Ejaz Sheraz

Ejaz Sheraz Digital Mazdoor 😎
Certified Life Coach and Trainer from UK
YTC & other social Handles : Ejaz Sheraz

30/11/2025

پاکستان میں شادی کرنے کے لیے حماقت یا ذہانت کا ٹیسٹ تو پاس نہیں کرنا پڑتا۔

اب ایک احمق گاؤدی لڑکے کی شادی ہو جاتی ہے کیونکہ باپ نے دو منزلہ مکان بنا رکھا ہے اور اس کو اپنی دکان پر بٹھا رکھا۔

تو ایک پڑھیی لکھی سمجھدار لڑکی کے ناخواندہ ماں باپ کو لگتا ہے کہ لڑکا شادی لائق ہے اور "گھر بار" والا ہے۔ بعض دفعہ اسٹیٹس کا لالچ بھی لڑکی کے ماں باپ کو لے ڈوبتا ہے۔

شادی کے بعد لڑکی کو اندازہ ہوتا ہے کہ لڑکا تو باپ کی مرضی کے بغیر موتنے نہیں جا سکتا، وہ اس کے لیے کسی مشکل میں اسٹینڈ کیا لے گا؟

ایسے میں لڑکی علیحدگی کا مطالبہ کر دیتی ہے۔

ویسے یہ جملہ میں نے جلدی میں لکھ دیا ہے اول میں تو لوئر مڈل کلاس لڑکی ہزار بار سوچتی ہے کہ یہاں سے نکل کر کہاں جائیگی۔
اور پھر لڑکے کی دیگر عادات اور حرکات سے بیزاری نفرت کی شکل اختیار کرتی ہے۔ تب جا کر لڑکی کو لگتا ہے کہ یا موت یا علیحدگی ۔ ۔ ۔۔

مختصر اس لیے لکھا ہے کہ موضوع کچھ اور ہے۔

خیر لڑکی علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ خود اس کے گھر والے نہیں مانتے کہ "گھر بار" والا ہے۔ دو روٹی عزت کی مل رہی ہے۔

سینکڑوں لڑکیوں کے لیے یہ بات سچ بھی ہے۔ انکی اپنی عقل و شکل بھی اسی جوگی ہوتی ہے کہ چپ چاپ چغد نما کو شوہر مان کر دو روٹی پیٹ میں ڈالتی رہیں۔ ۔ ۔ یہ الگ بات کہ دو روٹی سے ہر سال پیٹ اتنا باہر نکل جاتا ہے کہ بچہ بن جاتا ہے۔

مگر ایک آدھ لڑکی، مان لیں کہ، زرا عقل و شعور رکھتی ہے۔ اور اسلام کے مطابق خدا کے دیے حقوق بھی جانتی ہے۔ اور وہ خلع کا مطالبہ کرتی ہے۔

اب خدا کو حاظر ناظر جان کر اپنے تجربے
شہادت سے بتائیے گا کہ کتنے لڑکے اور اسکے ماں باپ ہاتھ آئی چڑیا کو جانے دیں گے؟

لڑکی کی سنی نہیں جاتی۔ اس کو اسی جہنم میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اس پر وہ چول رامی فیس بکی دانشور محمود فیاض جو فیس بک پر روزانہ مغربی عورتوں کا احوال لکھ لکھ کر پاکستانی عورتوں کا احساس دلاتا رہتا ہے کہ ایسا شوہر غنیمت ہے جو آپ کو گھر میں بسانا چاہتا ہے کیونکہ اب سیکس تو مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی ہر گلی کی نکڑ پر "چائے خانہ" جیسے مل جاتا ہے۔

ایسے ماحول میں لڑکی کو جائز حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ لڑکی چاہے عالمہ ہو، چاہے یونیورسٹی ڈگری ہولڈر ہو، عقل میں بہرحال باپ کی دکان پر بیٹھے لڑکے سے کم عقل رکھتی ہے۔

پھر اسکی دعائیں سنی جاتی ہیں۔ کوئی نیک دل وکیل اسکی خلع کا کیس دائر کر دیتا ہے۔

پھر اسکو مفتی مسعود بتاتا ہے کہ خلع تو شوہر کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔

پھر نیک دل وکیل بدمعاش بن کر مشورہ دیتا ہے کہ بی بی اپنے مرد پر نامرد ہونے کا الزام ٹھوکو اور تنسیخ نکاح کا کیس دائر کرتے ہیں۔

لڑکی یا اسکے ماں باپ خدا خوفی کر جائیں تو تنسیخ نکاح بھی ممکن نہیں ہوتا۔ وکیل یا جج کو "مالی ترمیم" کے زریعے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ ہاں جہاں لڑکی کے ماں باپ کا زور چلتا ہے وہاں وہ بھی زبردستی کی تنسیخ کروا لیتے ہیں۔

آج کل کی تنگ آمد لڑکیاں ماں باپ کو بھی چھوڑ کر کسی ہمدرد جو بعد میں دھوکے باز بھی نکل سکتا ہے کے ساتھ مل کر تنسیخ کر لیتی ہیں۔

ایسی نوبت اس لیے آتی ہے کہ فیس بکی دانشور، مفتیان کرام، اور دیگر نے مل کر اس لڑکی کے حقوق کی وہ ماں بہن کر دی ہے کہ اب اسکو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ اس کا جائز حق کدھر ہے۔

عدالت تنسیخ نکاح کے لیے لگائے الزامات سچ مان بھی کے تو کوئی مفتی شریعت کے مطابق اسکو غلط قرار دے دیتا ہے۔ اور یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ان مفتیان کی شریعت کی تشریحات ایک جیسی بھی ہوں تو ہر گلی کا مفتی اپنی الگ ہی رائے رکھتا ہے۔

بلا مبالغہ ہزاروں عورتوں کی یہ کہانی ہے جو شادی کے رشتے کو صرف اس لیے چلا رہی ہیں کہ انکے پاس اس باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مگر اندر سے وہ شدید الجھن اور اپنے شوہر سے گھن کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ سر درد، ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر نفسیاتی امراض کا شکار ہو چکی ہیں۔

مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی دوست۔ ۔ ۔ ہمارے معاشرے کا پورا سچ سنتے جاؤ۔ ۔

یہی لڑکی تھی ہار کر بیٹھ جاتی ہے۔ اور چار بچے پالنے میں لگ جاتی ہے کہ لڑکی کا سسر فوت ہو جاتا ہے اور دکان دیگر بھائیوں میں بٹ کر اس کے شوہر کے حصے چند لاکھ روپے آتے ہیں جو وہ اپنی حماقت سے چند ماہ میں اڑا دیتا ہے۔ ۔ ۔

ایسے میں لڑکی مسلسل غربت سے تنگ آ کر شوہر سے لڑتی ہے۔ نفسیاتی ہو جاتی ہے۔ تو اچانک ایک روز غصے میں، بغیر کوئی عقل و سمجھ کی بات کیے ۔ ۔ اسکے شوہر کے منہ سے نکل جاتا ہے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق ۔ ۔۔ ۔ "

لڑکی بیہوش گر جاتی ہے کہ چار بچے آنے اور عقل و ہوش کے جانے سے پہلے وہ یہی تو مانگ رہی تھی مگر معاشرہ، مفتی اور رامی دانشور اسکی راہ کی رکاوٹ بن گئے۔ وکیل بے بس نظر آیا ، جج کو شرعی مفتی نے صفر کر دیا ۔ ۔

لڑکی ہوش میں آتی ہے اور بڑی سی چادر لے کر انہی مفتیان اور رامی دانشوروں سے انصاف مانگنے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ایک ایک کو دہائی دیتی ہے کہ یہ طلاق میں نہیں مانتی ۔ ۔ یہ تو ہوئی ہی نہیں۔ ۔ میری طرح میرے بندے کو بھی عقل نہیں ہے ۔ ۔ اس لیے اسکی طلاق کو نہ مانا جائے ۔ ۔

مگر ہر در سے اس کو عجیب سے جواب ملتے ہیں۔ ۔۔ غصے میں بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ ۔۔ لڑکا چاہے عقل میں کتنا ہی احمق ہو ۔ ۔ اسکو اتنا تو علم ہونا چاہیے تھا کہ طلاق کا لفظ نہیں کہنا
۔ ۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا
۔ ۔ ۔

ہر در سے نامراد و مایوس سب سے چھوٹے بچے کی بھوک کا سوچ کر جب وہ اپنی سوکھی چھاتیاں لیے گھر لوٹنے لگتی ہے کہ اسکو نچوڑ کر بچے کو دودھ پلا سکے تو ایک آواز آتی ہے ۔ ۔ ۔ ایک رستہ ہے ۔ ۔ ۔ وہ یکدم ٹھہر جاتی ہے۔ ۔ ۔ اسکو لگتا ہے کہ اس بھری دنیا میں کوئی خدا بھی ہے۔ ۔ ۔ جو بے بسوں کی فریاد سنتا ہے۔ ۔

کیا راستہ ہے بھائی صیب؟

وہ آواز والے بھائی کی جانب مڑتی ہے۔

"حلالہ"

حلالہ سمجھتی ہو نا بی بی ؟

مکروہ آواز نے جان بوجھ کو بھائی صیب کے جواب میں لڑکی کو

بہن جی نہیں کہا ہوتا۔ ۔

کیونکہ اگر آواز یہ کہتی کہ حلالہ سمجھتی ہو نا بہن جی؟ ۔ ۔ ۔ تو بات بنتی نہیں تھی۔

باقی کہانی آپ خود مکمل کر لیں۔ ۔

اور خود ہی سوچیں کہ ہمارا معاشرہ عورت کو اس کے جائز حقوق کیوں نہیں دے پاتا اور اس میں قصور کس کا ہے؟

۔محمود۔

ویڈیو محض ویوز لینے کے لیے لگائی گئی ہے۔

ایک سیکنڈ کو سوچیں کہ آپ کی بیوی کا ماضی میں ایک بوائے فرینڈ رہ چکا ہے۔ جس سے وہ آپ سے زیادہ  پیار کرتی ہے۔ اتنا پیار کر...
31/07/2025

ایک سیکنڈ کو سوچیں کہ آپ کی بیوی کا ماضی میں ایک بوائے فرینڈ رہ چکا ہے۔ جس سے وہ آپ سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ اتنا پیار کرتی ہے کہ وہ سامنے آ جائے تو آپ کا نام بھی بھول جائے گی۔ اور پھر آپ کو اپنا نام واپس یاد دلانے کے لئے جتن کرنا پڑیں گے۔ اور آپ کو واپس بیوی کا دل جیتنا ہوگا۔

آپ کو یہ منظر کیسا لگے گا؟

خوفناک؟

لیکن یہ منظر بالی وڈ جابجا نارملائز کرکے دکھاتا ہے۔ جس میں کسی کی بیوی ہوتی ہے اس کا ایکس ہوتا ہے اور پھر اس کو وہ یاد آتا ہے اور اس کے بعد ہیرو یا پھر ایکس اس کو پانے کی دوبارہ کوشش کرتا ہے اور اس سب کو رومانس یا پھر پیار کا نام دیا جاتا ہے۔

جبکہ یہ پیار کے نام پر دکھایا جانیوالا کچرا ہے، بے غیرتی ہے اور بے شرمی کی انتہا ہے۔

اتنا beta مرد بن کر جینے سے بہتر انسان کا اس دنیا کو چھوڑ دینا ہے اور ایسی فلموں کو رومانٹک فلمیں سمجھ کر ہائیپ دینے والوں کو بھی پانچ حروف بھیجنے بنتے ہیں۔

مطلب یہ بکواس اب پیار کہلائے گی۔ 🖐️ بھئی تم لوگوں کے ایسے پیار پر

اور وہ فیمنسٹ جو عورت کی اس تذلیل پر خاموش ہیں ان پر بھی 🖐️ کیونکہ یہ عورت کی بطور ادارہ بھی تذلیل ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے کسی اور مرد کے سپنے سجا کر سوتی اور جاگتی ہے۔ یہ مردانہ شاؤنزم سے کہیں زیادہ بڑی تذلیل ہے جسے وومن ایمپاؤرمنٹ کے نام پر ذہنوں میں انڈیلا جا رہا ہے۔

06/06/2025

جو رِیت ، رضا تسلیم کی تھی ، وہ قربانی تعظیم کی تھی
سو آج بھی جاری رکھنی ہے ، جو سنت ابراہیم کی تھی
عید الاضحی مبارک

ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﮨﮯ. ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺿ...
05/06/2025

ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﮨﮯ. ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﺮﺍ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﺜﻼً۔۔۔۔ ﻣﮩﮧ ﺟﺒﯿﻦ ﺩﺗﮧ۔۔۔۔ ﺷﮩﻼ ﮈﻭﺍﯾﺎ۔۔۔۔۔ ﻓﺮﯾﺤﮧ ﺑﻮﭨﺎ۔۔۔۔۔ ﯾﺎ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﮧ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﺴﺰ ﺩﺗﮧ، ﻣﺴﺰ ﮈﻭﺍﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺑﻮﭨﺎ۔۔۔۔ ﻟﮩﺬﺍ ﻧﺎﻡ ﻓﻮﺭﺁً ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺠﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺩﻟﮩﻦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ 'ﻣﺴﻤﺎﺕ ﮔﻞ ﺑﺪﻥ ﻭﻟﺪ ﺗﻦ ﺑﺪﻥ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﻖ ﻣﮩﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﺑﺘﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮨﺎﻥ ﻣﺴﻤﯽ ﺑﮭﻼ ﻣﺎﻧﺲ ﻭﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﺲ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ۔۔۔ !
ﺍﻭﺭ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮨﯿﮟ..
ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞٍ ﻗﺒﻮﻝ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﺍﻟﭙﻨﮉﯼ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﻗﯿﻦ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﺎ ﺧﻂ ﻣﻮﺻﻮﻝ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﭽﮫ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻏﺎﻟﺒﺎً ﻣﯿﺮﯼ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻂ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﻼﺑﮯ ﻣﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ 'ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔.؟'
ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻂ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﻨﻒٍ ﻧﺎﺯﮎ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺩﮦ ﺳﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ 'ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔'
ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻄﻮﻁ ﮐﺎ ﺗﺎﻧﺘﺎ ﺑﻨﺪﮪ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ۔۔۔۔
'ﺗﻢ ﻧﺨﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ..!'
ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ 'ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺷﺪﮦ' ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺭﺟﻨﭧ ﻣﯿﻞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔۔
'ﺻﻮﻓﯽ، ﺗﯿﺮﺍ ﮐﮑھ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ'

صوفی تبسم

29/05/2025

گیمنگ کے شائق جانتے ہیں کہ سیمولیشن گیمز میں ایسے گیم

بھی دستیاب ہیں جو طیاروں کی اصل استعداد

اور ہتھیاروں کے مطابق ہیں

سو یہ گیمز کھیلتے بھی پائلٹ ہی ہیں

آج تین گورے پائلٹس کی ایک ویڈیو دیکھی

جس میں انہوں نے

حالیہ پاک انڈیا جھڑپ کو موضوع بنایا تھا

انہوں نے پہلے ایئر وائس مارشل اورنگزیب کی ویڈیو چلائی

جس میں ان کے دعوے سنوانے کے بعد انہوں نے کہا

آیئے سیمولیشن پر 70 انڈین اور چالیس پاکستانی طیاروں کا تصادم کروا کر دیکھتے ہیں کہ نتائج کیا نکلتے ہیں

اگر اورنگزیب درست کہہ رہے ہیں تو سیمولیشن پر بھی نقصان انڈیا کا زیادہ ہونا چاہئے

کیونکہ طیارے ہم وہی استعمال کریں گے جو ان دونوں ممالک نے کئے

پھر ساتھ ہی یہ وضاحت کی کہ نتیجہ بالکل وہی نہیں ہوگا جو چھ اور سات مئی کی رات تھا

کیونکہ ہم نہیں جانتے اس جھڑپ میں پائلٹوں کی حکمت عملی کیا تھی

ہم یہاں دونوں جانب کے طیاروں کو بس یہ کمانڈ دے رہے ہیں کہ جب تمہارے ہتھیار یا فیول ختم ہونے ولا ہو بیس پر لوٹ جاؤ۔ اس لئے اس سیمولیشن میں سات مئی کی نسبت نقصان زیادہ ہوگا لیکن اگر اورنگزیب درست کہہ رہے ہیں تو نقصان بہرحال انڈیا کا زیادہ ہونا چاہئے۔

اس کے بعد انہوں وہ ایکسرسائز چلا دی

جس کے اختتام پر نتیجہ یہ تھا

کہ پاکستان کے صرف دس جے 10 سی تباہ ہوئے

اور انڈیا کے مجموعی طور پر 24 طیارے تباہ ہوئے جن میں 13 رفال تھے

ایکسرسائز کے بعد تینوں گورے یک زباں ہوئے

"یس، اورنگزیب از رائٹ" 😅😅😅

نوٹ ویڈیو بہت طویل ہے اس لئے ہم بس ایک جھلک ہی دکھا پا رہے ہیں پوسٹ میں

ینوں تھانے چوں چھڈوالو‏ایدی اوتھے وجدی پئی اے
23/05/2025

ینوں تھانے چوں چھڈوالو
‏ایدی اوتھے وجدی پئی اے

17/05/2025

بلا شبہ ، ہمیں بیٹوں کی تربیت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔

تحقیق کے مطابق ہمارا پسندیدہ شخص اگر نظروں کے سامنے رہے تو ہم دماغی طور پر صحتمند رہتے ہیں۔ہارورڈ کی پچاسی سال کے دورانی...
04/05/2025

تحقیق کے مطابق ہمارا پسندیدہ شخص اگر نظروں کے سامنے رہے تو ہم دماغی طور پر صحتمند رہتے ہیں۔

ہارورڈ کی پچاسی سال کے دورانیے میں کی گئی تحقیق کے مطابق ہماری زندگی میں موجود خوشیوں کا تعلق ہمارے ساتھ جڑے لوگوں کے ہمارے ساتھ رکھے گئے برتاؤ پر منحصر ہے۔

اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ہمارے لمبا جینے کے لئے اچھا کیرئر، پیسہ، خوراک یا ورزش سے بڑھ کر سب سے زیادہ کردار اپنے ذاتی تعلقات کا ہے۔ اگر ہمارے ذاتی تعلقات جو کہ ہماری روز مرہ زندگی میں سب سے زیادہ قریب رہتے ہیں (بیوی اور اولاد) وہ مثبت ہیں اور ٹاکسک نہیں ہیں تو ہماری عمر عام لوگوں سے زیادہ لمبی اور بڑھاہاپہ زیادہ خوشگوار ہو سکتا ہے۔

اس پہلو کو ہم سوشل فٹنس کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس فٹنس کو بھی برقرار رکھنے کے لئے ہمیں “ورزش” کی ضرورت پڑتی ہے اور جب تک ہم وہ کرتے رہتے ہیں تو یہ رشتے خوشگوار رہتے ہیں۔

سو اپنی زندگی میں سوشل فٹنس قائم رکھیں خود کو منفی رشتوں اور سوچوں سے دور رکھیں۔ یہ عادت آپ کی عمر کو مزید لمبا اور دماغی صحت کو مزید بہتر بنا سکتی ہے۔

28/04/2025

تجھ پہ قربان میرے شانے، میرے ہاتھ اور میں
کیوں تھکائے بھلا تیرا کوئی ناز مجھے 👀

چلیں چیٹ جی پی ٹی اوپن کریں۔۔۔۔1. Open chat Gpt...2. Prompt 3. Add this prompt Create a cute chibi-style collectible fig...
27/04/2025

چلیں چیٹ جی پی ٹی اوپن کریں۔۔۔۔
1. Open chat Gpt...
2. Prompt
3. Add this prompt

Create a cute chibi-style collectible figurine of a myself enclosed in a clear Coca-Cola bottle with a red cap. The character is sitting cross-legged on a blue ice cube, wearing a navy blue Nike Tn sweatshirt, black shorts over black tights and black and white Nike sneakers. Around him inside the bottle are a can of 1664 beer, a pack of Oreo, an Oreo cookie and two light-up cubes with cute smiley faces.

Credit to the owner

_Ejaz

چائنہ ٹو امریکہ ۔۔۔ ,, آ تیرے جن کڈھاں ! ،،چائنہ نے سونے کو تو آسمان پر پہنچایا ہی ، اپنی فیکٹری کی وہ لاکھوں شرٹیں اور ...
23/04/2025

چائنہ ٹو امریکہ ۔۔۔ ,, آ تیرے جن کڈھاں ! ،،
چائنہ نے سونے کو تو آسمان پر پہنچایا ہی ، اپنی فیکٹری کی وہ لاکھوں شرٹیں اور ٹوپیاں امریکہ کو بیچ ڈالیں جس پر ,, بائیکاٹ چائنہ ،، لکھا ہوا تھا ۔۔۔
اسے کہتے ہیں ٹوپی کرانا 🤠

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ejaz Sheraz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ejaz Sheraz:

Share

Category