Pakistan news syndicate

Pakistan news syndicate News and Articles

    Column published in Nawa I Jang      ge and Pakistan🇵🇰 Afghanistanبادشاہ خان         پاک افغان دوحہ مذاکرات  ایک بار...
24/10/2025

Column published in Nawa I Jang ge and Pakistan🇵🇰 Afghanistan
بادشاہ خان پاک افغان دوحہ مذاکرات
ایک بار پھر دوحہ میں مذکرات ہوئے، اس بار مذاکرات پاکستان افغانستان کے مابین تھے، فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا،چند روز قبل ہونے والے واقعات نے پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی کو سرحد پر جھڑپوں میں بدل دیا، جس میں دونوں جانب کے بہت سے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا تھا، پاکستانی اور کیا افغانی،سب ایسا لگ رہا تھا کہ بہت زیادہ محب وطن ہیں، اسلام اور اخوت بھائی چارہ ایسا گھوم ہوا کہ بڑے بڑے اسلام پسند،قوم پرست بن گئے، پتہ نہیں کس کو خوش کررہے تھے،کیونکہ ایک مسلمان کی دوست اور دشمنی صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے، سوشل میڈیا نے چند روز میں امن پسندوں سمیت جنگ کے خواہشمندوں کو بے نقاب کردیا، آخری دور ہے،ایمان کی مثال انگارے کی ہوچکی ہے، سطحیت کا غلبہ ہے،اللہ امت مسلمہ پر رحم فرمائے۔خاموشی میں نجات ہے،لیکن اکثرلو گ سوشل میڈیا پر اپنی ذہانت کے وہ گل کھلاتے رہے کہ جس سے دونوں جانب نفرتوں میں مزید اضافہ ہوا۔شاید ان کے دلوں میں ذاتی نفرت کا عنصر بھی شامل تھا۔یا ایجنڈہ سیٹنگ کے آلہ کار ان کو استعمال کرنے میں کامیاب رہے، ذراغور کریں،کہیں آپ استعمال تو نہیں ہوئے؟
خیر خبر سامنے ہے،قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے فوری طور پر جنگ بند کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فریقین جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ دیرپا امن اور استحکام کے لیے فریقین ایک لائحہ عمل بنائیں گے جس کے ذریعے دونوں ملکوں میں سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر تناؤ ختم ہو گا اور دونوں برادر ملک مستقبل میں خطے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھیں گے۔معاہدے کے بعد خواجہ آصف کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد ’افغانستان سے دہشت گردی‘ کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا اور دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔خواجہ آصف کے مطابق 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود کے درمیان ملاقات ہو گی اور تفصیلی بات چیت ہو گی۔ ہفتے کے دن قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی تھی۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان مذاکرات میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے۔طالبان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب کررہے تھے اور طالبان کے انٹیلی جنس کے سربراہ مولوی عبدالحق وثیق بھی وفد میں شامل تھے۔
اللہ کرے دونوں جانب کی قیادت اور میڈیا اور عوام کو اس کا ادراک ہو، جنگ سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے، اور پڑوسی کبھی نہیں بدلے جاسکتے،افغان حکومت بھی پاکستان کے واحد مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرے،اور پاکستانی حکمران بھی کسی کے اشارے پر حالات کو خراب نہ کریں، دہشت گردی اور خطے میں امن نہ ہونے سے دونوں کا نقصان ہوگا، روس سمیت وسطی ایشیائی ممالک ایشیاء کے دل کو کاروبار کے لئے استعمال نہیں کرینگے، کاروبار نئے رہداریوں پر منتقل ہوجائے گا، اور اس کی ذمہ داری دونوں پر ہوگی، دنیا امن کے ساتھ تجارت ان راہداریوں پر کرنا چاہتی ہیں، جن پر سیکورٹی کا مسئلہ نہ ہو، چین اس وقت دیگر راہدریوں پر کام کررہا ہے، اس نے پاکستان اور افغانستان کو بائی پا س کرکے نئے روٹس پر کام تیز کردیا ہے، روز روز کے تماشوں اور حملوں کے بعد سرحدات کا بند ہونا دونوں ملکوں کے تاجر وں سمیت عوام کو تباہ کررہی ہے، ان حالات کا متحمل جہاں پاکستان نہیں ہوسکتا،اسی طرح افغانستان بھی غور کرے، جذبات اور ان لوگوں کے پروپیگنڈوں سے باہر آنا ہوگا، جو یورپ،سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں پرسکون زندگی گذر رہے ہیں، کوئی روس میں روسی پاسپورٹ رکھتا ہے اور افغانستان سے زیادہ روس کا وفادار ہے، کوئی برطانیہ کا وفادار ہے، اور سب سے بڑی بات جو ان میں مشترک ہے،یہ سب افغان طالبان کے مخالف ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ کابل میں ان کے دشمن اقتدار سے محروم ہو، ذرا سوچیں،یہ وہ میڈیا ہے جیسے امریکہ انڈیا نے فنڈنگ کے ذریعے مضبوط کیا،مسئلہ صرف دہشت گردی کا نہیں، افغانستان کی حکمرانی کا بھی ہے، جس کے خلاف سب سے زیادہ بیرون ملک موجود افغان سرگرم ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ کابل کو دنیا میں ایسا پوٹریٹ کیا جائے کہ دنیا اس حکومت کے خاتمے کے لئے مددفرہم کرے، جس میں دیگر عالمی قوتیں بھی شامل ہوں،
آخری بات علماء کا کردار ہے جو اس بار نظر نہیں آیا، شائد یہ طبقہ بھی سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرنے لگا ہے، شائد یہ بھی کسی دباو کا شکار ہے، قوم پرست،نسل پرست،اور جذباتی طبقہ غالب رہا ہے، لیکن اس سے دونوں ملکوں کامستقبل متاثر ہوگا، علماء کو چاہی ہے کہ اس حوالے سے براہ راست مکالمہ کو فروغ دیں، اپنا کردار ادا کریں، نفرتوں کو کم کریں، منبرومحراب کو امن کے لئے استعمال کریں، مسلمانوں کے مابین جنگ سے کبھی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی، قوم پرستی،تعصب اور وطن پرستی وہ نئے بت ہیں کہ جس نے امت مسلمہ پارہ پارہ کردیاہے، عرب عجم کے بعد اب پاک افغان اخوت اس کا نشانہ ہے،،اور اس کا سدباب کرنے میں علماء کااہم کردار ہونا چاہی ہے، جنگ مسئلوں کا حل نہیں اور دہشت گردی سے تبدیلیاں ممکن نہیں، انقلاب کے لئے قوم کی ذہین سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔

Today Badshah Khan  Column Published in Daily Jinnah   format and  بادشاہ خان     ماسکو فارمیٹ اور افغانستانماسکو فارمیٹ...
09/10/2025

Today Badshah Khan Column Published in Daily Jinnah format and
بادشاہ خان ماسکو فارمیٹ اور افغانستان
ماسکو فارمیٹ کے نام سے ایک بار پھر خطے کے ممالک ماسکو میں جمع ہوئے، ماسکو فارمیٹ خصوصی طور پر روس نے افغانستان کے حوالے سے بنایا ہے، اس کے کئی اجلاس گذشتہ چند برسوں میں ہوئے اس بار بھی ان ممالک کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی، اگرچہ اجلاس کی کئی باتیں اعلامیہ میں نہیں ہیں، لیکن اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں دہشت گردی سمیت افغانستان یا اس کے پڑوسی ممالک میں امریکی اڈے نہیں ہونے چاہی ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تحفظات ظاہر کئے، افغانستان نے اپنے موقف پر زور دیا، سوال یہ ہے کہ جب یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ ان مسائل کا تدارک ہونا چاہی ہے،تو پھر روکاٹ کون ہے؟ دنیا اگرچہ کئی بلاکوں اور اتحادوں میں تقسیم ہوچکی ہے،اور اس خطے میں کنیکٹویٹی اور تجارت کے لئے امن سب کی ضرورت ہے، پھر کیوں چند عناصر خطے میں امریکی مفادات کے لئے سرگرم ہیں؟
پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں کے راستے کیوں الگ نظر آتے ہیں؟ خطے میں امن اور تجارت کی ضرورت ان دونوں کی بھی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں موجود میڈیا اور سیاستدانوں میں موجود لابی اتنی طاقتور ہے کہ ان دونوں کو دور کرنے میں کامیاب ہورہی ہے؟ سوال کئی ہیں اور جواب سے دونوں ممالک کے حکمران آنکھیں چرارہے ہیں۔
خیر بات ہورہی تھی ماسکو فارمیٹ اور اس کے اعلامیے کی، ماسکو فارمیٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2025 کو افغانستان پر ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز کا ساتواں اجلاس ماسکو میں افغانستان، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور اعلیٰ حکام کی سطح پر منعقد ہوا۔ بیلاروس کے ایک وفد نے بطور مہمان خصوصی اجلاس میں شرکت کی۔
پہلی بار افغان وفد نے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی سربراہی میں ایک رکن کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کی۔ فریقین نے ایک آزاد، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر افغانستان کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اقتصادی اور تجارتی تبادلوں کی ترقی، علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ افغانستان میں سرمایہ کاری کے تعاون کی ضرورت کو نوٹ کیا۔ انہوں نے افغان شراکت کے ساتھ علاقائی اقتصادی منصوبوں کی ترقی اور صحت کی دیکھ بھال، غربت کے خاتمے، زراعت اور آفات سے بچاؤ جیسے شعبوں میں مسلسل پیش رفت کو فروغ دینے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا، تاکہ افغانستان کو جلد از جلد آزاد اور پائیدار ترقی کا احساس دلانے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے علاقائی روابط کے نظام میں افغانستان کے فعال انضمام کی حمایت کی۔
اس کے ساتھ افغان عوام کے لیے انسانی امداد جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان عوام کے لیے ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی کو تیز کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کی مخالفت کا بھی اعادہ کیا۔
فریقین نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی دونوں سطحوں پر انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور مختصر مدت میں اس کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کرنے کے لیے افغانستان کی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک اور اس سے باہر کی سلامتی کے لیے خطرہ کے طور پر استعمال نہ ہو۔ دہشت گردی افغانستان، خطے اور وسیع دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ فریقین نے علاقائی فریم ورک کے اہم کردار پر زور دیا۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بنیادی طور پر ذمہ دار ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی اقتصادی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو سنجیدگی سے پورا کریں۔ انہوں نے ممالک کی جانب سے افغانستان اور پڑوسی ریاستوں میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر کی تعیناتی کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیا، کیونکہ یہ علاقائی امن اور استحکام کے مفادات کو پورا نہیں کرتا۔
مشترکہ اعلامیہ میں اگرچہ اتفاق نظر آتا ہے لیکن اگر آپ اس موقع پر مختلف ممالک کے نمائندوں کی تقاریر سنیں تو ہر ایک کو خطے سے زیادہ اپنا مفاد عزیز ہے، کسی کو خطے میں امریکی اڈے پسند نہیں ہیں، کسی کو راہداری کی ضرورت ہے،کسی کا اور مسئلہ ہے، ماسکو فارمیٹ سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے قیام کے وقت افغانستان کو جن سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا تھا، ان میں داعش، منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس، اسلحہ کی غیر قانونی تجارت اور دیگر مسائل شامل تھے، جنہوں نے افغانستان کو خطے اور دنیا سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔پچھلے چار سالوں میں ہم نے افغانستان کے اندرو ن تمام عوامل کا خاتمہ کر دیا ہے جو عدمِ استحکام کا باعث تھے۔ حال ہی میں کچھ ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں افغانستان میں مختلف گروہوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی ایسا گروہ موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہا ہو۔ ہم ان ممالک کے حکام سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے داخلی مسائل کی ذمہ داری خود قبول کریں۔
ہماری اطلاعات کے مطابق داعش اور بعض دیگر گروہوں نے حال ہی میں خطے کے کچھ ممالک میں تربیتی اور اسلحہ ساز مراکز قائم کیے ہیں، جو امارتِ اسلامیہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ اسی طرح جب سے افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی لگائی گئی ہے، اس کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک کو اس مسئلے کی خود تحقیقات کرنی چاہیے اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ دوسری جانب پاکستانی نمائندہ خصوصی محمد صادق نے افغانستان سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ تمام دہشت گردوں کوغیر موثر کرے،جبکہ افغانستان نے اسے کسی گروہ کی موجودگی سے صاف انکار کردیا، سوال یہ ہے کہ اگر اسی طرح صورت حال رہی تو کیا افغانستان کو دیگرممالک تسلیم کرینگے؟ کیا اس طرح خطے میں امن قائم ہوگا؟ اور کیا اس طرح امریکی اڈے خطے میں دوبارہ قائم نہیں ہونگے؟ کئی سوال ہیں، چین ایران اور روس کے لئے بھی؟کیونکہ ان مسائل کا تعلق خطے میں تجارت کنیکٹویٹی سے براہ راست ہے

Today Badshah Khan column published in the daily JinnahIsrael   accord بادشاہ خان             اسرائیل  ,ابراہم اکارڈ   ,...
01/10/2025

Today Badshah Khan column published in the daily Jinnah
Israel accord
بادشاہ خان اسرائیل ,ابراہم اکارڈ ,بلی تھیلی سے باہر آگئی
اسرائیل اور صہونی بظاہر کامیاب ہوگئے ہیں، ایک طرف امریکی پیٹھو خوشی کی شادیانے بجا رہے ہیں، دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں ہی کھل کر کہہ دیا ہے کہ غزہ کی سکیورٹی وہ جاری رکھے گے،اور اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا، بیس نکات میں ایک بھی فلسطینی ریاست کے حوالے سے نہیں ہے،البتہ فلسطینی عوام کو مزید تقسیم کرنے کے لئے غزہ کو بھی الگ علاقہ بنایا جائے گا، جس کا تعلق فلسطینی ریاست سے نہیں ہوگا۔ میڈیا میں پوری خبر اور حقیقت کو چھپایا جارہا ہے، بیس نکات کو غور سے پڑھیں،جس میں ہر طرف سے اسرائیل کو محفوظ کیا جارہا ہے،جبکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے مکمل تائید کا اعلان کردیا ہے، کیا وہ اسرائیل کو بھی تسلیم کرینگے؟ پاکستانی عوام کو جاگنے کی ضرورت ہے،میں نے گذشتہ دو برسوں میں کئی بار لکھا کہ پاکستان کی اندورنی صورت حال کو اس طرح خراب رکھنا عالمی طاقتوں کے اشارے پر ہے،اور کچھ بڑا کرنا چاہ رہے ہیں، جس میں اسرائیل کو تسلیم کروانا ہوسکتا ہے، بلی تھیلی سے باہر آگئی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کچھ بھی کہا ہے، لیکن نیتن یاہو نے واضح کہا ہے کہ غزہ کی سیکورٹی اسرائیل ہی جاری رکھے گا؟سوال یہ ہے کہ عالم اسلام یا اسلامی ممالک کے حکمران اس حد تک بے حس اور بزدل ہوچکے ہیں کہ اسرائیل جیسے چھوٹے ملک کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں؟
خبر بلکہ پریس کانفرنس کو غور سے پڑھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ موجود اسرائیلی وزیراعظم کے الفاظ کیا ہیں، امریکی صدر نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا دن ہے‘ہم غزہ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں‘نیتن یاہو بھی اس منصوبے سے متفق ہیں جس میں فوری جنگ بندی‘ حماس کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیلی افواج کی واپسی شامل ہے۔معاہدے کے تحت غزہ سے اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلاء ہوگا‘ صدرٹرمپ نے کہاکہ ہم غزہ میں امن قائم کرنے کے بہت قریب ہیں‘ایسی چیزیں جو سیکڑوں اور ہزاروں سالوں سے جاری ہیں، ہم کم از کم اس کے بہت قریب ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم صرف قریب ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں اور میں نیتن یاہوکا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس معاملے میں واقعی محنت کی ہے۔حماس نے ابھی تک اس پر اتفاق نہیں کیا لیکن ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ گروپ اس کی حمایت کرے گا۔امریکی صدرکا مزیدکہناتھاکہ تمام فریقین کی منظوری ''انتہائی قریب'' ہے۔امریکی صدرکا کہناتھاکہ غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ مل کر تمام فریق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن پراتفاق رائے پیدا کریں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نیتن یاہوکے شکر گزار ہیں جنہوں نیامن منصوبے سے اتفاق کیا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ حماس بھی اسے قبول کرے گی۔اگر ہم مل کر کام کریں تو ہم اس موت اور تباہی کو ختم کر سکتے ہیں جو ہم کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں‘مجھے امید ہے کہ ہمارے پاس امن کا معاہدہ ہوگا اور اگر حماس اس معاہدے کو مسترد کرتی ہیجو کہ ممکن ہے تو وہ اکیلا فریق ہوگا جو باہر رہ جائے گا کیونکہ باقی سب اسے قبول کر چکے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہمیں مثبت جواب ملے گا لیکن اگر نہیں تو پھر نیتن یاہو کو میرا مکمل تعاون ہوگا کہ وہ جو کرنا چاہیں کریں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ہدف صرف غزہ پٹی ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے۔انہوں نے کہا کہ میں عرب اور مسلم ممالک کے کئی رہنماو?ں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس تجویز کی تیاری میں شاندار حمایت فراہم کی۔ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیرشروع سے ہمارے ساتھ تھے‘ٹرمپ نے امن کوششوں کیلئے عبوری اتھارٹی کو‘بورڈ آف پیس’کا نام دیا اور بتایا کہ یہ ادارہ عرب رہنماو?ں، اسرائیل اور خود ٹرمپ کی قیادت میں ہوگا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بورڈ میں دیگر ممالک کے ممتاز رہنماوں کو شامل کریں گے ان میں سے ایک برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر ہیں جو اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ میں مزید رہنما بھی ہوں گے اور ان کے نام آنے والے دنوں میں اعلان کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک کو یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ فلسطینیوں پر مشتمل ایک نئی حکومت کی تربیت اور بھرتی کرے، ساتھ ہی دنیا بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین بھی شامل کرے۔امریکی صدر نے کہا کہ حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں غزہ حکومت میں بالکل بھی کوئی کردار ادا نہیں کریں گی۔ ٹرمپ نے مزید کہاکہ میں میں فلسطینیوں کو کہتاہوں کہ وہ اپنی تقدیر کا اختیار خود سنبھالیں‘ اگر فلسطینی اتھارٹی میری اصلاحات مکمل نہیں کرتی تو اس کے ذمے دار وہ خود ہوں گے۔اس موقع پر نیتن یاہوکا کہناتھاکہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ کے لیے سکیورٹی کی ذمّہ داری جاری رکھے گا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہاکہ حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنایا جائے گا۔ اسرائیل مستقبل قریب میں حفاظتی حدود سمیت سکیورٹی ذمّہ داری برقرار رکھے گا۔غزہ میں ایک پرامن سویلین انتظام ہوگا جو نہ حماس چلائے گی اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی۔
ان بیس نکات اور اسرائیلی وزیراعظم کے بیان میں کہی بھی دو ریاستی قیام کی بات بھی نہیں ہے،البتہ حماس کو غیر مسلح کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل سے کوئی ضمانت نہیں طلب کی گئی، اسرائیلی مطالبات کی تکمیل سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے،ان بیس نکات میں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کس بنیاد پر اس معاہدے کاحامی ہے، جنرل سییسی کا تو سمجھ میں آتا ہے،پاکستانی حکمران کس کے کہنے پر اتنے حامی ہیں،پاکستانی عوام،پاکستانی ادارے،پارلیمنٹ اور بابائے قائد محمدعلی جناح کے فرموادت کے خلاف جانے میں کیا راز ہے؟ کیا اسیلئے اتنا پروپیگنڈہ کیا جارہا تھا کہ عوام کی توجہ دیگر مسائل پر ہو اور خاموشی سے اسرائیلی مقاصد کی تکمیل میں ساتھ دیا جائے،سوال حماس کا نہیں سوال فلسطینی خودمختاری اور فلسطینی عوام اور ریاست کا ہے، جس
کافیصلہ امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کریگی۔

25/09/2025

🇷🇺🇵🇰پاکستان اور روس جوہری تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے چیئرمین انور علی نے ماسکو میں ورلڈ اٹامک ویک فورم میں سپوتنک کو بتایا کہ پاکستان اضافی مینوفیکچرنگ، ڈیٹا پروسیسنگ اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں روس کے Rosatom کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انور علی نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری پاور پلانٹس کی توسیع اور جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے بارے میں بات چیت اب عالمی سطح پر ہے، ممالک اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ کس طرح جوہری ٹیکنالوجی پاور پلانٹس کو بہتر بنا سکتی ہے، اور آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

Today Badshah Khan  Column Published in daily IslamPAKISTAN🇵🇰 Saudi Arabia Relationship بادشاہ خان       پاکستان  سعودی ...
20/09/2025

Today Badshah Khan Column Published in daily Islam
PAKISTAN🇵🇰 Saudi Arabia Relationship
بادشاہ خان پاکستان سعودی عرب تعلقات میں اہم سنگ میل
پاک سعودی تعلقات میں اہم سنگ میل سے دنیا بلخصوص ہندوستان اور اسرائیل پریشان ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کا تعلقات اگرچہ دونوں ملکوں کے مابین ہے، اس کا اسلامی فوج یاکسی اسلامی کاز کے حوالے سے ہرگز نہیں ہے، لیکن اس کے اثرات آنے والے دنوں میں اسلامی ممالک اور ان سے جڑے مسائل پر براہ راست ہوگا،سعودی عرب جس کا قومی دن اسی ماہ ستمبر کے تیئس ستمبر کو منایا جاتا ہے،اس سے قبل پاک سعودی دفاعی معاہدے نے ایک اچھا پیغام دیا ہے، اللہ کرے کہ اس اتحاد کو غزہ اور فلسطین کے مظلوم عوام کے لئے بھی فعال بنایا جائے، اور ایسا لگتا ہے کہ اب اسرائیل سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی غلطی نہیں کرے گا،کیونکہ ایسا کرنے سے اس کا سامنا اس بار سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان سے ہوگا،اور شائد اس کے گریٹر اسرائیل کا خواب ہمیشہ کے لئے دفن ہوجائے۔
جس خبر سے امریکہ سمیت اسرائیل اور ہندوستان پریشان ہوگیا ہے،وہ پاکستان سعودی عرب کے مابین اسٹرٹیجک میوچل دیفنس اگریمنٹ ہے،ریاض میں بدھ کو ہونیوالے تاریخی معاہدے کے تحت کسی بھی ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔سعودی عرب اورایٹمی طاقت پاکستان کے درمیان ریاض میں جامع دفاعی معاہدہ ہوگیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاک سعودی ''اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے'' (SMDA) معاہدے پر دستخط کیے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی 8دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، دونوں ممالک میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں معاہدہ ہوا، معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، معاہدہ خطے اور دنیا میں امن کے حصول کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے‘دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا‘ موجودہ اور متوقع خطرات سے نمٹا اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلووں کو فروغ دیا جائے گا۔
32 ملین سے زیادہ آبادی والے ریگستانی ملک جس میں دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر یعنی پورے دنیا کے ۵۲ فیصد تیل کا مالک سعودی عرب کا شمار دنیا کے دس مضبوط معیشتوں میں ہوتا ہے،تیئس ستمبر سعودی عرب کی جدید تاریخ میں اہم دن ہے ۔پاکستانی وزیراعظم نے سعودی قومی دن سے چند روز قبل سعودی عرب کا دورہ کیا،اور بردار ملک سعودی عرب کوہر ممکن ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی، دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے،،سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے ہمیشہ مثالی تعلقات رہے ہیں،اس دفاعی معاہدے سے مزید بہتر ی آئی گی ۔سعودی عرب پاکستان کا ہمیشہ سے قریبی بردار ملک ہے،پاکستان کا بردار ملک سعودی عرب مذہبی وتاریخی اعتبارسے ہمیشہ سے مشرق وسطی میں ممتاز رہا ہے۔جدید سعودی بادشاہت کی بنیاد 1932 میں شاہ عبدالعزیز نے رکھی،ان کے بعد شاہ سعود،شاہ فیصل،اور شاہ فہد،شاہ عبداللہ نے سعودی عرب اور امت مسلمہ کے لئے تاریخ ساز کام کئے۔حرمین شریفین کی توسیع ہو یا فلسطین،کشمیر کا مسئلہ، پاک بھارت جنگ ہو یا ایٹمی دھما کوں کے بعد پابندیاں،دنیا بھر میں قدرتی آفات ہوں یا جنگوں سے تباہ حال مسلمانوں کی مدد، یا خارجہ پالیسی،روس کے خلاف جہاد ہو یا حرمین شریفین کی خدمت۔ سعودی عرب کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا،دوسری جانب سعودی عرب کے اندر اسوقت جدید ترقیاتی منصوبے جاری ہیں،سعودی عرب کی حکومت نے شاہ سلمان کی قیادت میں چندبرس قبل بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، اور وژن 2030 اور قومی تبدیلی کے پروگرام 2020 کے تحت جاری منصوبوں پر کام کی رفتار بھی وقت کے ساتھ تیز ہوچکی ہے۔یہ جدید ترقیاتی منصوبے جن شعبوں میں مکمل کیے جارہے ہیں،ان میں انفراسٹرکچر،سیاحت،صحت، تعلیم اور مکانات کے شعبے شامل ہیں۔ سعودی حکومت پہلی بار مربوط علمی،معاشی تفریحی اور دینی منصوبوں پر جامع انداز میں کام کررہی ہے،جس کی ایک مثال شاہ عبداللہ مالیاتی مرکز کا منصوبہ دبئی کے بین الاقوامی مالیاتی مرکز کے طرز پر وضع کیا گیا ہے۔اس کے تحت بنکوں، مالیاتی خدمات مہیا کرنے والی کمپنیوں،مالیاتی آڈیٹرز، وکلاء سعودی مالیاتی مارکیٹ اور کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی کو ایک ہی جگہ پر منتقل کردیا جائے گا۔ مدینۃ العلم اکنامک نالج سٹی سعودی عرب کے چھوٹے شہروں کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔
پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف سعیدالمالکی نے کئی بار اپنے بیانات میں کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے وژن 2030میں شرکت کا خواہش مند ہے،اور اس منصوبے کے مقاصد کے حصول کے لئے تمام شعبوں میں بھی باہمی اشتراک کا حامی ہے،پاکستانی عوام کے دل سعودی عرب کی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں،کئی لاکھ پاکستانی اس وقت ذریعہ معاش کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔اکتوبر ۵۰۰۲ کے زلزلے میں پاکستان کو سب سے زیادہ عطیات سعودی حکومت اور عوام نے دئیے۔اور اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں میں بھی سعودی امداد جاری ہے، لیکن بات اب امداد سے بڑھ کر معاشی تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے،پاکستان نے بھی ہر موڑ پر سعودی عرب کا ساتھ دیا،پاکستان و سعودی عرب کی یہ دوستی کئی ممالک کو ایک آنکھ اچھی نہیں لگتی، اور کئی بار سازشیں کی گئی کہ دونوں ممالک میں دوریاں پیدا ہوا مگر دونوں ممالک کے رہنماوں، صحافیوں،و مذہبی قیادت نے بردار ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کیا،جس کی وجہ سے پاکستان و سعودی عرب کے درمیان کئی معاشی ترقی کے کئی معاہدے ہوئے ہیں، مزید کام ہوسکتا ہے،جس پر نہیں ہورہا۔رہی بات غزہ اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی تو اللہ کے فیصلے ہونے کو ہیں، عرب ممالک کونہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کا سامنا کرنا پڑے گا،عرب عجم کا فلسفہ اب دفن کرنا ہوگا، ورنہ عرب کے لئے تباہی لکھ دی گئی ہے،چاہے وہ جنگ کی صورت میں ہو یا اسلامی اقدار سے دوری کی وجہ سے،پاکستان سمیت ترکی،ایران کے عجمیوں کے ساتھ ساتھ عرب کا مستقبل اسلام سے ہی بلندہوگا،ورنہ گریٹر اسرائیل اور امریکی منصوبے بے نقاب ہوچکے ہیں۔

GLOBAL SUMUD FLOTILLA  Pakistani team
11/09/2025

GLOBAL SUMUD FLOTILLA Pakistani team

03/09/2025
Today Badshah Khan  Report Published in Nawa I Jang LondonRussian US President meeting and Ukrainian Warبادشاہ خان      ...
24/08/2025

Today Badshah Khan Report Published in Nawa I Jang London
Russian US President meeting and Ukrainian War
بادشاہ خان روسی و امریکی صدور کی ملاقات اور یوکرین جنگ
مغربی میڈیا میں جس ملاقات کا شور تھا،وہ ملاقات ہوگئی،کتنی کامیاب رہی؟ اور کون کامیاب رہا؟ بہت جلد سامنے آجائیگا،اس وقت تو روسی میڈیا اور مغربی میڈیا دونوں پر تبصرے جاری ہیں، البتہ ایک بات واضح ہے کہ ایسی اہم ملاقاتیں رائیگاں نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی تفصیلات برسوں تک سامنے نہیں آتی، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین الاسکا ملاقات بغیر کسی نتیجے کے بظاہر ختم ہوگئی،بیانات،ملاقات اور میڈیا پر ملاقات کا شور غالب رہا، کوئی امن معاہدہ یوکرین کے حوالے سے سامنے نہیں آیا، البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو دس میں سے دس نمبر دیئے، دنیا کو اس ملاقات سے بہت توقعات تھی، لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بات طے نہیں ہوسکی یا، چند امور پر خاموشی سے اتفاق ہوگیا ہے، جس کی تشہیر دونوں حکمران نہیں کرنا چاہتے،البتہ ایک بات واضح ہے کہ یوکرین سمیت یورپ کے رہنماوں کو نظر اندازکیا ہے، جس سے نیٹو کا مستقبل ختم ہوسکتا ہے، شائد یورپ اب امریکہ کے بغیر فوجی اور دفاعی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کرینگے اور اس سے یورپ کے اتحاد کا شیرازہ بکھر جائے گا، شائد دونوں عالمی طاقتیں یہی چاہتی ہیں، خیر اس ملاقات کے حوالے امریکہ و روسی میڈیا بہت زیادہ پرامید تھا، لیکن،دونوں صدور کی مشترکہ خطاب کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب نہیں دیئے گئے البتہ تجزیئے اور تبصرے جاری ہیں۔
ملاقات کے حوالے سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا لیکن روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ یوکرین مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ زمینی تبادلوں کا فیصلہ مکمل طور پر کییف پر منحصر ہے۔الاسکا میں تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔‘روسی صدر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے کو ختم کرنے میں ’خلوص دل سے دلچسپی‘ رکھتے ہیں، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔دونوں صدور نے پریس کے سوالات کے جواب نہیں دیے۔مذاکرات کے بعد ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر زور دیا کہ وہ کوئی ’معاہدہ کرلیں‘۔
ایئرپورٹ پر ہونے والی ملاقات میں کافی گرمجوشی دکھائی دی اور دونوں نے دو بار مصافحہ بھی کیا اور پھر دونوں ٹرمپ کی لیمو کار میں سوار ہو کر ملاقات کی جگہ کے لیے روانہ ہو گئے۔دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا ہے روس صدر ولادی میر پوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اگلی بار ماسکو میں ملاقات کی دعوت دیدی۔
روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے مکمل بیانات دیے‘ اس لیے سوالات لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے نمائندے کے مطابق ’وہ شخص جو خود کو ’امن ساز‘ اور ’ڈیل میکر‘ کے طور پر پیش کرنا پسند کرتا ہے بظاہر لگتا ہے کہ وہ الاسکا کو ان میں سے کوئی چیز حاصل نہیں کر پائیں ہیں۔‘بی بی سی مانیٹرنگ میں روسی زبان کے ایڈیٹر وٹالی شیوچنکو لکھتے ہیں کہ سالوں کی کوششوں کے باوجود روسی صدر کے ذہن کو نہیں بدلا جا سکا۔

اس ملاقات کے بعدیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ رہنماؤں نے پہلے دو طرفہ فارمیٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت کی جس کے بعد ایک بات چیت ہوئی جس میں یورپی رہنما بھی شامل ہوئے۔
گفتگو کے شرکاء میں شامل تھے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکہ کے خصوصی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹ کوف، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب، جرمنی کے وفاقی چانسلر فریڈرک مرز، برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر، اٹالوی کے صدر میلونی کے صدر، پولینڈ کے صدر، کرورو کے صدر۔ یورپی کمیشن Ursula von der Leyen، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے شامل ہوئے۔
یوکرین کے صدرولادی میرزیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین حقیقی امن کے لیے ممکنہ حد تک نتیجہ خیز کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر نے الاسکا میں روسی رہنما کے ساتھ اپنی ملاقات اور ان کی بات چیت کے اہم نکات کے بارے میں بتایا۔ کہ امریکہ کی طاقت صورتحال کی ترقی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یوکرین صدر ولادی میر زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ وہ یوکرین، امریکہ اور روس کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ انتہائی اہم اور حساس معاملات پر صرف رہنماؤں کی سطح پر ہی بات کی جا سکتی ہے، اور ایسا فارمیٹ اس کے لیے موزوں ہے۔یوکرین اور امریکہ کے صدور نے پیر 18 اگست کو واشنگٹن میں اپنی ملاقات کے دوران تمام تفصیلات پر مزید تفصیل سے بات کرنے پر اتفاق کیا۔ ولادیمیر زیلنسکی نے دعوت پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
یوکرین کے لیے ایک قابل اعتماد سیکورٹی ڈھانچہ کو یقینی بنانے کے لیے یورپی شراکت دار، امریکہ کے ساتھ مل کر، ہر مرحلے میں شامل ہوں۔ ولادی میر زیلنسکی نے ان ضمانتوں میں شرکت کے حوالے سے امریکی جانب سے مثبت اشاروں کا خیر مقدم کیا، جن پر بات چیت کے دوران بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا احوال کیا سامنے آتا ہے۔بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نوبل انعام کے لئے یورپی یونین اور یوکرین پر دباو ڈالنے کی کوشش کریگا، اصل فریق یوکرین اور اس کی عوام یوکرین کے حصے بخرے کرنے پر راضی ہوتے ہیں، یا انکار کرتے ہیں، جبکہ یورپی یونین کا بھی بڑا امتحان ہے،ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شائد یورپی یونین امریکی دباوسے نکلنے کے لئے نئے فیصلے کرسکتی ہے۔
کیونکہ انہیں نوبل انعام سے زیادہ اپنی مفادات کی فکر ہے۔
Russia 🇷🇺

Today Badshah Khan  Column Published in Daily Islam Alaska  Meeting and Ukrainian Warبادشاہ خان        روسی  و امریکی صد...
20/08/2025

Today Badshah Khan Column Published in Daily Islam
Alaska Meeting and Ukrainian War
بادشاہ خان روسی و امریکی صدور کی ملاقات اور یوکرین جنگ
مغربی میڈیا میں جس ملاقات کا شور تھا،وہ ملاقات ہوگئی،کتنی کامیاب رہی؟ اور کون کامیاب رہا؟ بہت جلد سامنے آجائیگا،اس وقت تو روسی میڈیا اور مغربی میڈیا دونوں پر تبصرے جاری ہیں، البتہ ایک بات واضح ہے کہ ایسی اہم ملاقاتیں رائیگاں نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی تفصیلات برسوں تک سامنے نہیں آتی، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین الاسکا ملاقات بغیر کسی نتیجے کے بظاہر ختم ہوگئی،بیانات،ملاقات اور میڈیا پر ملاقات کا شور غالب رہا، کوئی امن معاہدہ یوکرین کے حوالے سے سامنے نہیں آیا، البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو دس میں سے دس نمبر دیئے، دنیا کو اس ملاقات سے بہت توقعات تھی، لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بات طے نہیں ہوسکی یا، چند امور پر خاموشی سے اتفاق ہوگیا ہے، جس کی تشہیر دونوں حکمران نہیں کرنا چاہتے،البتہ ایک بات واضح ہے کہ یوکرین سمیت یورپ کے رہنماوں کو نظر اندازکیا ہے، جس سے نیٹو کا مستقبل ختم ہوسکتا ہے، شائد یورپ اب امریکہ کے بغیر فوجی اور دفاعی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کرینگے اور اس سے یورپ کے اتحاد کا شیرازہ بکھر جائے گا، شائد دونوں عالمی طاقتیں یہی چاہتی ہیں، خیر اس ملاقات کے حوالے امریکہ و روسی میڈیا بہت زیادہ پرامید تھا، لیکن،دونوں صدور کی مشترکہ خطاب کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب نہیں دیئے گئے البتہ تجزیئے اور تبصرے جاری ہیں۔
ملاقات کے حوالے سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا لیکن روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ یوکرین مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ زمینی تبادلوں کا فیصلہ مکمل طور پر کییف پر منحصر ہے۔الاسکا میں تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔‘روسی صدر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے کو ختم کرنے میں ’خلوص دل سے دلچسپی‘ رکھتے ہیں، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔دونوں صدور نے پریس کے سوالات کے جواب نہیں دیے۔مذاکرات کے بعد ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر زور دیا کہ وہ کوئی ’معاہدہ کرلیں‘۔
ایئرپورٹ پر ہونے والی ملاقات میں کافی گرمجوشی دکھائی دی اور دونوں نے دو بار مصافحہ بھی کیا اور پھر دونوں ٹرمپ کی لیمو کار میں سوار ہو کر ملاقات کی جگہ کے لیے روانہ ہو گئے۔دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا ہے روس صدر ولادی میر پوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اگلی بار ماسکو میں ملاقات کی دعوت دیدی۔
روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے مکمل بیانات دیے‘ اس لیے سوالات لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے نمائندے کے مطابق ’وہ شخص جو خود کو ’امن ساز‘ اور ’ڈیل میکر‘ کے طور پر پیش کرنا پسند کرتا ہے بظاہر لگتا ہے کہ وہ الاسکا کو ان میں سے کوئی چیز حاصل نہیں کر پائیں ہیں۔‘بی بی سی مانیٹرنگ میں روسی زبان کے ایڈیٹر وٹالی شیوچنکو لکھتے ہیں کہ سالوں کی کوششوں کے باوجود روسی صدر کے ذہن کو نہیں بدلا جا سکا۔

اس ملاقات کے بعدیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ رہنماؤں نے پہلے دو طرفہ فارمیٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت کی جس کے بعد ایک بات چیت ہوئی جس میں یورپی رہنما بھی شامل ہوئے۔
گفتگو کے شرکاء میں شامل تھے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکہ کے خصوصی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹ کوف، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب، جرمنی کے وفاقی چانسلر فریڈرک مرز، برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر، اٹالوی کے صدر میلونی کے صدر، پولینڈ کے صدر، کرورو کے صدر۔ یورپی کمیشن Ursula von der Leyen، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے شامل ہوئے۔
یوکرین کے صدرولادی میرزیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین حقیقی امن کے لیے ممکنہ حد تک نتیجہ خیز کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر نے الاسکا میں روسی رہنما کے ساتھ اپنی ملاقات اور ان کی بات چیت کے اہم نکات کے بارے میں بتایا۔ کہ امریکہ کی طاقت صورتحال کی ترقی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یوکرین صدر ولادی میر زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ وہ یوکرین، امریکہ اور روس کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ انتہائی اہم اور حساس معاملات پر صرف رہنماؤں کی سطح پر ہی بات کی جا سکتی ہے، اور ایسا فارمیٹ اس کے لیے موزوں ہے۔یوکرین اور امریکہ کے صدور نے پیر 18 اگست کو واشنگٹن میں اپنی ملاقات کے دوران تمام تفصیلات پر مزید تفصیل سے بات کرنے پر اتفاق کیا۔ ولادیمیر زیلنسکی نے دعوت پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
یوکرین کے لیے ایک قابل اعتماد سیکورٹی ڈھانچہ کو یقینی بنانے کے لیے یورپی شراکت دار، امریکہ کے ساتھ مل کر، ہر مرحلے میں شامل ہوں۔ ولادی میر زیلنسکی نے ان ضمانتوں میں شرکت کے حوالے سے امریکی جانب سے مثبت اشاروں کا خیر مقدم کیا، جن پر بات چیت کے دوران بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا احوال کیا سامنے آتا ہے۔بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نوبل انعام کے لئے یورپی یونین اور یوکرین پر دباو ڈالنے کی کوشش کریگا، اصل فریق یوکرین اور اس کی عوام یوکرین کے حصے بخرے کرنے پر راضی ہوتے ہیں، یا انکار کرتے ہیں، جبکہ یورپی یونین کا بھی بڑا امتحان ہے،ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شائد یورپی یونین امریکی دباوسے نکلنے کے لئے نئے فیصلے کرسکتی ہے۔
کیونکہ انہیں نوبل انعام سے زیادہ اپنی مفادات کی فکر ہے۔
Embassy of Russia in Pakistan
Links below
https://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2025/august/20-08-2025/page4.html

Address

Karachi
75010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan news syndicate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan news syndicate:

Share