Weekly Shariah and Business

Weekly Shariah and Business Sharia and Business Magazine Official Page

02/03/2026

قطرے سے سمندرتک
ایک نوجوان تھا۔ بٹوارے کی آگ میں اس کا سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ صرف تن کے کپڑے اور بیوی بچے رہ گءے۔ کوءی سہارا نہیں تھا، دوسروں سے ملی روٹی کھا کر کچھ دن کاٹے۔ پھر اس نے پھیری لگا کر دال سیویاں بیچنی شروع کر دیں۔ ساتھ ہی رکشا چلاتا تھا۔ ایک چھوٹا سا کمرا کراءے پر لے لیا۔ اس کی بیوی نے گھر میں تندور لگا کر دو پیسے فی روٹی کے حساب سے روٹی پکانے کا کام شروع کر دیا۔ بچوں کے دودھ کا انتظام وہ کر لیتی تھی۔ اس نوجوان نے ڈراءیونگ سیکھنے کے بعد کراءے پر تھری ویلر چلانا شروع کر دیا۔ دو تین مہینے کے بعد بینک سے قرض لے کر اپنی گاڑی خرید لی۔ پھر تھوڑی تھوڑی اینٹیں منگوا کر ہر اتوار کو اپنے ہاتھوں سے لگا کر ایک کمرا تیار کر لیا۔ ٹین ڈال کر برآمدہ بنا لیا۔ خاندان سمیت رہنے لگا۔ پھر بینک میں جمع رقم اور اپنی بچی آمدن ملا کر چار کمرے بنا لےے۔ کراءے پر چڑھا دےے۔ اس طرح اس نہ صرف تین منزلہ مکان تیار کر لیا بلکہ تھری ویلر چھوڑ کر اپنا ٹرک خرید لیا۔ ایک سے دو، دو سے تین ٹرک بنا لیے۔ اب اس کی ٹرانسپورٹ کمپنی ہے اور وہ لکھ پتی ہے۔

facebook:https://www.facebook.com/shariahandbusiness/Email:shariyaandbusiness@gmail.comWebsite:shariahandbiz.comہفت روزہ...
01/03/2026

facebook:
https://www.facebook.com/shariahandbusiness/
Email:
[email protected]
Website:
shariahandbiz.com
ہفت روزہ شریعہ اینڈبزنس
میگزین لگوانے کے لئے رابطہ کریں:
0321-3210355
021-36622597
021-36880385
بیرون ملک لگوانے کے لئے رابطہ کریں:
0321-3210355
0321-2000224
واٹس اپ نمبر:
0321-3210355

01/03/2026

کام کی مصروفیت
دہلی میں ایک مسلم نوجوان تھا۔ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہو سکی۔ تاہم وہ تندرست اور باصلاحیت تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس کو محسوس ہوا کہ ماحول میں اس کے لےے کوءی باعزت کام نہیں ہے۔ آخر کار وہ داداگیری کی راہ پر لگ گیا۔ جھگڑا فساد اور لوٹ مار اس کا پیشہ بن گیا۔ چند سال بعد ایک شخص کو اس سے ہمدردی ہوءی۔ اس نے اپنے پاس سے کچھ رقم بطور قرض دے کر اس کو دکانداری میں لگا دیا۔ جب وہ دکان میں بیٹھا اور اس نے نفع کمایا تو اس کی تمام دلچسپیاں دکان کی طرف ماءل ہو گءیں۔ اس نے دادا گیری چھوڑ دی اور پوری طرح دکان کے کام میں مصروف ہو گیا۔
جن لوگوں کو مال کی نعمت حاصل ہے ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بے کار اور جراءم پیشہ لوگوں کو کچھ مال دے کر کسی معقول کام میں لگا دیں۔ اس طرح وہ اپنے کرنے کا ایک اعلیٰ اور مثبت کام پا لیں گے۔ اس کے بعد ان کے اندر کردار بھی آءے گا اور صبر و برداشت بھی۔ اس کے بعد ان کو وہ نظر حاصل ہو جاءے گی جو تاریکی میں روشنی کا پہلو دیکھ لیتی ہے۔ جو کھونے میں پانے کا راز دریافت کر لیتی ہے۔ کام میں مصروفیت ہر قسم کی اصلاح کی جڑ ہے۔ بے کار آدمی کا دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ آدمی کو مصروف اور بامقصد بنا دیجےے، اس کے بعد ہر چیز خود بخود درست ہو جاءے گی۔
èè

28/02/2026

Most Funny Story || How M***i Tariq Masood got looted مفتی صاحب کو ٹھگ نے کیسے چونا لگایا ؟

28/02/2026

محنت کی عظمت
عالی ہمت شخص محض دوسروں کی محنت پر گزارا نہیں کرتا، نہ کیڑوں کی طرح اوروں کے غلہ سے اپنا پیٹ بھرتا ہے اور نہ شارک مچھلی کی مانند زیر دستوں کا شکار کرتا ہے۔ دوسروں کی محنت کا حق اپنی دریا دلی اور اعلی قسم کی خدمات سے بڑھ کر ادا کرتا ہے۔ دنیا میں بادشاہی سے لے کر ادنیٰ قلی کے کام تک کوءی بھی کام ہو، اسے خاطر خواہ اور پسندیدہ طور پر بجا لانے میں ہاتھ یا دماغ یا دونوں کو مکمل کام میں لانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ محنت انسان کے لےے صرف کافی ہی نہیں، بلکہ عین راحت ہے۔ جب انسان بزنس میں ہاتھ اور دماغ کو کام میں لا کر محنت کرتا ہے تو کامیابی اور ترقی اس کے قدم چومتی ہے۔

27/02/2026

محمد اسلم بھٹہ
ڈاءریکٹر: شعبہ اثاثات، جامعۃ الرشید، کراچی
تاجر شریعہ اینڈ بزنس کو کیسے پھیلاءیں؟
èà تاجر برادری اس میگزین کے مستقل خریدار بنیں۔ لوگوں میں تقسیم کریں اور اس کارِ خیر کو آگے بڑھاءیں، تاکہ لوگوں کو نفع حاصل ہو اور خود کو بھی دو چند فاءدہ ملے
èèè
شریعہ اینڈ بزنس میگزین جو جامعۃ الرشید کی زیر نگرانی شاءع ہو رہا ہے یہ تاجر برادری کی رہنماءی کے لےے بہت مفید اور مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے ہر ہر مضمون میں تجارت، ملازمین، دفاتر کے بارے میں گاءیڈلاءنز موجود ہیں۔ تجارت کے بارے میں شرعی احکام بھی بتاءے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حرام و حلال اشیا کے بارے میں ضروری ہدایات لکھی جا رہی ہیں۔ سارا کا سارا مواد ہی شرعی تجارت کی رہنماءی کے لےے شاءع ہو رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس میگزین کو لکھنے اور شاءع کرنے کا مقصد کوءی دنیوی نفع نہیں ہے۔ اچھے کاموں کی نیت سے جو ثواب حاصل ہوتا ہے اس کے پیچھے اسی کی نیت کار فرما ہے۔ یہ میگزین نان پرافٹ ایبل ہے۔
جامعۃ الرشید کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ تجارت کو اسلامی اور شرعی اصولوں کے مطابق چلانے کے لےے رہنماءی پیش کر رہا ہے۔ نیت کا ثواب تو یقینی طور پر لکھنے والے حضرات کو بھی حاصل ہے، مگر نفع جو دنیوی چیز ہے یہ تو فی الحال عنقاء ہی ہے۔ چونکہ ملک میں لاکھوں مسلمان ہیں جو تجارت کے پیشے سے منسلک ہیں اور جو اندورن ملک اور بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، ان سے یہ اپیل ہے کہ اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں اور اس میگزین کی زیادہ سے زیادہ کاپیاں ان لوگوں تک بھی پہنچاءیں جن کو یہ میگزین نہیں ملتا۔ دین کی اشاعت کی نیت سے کیا جانے والا کام نفع سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ وہ کام ہے جس میں آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام ملتے ہیں۔ اپنے اپنے ایریا میں یا اپنی اپنی مارکیٹ میں اگر اس میگزین کو خرید کر تقسیم کیا جاءے تو یہ معلومات زیادہ لوگوں کو مہیا ہوں گی اور زیادہ لوگ ان معلومات سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
صاف ظاہر ہے کہ جتنے زیادہ لوگوں تک میگزین جاءے گا، اتنے لوگ پڑھیں گے۔ اس سے مستفید ہوں گے، معلومات کے مطابق اپنے کاروبار کو ڈھالیں گے تو یہ فاءدہ دوچند ہو گا۔ میگزین تقسیم کرنے والے کا ثواب اور نفع متعدی ہو گا۔ وہ ایسے کہ ایک تو اس نے اپنے پیسوں سے میگزین خرید کر تقسیم کیا اور اپنے مال سے دوسروں کو نفع پہنچایا، اس پر وہ ثواب کا مستحق ہو گا۔ پھر جتنے لوگوں تک یہ پہنچے گا اُن سب کی طرف سے بھی ثواب ملے گا۔ پھر اس کے بعد بھی جو لوگ اس پر عمل کریں گے اور شریعت کے احکام کو اپناءیں گے اور ان کے عمل کے جو اثرات ہوں گے، ان کا ثواب بھی الگ سے میگزین تقسیم کرنے والے کو میسر ہو گا۔ گویا کءی کءی گنا ثواب اللہ کی طرف سے ان تاجروں کو ملے گا، جو اچھی نیت سے میگزین خرید کر اپنے بھاءیوں میں تقسیم کرنے کا بیڑا اٹھاءیں گے۔ یہ کام وہی کر سکتے ہیں جن کو تجارت کی اشاعت کی فکر ہے یا جن کو اس سے استفادہ کرنے کا طریقہ آتا ہے اور اس بات کی بھی وہ سمجھ رکھتے ہیں کہ یہ نفع بخش معلومات کا ذحیرہ ہے۔
جامعۃ الرشید میں جو لوگ میگزین پر کام کرتے ہیں، وہ عملی طور پر اپنی محنت اللہ کے لےے کرتے ہیں۔ اس میگزین کا نفع ثواب کی شکل میں یقینی طور پر ان کو بھی مل رہا ہوگا۔ یہ وہ خیر کا کام ہے جو تھوڑا خرچ کرنے پر زیادہ نفع پر منتج ہوتا ہے۔ جب لوگ اللہ کے دین کی اشاعت میں لگ جاتے ہیں تو اللہ ان کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔ گویا فاءدہ ہی فاءدہ ہوتا ہے۔ یہ بات پڑھنے سے زیادہ سمجھنے کی ہے۔ اللہ اچھی نیت سے کءے ہوءے کسی کام کو ضاءع نہیں ہونے دیتا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ احسان کرنے والوں کے اجر کو ضاءع نہیں ہونے دیتا۔ گویا یہ گارنٹی اللہ کی طرف سے مل رہی ہے۔ جو لوگ اللہ سے تجارت کرتے ہیں وہ ان باتوں کو خوب جانتے ہیں۔ ایگ جگہ ارشاد ہے، کون ہے جو اللہ کو قرض دے اور اللہ بڑھا چڑھا کر اس کو واپس کرے۔
قرآن تو خیر سے بھرا ہوا ہے۔ کاش ہم قرآن کے احکام پر عمل کرنے والے ہوں۔ دین اسلام زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں وعدہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ گویا اب شک کی کوءی گنجاءش نہیں رہ جاتی۔ اس کا حرف حرف سچا اور اللہ پاک کا کلام ہے۔
اللہ بہت بڑا کارساز ہے۔ اس کو اپنے منصوبے بنانے یا چلانے میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہاں وہ انسان کے فاءدے کو مدِنظر رکھتا ہے اور بعض کام بعض لوگوں کے ذریعے کرا لیتا ہے، تاکہ انسانوں کو فاءدہ ملے۔
شریعہ اینڈ بزنس ہمارے حضرات کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو ہر حال میں نفع پہنچانے کی فکر کرتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ شریعہ اینڈ بزنس بھی ہے، جو دوسرے جراءد کی طرح روز بروز ترقی کر رہا ہے اور ہزاروں لوگوں تک ہفتہ وار پہنچ رہا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے اپنے فضل میں شامل کرے۔ آخر میں ایک بار پھر اپیل کی جاتی ہے کہ تاجر برادری اس میگزین کے مستقل خریدار بنیں۔ لوگوں میں تقسیم کریں اور اس کارِ خیر کو آگے بڑھاءیں، تاکہ لوگوں کو نفع حاصل ہو اور خود کو بھی دو چند فاءدہ ملے۔

26/02/2026

اسلامی معاشیات
مولانا شیخ نعمان
شریعہ ڈپارٹمنٹ، بینک اسلامی
پاکستان میں معیشت کو سود سے پاک کرنے کی کوششیں
ایک مختصر جاءزہ
èà 16 نومبر 1991ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے 22 سودی قوانین کے بارے میں مشہور فیصلہ دیا۔ 23 دسمبر 1999ء کو سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔ 7 اکتوبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کے بارے میں جاری بحث کو خارج کر دیا
èèè
آج 2016ء میں جب اسلامی بینکاری کی بات کی جاتی ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ معیشت کو سود سے پاک ہونا چاہےے، تو فوراً ایک سوال ہمارے ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آج پاکستان کو بنے ہوءے 68 سال ہو گءے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اگر سود اتنی ہی بری چیز ہے تو پھر پاکستان بننے کے فوراً بعد یہ براءی ختم کیوں نہ ہو گءی؟ کءی بار یہ بات بھی کانوں کو سناءی دیتی ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا خواب ایک آزاد ملک تھا جس میں کسی مذہبی اقدار کے بغیر آزادانہ زندگی گزارنا مقصود تھا۔ محمد علی جناح کا خواب کوءی اسلامی اقدار کی بنیاد پر ملک نہ تھا۔ بعد میں آنے والے لوگوں نے پاکستان کے آءین کو یرغمال بنا کر اس میں اسلامی دفعات ڈلوا دی ہیں۔ لہذا پاکستان ایک آزاد ملک ہے، جس کی کوءی مذہبی بنیاد نہیں۔ حکمران اور عوام جس طرح چاہیں اس ملک کو چلاءیں اور اس کا آءین بناءیں۔ لہذا معیشت کو سود سے پاک کرنے کی بات اس کی آزاد خیالی کے خلاف ہے۔ اسی لیے سود راءج ہے اور راءج رہے گا۔ چند لوگوں کے کہنے سے ہم عالمی معاشی نظام سے بغاوت نہیں کر سکتے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بانیان پاکستان ایک لبرل پاکستان چاہتے تھے؟ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کے حکمرانوں کا خواب پاکستان کے بارے میں کیا تھا؟ بالخصوص معیشت کے بارے میںان کا کیا وژن تھا؟ کیا اس وقت سے لے کر آج تک معیشت کو اسلام کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کے لےے کوششیں نہیں ہوءیں؟ اگر ہوءیں تو وہ متاثر کن کیوں نہ ہو سکیں ؟ آءیے! دیکھتے ہیں۔
پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کا تصور
مطالعہ پاکستان کے ایک طالب علم کے لےے خطبہ الٰہ آباد 1930ء اور اس کے بعد قرار دادِ لاہور 1940ء اجنبی چیزیں نہیں ہیں۔ جس میں پاکستان کا خواب دیکھا گیا اور اس کی عملی تعبیر کی طرف سفر شروع کیا گیا۔ جس میں پیش نظر مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک الگ ملک کی تشکیل تھی۔ ان رہنماؤں نے مسلم اکثریت کے لےے ایک الگ ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ کیا ایک مسلمان کے لےے اسلام کے علاوہ کوءی اور طرز زندگی ہو سکتا ہے؟ 1930ء کے بعد 1935, ء 1936, ء 1937 ء میں ڈاکٹر محمد اقبال اور محمد علی جناح جیسے مسلم رہنماؤں کے درمیان ایک مسلم ریاست کے خاکے میں رنگ بھر نے کے لےے ہونے والی خط و کتابت اور تبادلہ خیال بھی اس بات واضح کو کرتا ہے کہ ان حضرات کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اسلام کا معاشی نظام ہی اس ریاست کا مقدر ہو گا۔
لہذا بانی پاکستان اور دیگر تحریک آزادی کے رہنماؤوں کی 1940ء سے 1947ء کے درمیان ہونے والی تقاریر اس بات کو واضح کرتی ہیںکہ ان کے سامنے یہ بات بالکل ظاہر تھی کہ اس ملک کا سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ہو گا۔ اسی مقصد کے لےے ایک کمیٹی بھی بناءی گءی تھی، جس میں ماہرین معیشت، ماہرین قانون اور علما کرام شامل تھے، جنہوں نے پاکستان کی تعلیم، معیشت اور قوانین کے ڈھانچے کی اسلامی اصولوں پر تشکیل کا خاکہ مرتب کرنا تھا۔ دسمبر 1945ء میں ہونے والے الیکشن میں مسلم اکثریتی آبادی سے مسلم لیگ کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی تحریک کار فرما تھی کہ مسلم لیگ مسلمانوںکی نماءندہ جماعت ہے۔ مسلم لیگ کے تحت مسلمان ایک اسلامی ریاست کے لےے جدوجہد میں مصروف ہیں۔
پھر وطن عزیز کے وجود میں آ جانے کے بعد بھی بانی پاکستان محمد علی جناح کی یکم جولاءی 1948ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر ہونے والی تقریر ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ویب ساءٹ پر اسے وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام معیشت اور اشتراکی نظام معیشت کی خرابیوں کو بیان کر کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لےے یہ ہدف متعین کیا کہ اسٹیٹ بینک ملک کے لےے اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نظام معیشت و تجارت تشکیل دے گا۔ اس کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد کی منظوری، 1952ء کے آءین کے مسودے اور پھر 1954ء کے آءین کے مسودے کا جاءزہ لیں تو وہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی، عدالتی اور معاشی نظام میں بنیادی اصول اسلام کے اصولوں کی پاسداری ہی ہے۔
یہی نہیں پھر 1956 ء کے آءین اور اس کے بعد 1962 ء کے نسبتًا آزاد آءین میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو سود سے پاک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد 1973ء کے متفقہ آءین میں بھی یہ بات صاف درج کی گءی ہے کہ جلد از جلد معیشت سے سود کا خاتمہ کیا جاءے گا۔
1977ء سے 1985ء تک پاکستان میں اسلامی بینکاری کے عمل میں تیزی آءی۔
29ستمبر 1977ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایات دی گءیں کہ وہ معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لےے سفارشات پیش کرے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے نومبر 1978ء میں ابتداءی رپورٹ پیش کی۔
فروری 1979ء میں انسداد سود کا ایک تین سالہ منصوبہ تیار کر کے اس وقت کے صدر کو پیش کر دیا گیا۔
اگست 1979ء میں ہاؤس بلڈنگ فاءنانس کارپوریشن کے معاملات کو سود سے پاک کر دیا گیا۔
جولاءی 1979ء کو کاشتکاروں کو سود سے پاک سرماءے کی فراہمی کی جانے لگی۔
1980ء میں مضاربہ آرڈیننس کے تحت نفع و نقصان میں شراکت داری کی بنیاد پر سرمایہ وصول کرنے اور لگانے والی کمپنیز وجود میں آگءیں۔ اس کے ساتھ طویل مدت کی سرمایہ کاری کے لےے اسلام کے اصول کرایہ داری کے مطابق کام کرنے والی لیزنگ کمپنیاں بھی وجود میں آ گءیں۔
1984ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا سرکلر نمبر 13 جو 20 جون 1984ء کو جاری ہوا، اس سرکلر میں یہ بات کہی گءی کہ یکم جولاءی 1985ء سے ملک کے تمام مالی اور بینکاری کے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق کءے جاءیں گے۔ لیکن یہ تبدیلی آج تک نہ ہو سکی۔
عدالتی سطح پر بھی یہ معاملہ موضوع بحث رہا۔ 16 نومبر 1991ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے 22 سودی قوانین کے بارے میں مشہور فیصلہ دیا۔ اس کے بعد 23 دسمبر 1999ء کو سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد بھی سپریم کورٹ کے آرڈر آتے رہے اور 7 اکتوبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کے بارے میں جاری بحث کو خارج کر دیا۔
سود کے خاتمہ میں رکاوٹیں
اب تک کی بحث سے یہ بات واضح ہوجانی چاہےے کہ بانیان پاکستان سے لے کر آءین ساز اسمبلیز، اعلی عدلیہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان تک سب اس بات میںمتفق نظر آتے ہیں کہ مروجہ مالیاتی نظام کی بنیاد سود پر ہے۔ سود اسلام میں ایک حرام چیز ہے، اس سے بچنا چاہےے۔ اس کے لےے ممکنہ تیاریاں بھی کی گءیں۔ جس میں پاکستان بننے سے بھی پہلے اسلام کے اصولوں کے مطابق مالیاتی نظام کے خاکے کی تیاری ہو یا آءین بناتے و قت اسلام کے اصولوں کے مطابق معاشی نظام کی طرف پیش رفت کو آءین کا حصہ بنا نا ہو یا اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے سفارشات کی تیاری ہو۔ تمام تیاری مکمل ہے۔ پھر کون سے اسباب ہیں جو ہمیں سود جیسے گناہ سے بچنے میں رکاوٹ ہیں۔
ان اسباب میں بنیادی بات جو اس موضوع پر مطالعہ سے سمجھ میں آتی ہے وہ تبدیلی نہ چاہنا ہے۔ یہ معاملہ بالخصوص حکومت، بیوروکریسی اور قانون کے نفاذ میں عمل کرنے والے اداروں کی جانب سے ہے۔ ان حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ جو چل رہا ہے اسے چلنے دو، تبدیلی میں تکلیف ہے۔ دیگر ماہرین معیشت کی پرورش ہی روایتی معاشیات یا مالیات پر ہوءی ہے۔ یہ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ سود کے بغیر معیشت ممکن ہی نہیں۔
اس کے لےے جب بھی کوششیں کی گءیں مختلف طریقوں سے اس میں رکاوٹیں ڈالی گءیں۔ اس میں چاہے 1954ء میں دستور کی منظوری کے وقت اسمبلیوں کے توڑنے کے اقدام ہوں یا 1985ء میں نءے انتخابات کی کہانیاں ہوں، 1992ء میں اسلام کا نام لے کر آنے والی حکومت کا انسداد سود کے فیصلے کے خلاف عدالت میں جانا ہو یا وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنا ہو۔ اس قسم کے تمام اقدامات کا مقصد معیشت کو سود سے پاک کرنے میں ہونے والے اقدامات سے باز رکھنا ہی ہے اور اس کی حالیہ کڑی 7 اکتوبر کو آنے والے سپریم کورٹ کے ریمارکس ہیں کہ جس کو سود سے بچنا ہے وہ بچ جاءے اور جو سود لے گا اسے اللہ پوچھے گا۔
میرے قابل قدر قارءین! یاد رکھےے ہم میں سے ہر ایک سے اللہ کی بارگاہ میں سوال ہونا ہے کہ تم نے اپنی طاقت کی حد تک دین پر عمل کیا یا نہیں؟ نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟ یہ سوال بڑا سخت ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی طاقت مختلف ہے، لیکن ہم کم از کم یہ تو کر سکتے ہیںکہ خود سودی معاملات سے بچیں۔ چاہے اس میں کچھ مالی نقصان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ جہاں ہمارا اختیار چلتا ہے وہاں سود سے بچنے کی ترغیب دیں۔ جہاں تک ہو سکے ان لوگوں کے ساتھ تعاون کریں جو اس کار خیر میں لگے ہوءے ہیں۔ یاد رکھیے! چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ میں خود روشن ہو جاؤں اور دوسروں کو روشن کرنے کی فکر کروں۔ ان شااللہ جب یہ روشنی بڑھے گی تو ارباب اقتدار مجبور ہوں گے کہ ایسا نظام قاءم کریں، جس میں سود کی جگہ نہ ہو۔ اللہ پاک ہمیں خود بدلنے کی توفیق عطا فرماءے۔ ہمیں ہماری نسلوں کو تمام گناہوں سے بچاءے۔ مالی معاملات کو شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرماءے۔ آمین۔

25/02/2026

انفو گراف
کمپنی میں تبدیلی کیوں اور کیسے؟
4 اہم معاون جو کمپنی کی زندگی میں نءی روح پھونک دیں
آج کی کاروباری دنیا میں اخلاقیات کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے۔ اگر آپ کاروباری اخلاقیات کو اپنی بزنس کی زندگی میں جگہ دیتے ہیں تو اس سے آپ کا بزنس خوب ترقی کرے گا۔ اپنی کمپنی کی کمزوریاں دور کرنے کے لےے آپ کو طاقت ور اور مؤثر لیڈرشپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوءے لیڈر کی مہارت کو بیان کیا جاتا ہے، آپ اپنے اندر ان سکلز کو پیدا کر لیں تو آپ اپنی کمپنی کو بہتر اور مؤثر انداز میں چلا سکتے ہیں۔
کمپنیوں کی ترجیحات
کمپنیاں ڈویلپمنٹ اور گروتھ کے لےے سرِدست تیار ہیں۔
1 بڑھوتری
2013 ء میں کمپنیوں کی اولین ترجیح بڑھوتری (Growth) تھی۔
53 فیصد کمپنیاں گروتھ کو اہمیت دیتی ہیں۔
2 اخراجات میں کمی
40 فیصد کمپنیاں اخراجات میں کمی (Cost Reduction) کو ترجیح دیتی ہیں۔
3 جدت
34فیصد کمپنیاں جدت (Innovation) کو چاہتی ہیں۔
T اخلاقیات اور کمپلاءنس پروگرام
2013 ء میں کمپنیوں کے ہاں اخلاقیات اور کمپلاءنس پروگرام کی پذیراءی:
66 فیصد روزانہ کے آپریشن اور اہم اقدار میں بہتری کی کاوش
66 فیصد ملازمین کے ساتھ گھل مل کر رہنا اور ان کے خیالات سے استفادہ کرنا
67 فیصد اخلاقی قیادت میں بہتری لانا
قیادت کی مہارتیں (Leadership Skills)
1اخلاقی اقدامات
کامیاب ترین کمپنیاں اخلاقیات سے خوب واقفیت رکھتی ہیں۔
80 فیصد کامیاب کمپنیاں بزنس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لےے کاروباری اخلاقیات سے واقفیت اور ان پر بھر پور عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
صرف 36 فیصد بڑی کمپنیوں کی ثانوی ترجیح بزنس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لےے کاروباری اخلاقیات کا علم رکھنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔
79 فیصد کامیاب کمپنیاں اخلاقیات کی مالک قیادت کو سراہتی اور اس پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں۔
صرف 16 فیصد کمپنیاں اخلاقیات کی حامل لیڈر شپ کی تعریف کرتی اور اس پر خوش ہوتی ہیں۔
T با اخلاق ماحول کے فواءد
جب آپ اپنے بزنس کلچر میں اخلاقیات کو جگہ دیتے ہیں تو تین بڑے فواءد سمیٹتے ہیں:
80 فیصد کمپنیاں لمبی مدت کے لےے عمدہ کارکردگی دکھاتی ہیں
71 فیصد کمپنیاں قوانین کی پابندی کرتی ہیں
67 فیصد ملازمین کمپنی کی اقدار اور اس کے مشن کے مطابق کام کرتے ہیں
2 طاقت کا استعمال
اپنی طاقت اور قوت کو درست اور سمجھ داری کے ساتھ استعمال کریں، اگر آپ کے پاس قیادت کی قوت ہے تو اس کا ناجاءز استعمال ہرگز نہ کریں۔
94 فیصد لیڈرز کہتے ہیں کہ وہ تمام تر اختیارات رکھنے کے باوجود میانہ روی اور اعتدال کا دامن نہیں چھوڑتے۔
10 میں سے 6 لیڈرز کا کہناہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ہر لیول پر بااختیار بناتے ہیں۔
پاور کے تین ذراءع
1 مہارت
2 انفارمیشن
3 تعلقات
10 میں 4 لیڈرز کا کہنا ہے کہ عہدے کی وجہ سے وہ طاقت محسوس کرتے ہیں، تاہم 28 فیصد لیڈرز پریشان ہیں کہ بڑے عہدوں پر براجمان لوگ اپنی کمپنیوں میں اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
3 بحران سے نمٹنا
T جب بھی کوءی تبدیلی آتی ہے تو اپنے ساتھ بحران بھی لاتی ہے۔ اچھے اور سمجھ دار لیڈر ان حالات میں پریشان ہونے کے بجاءے ان کو اچھے انداز میں نمٹاتے ہیں۔
T جب کوءی بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو ملازمین کے اندر چہ میگوءیاں اور ہلچل شروع ہو جاتی ہے اور وہ اپنی جاب کے حوالے سے پریشان ہو رہے ہوتے ہیں، اس صورت حال میں ان کو مطمءن اور خوش رکھنا اہم ہوتا ہے اور یہ کام ایک اچھا لیڈر ہی کر سکتا ہے۔
T کارپوریٹ مینجمنٹ اور اہم روےے
C پُرجوش رکھنا
C توقعات کا تعین + انعامات کی پیشکش
C متوقع چیلنجز بتانا + خطرات سے نمٹنے کی ذہن سازی اور تیاری کرنا
4 تبدیلی کے ماحول کو فروغ دینا
ایک اچھا اور طاقت ور لیڈر وہ ہے، جو تبدیلی کے کلچرکو فروغ دے، لیکن یہ کام بہت مشکل ہوتا ہے۔
تقریباً 70 فیصد اقدامات ناکام ہو جاتے ہیں، جب آپ تبدیلی کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔
اگر آپ اپنی کمپنی میں کوءی نیا قانون یا تبدیلی کرنے لگے ہیں تو اس کے لےے ملازمین کے روےے اور انتظامیہ کے حال کو سامنے رکھتے ہوءے ان کی ذہن سازی بھی کریں۔
مواقع کی فراہمی
ملازمین کو مواقع فراہم کریں کہ وہ کیا سیکھ رہے ہیں؟ اس سے ان کی ذہن سازی ہوتی ہے۔
10 فیصد لیکچر کی بنیاد پر ٹریننگ ہو جو ہر تین ماہ کے بعد ہوتی رہے۔
65 فیصد یہ پروگرام ہونا چاہےے کہ ملازمین سے ان کے کام کرنے کے بعد پوچھا جاءے کہ وہ نءے کام سے کتنے مطمءن ہیں؟
100 فیصد کمپنی میں ایسا نظام تشکیل دیا جاءے کہ اپنے تمام ملازمین سے چند ہفتوں کے بعد ضرور پوچھا جاءے کہ انہوں نے کمپنی کے اندر جاب کرتے ہوءے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟
بحوالہ:
) htt:// Leadership.nec.edu)
èèè

Address

Phase 1, Sector 4
Karachi
74600

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923204000797

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Weekly Shariah and Business posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Weekly Shariah and Business:

Share