28/11/2025
لوگ اپنی خطاؤں سے بیدار نہیں ہوتے
دل اشک بہا نے کو تیار نہیں ہوتے
اکتائے ہوئے بندے بندش کے قفس میں ہیں
عملِ فسوں کے تابع خوددار نہیں ہوتے
دھاگوں کے شکنجوں میں کیوں قید ہے اے مومن
مومن کے لیے فتنے شہکار نہیں ہوتے
ہر روز نیا سورج انساں کو سکھا تا ہے
چڑھتے ہوئے گِر کر بھی لاچار نہیں ہوتے
یہ کیسی ترقی ہیں منزل تو یہاں سب کی
مرقد ہے جہاں رستے ہموار نہیں ہوتے
ایمان کی شمع سے روشن جو چمن ہیں وہ
فتنوں کی فضائوں سے بیکار نہیں ہوتے
مت ڈھونڈ کسی شر میں موضوع مَسرت کی
دیرینہ غموں سے دل دوچار نہیں ہوتے
عدنان سلیم