16/01/2026
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزیرِاعظم کے ہمراہ قومی صحت کارڈ کے اجرا کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ تقریباً ایک کروڑ افراد اب علاج کی مفت اور باوقار سہولت حاصل کریں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی علاج کے اخراجات کی وجہ سے خطِ غربت تک پہنچ چکے ہیں۔ صحت کارڈ اس بوجھ کو ختم کرنے کے لیے ایک مضبوط حکومتی اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب کسی غریب کو علاج کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا، نہ کوئی گھر کے برتن یا زیور بیچے گا، نہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے علاج سے محروم ہوگا۔ ایمرجنسی ہو یا بڑا آپریشن، مریضوں کو عزت اور سہولت کے ساتھ مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
وزیرِ صحت کے مطابق ایک ہزار سے زائد سرکاری و نجی ہسپتال صحت کارڈ کے پینل پر شامل ہیں۔ وزیرِاعظم کی قیادت میں اب کوئی ماں علاج کے اخراجات کے خوف میں مبتلا نہیں ہوگی۔
انہوں نے وزیرِاعظم سے درخواست کی کہ سندھ کے دس شہری و دیہی اضلاع کو بھی اگلے ہیلتھ بجٹ میں شامل کیا جائے، جس پر سالانہ تقریباً چوبیس ارب روپے لاگت آئے گی۔
مصطفیٰ کمال نے نشاندہی کی کہ کراچی کی ایک ہی گلی میں رہنے والے کچھ افراد کو مفت علاج مل جاتا ہے جبکہ کچھ محروم رہ جاتے ہیں، صرف شناختی کارڈ کے فرق کی وجہ سے۔ وزیرِاعظم نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارا نظام اب تک صرف سِک کیئر یعنی بیماری کے بعد علاج تک محدود تھا، لیکن حقیقی ہیلتھ کیئر میں بیماری سے بچاؤ بھی شامل ہے، اور اسی سمت میں عملی اصلاحات جاری ہیں