Kalam Abbas Haider Zaidi

Kalam Abbas Haider Zaidi حق بات تم کہو تو تمہاری ہے کربلا

اگر اٹھ جائے دست ہل اتا کونین کے سر  سے فلک ہٹ جائے مرکز سے زمیں ہٹ جائے محور سے جو پس منظر میں ہے وہ کر بلا لاتی ہے منظ...
29/07/2026

اگر اٹھ جائے دست ہل اتا کونین کے سر سے
فلک ہٹ جائے مرکز سے زمیں ہٹ جائے محور سے

جو پس منظر میں ہے وہ کر بلا لاتی ہے منظر میں.
سو دنیا چاہتی ہے کربلا ہٹ جائے منظر سے.
عباس
حیدر
زیدی

Kalam Abbas Haider Zaidi عالمی رثائ ادب Abbas Haider Zaidi
26/07/2026

Kalam Abbas Haider Zaidi
عالمی رثائ ادب
Abbas Haider Zaidi

پیش بحر بے کراں ایک ایک پیاسا آگیا کون ہے یہ پاوں چھونے جس کے دریا آگیا سیل مدحت  دیدہء تحریر  میں  کیا آگیا حرف کوزہ بن...
15/07/2026

پیش بحر بے کراں ایک ایک پیاسا آگیا
کون ہے یہ پاوں چھونے جس کے دریا آگیا

سیل مدحت دیدہء تحریر میں کیا آگیا
حرف کوزہ بن گیا کوزے میں دریا آگیا

منقبت لکھنے کے بارے میں ابھی سوچا ہی تھا
سورہء کوثر لئے ایک ایک سورہ آ گیا

کربلا کیا ہے سلیقے سے بتائے گا وہی
سر اٹھا کر جس کو جینے کا سلیقہ آ گیا

کر گیا نابود جو بدرو احد کی باقیات
غیض میں غازی کے آتے ہی وہ لمحہ آگیا

جب چلے عباس دریا کی طرف تو یوں لگا
جیسے خیبر فتح کرنے میرا مولا آ گیا

نصب جب دیکھا فراز در پہ غازی کا علم
دھوپ رخصت ہو گئ آنگن میں سایہ آگیا

کر بلا کی بات اک ایسی گھڑی کی بات ہے
شام کو تسخیر کرنے جب سویرا آگیا

عباس حیدر زیدی
Abbas Haider Zaidi
Kalam Abbas Haider Zaidi
عالمی رثائ ادب

12/07/2026

ساقی نامہ کا آیک حصّہ ۔مرثیہ امام بار گاہ مبدةالعلوم نواب شاہ

Kalam Abbas Haider Zaidi Abbas Haider Zaidi عالمی رثائ ادب
11/07/2026

Kalam Abbas Haider Zaidi
Abbas Haider Zaidi
عالمی رثائ ادب

غزل گھروں میں رہتے ہوئے بھی کہاں گھروں میں رہےہم اپنے اپنے نصیبوں کے مقبروں میں رہےحدیث خال و خط عشق جن کو ازبر تھیکہاں ...
10/07/2026

غزل
گھروں میں رہتے ہوئے بھی کہاں گھروں میں رہے
ہم اپنے اپنے نصیبوں کے مقبروں میں رہے

حدیث خال و خط عشق جن کو ازبر تھی
کہاں اب ایسے قلندر قلندروں میں رہے

غضب خدا کا کہ وہ بھی امیر شہر بنے
جو کاسہ لیس رہے اور گداگروں میں رہے

ادا تو کر نا تھا آخر خراج طبع رواں
سو ہم خموش رہے اور سخن وروں میں رہے

ہمارے جیسے زمانے میں اب کہاں پیراک
بھنور میں رہ کے جو گہرے سمندروں میں رہے

وہ سانحہ بھی عجب سانحہ تھا جس کے بعد
جو منظروں میں نہیں تھے وہ منظروں میں ریے

زمیں کا قرض تو اک دن ہمیں چکانا ہے
یہی بہت ہے جو سودا یہی سروں میں رہے

ْکبھی متاع سفر تھے سفر کے جو آداب
نہ رہزنوں میں رہے اب نہ رہبروں میں رہے

یہ طے ہوا ہے کہ تب ہوں اڑان کی باتیں
کہ جب نہ قوت پرواز ہی پروں میں رہے

جو کر سکیں نہ ابھی تک حدوں کی پیمائش
ہمارے پاوں کہاں ایسی چادروں میں رہے

تم ہی کہو کہ وہ دنیا کسی کی کیا بدلے
جو شخص وقت بدلنے کے آسروں میں رہے

عباس
حیدر
زیدی

Address

Karachi
74500

Telephone

+923131791119

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalam Abbas Haider Zaidi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kalam Abbas Haider Zaidi:

Shortcuts

Share