16/03/2026
آخری ملاقات
علی لاریجانی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان اُن کی شہادت سے پہلے کی ایک مبینہ گفتگو
علی لاریجانی، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری، آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ایک سنجیدہ رپورٹ لے کر آئے — لیکن اُن کا دل سرد نہیں تھا۔
طویل خاموشی کے بعد انہوں نے کہا:“میرے رہبر… اس بار خطرہ صرف دباؤ کا ایک گزرتا ہوا پیغام نہیں ہے۔ ایک فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ دشمن آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے، چاہے آسمان میزائلوں سے کیوں نہ جل اٹھے۔ ہم نے ایک مضبوط محفوظ مقام تیار کیا ہے، ایسا مقام جو بڑی احتیاط سے محفوظ اور نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے — ایسی جگہ جہاں بم آسانی سے نہیں پہنچ سکتے اور نہ ہی طیارے حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ چھپنا نہیں ہے، میرے رہبر… بلکہ طوفان گزرنے تک عارضی طور پر نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے۔”
رہبر کچھ لمحے خاموش رہے، پھر آہستہ سے کھڑے ہوئے — گویا تاریخ خود اُن کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہو۔
وہ قریب آئے اور پُرسکون لہجے میں پوچھا:“جب تم میرے پاس آئے تھے… تو تم کس جواب کی توقع کر رہے تھے؟”
لاریجانی نے کچھ جھجکتے ہوئے جواب دیا:“مجھے توقع تھی کہ آپ انکار کریں گے۔ لیکن میرے رہبر، قوم کو آپ کی ضرورت ہے اور جنگ کو اپنے کمانڈر کی۔”
رہبر مسکرائے — ایسی مسکراہٹ جس میں اداسی بھی تھی اور دانائی بھی۔
“تم ریاستوں کے حساب اور سکیورٹی کی کتابوں میں بالکل درست ہو۔ لیکن آؤ، کچھ دیر ایک ایسی زبان میں بات کریں جو سیاست سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
میں ایک سپاہی سے موت کا سامنا کرنے کو کیسے کہہ سکتا ہوں اگر اس کا کمانڈر خود غائب ہو جائے؟میں لوگوں سے ثابت قدم رہنے کو کیسے کہوں… اگر میں ہی خطرے کے میدان سے سب سے پہلے چلا جاؤں؟”
وہ رکے، جیسے کربلا کا دروازہ اُن کے دل میں کھل گیا ہو۔
“ہم اُس شخص کے فرزند ہیں جس کا نام حسین ابن علی ہے — وہ امام جسے اپنے انجام کا علم تھا اور پھر بھی وہ اُس کی طرف یوں بڑھے جیسے کوئی خدا کے وعدے کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ اس لیے غائب نہیں ہوئے کہ اُن کی فوج کم تھی — کیونکہ آسمانوں میں اُن کے پاس ایک بڑی فوج موجود تھی۔”
لاریجانی نے جواب دیا:“لیکن میرے رہبر، تاریخ صرف ایک صفحہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک غائب امام بھی ہیں جن کی غیبت نے ہمیں سکھایا کہ کبھی کبھی غائب ہونا حکمت ہوتا ہے، خوف نہیں۔”
رہبر نے آہ بھری اور کہا:“فرق یہ ہے، مسٹر لاریجانی، کہ جب امام غائب ہوئے تو اُن کے پاس نہ فوج تھی اور نہ ایسی قوم جو حق کا دفاع کر سکتی۔ لیکن ہم… میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میرے پاس لڑنے والی ایک قوم موجود ہے؟ میں کیسے اوجھل ہو جاؤں جبکہ میرے سپاہی آگ کے نیچے کھڑے ہیں؟
جب ایک رہنما اکیلا ہو اور غائب ہو جائے تو شاید وہ حکمت ہو۔لیکن جب پوری قوم اُس کے پیچھے کھڑی ہو تو اُس کی غیبت تاریخ کے ضمیر میں ایک بھاری سوال بن سکتی ہے۔”
لاریجانی خاموش ہو گئے، اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
رہبر نے اُن سے مصافحہ کیا اور اُن کی فکر مندی پر شکریہ ادا کیا۔ جب لاریجانی چلے گئے تو انہوں نے اپنے خاندان کو جمع کیا اور انہیں اس تجویز کے بارے میں بتایا — ایک محفوظ جگہ جہاں وہ جنگ ختم ہونے تک جا سکتے تھے۔
انہوں نے انہیں ایسے دیکھا جیسے بچے عزت اور وقار کے معنی کو دیکھتے ہیں اور بس اتنا کہا:“ہم وہیں ہیں جہاں آپ ہیں۔”
چنانچہ وہ شخص وہیں رہا — اس لیے نہیں کہ وہ خطرے کو نہیں جانتا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اس سے بھی گہری حقیقت کو جانتا تھا:
کچھ رہنما جب موت سے بچنے کے لیے غائب ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے وہ اپنی قوم کی یادوں سے بھی غائب ہو جائیں۔
⚠️ Disclaimer
This post is shared only for informational and educational purposes. The content does not intend to violate any community guidelines or rules of Facebook.
The purpose of sharing this material is to inform and raise awareness. We respect all communities, beliefs, and Facebook policies.
If any content unintentionally goes against Facebook standards, please inform us so it can be reviewed or removed.
Thank you for your understanding. 🙏
゚viralシfypシ゚viralシalシ
Jalal Hussain
Shaikh Tanvir Haider
Awais Bhatti
Zawar Nazir Ahmed Memon
Kurdsat News
Seengar Ali Safvi
Zawar Imtiaz Sahito Sahito
World Shia azadari network
Anjuman Hyderi Shahe Najaf
Sohail Ansari
ImTiaz Aziz
Nabd Albalad - نبض البلد
Zohaib Badar
KNN +
Gh Abass
Sujon HD Media
Hussain Hadi
Azadar Hussain
Malik Kamran Zaffar Kais
Sultan Rind Journalist
Farhan Ali
Tufail Ahmed
Nisar Shekh
Nabeela Umerkot Tharparkar Sindh
Only 4 U