ ہماری تھوڑی سی حرکت پر وہ ہم پر لاتوں کی بارش کرتے۔ ایک لمحہ لیے ہمیں چھوٹے پیشاب کے لیے اٹھایا گیا جس سے ہماری طبیعت قدرے سنبھل گئی۔کئی بار ہیلی کاپٹر لینڈنگ کرتے رہے اور بار بار پرواز کرتے رہے بالآخر رات کے شروع ہوتے ہی ایک ہیلی کاپٹر ہمارے بہت قریب آیا اور ہمیں اس کے اندر ڈال دیا گیا۔
پل صراط اور حالت نزع:
ہیلی کاپٹر کی منتقلی پل صراط کا پل اور حالت نزع کے برابر ہوتا تھا ۔اتنا سخت عذاب تھا کہ جسے میں آج بھی تصور نہیں کر سکتا۔ گوانتاناموبے میں ہمیں ہمیشہ اپنی منتقلی کی فکر ہوتی تھی کہ وہ خدانخواستہ دوسری جگہ منتقل کس طرح ہوگی۔
ہمیں ہیلی کاپٹر کے اندر ہاتھ پاؤں سے مضبوط باندھا گیا ۔اس طرح کے ڈبل پٹے ہمارے سینے اور رانوں کے اوپر لپیٹ کر جہاز کے دوسرے حصوں سے مضبوط باندھ دیا گیا۔ ایسے میں نیم لیٹے اور نیم بیٹھے ہوتے تھے نہ صحیح طرح لیٹ سکتے تھے اور نہ ہی صحیح طرح بیٹھ سکتے تھے۔
بگرام ائیرپورٹ:
ریڑھ کی ہڈی میں شدید تکلیف ہو رہی تھی اور سانس گھٹ رہا تھا لیکن صبر کے سوا کوئی راستہ نہ تھا ۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ سہارا لینے لگ جاتے تو فوجی وحشی بوٹ سے سخت مارتے، ساتھیوں کو پیشاب اور پیاس کے تقاضے کے باوجود اجازت نہیں ملتی تھی اور ترجمان بھی نہ تھا یا پھر وہ بھی فوجیوں کے ساتھ ملا ہوتا تھا۔ راستے میں دو جگہ ہیلی کاپٹر اترا اور پھر اڑان بھری کافی دیر بعد ہیلی کاپٹر ایک جگہ اترا اور یہ بگرام ائیرپورٹ تھا۔
’’امریکا عدل و انصاف کا گھر ہے‘‘
مجھے فوجیوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ نیچے پکی زمین پر پھینکا۔ چند فوجی یہ نعرے لگا رہے تھے (This is the big one)یہ ان کا بڑا ہے۔ پھر انہوں نے مجھ پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش شروع کر دی دی۔ میں نے تو کلاشنکوف کے بٹ بھی محسوس کئے میرے جسم سے کپڑے الگ ہوگئے خالی سر پر تھیلا اور ہاتھ پاؤں میں بیڑی لگی ہوئی تھی۔ تازہ تازہ برف باری ہو چکی تھی چند گھنٹوں کی مار پیٹ کے بعد انہوں نے مجھے ننگا برف پر پھینک دیا۔ فوجیوں کی موجودگی میں ایک خاتون مسلسل غزل پڑھ رہی تھی اور فوجی لوگ میرے جسم کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ غزلوں کا ایک ٹکڑا ابھی تک مجھے یاد ہے وہ گا رہی تھی:
’’امریکا عدل و انصاف کا گھر ہے اور عدل و انصاف کا خواہاں ہے ، ہر آدمی کے لیے انصاف چاہتا ہے۔‘‘
(بشرطیکہ مسلمان نہ ہو کیونکہ مسلمان ان کے نزدیک انصاف کا کوئی استحقاق ہی نہیں رکھتا) اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا وحشی طریقہ روا رکھتے ہیں اور اس طرح کی غزل گاتے رہتے ہیں۔ ایسا وحشی طریقہ کہ جس کا نہ تو عدل و انصاف سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اسے عدل و انصاف کہہ سکتا ہے۔
برف پر شدید سردی تھی جسم بالکل شل ہو کر کانپتا تھا اور فوجی مسلسل چیختے تھے Stop Movement(حرکت مت کرو، مت ہلو) لیکن شدید سردی کی وجہ سے جسم کی لرزش اور کپکپاہٹ روکنا میرے بس میں نہ تھا آخر کار تین چار گھنٹے بعد شدید سردی کی وجہ سے میں بے ہوش ہوگیا اور پھر مجھے اپنا پتہ نہ چل سکا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں ایک ایسے بڑے کمرے میں پڑا ہوا تھا جس میں دھوپ پڑتی تھی۔ تقریبا یہ دن کے نو دس بجے کا وقت تھا میرے جسم میں شدید درد تھا جو میرے لیے بالکل ناقابل برداشت تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
*جاری ہے*. . .

27/12/2018

Arfa Noor Kollection like this page

مرغی کے انڈے کے چپٹے سرے میں اللہ تعالیٰ نے آکسیجن کا ایک بلبلہ رکھا ہے۔ انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی بغور دیکھ دیکھ کر اس س...
21/11/2018

مرغی کے انڈے کے چپٹے سرے میں اللہ تعالیٰ نے آکسیجن کا ایک بلبلہ رکھا ہے۔
انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی بغور دیکھ دیکھ کر اس سرے کو اوپر کرتی رہتی ھے۔
آپ نے اکثر اُسے چونچ سے انڈوں کو کریدتے ہوئے دیکھا ہوگا، اُس وقت وہ اصل میں یہی کام کر رہی ہوتی ہے۔
میرے اللہ نے مرغی کو بھی سائنسدان بنایا ہے۔
بچے کا منہ اوپر کی جانب بنتا ہے،
اگر تو انڈے کا چپٹا رُخ اوپر رہے تو چوزہ تخلیق کے مراحل کی تکمیل ہوتے ہی اُس بُلبلے سے سانس لیتا ہے،
لیکن اس کے پاس مہلت محض اتنی ہوتی ہے کہ وہ آکسیجن کے اس بُلبلے کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے خ*ل کو توڑ کر باہر نکلے،
باہر آکسیجن کا سمندر اس کے انتظار میں ہوتا ہے۔
چنانچہ اگر وہ اُس بُلبلے کو ہی زندگی سمجھ کر استعمال کرے اور خ*ل کو توڑنے کی کوشش نہ کرتے تو پھر کچھ ہی لمحوں بعد وہ اندر ہی مر جاتا ہے۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب چوزہ خ*ل کو اندر سے توڑ نہیں پاتا تو وہ بولتا اور فریاد کرتا ہے تو ماں باہر سے چونچ مار کر اُس خ*ل کو توڑ دیتی ہے،
اور یوں وہ آزاد دنیا میں آ جاتا ہے، مگر یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ چوزے کی آزادی کیلئے اُسکی پکار اور فریاد ضروری ھے۔
لہٰذا اللہ کے حضور رونا اور بخشش مانگنا ضروری ہے۔۔۔💞💞💞

عیب پوشی کرنا سیکھیے!ہم میں سے ہر انسان کی زندگی کی کتاب میں کچھ ایسے اوراق ضرور ہوتے ہیں جنہیں ہم کبھی منظرِ عام پر لان...
21/11/2018

عیب پوشی کرنا سیکھیے!

ہم میں سے ہر انسان کی زندگی کی کتاب میں کچھ ایسے اوراق ضرور ہوتے ہیں جنہیں ہم کبھی منظرِ عام پر لانا پسند نہیں کرتے. ایسے لمحے ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں جب وہ نفس کی پیروی میں یا شیطان کے بہکاوے میں آ کر ایسی حرکتیں کر بیٹھتا ہے جن پر وہ پوری زندگی پچھتاتا ہے. ہمارے اعمال کی یہ سیاہیاں اگرچہ ہمارے سفید اور اجلے کپڑوں میں نظر نہ آتی ہوں مگر اس ذات کو تو ہمارے ایک ایک پل کی خبر ہے جو علیم بذات الصدور ہے، اس کی رحمت دیکھیے کہ وہ اپنے عفو وکرم سے ہمارے ان عیبوں پر پردہ ڈال کر ہمیں رسوا ہونے سے بچا لیتا ہے، اگر وہ ایسا نہ کرتا اور ہمارے تمام اعمال وحرکات منظرِ عام پر آ جاتے تو ہم میں سے ہر شخص سوچے کہ آج معاشرے میں اس کی کیا پوزیشن ہوتی؟
جب اللہ نے ہمارے بے شمار عیبوں پر پردہ ڈال رکھا ہے تو کیا یہ بات ہمیں زیب دیتی ہے کہ ہم دوسروں کی جاسوسی کرتے پھریں، ان کے نقائص اور عیوب تلاش کریں اور پھر انہیں معاشرے میں بے عزت کریں. ذرا سوچیے اگر عزت وذلت کا معاملہ اللہ نے انسانوں کے ہاتھ میں دیا ہوتا تو ہم میں سے کوئی شخص اپنے حریف ومقابل کو کبھی باعزت زندگی گزارنے ہی نہ دیتا اور شاید ہر شخص ذلت وخواری کی زندگی گزار رہا ہوتا. یہ تو اس کریم کی شان کریمی ہے کہ اس نے عزت وذلت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے:

وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔
(آل عمران:26)

آج دنیاوی مخالفتوں اور مخاصمتوں میں ہر شخص اپنے حریف کی عزت کے درپے ہے،اس کی آبرو اچھالنے میں مصروف ہے، اس کے عیوب کا ڈھنڈورا پیٹنے میں لگا ہے. مگر یاد رکھیے یہ چیزیں مومنانہ کردار کے منافی ہے. ایک مومن تو ہمیشہ اپنے مومن بھائی کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے تاکہ کل قیامت کے دن رب العالمین خود اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔
(صحیح مسلم:6490)

یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی ٹوہ میں لگنے اور جاسوسی کرنے سے ہماری شریعت میں سختی سے منع کیا گیا ہے. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ

اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے، یا قریب قریب فساد کے حالات پیدا کر دوگے.
(ابوداود:4888 صحيح)

آج ہمارا حال یہ ہے کہ کسی کے اخلاق وعادات سے متعلق اگر کوئی نازیبا بات ہمیں معلوم ہوتی ہے تو ہم اسے فوراً معاشرے میں پھیلانے میں لگ جاتے ہیں. جب کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے، اس کا عذاب آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے. اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔
(النور:19)

اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کی ایک حدیث نقل کی ہے.حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَطْلُبُوا عَوَرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، حَتَّى يَفْضَحَهُ في بيته

اللہ کے بندوں کو ایذاء نہ دو ، انہیں عار نہ دلاؤ ، ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو ۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑ جائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے.
(مسند احمد: 5/289)
ذرا اس نصوص کی روشنی میں ہم اپنا محاسبہ کریں. آج ہر شخص دوسروں کی عیب جوئی کو اپنا پسندیدہ مشغلہ بنائے ہوئے ہے. دوسروں کے عیب پر پردہ ڈالنا تو دور کی بات ہے ہمیں کسی کا عیب معلوم ہو جائے تو ہم اسے سرِ بازار بے عزت کرنے پر تُل جاتے ہیں. کاش ہم یہی سوچ کر دوسروں کی عیب پوشی کرتے کہ کل قیامت کے دن ہمیں اس بات کہ شدید ضرورت ہوگی کہ رب العالمین ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال کر ہمیں رسوا ہونے سے بچا لے.اللہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے..

آمین یارب العالمین
معذرت آگر کوئی بات بری لگی

Address

Karachi, Punjab
Karachi
70200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Live Laugh Love. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category