Fazal Karim Writes

Islamic & Motivational Quote's 📖

If you want learn daily Qur'an, Hadees post's and Videos let's like and follow my page and joine us group ( Knowledge of Islam )👇 Visit Group Thank you! Islamic and motivational Quotes,


If you want learn daily Qur'an, Hades post's and videos, please like and follow my page Fazal Karim Writes and join us group ( Knowledge of Islam ) Thank you!

made using PixelLab
31/08/2025

made using PixelLab

31/08/2025

السلامُ علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

صبح بخیر

اللّٰہ کا قرآن سب کے لیے ہے-------پڑھیئے ----- پڑھائیے ------- سمجھے ---- سمجھائیں --------- عمل کیجئے --------- عمل کی دعوت دیجئے --------- یاد رکھیں ------- آج عمل ہے حساب نہیں --------- کل حساب ہو گا ------ عمل نہیں.....

سورہ اعراف

آیت نمبر ۱۷۵

پارا نمبر ۰۹

#أَعُوذُ_بِٱللَّٰهِ_مِنَ_ٱلشَّيْطَانِ_ٱلرَّجِيمِ

#بٕــسْـــمِ_الــلّٰـهِ_الـــرَّحْـــمٰـــنِ_الـــــرَّحِــــيْـــــم

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ(175)

ترجمۂ کنز العرفان

اور اے محبوب! انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ آدمی گمراہوں میں سے ہو گیا۔

ترجمہ کنز الایمان

اور اے محبوب انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہو گیا۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا:
اور اے محبوب!انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں۔} شانِ نزول: حضرت عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود اور امام مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں’’یہ آیت بلعم بن باعوراء کے بارے میں نازل ہوئی۔ (تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۵ / ۴۰۳)

حضر ت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں یہ آیت امیہ بن ابو صلت کے بارے میں نازل ہوئی۔( سنن الکبری للنسائی، کتاب التفسیر، سورۃ الاعراف، ۶ / ۳۴۸، الحدیث: ۱۱۱۹۴)

حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں یہ آیت ابو عامر بن صیفی کے بارے میں نازل ہوئی۔ (تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۴ / ۲۲۹، الجزء السابع)

بلعم بن باعوراء کا واقعہ:
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جَبّارین سے جنگ کا ارادہ کیا اور سرزمینِ شام میں نزول فرمایا تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ’’ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت تیز مزاج ہیں اور اُن کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے ،وہ یہاں اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں اور ہمیں ہمارے شہروں سے نکال کر ہماری بجائے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تم ایسے شخص ہو کہ تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تم نکلو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اُنہیں یہاں سے بھگا دے ۔قوم کی بات سن کر بلعم نے کہا :افسوس ہے تم پر! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ، اُن کے ساتھ فرشتے اور ایمان دار لوگ ہیں ،اس لئے میں اُن کے خلاف کیسے بد دعا کر سکتا ہوں ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم ملا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر میں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلاف ایسا کیا تو میری دنیا و آخرت برباد ہو جائے گی ۔ قوم نے جب گریہ و زاری کے ساتھ مسلسل اصرار کیا تو بلعم نے کہا :اچھا! میں پہلے اپنے رب کی مرضی معلوم کرلوں۔ بلعم کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا تو پہلے مرضی ٔالٰہی معلوم کر لیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا، چنانچہ اس مرتبہ اس کو یہ جواب ملا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف دعا نہ کرنا۔ چنانچہ اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ ’’میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی تھی مگر میرے رب نے اُن کے خلاف بد دعا کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔ پھر اس کی قوم نے اسے ہدیئے اور نذرانے دیئے جنہیں اُس نے قبول کر لیا ۔اس کے بعد قوم نے دوبارہ اس سے بددعا کرنے کی درخواست کی تو دوسری مرتبہ بلعم نے رب تبارک وتعالیٰ سے اجازت چاہی۔ اب کی بار اس کا کچھ جواب نہ ملا تو اُس نے قوم سے کہہ دیا کہ’’ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہیں ملا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ ’’اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی صاف منع فرما دیتا، پھر قوم نے اور بھی زیادہ اصرار کیا حتّٰی کہ وہ ان کی باتوں میں آ گیا۔ چنانچہ بلعم بن باعوراء اپنی گدھی پر سوار ہو کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ گدھی نے اسے کئی مرتبہ گرایا اور وہ پھر سوار ہو جاتا حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے گدھی نے اس سے کلام کیا اور کہا: افسوس! اے بلعم! کہاں جا رہے ہو؟ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتے مجھے جانے سے روک رہے ہیں۔ (شرم کرو) کیا تم اللہ تعالیٰ کے نبی اور فرشتوں کے خلاف بد دعا کرنے جا رہے ہو؟ بلعم پھر بھی باز نہ آیا اور آخر کار وہ بددعا کرنے کے لئے اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا۔ اب بلعم جو بددعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا تو بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اُس کی زبان پر آتا تھا۔ یہ دیکھ کر اس کی قوم نے کہا: اے بلعم! تو یہ کیا کر رہا ہے؟ بنی اسرائیل کیلئے دعا اور ہمارے لئے بددعا کیوں کر رہا ہے؟ بلعم نے کہا:’’ یہ میرے اختیار کی بات نہیں ،میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت مجھ پر غالب آ گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعد اس کی زبان نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی ۔ اس نے اپنی قوم سے کہا :میری تو دنیا و آخرت دونوں برباد ہو گئیں ،اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں ’’تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو، اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی بدکاری کر لی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیتا، چنانچہ بلعم کی قوم نے اسی طرح کیا، جب عورتیں بن سنور کر لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس سے گزری تو وہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اسے پسند آ گئی۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منع کرنے کے باوجود اس سردار نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی، اس کی پاداش میں اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون مُسلَّط کر دیا گیا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مُشیر اس وقت وہاں موجود نہ تھا جب وہ آیا تو اس نے بدکاری کا قصہ معلوم ہونے کے بعد مرد و عورت دونوں کو قتل کر دیا۔ تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا ، لیکن اس دوران ستر ہزار اسرائیلی طاعون سے ہلاک ہو چکے تھے۔اس آیت میں اس کا بیان ہے۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۲ / ۱۷۹-۱۸۰)

یا اللہ اسرائیل کو بھی اسی طاعون کی بیماری سے ہلاک اور نیست و نابود فرما آمین یا رب العالمین

------------------------------------------------------------------------------

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۝ وَ صَدَقَ رَسُوُلُهُ النَّبِیُّ الْكَرِیْمُ۝ وَ نَحَنُ عَلٰی ذٰلِكَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَ۝ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاۤ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

اللّٰہ ہم سب کو کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین

15/08/2025

Address

Gulshan-e-Ghazi To Faqir Colony Road, Block A Baldia
Karachi
111222

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fazal Karim Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fazal Karim Writes:

Share