Allamah DR.Kaukab Noorani Okarvi

Allamah DR.Kaukab Noorani Okarvi Allamah Kaukab Noorani Okarvi is a renowned and international Islaamic Scholar My purpose is to spread his message and teachings to all.

"This fanpage is made by me with the title "Aqa Ke Wafadar", as a lover and mureed of Hazrat Allaamah Kaukab Noorani Okarvi. I am the only one responsible for the content of this page. Yeh fanpage mayn nay zaati taur par khud banaaya hai, Hazrat Allaamah Kaukab Noorani Okarvi kay aik mureed aur aqeedat mand ki haisiyyat say. Mera maqsad sirf un ki ta'limaat aur paighaam ko phelaanaa hai. Is fanpage mayn shaamil ki jaanay waali tamaam cheezon ki zimmah daari sirf aur sirf meri hai"

Kaukab Noorani Okarvi is an Islamic scholar, researcher, orator, writer and cleric of Ahle-Sunnat Wa Jamaa’at Sunni . He is known as Khateeb-e-Millat by his followers. He is the son of Khateeb-e-A’zam Muhammad Shafi Okarvi.

17/07/2026

مسجدِ نبوی شریف، مدینۂ منوّرہ
جولائی 2026ء

17/07/2026



17/07/2026

حضرت سیّد الشّھداء، أسد الله و أسد الرّسول ﷺ، سیّدنا حمزه بن عبد المطّلب رضي الله تعالیٰ عنھما کی بار گاه۔
جبلِ اُحُد، مدینۂ منوّرہ
جولائی 2026ء

17/07/2026
17/07/2026

Jum'ah Mubaarak

17/07/2026

2 صفر المظفّر، جگر گوشۂ خاتَم النّبیّین ﷺ، ماہ پارۂ سیّدۃ النّساء العالمین، پرتوِ شجاعتِ إمام المتّقین، شاہ زادۂ سیّد السّاجدین، سیّد السّادات الأشجعین، حلیف القرآن، زید الأزیاد، حضرت سیّدنا امام زید شہید رضي الله تعالیٰ عنهم کا یومِ شہادت ہے۔ آپ کا شمار طبقۂ تابعین کے سرداران میں ہوتا ہے۔ آپ سیّد السّاجدین حضرت سیّدنا امام زین العابدین علیِ اوسط بن حسین کے فرزندِ ارجمند اور إمام المسلمین، باقر العلوم حضرت سیّدنا امام محمّد باقر (رضي الله تعالیٰ عنھم) کے برادرِ علاتی (یعنی باپ شریک بھائی) تھے۔ ولادتِ با سعادت (غالباً) 82ھ میں مدینۂ منوّرہ میں ہوئی۔ حیاتِ مبارکہ کے ابتدائی تیرہ برس والدِ ماجد کی آغوشِ شفقت میں گزارے، 95ھ میں ان کی شہادتِ عالیہ کے بعد برادرِ اکبر امام محمّد باقر کے سایۂ عاطفت میں رہے۔ آپ کے عزیز بھتیجے، إمام المسلمین، شیخ الأئمّة حضرت سیّدنا امام جعفرِ صادق بن محمّد باقر علیھما الرّحمة آپ کے بارے میں فرماتے تھے: هو و الله أفضلنا و سيدنا و خيرنا. (ترجمہ:) "الله کی قسم! وہ (زید بن علی) ہم میں سب سے افضل، ہمارے سردار، اور ہم میں سب سے بہتر ہیں۔" 121ھ کے اوائل میں آپ نے اموی بادشاہ ہشام بن عبد الملك کی سر کشی اور ظلم کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند فرمایا۔ یہ وہی ہشام بن عبد الملك تھا جس نے آپ کے بھائی امام محمّد باقر کو زہر دلوایا تھا۔ آپ نے عراق کے شہر کوفہ کو اپنا مرکز بنا کر جِدّ و جَہد کا آغاز فرمایا۔ امامِ اعظم حضرت سیّدنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت علیه الرّحمة کا آپ کی امامت پر کامل اعتقاد تھا، فرماتے تھے: أنه إمام حق. (ترجمہ:) "بے شک وہ (زید بن علی) امامِ بر حق ہیں۔" وہ آپ کے مؤیّدِ خاص بھی تھے، حقِّ خلافت کے حصول کی خاطر آپ کی مالی معاونت فرماتے تھے اور عوام النّاس کو آپ کا ساتھ دینے کی ترغیب دلاتے تھے، اسی سلسلے میں انہوں نے یہ فتویٰ بھی صادر فرمایا تھا: خروجه یضاھي خروج رسول الله یوم بدر. (ترجمہ:) "ان (زید بن علی) کے ساتھ خروج کرنا ایسا ہی ہے جس طرح رسول الله (ﷺ) کے ساتھ بدر میں جانا۔" ابتدا میں کم و بیش چالیس ہزار افراد نے امام زید کے دستِ حق پر بیعت کی تھی، مگر شیخینِ کریمین (یعنی سیّدنا ابو بکر صدّیق اور سیّدنا عمرِ فاروق) رضي الله تعالیٰ عنهما سے علانیہ اظہارِ مودّت کے سبب اہلِ بیتِ اطہار علیھم الرّضوان کی شیعیت کا دم بھرنے والے منافقین رفتہ رفتہ آپ سے الگ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ بد طینت آپ سے آ کر تقاضا کرتے تھے کہ آپ ان دونوں حضرات (ابو بکر و عمر) سے لا تعلّقی کا اعلان کریں ورنہ ہم آپ سے کی ہوئی بیعت توڑ دیں گے، آپ نتائج کی پروا کیے بغیر جواباً فرماتے: أتولاهما (ترجمہ:) "میں ان دونوں کو دوست رکھتا ہوں۔" ایک اور موقع پر یہی مطالبہ دہرایا گیا تو آپ نے فرمایا: ما سمعت أحدا من أهل بيتي يتبرأ منهما ولا يقول فيهما إلا خيرا. (ترجمہ:) "میں نے اپنے اہلِ بیت میں سے کسی کو بھی ان حضرات سے لا تعلّقی کا اظہار کرتے نہیں سنا، نہ کبھی یہ سنا کہ انہوں نے ان دونوں کے بارے میں خیر کے سوا کچھ کہا ہو۔" مزید فرمایا: كان أبو بكر إمام الشاكرين، البراءة من أبي بكر هي البراءة من علي. (ترجمہ:) "ابو بکر شکر گزاروں کے امام ہیں۔ ابو بکر سے لا تعلّقی کا اظہار، علی سے لا تعلّقی کا اظہار ہے۔" یہ کم نصیب اپنی عداوت میں اتنا بڑھے کہ امام زید سے ہر قسم کا واسطہ ختم کر لیا، حضرت ان کے دروازوں پر جا کر انہیں جہاد کے لیے بلاتے مگر یہ لوگ اپنے گھروں سے نکلنا تو دور، جواب تک نہ دیتے تھے۔ جب امام زید نے ان کی شقاوتِ قلبی دیکھی تو آپ کی زبانِ حق ترجمان سے ان لوگوں کے لیے "الرّافضة" (یعنی اپنے امیر کو چھوڑ دینے والے) کا لفظ ادا ہوا۔ یہ حضرت کے ملفوظِ شریف کی تاثیرِ لا زوال ہی ہے کہ آج بھی شیخینِ کریمین سے بغض رکھنے والے کو "رافضی" کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ 122ھ میں جب ہشام بن عبد الملك کا مقرّر کردہ والیِ عراق یوسف بن عمر ثقفی اپنے لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا تو اس وقت امام زید کے ساتھ چالیس ہزار میں سے محض چند سو رفقائے کرام ہی بچے تھے، باقی سب بیعت توڑ کر جا چکے تھے۔ حضرت اور ان کے جاں نثاران کمالِ شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری دم تک لڑے، بالآخر ایک تیر حضرت کی نورانی جبین پر آ کر پیوست ہو گیا اور جوں ہی اسے نکالا گیا آپ کی روحِ مطہّرہ پرواز کر گئی۔ آپ کی شہادتِ عظمیٰ جمعة المبارك کی شب ہوئی اور بوقتِ شہادت آپ کی عمرِ شریفہ قریباً چالیس برس تھی۔ ظالموں نے اس پر بھی بس نہیں کی؛ بعد از تدفین آپ کی نعشِ مقدّسہ کو مرقدِ مبارک سے نکالا گیا، سرِ انور قلم کر کے دِمَشق (شام) میں ہشام بن عبد الملك کو بھجوا دیا گیا اور جسدِ پاک سولی پر بلند کر دیا گیا جو چار سال تک اسی حالت میں رہا، اموی سپاہی اس مقام پر پہرہ دیتے تھے کہ کہیں کوئی جسمِ اطہر اتار کر دفن نہ کر دے۔ آپ کا سرِ عالی ایک سال تک دمشق کے داخلی دروازے پر آویزاں رہا، پھر 123ھ سے تا وقتِ تدفین مدینۂ منوّرہ میں۔ تابعی بزرگ حضرت سیّدنا جریر بن حازم بصری علیه الرّحمة بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبیِ پاک ﷺ کو دیکھا کہ وہ امام زید کی سولی کے تختے سے اپنی پشتِ اقدس لگائے فرما رہے تھے: هٰكذا تفعلون بولدي؟ (ترجمہ:) "تم لوگ میرے بیٹے کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو؟" امام زید کی شہادتِ رفیعہ کے بعد آپ کے شاہ زادے حضرت سیّدنا امام یحییٰ علیه الرّحمة خراسان تشریف لے گئے تھے، مگر اموی سلطنت کے اشقیا نے وہاں بھی آپ کا تعاقب نہ چھوڑا اور 125ھ میں آپ کے ساتھ بھی وہی ستم دہرایا گیا جو آپ کے پدرِ عالی قدر کے ساتھ ہوا تھا؛ آپ کا سرِ تاباں بھی دمشق بھجوا دیا گیا اور جسدِ طیّب (موجودہ افغانستان کے شہر) جوزجان میں سولی پر بلند کر دیا گیا۔ قدرت کا انتقام دیکھیے کہ ان اندوہ ناک سانحات کے چند سال بعد جب بنو امیّہ کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور بنو عبّاس غالب آئے تو ہشام بن عبد الملك کے ساتھ بھی وہی سب ہوا جو اس شقیِ ازل نے شاہ زادگانِ اہلِ بیت کے ساتھ کیا تھا؛ صحابیِ رسول ﷺ، حِبر الأمّة حضرت سیّدنا عبد الله بن عبّاس کے نبیرۂ مکرّم حضرت سیّدنا عبد الله بن علی رضي الله تعالیٰ عنهم رُصافہ (شام) میں ہشام بن عبد الملك کی قبر پر گئے، اس کی لاش کو باہر نکالا اور سولی پر معلّق کر کے فرمایا: هٰذا بما فعل بزيد بن علي. (ترجمہ:) "یہ اُس (ظلم) کا بدلہ ہے جو تم نے زید بن علی کے ساتھ کیا تھا۔" امام زید کا مزارِ مبارک صوبۂ بابِل (عراق) میں دریائے فُرات کے نزدیک واقع تاریخی قصبے کِفْل میں مرکزِ انوار و تجلّیات ہے۔ زیدی سادات آپ ہی کی اولادِ امجاد کو کہا جاتا ہے۔ الله کریم اپنے اس پیارے کے صدقے ہم سب پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔

مآخذ:
1) تاريخ الرسل و الملوك للطبري، ثم دخلت سنة إحدیٰ و عشرين و مائة، ذكر الخبر عن ظهور زيد بن علي، جلد 7، صفحہ 160، دار المعارف - قاہرہ، بارِ دوم
2) أیضاً، صفحہ 168
3) أیضاً، ثم دخلت سنة اثنتين و عشرين و مائة، خبر مقتل زيد بن علي، صفحہ 180 تا 189
4) سير أعلام النبلاء للذهبي، الطبقة الثالثة، 178 - زيد بن علي بن الحسين بن علي، جلد 5، صفحہ 389 تا 391، مؤسسة الرسالة - بيروت، بارِ دوم، 1402ھ/1982ء
5) الطبقات الكبریٰ لابن سعد، التابعون، المدينة، الطبقة الثالثة، 988 - زيد بن علي بن حسين بن علي، جلد 5، صفحہ 251، دار الكتب العلمية - بيروت، بارِ دوم، 1418ھ/1997ء
6) مناقب أبي حنیفة (الجز الأول) لموفق بن أحمد المکي، الباب الرابع عشر في ذکر سماحته و بذله و سخائه و مروته، قصة الإمام زید بن علي مع الإمام، صفحہ 239 تا 240، دار الکتاب العربي - بیروت، 1401ھ/1981ء
7) بارہ امام از محمد فیاض چشتی، حضرت امام زین العابدین، صفحہ 483، اسلام بک ڈپو - لاہور، بارِ دوم، اکتوبر 2020ء
8۔) أیضاً، حضرت امام محمد باقر، صفحہ 516

14/07/2026

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allamah DR.Kaukab Noorani Okarvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share