24/10/2025
Column published in Nawa I Jang ge and Pakistan🇵🇰 Afghanistan
بادشاہ خان پاک افغان دوحہ مذاکرات
ایک بار پھر دوحہ میں مذکرات ہوئے، اس بار مذاکرات پاکستان افغانستان کے مابین تھے، فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا،چند روز قبل ہونے والے واقعات نے پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی کو سرحد پر جھڑپوں میں بدل دیا، جس میں دونوں جانب کے بہت سے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا تھا، پاکستانی اور کیا افغانی،سب ایسا لگ رہا تھا کہ بہت زیادہ محب وطن ہیں، اسلام اور اخوت بھائی چارہ ایسا گھوم ہوا کہ بڑے بڑے اسلام پسند،قوم پرست بن گئے، پتہ نہیں کس کو خوش کررہے تھے،کیونکہ ایک مسلمان کی دوست اور دشمنی صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے، سوشل میڈیا نے چند روز میں امن پسندوں سمیت جنگ کے خواہشمندوں کو بے نقاب کردیا، آخری دور ہے،ایمان کی مثال انگارے کی ہوچکی ہے، سطحیت کا غلبہ ہے،اللہ امت مسلمہ پر رحم فرمائے۔خاموشی میں نجات ہے،لیکن اکثرلو گ سوشل میڈیا پر اپنی ذہانت کے وہ گل کھلاتے رہے کہ جس سے دونوں جانب نفرتوں میں مزید اضافہ ہوا۔شاید ان کے دلوں میں ذاتی نفرت کا عنصر بھی شامل تھا۔یا ایجنڈہ سیٹنگ کے آلہ کار ان کو استعمال کرنے میں کامیاب رہے، ذراغور کریں،کہیں آپ استعمال تو نہیں ہوئے؟
خیر خبر سامنے ہے،قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے فوری طور پر جنگ بند کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فریقین جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ دیرپا امن اور استحکام کے لیے فریقین ایک لائحہ عمل بنائیں گے جس کے ذریعے دونوں ملکوں میں سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر تناؤ ختم ہو گا اور دونوں برادر ملک مستقبل میں خطے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھیں گے۔معاہدے کے بعد خواجہ آصف کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد ’افغانستان سے دہشت گردی‘ کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا اور دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔خواجہ آصف کے مطابق 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود کے درمیان ملاقات ہو گی اور تفصیلی بات چیت ہو گی۔ ہفتے کے دن قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی تھی۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان مذاکرات میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے۔طالبان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب کررہے تھے اور طالبان کے انٹیلی جنس کے سربراہ مولوی عبدالحق وثیق بھی وفد میں شامل تھے۔
اللہ کرے دونوں جانب کی قیادت اور میڈیا اور عوام کو اس کا ادراک ہو، جنگ سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے، اور پڑوسی کبھی نہیں بدلے جاسکتے،افغان حکومت بھی پاکستان کے واحد مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرے،اور پاکستانی حکمران بھی کسی کے اشارے پر حالات کو خراب نہ کریں، دہشت گردی اور خطے میں امن نہ ہونے سے دونوں کا نقصان ہوگا، روس سمیت وسطی ایشیائی ممالک ایشیاء کے دل کو کاروبار کے لئے استعمال نہیں کرینگے، کاروبار نئے رہداریوں پر منتقل ہوجائے گا، اور اس کی ذمہ داری دونوں پر ہوگی، دنیا امن کے ساتھ تجارت ان راہداریوں پر کرنا چاہتی ہیں، جن پر سیکورٹی کا مسئلہ نہ ہو، چین اس وقت دیگر راہدریوں پر کام کررہا ہے، اس نے پاکستان اور افغانستان کو بائی پا س کرکے نئے روٹس پر کام تیز کردیا ہے، روز روز کے تماشوں اور حملوں کے بعد سرحدات کا بند ہونا دونوں ملکوں کے تاجر وں سمیت عوام کو تباہ کررہی ہے، ان حالات کا متحمل جہاں پاکستان نہیں ہوسکتا،اسی طرح افغانستان بھی غور کرے، جذبات اور ان لوگوں کے پروپیگنڈوں سے باہر آنا ہوگا، جو یورپ،سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں پرسکون زندگی گذر رہے ہیں، کوئی روس میں روسی پاسپورٹ رکھتا ہے اور افغانستان سے زیادہ روس کا وفادار ہے، کوئی برطانیہ کا وفادار ہے، اور سب سے بڑی بات جو ان میں مشترک ہے،یہ سب افغان طالبان کے مخالف ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ کابل میں ان کے دشمن اقتدار سے محروم ہو، ذرا سوچیں،یہ وہ میڈیا ہے جیسے امریکہ انڈیا نے فنڈنگ کے ذریعے مضبوط کیا،مسئلہ صرف دہشت گردی کا نہیں، افغانستان کی حکمرانی کا بھی ہے، جس کے خلاف سب سے زیادہ بیرون ملک موجود افغان سرگرم ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ کابل کو دنیا میں ایسا پوٹریٹ کیا جائے کہ دنیا اس حکومت کے خاتمے کے لئے مددفرہم کرے، جس میں دیگر عالمی قوتیں بھی شامل ہوں،
آخری بات علماء کا کردار ہے جو اس بار نظر نہیں آیا، شائد یہ طبقہ بھی سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرنے لگا ہے، شائد یہ بھی کسی دباو کا شکار ہے، قوم پرست،نسل پرست،اور جذباتی طبقہ غالب رہا ہے، لیکن اس سے دونوں ملکوں کامستقبل متاثر ہوگا، علماء کو چاہی ہے کہ اس حوالے سے براہ راست مکالمہ کو فروغ دیں، اپنا کردار ادا کریں، نفرتوں کو کم کریں، منبرومحراب کو امن کے لئے استعمال کریں، مسلمانوں کے مابین جنگ سے کبھی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی، قوم پرستی،تعصب اور وطن پرستی وہ نئے بت ہیں کہ جس نے امت مسلمہ پارہ پارہ کردیاہے، عرب عجم کے بعد اب پاک افغان اخوت اس کا نشانہ ہے،،اور اس کا سدباب کرنے میں علماء کااہم کردار ہونا چاہی ہے، جنگ مسئلوں کا حل نہیں اور دہشت گردی سے تبدیلیاں ممکن نہیں، انقلاب کے لئے قوم کی ذہین سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔