30/11/2025
پاکستان میں شادی کرنے کے لیے حماقت یا ذہانت کا ٹیسٹ تو پاس نہیں کرنا پڑتا۔
اب ایک احمق گاؤدی لڑکے کی شادی ہو جاتی ہے کیونکہ باپ نے دو منزلہ مکان بنا رکھا ہے اور اس کو اپنی دکان پر بٹھا رکھا۔
تو ایک پڑھیی لکھی سمجھدار لڑکی کے ناخواندہ ماں باپ کو لگتا ہے کہ لڑکا شادی لائق ہے اور "گھر بار" والا ہے۔ بعض دفعہ اسٹیٹس کا لالچ بھی لڑکی کے ماں باپ کو لے ڈوبتا ہے۔
شادی کے بعد لڑکی کو اندازہ ہوتا ہے کہ لڑکا تو باپ کی مرضی کے بغیر موتنے نہیں جا سکتا، وہ اس کے لیے کسی مشکل میں اسٹینڈ کیا لے گا؟
ایسے میں لڑکی علیحدگی کا مطالبہ کر دیتی ہے۔
ویسے یہ جملہ میں نے جلدی میں لکھ دیا ہے اول میں تو لوئر مڈل کلاس لڑکی ہزار بار سوچتی ہے کہ یہاں سے نکل کر کہاں جائیگی۔
اور پھر لڑکے کی دیگر عادات اور حرکات سے بیزاری نفرت کی شکل اختیار کرتی ہے۔ تب جا کر لڑکی کو لگتا ہے کہ یا موت یا علیحدگی ۔ ۔ ۔۔
مختصر اس لیے لکھا ہے کہ موضوع کچھ اور ہے۔
خیر لڑکی علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ خود اس کے گھر والے نہیں مانتے کہ "گھر بار" والا ہے۔ دو روٹی عزت کی مل رہی ہے۔
سینکڑوں لڑکیوں کے لیے یہ بات سچ بھی ہے۔ انکی اپنی عقل و شکل بھی اسی جوگی ہوتی ہے کہ چپ چاپ چغد نما کو شوہر مان کر دو روٹی پیٹ میں ڈالتی رہیں۔ ۔ ۔ یہ الگ بات کہ دو روٹی سے ہر سال پیٹ اتنا باہر نکل جاتا ہے کہ بچہ بن جاتا ہے۔
مگر ایک آدھ لڑکی، مان لیں کہ، زرا عقل و شعور رکھتی ہے۔ اور اسلام کے مطابق خدا کے دیے حقوق بھی جانتی ہے۔ اور وہ خلع کا مطالبہ کرتی ہے۔
اب خدا کو حاظر ناظر جان کر اپنے تجربے
شہادت سے بتائیے گا کہ کتنے لڑکے اور اسکے ماں باپ ہاتھ آئی چڑیا کو جانے دیں گے؟
لڑکی کی سنی نہیں جاتی۔ اس کو اسی جہنم میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اس پر وہ چول رامی فیس بکی دانشور محمود فیاض جو فیس بک پر روزانہ مغربی عورتوں کا احوال لکھ لکھ کر پاکستانی عورتوں کا احساس دلاتا رہتا ہے کہ ایسا شوہر غنیمت ہے جو آپ کو گھر میں بسانا چاہتا ہے کیونکہ اب سیکس تو مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی ہر گلی کی نکڑ پر "چائے خانہ" جیسے مل جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں لڑکی کو جائز حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ لڑکی چاہے عالمہ ہو، چاہے یونیورسٹی ڈگری ہولڈر ہو، عقل میں بہرحال باپ کی دکان پر بیٹھے لڑکے سے کم عقل رکھتی ہے۔
پھر اسکی دعائیں سنی جاتی ہیں۔ کوئی نیک دل وکیل اسکی خلع کا کیس دائر کر دیتا ہے۔
پھر اسکو مفتی مسعود بتاتا ہے کہ خلع تو شوہر کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔
پھر نیک دل وکیل بدمعاش بن کر مشورہ دیتا ہے کہ بی بی اپنے مرد پر نامرد ہونے کا الزام ٹھوکو اور تنسیخ نکاح کا کیس دائر کرتے ہیں۔
لڑکی یا اسکے ماں باپ خدا خوفی کر جائیں تو تنسیخ نکاح بھی ممکن نہیں ہوتا۔ وکیل یا جج کو "مالی ترمیم" کے زریعے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ ہاں جہاں لڑکی کے ماں باپ کا زور چلتا ہے وہاں وہ بھی زبردستی کی تنسیخ کروا لیتے ہیں۔
آج کل کی تنگ آمد لڑکیاں ماں باپ کو بھی چھوڑ کر کسی ہمدرد جو بعد میں دھوکے باز بھی نکل سکتا ہے کے ساتھ مل کر تنسیخ کر لیتی ہیں۔
ایسی نوبت اس لیے آتی ہے کہ فیس بکی دانشور، مفتیان کرام، اور دیگر نے مل کر اس لڑکی کے حقوق کی وہ ماں بہن کر دی ہے کہ اب اسکو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ اس کا جائز حق کدھر ہے۔
عدالت تنسیخ نکاح کے لیے لگائے الزامات سچ مان بھی کے تو کوئی مفتی شریعت کے مطابق اسکو غلط قرار دے دیتا ہے۔ اور یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ان مفتیان کی شریعت کی تشریحات ایک جیسی بھی ہوں تو ہر گلی کا مفتی اپنی الگ ہی رائے رکھتا ہے۔
بلا مبالغہ ہزاروں عورتوں کی یہ کہانی ہے جو شادی کے رشتے کو صرف اس لیے چلا رہی ہیں کہ انکے پاس اس باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مگر اندر سے وہ شدید الجھن اور اپنے شوہر سے گھن کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ سر درد، ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر نفسیاتی امراض کا شکار ہو چکی ہیں۔
مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی دوست۔ ۔ ۔ ہمارے معاشرے کا پورا سچ سنتے جاؤ۔ ۔
یہی لڑکی تھی ہار کر بیٹھ جاتی ہے۔ اور چار بچے پالنے میں لگ جاتی ہے کہ لڑکی کا سسر فوت ہو جاتا ہے اور دکان دیگر بھائیوں میں بٹ کر اس کے شوہر کے حصے چند لاکھ روپے آتے ہیں جو وہ اپنی حماقت سے چند ماہ میں اڑا دیتا ہے۔ ۔ ۔
ایسے میں لڑکی مسلسل غربت سے تنگ آ کر شوہر سے لڑتی ہے۔ نفسیاتی ہو جاتی ہے۔ تو اچانک ایک روز غصے میں، بغیر کوئی عقل و سمجھ کی بات کیے ۔ ۔ اسکے شوہر کے منہ سے نکل جاتا ہے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق ۔ ۔۔ ۔ "
لڑکی بیہوش گر جاتی ہے کہ چار بچے آنے اور عقل و ہوش کے جانے سے پہلے وہ یہی تو مانگ رہی تھی مگر معاشرہ، مفتی اور رامی دانشور اسکی راہ کی رکاوٹ بن گئے۔ وکیل بے بس نظر آیا ، جج کو شرعی مفتی نے صفر کر دیا ۔ ۔
لڑکی ہوش میں آتی ہے اور بڑی سی چادر لے کر انہی مفتیان اور رامی دانشوروں سے انصاف مانگنے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ایک ایک کو دہائی دیتی ہے کہ یہ طلاق میں نہیں مانتی ۔ ۔ یہ تو ہوئی ہی نہیں۔ ۔ میری طرح میرے بندے کو بھی عقل نہیں ہے ۔ ۔ اس لیے اسکی طلاق کو نہ مانا جائے ۔ ۔
مگر ہر در سے اس کو عجیب سے جواب ملتے ہیں۔ ۔۔ غصے میں بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ ۔۔ لڑکا چاہے عقل میں کتنا ہی احمق ہو ۔ ۔ اسکو اتنا تو علم ہونا چاہیے تھا کہ طلاق کا لفظ نہیں کہنا
۔ ۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا
۔ ۔ ۔
ہر در سے نامراد و مایوس سب سے چھوٹے بچے کی بھوک کا سوچ کر جب وہ اپنی سوکھی چھاتیاں لیے گھر لوٹنے لگتی ہے کہ اسکو نچوڑ کر بچے کو دودھ پلا سکے تو ایک آواز آتی ہے ۔ ۔ ۔ ایک رستہ ہے ۔ ۔ ۔ وہ یکدم ٹھہر جاتی ہے۔ ۔ ۔ اسکو لگتا ہے کہ اس بھری دنیا میں کوئی خدا بھی ہے۔ ۔ ۔ جو بے بسوں کی فریاد سنتا ہے۔ ۔
کیا راستہ ہے بھائی صیب؟
وہ آواز والے بھائی کی جانب مڑتی ہے۔
"حلالہ"
حلالہ سمجھتی ہو نا بی بی ؟
مکروہ آواز نے جان بوجھ کو بھائی صیب کے جواب میں لڑکی کو
بہن جی نہیں کہا ہوتا۔ ۔
کیونکہ اگر آواز یہ کہتی کہ حلالہ سمجھتی ہو نا بہن جی؟ ۔ ۔ ۔ تو بات بنتی نہیں تھی۔
باقی کہانی آپ خود مکمل کر لیں۔ ۔
اور خود ہی سوچیں کہ ہمارا معاشرہ عورت کو اس کے جائز حقوق کیوں نہیں دے پاتا اور اس میں قصور کس کا ہے؟
۔محمود۔
ویڈیو محض ویوز لینے کے لیے لگائی گئی ہے۔