02/08/2026
پبلک سروس میسج
گرمیوں اور برسات کے موسم میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اس موسم میں سانپوں سے متعلق آگاہی نہایت ضروری ہے۔ اس پوسٹ میں ہم سانپ کے کاٹنے سے متعلق عام سوالات اور احتیاطی تدابیر پر بات کریں گے۔ برائے مہربانی اس پیغام کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ضرور شیئر کریں، تاکہ یہ مفید معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً
سانپ کے کاٹنے سے موت کی ایک بڑی وجہ "خوف" ہوتی ہے۔
لہٰذا سب سے پہلا قدم متاثرہ شخص کو تسلی دینا اور ذہنی طور پر پرسکون رکھنا ہے۔
اہم حقائق:
1. تمام سانپ زہریلے نہیں ہوتے۔
2. زہریلے سانپ بھی ہر بار کاٹنے پر زہر نہیں چھوڑتے۔
3. اگر زہر چھوڑا بھی جائے تو ضروری نہیں کہ وہ مکمل طور پر جسم میں داخل ہو۔
ان باتوں کو سانپ سے ڈسے گئے فرد کو ضرور بتائیں تاکہ وہ گھبراہٹ سے بچے اور ذہنی سکون میں رہے۔
پاکستان میں پائے جانے والے زہریلے سانپ:
کوبرا
کریٹ
وائپر
زہریلے اور غیر زہریلے سانپ کے کاٹنے کی پہچان:
زہریلے سانپ: دو واضح دانتوں کے نشان
غیر زہریلے سانپ: آدھے دائرے میں کئی چھوٹے دانتوں کے نشان
زہریلے سانپ کے کاٹنے کی علامات:
کاٹنے کی جگہ پر دو دانتوں کے نشان
متاثرہ جگہ پر سوجن
آنکھیں کھولنے میں مشکل
سانس لینے میں دشواری
جسم پر نیلے دھبے
یہ علامات عام طور پر 30 منٹ سے 1 گھنٹے کے اندر ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
علاج:
زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں، حتیٰ کہ THQ اور DHQ میں بھی سانپ کے زہر کا ٹیکہ (Antivenom) دستیاب ہوتا ہے۔
یہ پولی ویلنٹ ہوتا ہے، یعنی تمام عام زہریلے سانپوں کے زہر کے خلاف مؤثر ہوتا ہے۔
فرسٹ ایڈ (ابتدائی طبی امداد):
1. زخم کے اوپر نرم پٹی باندھیں (اتنی سختی سے نہیں کہ خون بند ہو جائے۔ ایک انگلی گزرنی چاہیے)۔
2. متاثرہ عضو کو حرکت نہ دیں تاکہ زہر جسم میں نہ پھیلے۔
3. زخم کو صاف پانی سے دھوئیں۔
4. زخم پر چیرا نہ لگائیں۔
5. زخم کو نہ چوسیں۔
سانپ کا زہر چوس کر نکالنا ایک فلمی تصور ہے، حقیقت میں ناممکن ہے۔
6. زخم پر برف نہ لگائیں۔
اہم ترین بات:
جتنا جلدی ممکن ہو مریض کو قریبی ہسپتال لے جائیں تاکہ بروقت انجیکشن دیا جا سکے۔
ٹوٹکوں پر قیمتی وقت ضائع نہ کریں، یہ مریض کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اللہ ہمیں ہر قسم کی آزمائش اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
بچوں اور اہلِ خانہ کی صحت سے متعلق معلومات کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیں۔
ڈاکٹر ارشد محمود(MBBS, FCPS)
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورالوجسٹ
چلڈرن ہسپتال، لاہور