24/02/2020
سیرت صحابیات رضی اللہ عنہن
حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا
نام و نسب:
عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، اُمّ عبداللہ کنیت، حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی صاحب زادی ہیں۔ ماں کا نام زینب تھا، اُمّ رومان کنیت تھی، اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں۔
حضرت عائشہؓ بعثت کے چار سال بعد شوال کے مہینہ میں پیدا ہوئیں، صدیق اکبر ؓ کا کاشانہ دو برجِ سعادت تھا جہاں خورشیدِ اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے پر تو فگن ہوئیں، اس بنا پر حضرت عائشہؓ اسلام کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں ہیں، جن کے کانوں نے کبھی کفر و شرک کی آواز نہیں سنی، خود حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا ان کو مسلمان پایا۔
حضرت عائشہؓ کو وائل ؓ کی بیوی نے دودھ پلایا۔ وائل کی کنیت ابوالفقیعس تھی، وائل کے بھائی افلحؓ حضرت عائشہؓ کے رضاعی چچا کبھی کبھی ان سے ملنے آیا کرتے اور رسول اللہﷺ کی اجازت سے وہ ان کے سامنے آتی تھیں۔ رضاعی بھائی بھی کبھی کبھی ملنے آیا کرتا تھا۔
نکاح:
تمام ازواجِ مطہرّاتؓ میں یہ شرف صرف حضرت عائشہؓ کو حاصل ہے کہ وہ آنحضرتﷺ کی کنواری بیوی تھیں، آنحضرتﷺ سے پہلے وہ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب ہوئی تھیں، لیکن جب حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد خ*لہ بنت حکیمؓ آنحضرتﷺ سے اجازت لیکر اُمّ رومان سے کہا اور انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ذکر کیا تو چونکہ یہ ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی، بولے کہ ۔ُجبیر بن مطعم سے وعدہ کرچکا ہوں، لیکن مطعم نے خود اس بنا پر انکار کردیا کہ اگر حضرت عائشہؓ ان کے گھر میں گئیں تو گھر میں اسلام کا قدم آجائے گا۔ بہر حال حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خ*لہؓ کے ذریعہ سے آنحضرتﷺ سے عقد کردیا۔ پانچ سو درہم مہر قرار پایا۔ یہ ۱۰ نبوی کا واقعہ ہے اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر چھ برس تھی۔
یہ نکاح اسلام کی سادگی کا حقیقی تصویر تھا، عطیہؓ اس کا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہؓ لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں ان کی اَنا آئی اور ان کو لے گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے آکر نکاح پڑھا دیا۔ حضرت عائشہؓ خود کہتی ہیں کہ جب میرا نکاح ہوا تو مجھ کو خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی، تب میں سمجھی کہ میرا نکاح ہوگیا ہے، اس کے بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا۔
نکاح کے بعد آنحضرتﷺ کا قیام مکہ میں تین سال تک رہا۔ ۱۳ نبوی میں آپ نے ہجرت کی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ساتھ تھے اور اہل و عیال کو دشمنوں کے نرغہ میں چھوڑ آئے تھے جب مدینہ میں اطمینان ہوا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عبداللہ بن اریقظ کو بھیجا کہ اُمّ رومان، اسماء اور عائشہؓ کو لے آئیں، مدینہ میں آکر حضرت عائشہؓ سخت بخار میں مبتلاہوئیں۔ اشتدادِ مرض سے سر کے بال جھڑ گئے۔ صحت ہوئی تو اُمّ رومان کو رسم عروسی ادا کرنے کا خیال آیا۔ اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر۹ سال کی تھی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں کہ اُمّ رومان نے آواز دی، ان کو اس واقعہ کی خبر تک نہیں تھی، ماں کے پاس آئیں انہوں نے منہ دھویا، بال درست کیے، گھر میں لے گئیں۔ انصار کی عورتیں انتظار میں تھیں یہ گھر میں داخل ہوئیں تو سب نے مبارک باد دی۔ تھوڑی دیر بعد خود آنحضرتﷺ تشریف لائے۔2 شوال میں نکاح ہوا تھا اور شوال ہی میں یہ رسم ادا کی گئی۔
حضرت عائشہؓ کے نکاح سے عرب کے بعض بیہودہ خیالات میں اصلاح ہوئی :
(۱) عرب منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہیں کرتے تھے، اسی بنا پر جب خ*لہؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے آنحضرتﷺ کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے حیرت سے کہا کہ ’’کیا یہ جائز ہے؟ عائشہؓ تو رسول اللہﷺ کی بھتیجی ہے، لیکن آنحضرتﷺ نے فرمایا : اَنْتَ اَخِيْ فِي الْاِسْلَامِ’’تم تو صرف مذہبی بھائی ہو۔‘‘
(۲) اہلِ عرب شوال میں شادی نہیں کرتے تھے، زمانۂ قدیم میں اس مہینہ میں طاعون آیا تھا۔ حضرت عائشہؓ کی شادی اور رخصتی دونوں شوال میں ہوئی۔
عام حالات:
غزوات میں سے صرف غزوہ اُحد میں حضرت عائشہؓ کی شرکت کا پتہ چلتا ہے، صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ اور اُمّ ۔ُسلیمؓ کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کرلاتیں تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتیں تھیں۔
غزوہ مصطلق جو ۵ ہجری کا واقعہ ہے، حضرت عائشہؓ آپ کے ساتھ تھیں، واپسی میں ان کا ہار کہیں گرگیا، پورے قافلہ کو اترنا پڑا، نماز کا وقت آیا تو پانی نہ ملا، تمام صحابہؓ پریشان تھے، آنحضرتﷺ کو خبر ہوئی اور تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس اجازت سے تمام لوگ خوش ہوئے، اُسید بن حضیرؓ نے کہا: ’’اے آل ابی بکر! تم لوگوں کے لیے سرمایۂ برکت ہو۔‘‘
اسی لڑائی میں واقعۂ اِفک بھی پیش آیا یعنی منافقین نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگائی، احادیث اور سیر کی کتابوں میں اس واقعہ کو نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، لیکن جس واقعہ کی نسبت قرآن مجید میں صاف مذکور ہے کہ ’’سننے کے ساتھ لوگوں نے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بالکل افتراء ہے‘‘ اس کو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
۹ ہجری میں تحریم اور اِیلاء و تخییر کا واقعہ پیش آیا اور واقعۂ تحریم کی تفصیل حضرت حفصہؓ کے حالات میں آئے گی البتہ واقعۂ اِیلاء کی تفصیل اس مقام پر کی جاتی ہے۔
آنحضرتﷺ زاہدانہ زندگی بسر فرماتے تھے، دو دو مہینے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، آئے دن فاقے ہوتے رہتے تھے۔ ازواجِ مطہراتؓ گو شرف صحبت کی برکت سے تمام ابنائے جنس سے ممتاز ہوگئی تھیں تاہم بشریت بالکل معدوم نہیں ہوسکتی تھی، خصوصاً وہ دیکھتی تھیں کہ فتوحاتِ اسلام کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے، اور غنیمت کا سرمایہ اس قدر پہنچ گیا ہے کہ اس کا ادنیٰ حصہ بھی ان کی راحت و آرام کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کا اقتضا تھا کہ ان کے صبر و قناعت کا جام لبریز ہوجاتا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق و عمرفاروق ؓ خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ بیچ میں آپ ہیں اِدھر اُدھر بیویاں بیٹھی ہیں اور توسیعِ نفقہ کا تقاضا ہے۔ دونوں اپنی صاحبزادیوں کی تنبیہ پر آمادہ ہوگئے، لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم آئندہ آنحضرتﷺ کو زائد مصارف کی تکلیف نہ دیں گے۔
دیگر ازواج اپنے مطالبہ پر قائم رہیں۔ آنحضرتﷺ کے سکونِ خاطر میں یہ چیز اس قدر خلل انداز ہوئی کہ آپ نے عہد فرمایا کہ ایک مہینہ تک ازواجِ مطہرّات سے نہ ملیں گے، اتفاق یہ کہ اسی زمانہ میں آپ گھوڑے سے گر پڑے اور ساق مبارک پر زخم آیا، آپ نے بالا خانہ پر تنہا نشینی اختیار کی، واقعات کے قرینہ سے لوگوں نے خیال کیا کہ آپ نے تمام ازواج کو طلاق دے دی، لیکن جب حضرت عمرؓ نے آنحضرتﷺ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے ازواج کو طلاق دے دی؟ تو آپ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ یہ سن کر حضرت عمرؓ ’’اللہ اکبر‘‘ پکار اُٹھے۔
جب ایلاء کی مدّت یعنی ایک مہینہ گزر چکا توآپ بالا خانہ سے اُتر آئے، سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لائے، وہ ایک ایک دن گنتی تھیں۔ بولیں: یارسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کے لیے عہد فرمایا تھا، ابھی تو اُنتیس ہی دن ہوئے ہیں ارشاد ہوا کہ ’’مہینہ کبھی انتیس کا بھی ہوتا ہے۔‘‘
اس کے بعد آیتِ تخییر نازل ہوئی، اس آیت کی رو سے آنحضرتﷺ کو حکم دیا گیا کہ ازواجِ مطہرات ؓ کو مطلع فرمادیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں(۱) دنیا اور (۲)آخرت۔ اگرتم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو رخصتی جوڑے دیکر عزّت و احترام کے ساتھ رخصت کردوں اور اگر تم خدا اور رسولﷺ اور ابدی راحت کے طلب گار ہو تو خدا نے نیکو کاروں کے لیے بڑا اجر مہیا کررکھا ہے۔ چونکہ حضرت عائشہؓ ان تمام معاملات میں پیش پیش تھیں، آپ نے ان کو ارشادِ الٰہی سے مطلع فرمایا۔ انہوں نے کہا: ’’میں سب کچھ چھوڑ کر خدا اور رسولﷺ کو لیتی ہوں۔‘‘ تمام اور ازواج نے بھی یہی جواب دیا۔
ربیع الاوّل ۱۱ ہجری میں آنحضرتﷺ نے وفات پائی۔ ۱۳ دن علیل رہے جن میں ۸ دن حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں اقامت فرمائی۔ ُخلقِ عمیم کی بنا پر ازواجِ مطہرّات ؓ سے صاف طور پر اجازت نہیں طلب کی بلکہ پوچھا کہ کل میں کس کے گھر میں رہوں گا؟ دوسرا دن (دو شنبہ) حضرت عائشہؓ کے ہاں قیام فرمانے کا تھا ازواجِ مطہرات ؓ نے مرضیٔ اقدس سمجھ کر عرض کی کہ آپ جہاں چاہیں قیام فرمائیں۔ ضعف اس قدر زیادہ ہوگیا تھا کہ چلا نہیں جاتا تھا، حضرت علی اور حضرت عباسؓ دونوں بازو تھام کر بہ مشکل حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں لائے۔
وفات سے پانچ روز پہلے (جمعرات) کو آپ کو یاد آیا کہ حضرت عائشہؓ کے پاس کچھ اشرفیاں رکھوائی تھیں، دریافت فرمایا کہ عائشہ! وہ اشرفیاں کہاں ہیں؟ کیا محمد خدا سے بدگمان ہو کر ملے گا؟ جاؤ! ان کو خدا کی راہ میں خیرات کردو۔
جس دن وفات ہوئی (یعنی دو شنبہ کے روز) بظاہر طبیعت کو سکون تھا لیکن دن جیسے جیسے چڑھتا جاتا تھا آپ پر غشی طاری ہوتی تھی، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: آپ جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ موت کو قبول کریں یا حیاتِ دنیا کو ترجیح دیں۔ اس حالت میں اکثر آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوتے رہے: مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔ اور کبھی یہ فرماتے: اَللّٰہُمَّ! فِي الرَّفِیْقِ الاَْعْلٰی۔ وہ سمجھ گئیں کہ اب صرف رفاقتِ الٰہی مطلوب ہے۔
وفات سے ذرا پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے صاحبزادے عبدالرحمنؓ خدمتِ اقدس میں آئے۔ آپ حضرت عائشہؓ کے سینہ پر سر ٹیک کر لیٹے تھے عبدالرحمنؓ کے ہاتھ میں مسواک تھی، مسواک کی طرف نظر جما کر دیکھا، حضرت عائشہؓ سمجھیں کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ عبدالرحمنؓ سے مسواک لے کر دانتوں سے نرم کی اور خدمتِ اقدس میں پیش کی آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کیا حضرت عائشہؓ فخریہ کہا کرتی تھیں کہ ’’تمام بیویوں میں مجھ ہی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخر وقت میں بھی میرا جھوٹا آپ نے منہ میں لگایا۔‘‘
اب وفات کا وقت قریب آرہا تھا۔ حضرت عائشہؓ آپ کو سنبھالے بیٹھی تھیں کہ دفعۃً بدن کا بوجھ معلوم ہوا دیکھا تو آنکھیں پھٹ کر چھت سے لگ گئی تھیں اور روحِ پاکﷺ عالم اقدس میں پرواز کر گئی تھی، حضرت عائشہؓ نے آہستہ سے سرِ اقدس تکیہ پر رکھ دیا اور رونے لگیں۔
حضرت عائشہؓ کے ابوابِ مناقب کے سب سے زرّیں باب یہ ہے کہ ان کے حجرہ کو آنحضرتﷺ کا مدفن بننا نصیب ہوا اور نعش مبارک اسی حجرہ کے ایک گوشہ میں سپردِ خاک کی گئی۔ چونکہ ازواجِ مطہرّات کے لیے خدا نے دوسری شادی ممنوع کردی تھی اس لیے آنحضرتﷺ کے بعد حضرت عائشہؓ نے ۴۸ سال بیوگی کی حالت میں بسر کیے۔ اس زمانہ میں ان کی زندگی کا مقصدِ و حید قرآن و حدیث کی تعلیم تھا، جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
آنحضرتﷺ کی وفات کے دو برس بعد ۱۳ ہجری میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انتقال فرمایا اور حضرت عائشہؓ کے لیے یہ سایۂ شفقت بھی باقی نہ رہا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت عائشہؓ کی جس قدر دلجوئی کی وہ خود اس کو اس طرح بیان فرماتی ہیں: ’’ابن خطابؓ نے آنحضرتﷺ کے بعد مجھ پر بڑے بڑے احسانات کیے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے تمام ازواجِ مطہرات ؓ کے لیے دس دس ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر فرمایا تھا۔ لیکن حضرت عائشہؓ کا وظیفہ بارہ ہزار تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرتﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔
حضرت عثمانؓ کے واقعہ شہادت میں حضرت عائشہؓ مکہ میں مقیم تھیں۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ نے مدینہ سے جاکر ان کو واقعات سے آگاہ کیا تو دعوتِ اصلاح کے لیے بصرہ گئیں اور وہاں حضرت علیؓ سے جنگ پیش آئی، جو جنگِ جمل کے نام سے مشہور ہے جمل اونٹ کو کہتے ہیں، چونکہ حضرت عائشہؓ ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اس نے اس معرکہ میں بڑی اہمیت حاصل کی تھی اس لیے یہ جنگ بھی اسی کی نسبت سے مشہور ہوگئی یہ جنگ اگرچہ بالکل اتفاقی طور پر پیش آگئی تھی۔ تاہم حضرت عائشہؓ کو اس کا ہمیشہ افسوس رہا۔
بخاری میں ہے کہ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی کہ ’’مجھے روضہ نبویﷺ میں آپ کے ساتھ دفن نہ کرنا بلکہ بقیع میں اور ازواج کے ساتھ دفن کرنا کیونکہ میں نے آپ کے بعد ایک جرم کیا ہے۔ ‘‘ ابن سعد میں ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتی تھیں: وَقَرْنَ فِی بُیُوْتِکُنَّ۔ ’’اے پیغمبر کی بیویو! اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو۔‘‘ تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہوجاتا تھا۔
حضرت علیؓ کے بعد حضرت عائشہؓ اٹھارہ برس اور زندہ رہیں اور یہ تمام زمانہ سکون اور خاموشی سے گزرا۔
وفات:
حضرت امیر معاویہؓ کا اخیر زمانۂ خلافت تھا کہ رمضان ۵۸ ہجری میں حضرت عائشہؓ نے رحلت فرمائی، اس وقت سڑسٹھ(۶۷) برس کا سن تھا اور وصیت کے مطابق جنت البقیع میں رات کے وقت مدفون ہوئیں۔ قاسم بن محمد، عبداللہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن ابی عتیق، عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر ؓ نے قبر میں اُتارا، اس وقت حضرت ابوہریرہؓ مروان بن حکم کی طرف سے مدینہ کے حاکم تھے، اس لیے انہوں نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
اولاد:
حضرت عائشہؓ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، ابن الاعرابی نے لکھا ہے کہ ایک ناتمام بچہ ساقط ہوا تھا اس کا نام عبداللہ تھا اور اسی کے نام پر انہوں نے کنیت رکھی تھی لیکن یہ قطعاً غلط ہے۔ حضرت عائشہؓ کی کنیت اُمّ عبداللہ ان کے بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ کے تعلق سے تھی جن کو انہوں نے متبنّٰی بنایا تھا۔
حلیہ:
حضرت عائشہؓ خوش رو اور صاحبِ جمال تھیں، رنگ سرخ و سفید تھا۔
فضل و کمال:
علمی حیثیت سے حضرت عائشہؓ کو نہ صرف عورتوں پر، نہ صرف دوسری امہات المؤمنین پر، نہ صرف خاص خاص صحابیوں پر، بلکہ باستثنائے چند، تمام صحابہؓ پر فوقیت حاصل تھی۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے۔
مَااَشْکَلَ عَلَیْنَا اَصْحَابَ مُحَمَّدٍﷺ حَدِیْثٌ قَطُّ فَسَاَلْنَا عَائِشَۃَ اِلَّاوَجَدْنَا عِنْدَھَا مِنْہُ عِلْمًا۔
’’ہم کو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جس کو ہم نے عائشہؓ سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس کے متعلق کچھ معلومات نہ ہوں۔‘‘
امام زہری ؒ جو سرخیل تابعین تھے، فرماتے ہیں:
کَانَتْ عَائِشَۃَ أَعْلَمَ النَّاسِ یَسْئَلُھَا الْأَکَابِرُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔
’’عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں۔ بڑے بڑے اکابر صحابہؓ ان سے پوچھا کرتے تھے۔‘‘
عروہ بن زبیرؓ کا قول ہے:
مَارَأَیْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِالْقُرْاٰنِ وَلَا بِفَرِیْضَۃٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَلَا بِفِقْہٍ وَلَا بِشِعْرٍ وَلَا بِطِبٍّ وَلَا بِحَدِیْثِ الْعَرَبِ وَلَا نَسَبٍ مِنْ عَائِشَۃَ۔
’’قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔‘
‘
امام زہری ؒ کی ایک شہادت ہے:
لَوْ جُمِعَ عِلْمُ النَّاسِ کُلِّھِمْ، ثُمَّ عِلْمُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَکَانَتْ عَائِشَۃُ اَوْسَعُھُمْ عِلْمًا۔
’’اگر تمام مردوں کا اور امہات المومنین کا علم ایک جگہ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہؓ کا علم وسیع تر ہوگا۔‘‘
حضرت عائشہؓ کا شمار مجتہدین صحابہؓ میں ہے اور اس حیثیت سے وہ اس قدر بلند ہیں کہ بے تکلف ان کا نام حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباسؓ کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔ وہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں فتویٰ دیتی تھیں اور اکابر صحابہ پر انہوں نے جو دقیق اعتراضات کیے ہیں ان کو علامہ سیوطی ؒ نے ایک رسالہ میں جمع کردیا ہے اس رسالہ کا نام ’’عین الإصابہ في ما استدرکتہ السیّدۃ عائشۃ ؓ علی الصحابۃ‘‘ ہے۔
حضرت عائشہؓ ’’مکثرین صحابہؓ‘‘ میں داخل ہیں۔ ان سے ۲۲۱۰ حدیثیں مروی ہیں، جن میں ۱۷۴ حدیثوں پر شیخین نے اتفاق کیا ہے۔ امام بخاری ؒ نے منفرداً ان سے ۵۴ حدیثیں روایت کی ہیں۔ ۶۸ حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ احکامِ شرعیہ میں سے ایک چوتھائی ان سے منقول ہے۔
علم کلام کے متعدد مسائل ان کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ چنانچہ رؤیتِ باری، علم غیب، عصمتِ انبیاء، معراج، ترتیبِ خلافت اور سماعِ موتی وغیرہ کے متعلق انہوں نے جو خیالات ظاہر کیے ہیں، انصاف یہ ہے کہ ان میں ان کی دقتِ نظر کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔
علم اسرِار الدّین کے متعلق بھی ان سے بہت سے مسائل مروی ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید کی ترتیب نزول، مدینہ میں کامیابیٔ اسلام کے اسباب، غسلِ جمعہ، نمازِ قصر کی علت، صومِ عاشورا کا سبب، حج کی حقیقت اور ہجرت کے معنی کی انہوں نے خاص تشریحات کی ہیں۔
طب کے متعلق وہی عام معلومات تھیں جو گھر کی عورتوں کو عام طور پر ہوتی ہیں۔ البتہ تاریخِ عرب میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ عرب جاہلیت کے حالات، انکے رسم و رواج، انکے انساب اور انکی طرزِ معاشرت کے متعلق انہوں نے بعض ایسی باتیں بیان کی ہیں جو دوسری جگہ نہیں مل سکتیں۔ اسلامی تاریخ کے متعلق بھی بعض اہم واقعات ان سے منقول ہیں، مثلاً آغازِ وحی کی کیفیت، ہجرت کے واقعات، واقعۂ اِفک، نزولِ قرآن اور اس کی ترتیب، نماز کی صورتیں، آنحضرتﷺ کے مرض الموت کے حالات، غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، خندق، قریظہ کے واقعات، غزوۂ ذات الرقاع میں نمازِ خوف کی کیفیت، فتحِ مکہ میں عورتوں کی بیعت، حجۃ الوِداع کے ضروری حالات، آنحضرتﷺ کے اخلاق و عادات، خلافتِ صدیقی، حضرت فاطمہؓ اور ازواجِ مطہرات ؓ کا دعوائے میراث، حضرت علیؓ کا ملالِ خاطر اور پھر بیعت کے تمام مفصل حالات ان ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوئے ہیں۔
ادبی حیثیت سے وہ نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں۔ ترمذی میں موسیٰ بن طلحہ کا یہ قول نقل ہے:
مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَۃَ۔
’’میں نے عائشہ سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔‘‘
اگرچہ احادیث میں روایت بالمعنی کا عام طور پر رواج ہے اور روایت باللفظ کم اور نہایت کم ہوتی ہے، تاہم جہاں حضرت عائشہؓ کے اصلی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں پوری حدیث میں جان پڑگئی ہے مثلاً آغازِ وحی کے سلسلہ میں فرماتی ہیں:
فَمَا رَأَی رُؤْیًا اِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ۔
’’آپ جو خواب دیکھتے تھے سپیدۂ سحر کی طرح نمودار ہوجاتا تھا۔‘‘
آپ پر جب وحی کی کیفیت طاری ہوتی تو جبیں مبارک پر عرق آجاتا تھا۔ اس کو اس طرح ادا کرتی ہیں:
مِثْلُ الْجُمَانِ۔
’’پیشانی پر موتی ڈھلکتے تھے۔‘‘
واقعۂ اِفک میں انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی ۔اس کو اس طرح بیان فرماتی ہیں:
مَا اَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ۔
’’میں نے سرمۂ خواب نہیں لگایا۔‘‘
صحیح بخاری میں ان کے ذریعہ سے اُمّ زرع کا جو قصہ مذکور ہے وہ جانِ ادب ہے اور اہلِ ادب نے اس کی مفصل شرحیں اور حاشیے لکھے ہیں۔
خطابت کے لحاظ سے بھی حضرت عمر اور حضرت علیؓ کے سوا تمام صحابہ کرام میں ممتاز تھیں۔ جنگِ جمل میں انہوں نے جو تقریریں کی ہیں وہ جوش اور زور کے لحاظ سے اپنا جواب نہیں رکھتیں، ایک تقریر میں فرماتی ہیں:
’’لوگو! خاموش، خاموش، تم پر میرا مادری حق ہے، مجھے نصیحت کی عزّت حاصل ہے۔ سو! اس شخص کے جو خدا کا فرمان بردار ہے، مجھ کو کوئی الزام نہیں دے سکتا۔ آنحضرتﷺ نے میرے سینہ پر سر رکھے ہوئے وفات پائی ہے۔ میں آپ کی محبوب ترین بیوی ہوں۔ خدا نے مجھ کو دوسروں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور میری ذات سے مومن و منافق میں تمیز ہوئی اور میرے ہی سبب سے تم پر خدا نے تیمم کا حکم نازل فرمایا۔
پھر میرا باپ دنیا میں تیسرا مسلمان ہے اور غارِ ثور میں دو کا دوسرا تھا۔ اور پہلا شخص تھا جو صدیق کے لقب سے مخاطب ہوا۔ آنحضرتﷺ نے اس سے خوش ہو کر اور اس کو طوقِ خلافت پہنا کر وفات پائی۔ اس کے بعد جب مذہبِ اسلام کی رسی ہلنے ڈولنے لگی تو میرا ہی باپ تھا جس نے اس کے دونوں سرے تھام لیے۔ جس نے نفاق کی باگ روک دی۔ جس نے ارتداد کا سر چشمہ خشک کردیا۔ جس نے یہودیوں کی آتش افروزی سرد کی۔ تم لوگ اس وقت آنکھیں بند کیے غدر و فتنہ کے منتظر تھے اور شور و غوغا پر گوش بر آواز تھے، اس نے شگاف کو برابر کیا۔ بیکار کو درست کیا۔ گرتوں کو سنبھالا۔ دلوں کی مدفون بیماریوں کو دور کیا۔ جو پانی سے سیراب ہوچکے تھے ان کو تھان تک پہنچادیا۔ جو پیاسے تھے ان کو گھاٹ پر لے آیا اور جو ایک بار پانی پی چکے تھے انہیں دوبارہ پلایا۔ جب وہ نفاق کا سر کچل چکا اور اہلِ شرک کے لیے آتشِ جنگ مشتعل کرچکا اور تمہارے سامان کی گٹھڑی کو ڈوری سے باندھ چکا تو خدا نے اسے اُٹھالیا۔
ہاں! میں سوال کا نشانہ بن گئی ہوں کہ فوج لے کر نکلی؟ میرا مقصد اس سے گناہ کی تلاش اور فتنہ کی جستجو نہیں ہے جس کو میں پامال کرنا چاہتی ہوں، جو کچھ کہہ رہی ہوں سچائی اور انصاف کے ساتھ تنبیہ اور اتمامِ حجت کے لیے۔‘‘
حضرت عائشہؓ گو شعر نہیں کہتی تھیں، تاہم شاعرانہ مذاق اس قدر عمدہ پایا تھا کہ حضرت حسان بن ثابتؓ جو عرب کے مسلم الثبوت شاعر تھے ان کی خدمت میں اشعار سنانے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ امام بخاری ؒ نے الادب المفرد میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہؓ کو کعب بن مالکؓ کا پورا قصیدہ یاد تھا، اس قصیدہ میں کم وبیش چالیس شعر تھے۔ کعبؓ کے علاوہ ان کو دیگر جاہلی اور اسلامی شعراء کے اشعار بھی بکثرت یاد تھے جن کو وہ مناسب موقعوں پر پڑھا کرتی تھیں، چنانچہ وہ احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں۔
حضرت عائشہؓ نہ صرف ان تمام علوم کی ماہر تھیں بلکہ دوسروں کو بھی ماہر بنادیتی تھیں۔ چنانچہ ان کے دامنِ تربیت میں جو لوگ پرورش پاکر نکلے اگرچہ ان کی تعداد دو سو کے قریب ہے، لیکن ان میں جن کو زیادہ قرب و اختصاص حاصل تھا وہ حسبِ ذیل ہیں:
عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، مسروق، عمرہ، صفیہ بنت شیبہ، عائشہ بنت طلحہ، معاویۃ عدویہؓ۔
اخلاق و عادات:
اخلاقی حیثیت سے بھی حضرت عائشہؓ بلند مرتبہ رکھتی تھیں، وہ نہایت قانع تھیں، غیبت سے احتراز کرتی تھیں، احسان کم قبول کرتیں، اگرچہ خود ستائی ناپسند تھی تاہم نہایت خود دار تھیں، شجاعت اور دلیری بھی ان کا خاص جوہر تھا۔
ان کا سب سے نمایاں وصف جو دوسخا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ امیر معاویہؓ نے ان کی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے ہوتے سب خیرات کردیئے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھا۔ اتفاق سے اس دن روزہ رکھا تھا، لونڈی نے عرض کیا کہ افطار کے لیے کچھ نہیں ہے، فرمایا: پہلے سے کیوں نہ یاد دلایا۔
ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ جو ان کے متبنّٰی فرزند تھے، ان کی فیاضی دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ اب ان کا ہاتھ روکنا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ کو معلوم ہوا تو سخت برہم ہوئیں اور قسم کھائی کہ ان سے بات نہ کریں گی۔ چنانچہ ابن زبیرؓ مدّت تک معتوب رہے اور بڑی دقت سے ان کا غصہ فرو ہوا۔
نہایت خاشع، متضرع اور عبادت گزار تھیں، چاشت کی نماز برابر پڑھتیں، فرماتی تھیں کہ اگر میرا باپ بھی قبر سے اُٹھ آئے اور مجھ کو منع کرے تب بھی باز نہ آؤں گی۔ آنحضرتﷺ کے ساتھ راتوں کو اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتی تھیں اور اس کی اس قدر پابند تھیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد جب کبھی یہ نماز قضا ہوجاتی تو نماز فجر سے پہلے اُٹھ کر پڑھ لیتی تھیں۔ رمضان میں تراویح کا اہتمام کرتی تھیں۔ ذکوان ان کا غلام امامت کرتا اور وہ مقتدی ہوتیں۔
اکثر روزے رکھا کرتی تھیں، حج کی بھی شدّت سے پابند تھیں اور ہر سال اس فرض کو ادا کرتیں۔ غلاموں پر شفقت کرتیں اور ان کو خرید کر آزاد کرتی تھیں، ان کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد انہتر (۶۹) ہے۔