ARZI PAK

ARZI PAK NEWS

08/01/2026

دوجرسی آپس میں لڑائی میں ایک دوسرے کو مارہے #کراچی #کےچرسی

عرفان صدیقی مرحوم کا ایک یادگار کالم۔۔۔۔۔۔مجھے آج ایک بار پھر طالبان کا ایک بھولا بسرا کردار یاد آ رہا ہے اور جب کبھی اس...
11/11/2025

عرفان صدیقی مرحوم کا ایک یادگار کالم
۔۔۔۔۔۔
مجھے آج ایک بار پھر طالبان کا ایک بھولا بسرا کردار یاد آ رہا ہے اور جب کبھی اس کی یاد آتی ہے، بے طرح آتی ہے۔ یہ 1995ء کا ذکر ہے۔ طالبان کی نئی نئی نمو ہو رہی تھی۔ لوگ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں۔ اگست کے ایسے ہی حبس زدہ دن تھے جب صحافیوں کا ایک مختصر سا قافلہ مولانا سمیع الحق کے ہمراہ قندھار پہنچا۔ ایک اجڑے پجڑے سے ریسٹ ہاؤس میں ہمارا قیام تھا جس کے لان میں افغان صدر نجیب اللہ کی سیاہ رنگ مرسڈیز، ایک ڈھانچے کی طرح پڑی تھی۔ رات کو طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر نے ہمیں ملنے آنا تھا اور ہم سب کو بڑی شدت سے اس مرد پراسرار کا انتظار تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ طالبان خستہ حال اور بے سروسامان تھے لیکن ہماری راہوں میں بچھے جا رہے تھے۔ ان میں بیساکھی کے ساتھ چلنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ ہم اٹھنے لگتے تو وہ لپک کر جوتے سیدھے کرتا، ہاتھ دھونے لگتے تو وہ پانی کا لوٹا لے کر کھڑا ہو جاتا، لپک کر تولیہ اٹھا لاتا، کھانے کے لئے دسترخوان بچھا تو وہ پلیٹیں لگانے اور کھانا چننے والوں میں سب سے نمایاں تھا۔ کھانے کے بعد ایک بڑے سے ہال میں ہم پرانے عمر رسیدہ صوفوں پر بیٹھے تو میں نے جاننے کی کوشش کی کہ معذور ہونے کے باوجود یہ اس قدر مستعد اور خدمت کے جذبے سے سرشار شخص کون ہے؟ میزبانوں میں سے کسی نے بتایا کہ یہ قندھار کے گورنر ملا رحمانی ہیں۔ ہم سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ایسے ہوتے ہیں گورنر؟ میرے ذہن میں اپنے ہاں کے گورنروں کے چہرے گھوم گئے۔ ان کے شاہانہ جاہ و جلال اور بے پناہ کروفر کے مناظر یاد آنے لگے۔ ایکڑوں میں پھیلے ہوئے ان کے شاندار محلات کا تصّور ابھرا۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ملا رحمانی گورنر ہیں۔
اگلے دن ہمارے میزبان ہمیں گاڑی میں بٹھا کر احمد شاہ ابدالی کا مقبرہ دکھانے لے گئے۔ واپسی پر گاڑی ایک بھرے پُرے بازار سے گزر رہی تھی کہ میں نے فٹ پاتھ کی بھیڑ بھاڑ میں ایک شخص کو بیساکھی ٹیکتے، چلتے دیکھا۔ مجھے لگا جیسے وہ ملا رحمانی ہیں۔ میں نے گاڑی کے افغان ڈرائیور کو متوجہ کیا۔ ” دیکھو تو، یہ شخص تمہارے گورنر سے کتنا ملتا جلتا ہے “۔ ڈرائیور سپاٹ لہجے میں بولا۔ ” جی یہ تو خود گورنر رحمانی ہیں “۔ بجلی کا ایک اور کوندا میرے جسم کے آرپار ہو گیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا ” کیا گورنر صاحب کے پاس گاڑی نہیں؟ “ ” جی ہے “ ڈرائیور بولا ” یہی ہے جس میں آپ بیٹھے ہیں۔ چونکہ آپ مہمان ہیں، اس لئے انہوں نے گاڑی آپ کو دے رکھی ہے، خود پیدل جا رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں “۔ ان کے لئے یقیناً یہ کوئی نئی بات نہیں ہو گی لیکن میں دیر تک بپھری لہروں والے دریائے حیرت میں غرق رہا۔ اس شام میں نے گورنر قندھار کا دفتر بھی دیکھا تو جو میرے گاؤں کے مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کے دفتر سے ملتا جلتا تھا اور اسی رات میں نے ملا رحمانی سے ڈھیر ساری باتیں کی تھیں۔ انہوں نے اپنی تنخواہ اور مراعات کے بارے میں بتایا تھا کہ ” چار چھ مہینے بعد امیر المومنین کچھ وظیفہ دے دیتے ہیں۔ اللہ کا کرم ہے “۔ میرا دوسرا سوال تھا۔ ” آپ کے گھر کے روزمرہ اخراجات کس طرح پورے ہوتے ہیں؟ “ اور اس مرد درویش کا سادہ و معصوم سا جواب آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہا ہے۔ ” میرے دو جوان بیٹے ہیں۔ وہ صبح صبح محنت مزدوری کے لئے نکل جاتے ہیں۔ شام کو اتنی کمائی ہو جاتی ہے کہ دال روٹی کا خرچہ نکل آتا ہے “۔
معلوم نہیں ملا رحمانی آج کہاں ہوں گے؟ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ لیکن یہ بھولا بسرا کردار مجھے بے طرح یاد آ رہا ہے اور اس لئے یاد آ رہا ہے کہ ہمارے حکمران، جو روشن خیال ہیں، جو زمانے کے تقاضے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور جو بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر پختہ ایمان رکھتے ہیں، کس طرح کروڑوں روپے خرچ کر کے رسوائیاں کماتے اور جگ ہنسائیاں مول لیتے ہیں
عرفان صدیقی کے کالم سے اقتباس

عرفان صدیقی مرحوم کا ایک یادگار کالم۔۔۔۔۔۔مجھے آج ایک بار پھر طالبان کا ایک بھولا بسرا کردار یاد آ رہا ہے اور جب کبھی اس...
11/11/2025

عرفان صدیقی مرحوم کا ایک یادگار کالم
۔۔۔۔۔۔
مجھے آج ایک بار پھر طالبان کا ایک بھولا بسرا کردار یاد آ رہا ہے اور جب کبھی اس کی یاد آتی ہے، بے طرح آتی ہے۔ یہ 1995ء کا ذکر ہے۔ طالبان کی نئی نئی نمو ہو رہی تھی۔ لوگ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں۔ اگست کے ایسے ہی حبس زدہ دن تھے جب صحافیوں کا ایک مختصر سا قافلہ مولانا سمیع الحق کے ہمراہ قندھار پہنچا۔ ایک اجڑے پجڑے سے ریسٹ ہاؤس میں ہمارا قیام تھا جس کے لان میں افغان صدر نجیب اللہ کی سیاہ رنگ مرسڈیز، ایک ڈھانچے کی طرح پڑی تھی۔ رات کو طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر نے ہمیں ملنے آنا تھا اور ہم سب کو بڑی شدت سے اس مرد پراسرار کا انتظار تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ طالبان خستہ حال اور بے سروسامان تھے لیکن ہماری راہوں میں بچھے جا رہے تھے۔ ان میں بیساکھی کے ساتھ چلنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ ہم اٹھنے لگتے تو وہ لپک کر جوتے سیدھے کرتا، ہاتھ دھونے لگتے تو وہ پانی کا لوٹا لے کر کھڑا ہو جاتا، لپک کر تولیہ اٹھا لاتا، کھانے کے لئے دسترخوان بچھا تو وہ پلیٹیں لگانے اور کھانا چننے والوں میں سب سے نمایاں تھا۔ کھانے کے بعد ایک بڑے سے ہال میں ہم پرانے عمر رسیدہ صوفوں پر بیٹھے تو میں نے جاننے کی کوشش کی کہ معذور ہونے کے باوجود یہ اس قدر مستعد اور خدمت کے جذبے سے سرشار شخص کون ہے؟ میزبانوں میں سے کسی نے بتایا کہ یہ قندھار کے گورنر ملا رحمانی ہیں۔ ہم سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ایسے ہوتے ہیں گورنر؟ میرے ذہن میں اپنے ہاں کے گورنروں کے چہرے گھوم گئے۔ ان کے شاہانہ جاہ و جلال اور بے پناہ کروفر کے مناظر یاد آنے لگے۔ ایکڑوں میں پھیلے ہوئے ان کے شاندار محلات کا تصّور ابھرا۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ملا رحمانی گورنر ہیں۔
اگلے دن ہمارے میزبان ہمیں گاڑی میں بٹھا کر احمد شاہ ابدالی کا مقبرہ دکھانے لے گئے۔ واپسی پر گاڑی ایک بھرے پُرے بازار سے گزر رہی تھی کہ میں نے فٹ پاتھ کی بھیڑ بھاڑ میں ایک شخص کو بیساکھی ٹیکتے، چلتے دیکھا۔ مجھے لگا جیسے وہ ملا رحمانی ہیں۔ میں نے گاڑی کے افغان ڈرائیور کو متوجہ کیا۔ ” دیکھو تو، یہ شخص تمہارے گورنر سے کتنا ملتا جلتا ہے “۔ ڈرائیور سپاٹ لہجے میں بولا۔ ” جی یہ تو خود گورنر رحمانی ہیں “۔ بجلی کا ایک اور کوندا میرے جسم کے آرپار ہو گیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا ” کیا گورنر صاحب کے پاس گاڑی نہیں؟ “ ” جی ہے “ ڈرائیور بولا ” یہی ہے جس میں آپ بیٹھے ہیں۔ چونکہ آپ مہمان ہیں، اس لئے انہوں نے گاڑی آپ کو دے رکھی ہے، خود پیدل جا رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں “۔ ان کے لئے یقیناً یہ کوئی نئی بات نہیں ہو گی لیکن میں دیر تک بپھری لہروں والے دریائے حیرت میں غرق رہا۔ اس شام میں نے گورنر قندھار کا دفتر بھی دیکھا تو جو میرے گاؤں کے مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کے دفتر سے ملتا جلتا تھا اور اسی رات میں نے ملا رحمانی سے ڈھیر ساری باتیں کی تھیں۔ انہوں نے اپنی تنخواہ اور مراعات کے بارے میں بتایا تھا کہ ” چار چھ مہینے بعد امیر المومنین کچھ وظیفہ دے دیتے ہیں۔ اللہ کا کرم ہے “۔ میرا دوسرا سوال تھا۔ ” آپ کے گھر کے روزمرہ اخراجات کس طرح پورے ہوتے ہیں؟ “ اور اس مرد درویش کا سادہ و معصوم سا جواب آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہا ہے۔ ” میرے دو جوان بیٹے ہیں۔ وہ صبح صبح محنت مزدوری کے لئے نکل جاتے ہیں۔ شام کو اتنی کمائی ہو جاتی ہے کہ دال روٹی کا خرچہ نکل آتا ہے “۔
معلوم نہیں ملا رحمانی آج کہاں ہوں گے؟ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ لیکن یہ بھولا بسرا کردار مجھے بے طرح یاد آ رہا ہے اور اس لئے یاد آ رہا ہے کہ ہمارے حکمران، جو روشن خیال ہیں، جو زمانے کے تقاضے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور جو بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر پختہ ایمان رکھتے ہیں، کس طرح کروڑوں روپے خرچ کر کے رسوائیاں کماتے اور جگ ہنسائیاں مول لیتے ہیں
عرفان صدیقی کے کالم سے اقتباس

30/10/2025

May new peg
Pilez follow me
Thanks 👍

25/10/2025

Shuing mall

03/10/2025

kivard 🔎📿
nabisallahuaievasalam ka shan me khubsurat nazam or aap sallallahuilyvasalam par bhejne ke bahut jyada fasal hai ek duje bhejoge Allah tum par 10 rahmat bhjega bahut allah ham sab ki dufiq ata farmi amin ❤️❤️📿💌

you🎧🕋❤️❣️💖💌📿🥰

thanks for visiting ❤️

18/09/2025

Suryi kusar ka tilavat
@صلى الله عليه وسلم

اگر 6 ستمبر 1965 میں بھارت پاکستان کے علاقوں پہ قبضہ کر لیتا تو کیا آج آپ کا وجود ہوتا 😢 جی نہیں ہوتا 👍🏻 شکریہ 1965 کی ج...
10/09/2025

اگر 6 ستمبر 1965 میں بھارت پاکستان کے علاقوں پہ قبضہ کر لیتا تو کیا آج آپ کا وجود ہوتا 😢 جی نہیں ہوتا 👍🏻
شکریہ 1965 کی جنگ میں لڑنے والے بہادر سپوتوں کا ❤️

10/09/2025

Address

Karachi
Karachi
74200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARZI PAK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share