Eemaan Pakistan

Eemaan Pakistan خبر بھی اور علم بھی

26/07/2026

کالجز میں جینز، ٹی شرٹ، سلیپر منع
نیا سرکلر جاری ہو گیا، پابندی لازم۔

کراچی نے سرکاری کالجوں کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے لیے باقاعدہ ڈریس کوڈ نافذ کر دیا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکلر میں تمام عملے کو باضابطہ اور مناسب لباس پہننے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ سرکلر کے مطابق کچھ ملازمین، خصوصاً مرد اسٹاف، ٹی شرٹس، جینز، تنگ لباس، چپل اور فیشن ایبل عینکیں پہن کر ڈیوٹی پر آتے رہے ہیں، جسے دفتری اوقات میں قطعاً قابلِ قبول نہیں سمجھا جائے گا۔

نوٹیفکیشن میں خاص طور پر سرکاری گرلز کالجوں میں تعینات مرد تدریسی عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باوقار اور رسمی لباس پہنیں، ترجیحاً فل سلیو شرٹ کے ساتھ فارمل ٹراؤزر یا روایتی شلوار قمیض۔ اس کے علاوہ لیکچر دیتے وقت اساتذہ کو اکیڈمک گاؤن اور فارمل جوتے پہننے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

خواتین تدریسی عملے کے لیے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باوقار، شائستہ اور پیشہ ورانہ لباس پہنیں جو تدریسی پیشے کے وقار کی عکاسی کرے اور علمی ماحول کے احترام کو برقرار رکھے۔

جبکہ غیر تدریسی عملے کے لیے، خصوصاً سرکاری گرلز کالجوں میں، سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ملازمین اپنی ذمہ داریوں کے مطابق صاف ستھرا، باوقار اور دفتری لباس زیب تن کریں۔


Disclaimer :
This Post is just for awareness and informational purposes only

26/07/2026
26/07/2026

پٹرول نہیں، عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، اگر ایک گائے سے ہر روز دودھ لیا جائے، پھر اس کا چارہ بھی کم کر دیا جائے اور آخر میں اس کا خون بھی نچوڑنا شروع کر دیا جائے، تو وہ زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ آج پاکستان کا عام آدمی بھی اسی حالت سے گزر رہا ہے۔ اس کی آمدنی وہی ہے، مگر حکومت ہر روز اس کی جیب پر ایک نیا وار کر دیتی ہے۔

چند ہی دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کر دیا گیا۔ ڈیزل تقریباً ستر روپے فی لیٹر اور پیٹرول بیس سے تیس روپے فی لیٹر تک مہنگا ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب صرف مہنگا ایندھن نہیں، بلکہ آٹا، سبزی، دودھ، دوا، کرایہ، مال برداری اور روزمرہ ضرورت کی تقریباً ہر چیز مزید مہنگی ہونا ہے۔

حکومت عالمی منڈی کا حوالہ دیتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت صرف خام تیل سے نہیں بنتی۔ اس میں پیٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع، ڈیلروں کا کمیشن، مال برداری کے اخراجات، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) اور دیگر سرکاری وصولیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تو عوام کو اس کا پورا فائدہ نہیں ملتا، مگر اضافہ ہوتے ہی سارا بوجھ فوراً عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔

اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ قربانی صرف عوام سے مانگی جاتی ہے، مگر اشرافیہ کی عیاشیوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ آج بھی ہزاروں لیٹر مفت سرکاری پٹرول، لمبے پروٹوکول، درجنوں سرکاری گاڑیاں، غیر ضروری سرکاری دورے، شاہانہ دفاتر، مفت سہولتیں اور بے شمار مراعات پہلے کی طرح جاری ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ کمر کس لو، مگر اقتدار کے ایوانوں میں فضول خرچی کم کرنے کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ اگر کئی ہفتے پہلے درآمد کیا گیا تیل فروخت ہو رہا ہے تو قیمت آج کے حساب سے کیوں وصول کی جا رہی ہے؟ نقصان ہو تو عوام برداشت کریں، اور فائدہ ہو تو حکومت لے جائے، آخر یہ کیسا انصاف ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ افغانستان، جس کے پاس نہ سمندری بندرگاہ ہے اور نہ بڑی آئل ریفائنری، کئی مواقع پر پاکستان سے سستا پٹرول فروخت کرتا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف عالمی قیمتوں کا نہیں، بلکہ حکومتی پالیسی، ٹیکسوں، اخراجات اور ترجیحات کا بھی ہے۔

حکمران شاید یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے پاس برداشت کے سوا کوئی راستہ نہیں، اس لیے جتنا چاہیں بوجھ ڈال دیں۔ مگر وہ یہ بھول رہے ہیں کہ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی، اکثر یہ بے بسی ہوتی ہے۔ اور جب ایک طرف عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہو، جبکہ دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں عیاشیاں، مفت پیٹرول اور شاہانہ پروٹوکول پہلے کی طرح جاری ہوں، تو پھر مسئلہ صرف پٹرول کی قیمت کا نہیں رہتا، پورے نظام کے احتساب کا بن جاتا ہے۔

شہزاد منیر

26/07/2026

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ۔
*❇️ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیسے بڑھ رہی ہیں۔*

*18 جولائی، 5 روپے 44 پیسے مہنگا*
*20 جولائی، 5 روپے 71 پیسے مہنگا*
*21 جولائی، 7 روپے 15 پیسے مہنگا*
*22 جولائی، 7 روپے 83 پیسے مہنگا*
*23 جولائی 6 روپے 39 پیسے مہنگا*
*24 جولائی 4 روپے 40 پیسے مہنگا*
۔6 دن میں 34 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا۔
اگر ایک دن میں 30 روپے کا اضافہ ہوتا تو عوام تھوڑا شور مچاتی، لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کسی کو محسوس بھی نہیں ہو رہا۔

🚨 کورنگی گودام چورنگی کے قریب افسوسناک حادثہ، ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے ...
26/07/2026

🚨 کورنگی گودام چورنگی کے قریب افسوسناک حادثہ، ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق۔
تفصیلات کے مطابق
کراچی کے علاقے کورنگی گودام چورنگی کے قریب ٹریفک حادثے میں ٹریلر کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ قانونی کارروائی کے بعد لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شہریوں نے بھاری گاڑیوں کی مؤثر نگرانی اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ کے خیال میں کراچی میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے کن اقدامات کی فوری ضرورت ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

لندن کے اعلیٰ ترین علاقے کنسنگٹن کے ایک پرتعیش ہوٹل میں سعودی شہزادے عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل ...
26/07/2026

لندن کے اعلیٰ ترین علاقے کنسنگٹن کے ایک پرتعیش ہوٹل میں سعودی شہزادے عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل سعود کی ہلاکت سے متعلق انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی موت الکوحل اور مختلف ادویات کے خطرناک آمیزے کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے حوالے سے این وائے پوسٹ نے بتایاکہ لندن کی کورونر کورٹ میں جاری انکوائری کے دوران بتایا گیا کہ 29 سالہ سعودی شہزادے کے خون میں الکحل کی مقدار برطانوی قانونی حد 0.08 فیصد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ یعنی 0.222 فیصد پائی گئی، جبکہ ان کے جسم میں پارٹی ڈرگ جی ایچ بی (gamma-hydroxybutyrate) اور ذہن کو سکون دینے والی دوا زی نیکس (Xanax) کے اثرات بھی موجود تھے۔
شہزادے کو گزشتہ سال 25 نومبر کو مغربی لندن کے مہنگے علاقے کنسنگٹن میں واقع تقریباً 800 ڈالر فی رات کے میریٹ ہوٹل (Marriott Hotel) کے باتھ روم میں ہوٹل کی ایک ملازمہ نے بے سدھ پایا تھا۔ طبی عملے (پیرامیڈیکس) نے انہیں بچانے کی کوشش کی مگر وہ موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ موت سے محض تین ماہ قبل شہزادہ عبداللہ نے روہیمپٹن کے معروف 'پرائری کلینک' (Priory Clinic) میں داخلہ لیا تھا، جہاں ایک ہفتے کے علاج کا خرچ 47,000 ڈالر تک ہوتا ہے۔
پرائری کلینک کی کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر وکٹوریہ چامورو نے اپنے تحریری بیان میں بتایا کہ شہزادہ الکوحل، بینزوڈیازیپائنز اور اضطراب دور کرنے والی دوا پری گیبالن (pregabalin) کے نشے سے نجات (ڈی ٹاکس) کے لیے آئے تھے اور انہوں نے اس علاج میں مکمل تعاون کیا جس کے کوئی جسمانی سائیڈ ایفیکٹس سامنے نہیں آئے۔ ڈاکٹر کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہایت ہمدرد، مہربان اور دوست بنانے والے انسان تھے۔
داخلے کے وقت ان میں اداسی اور بے چینی کی علامات تھیں، انہیں ایک دوست کے ساتھ رخصت کیا گیا تھا اور اگرچہ وہ بعد میں زوم (Zoom) پر شیڈول کی گئی ملاقاتوں میں شریک نہیں ہو سکے، لیکن اس کے باوجود ان کی صحت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں تھی کیونکہ انہوں نے اپنا علاج کامیابی سے مکمل کر لیا تھا۔

امریکی صدر نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دے دیا، امریکی میڈیا۔
26/07/2026

امریکی صدر نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دے دیا، امریکی میڈیا۔

یورپی یونین کا انسانی حقوق کے دعوے منافقت قرار۔۔۔۔۔
25/07/2026

یورپی یونین کا انسانی حقوق کے دعوے منافقت قرار۔۔۔۔۔

Address

Karachi

Telephone

+923142359695

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eemaan Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Eemaan Pakistan:

Shortcuts

Share