Barkat Ali

Barkat Ali yes

27/06/2026
27/06/2026

Watch, follow, and discover more trending content.

27/06/2026
27/06/2026
26/06/2026
26/06/2026
17/06/2026

عوامی آگاہی
سندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا طریقۂ کار
پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا بروقت اندراج ہر شہری کا قانونی حق، خاندانی ذمہ داری اور بنیادی ضرورت ہے۔ یہ اندراج قانونی شناخت، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اسکول داخلہ، وراثت، پنشن، انشورنس، سرکاری سہولتوں، عدالتی معاملات اور درست سرکاری ریکارڈ کے لیے نہایت اہم ہے۔

تفصیلی معلوماتی کتابچہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے دیکھیں نادرا ویب سائٹ:
https://www.nadra.gov.pk/downloads

سندھ میں یہ اندراج متعلقہ مقامی کونسل/یونین کونسل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مقامی کونسل کا سیکریٹری/نامزد افسر رجسٹرار کے طور پر اندراج کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ اندراج کا ریکارڈ مقامی کونسل اور مربوط کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ کیا جاتا ہے۔

قانونی بنیاد
سندھ میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے اندراج کا نظام درج ذیل قانونی بنیادوں پر قائم ہے:
- سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ، 2013، دفعہ 139 مع شیڈول VIII
- ماڈل ذیلی قوانین برائے اندراج پیدائش، اموات، شادی و طلاق، 2017
- مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961
- سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، 2013
- سندھ ہندو میرج ایکٹ، 2016، ترمیمی ایکٹ 2018
- کرسچن میرج ایکٹ، 1872
- ڈائیورس ایکٹ، 1869
- متعلقہ دیگر قوانین اور ضوابط

1. پیدائش کا اندراج
بچے کی پیدائش کا اندراج اس مقامی کونسل/یونین کونسل میں کروایا جائے جہاں بچہ پیدا ہوا ہو۔
ذمہ دار فرد
پیدائش کے اندراج کی ذمہ داری عموماً درج ذیل پر عائد ہوتی ہے:
- گھر کا سربراہ
- والدین
- قریبی رشتہ دار
- مجاز سرپرست

مدت
پیدائش کے بعد 30 دن کے اندر اندراج کروانا ضروری ہے۔

درخواست فارم
پیدائش کے اندراج کے لیے فارم "A" استعمال ہوگا۔ یہ فارم متعلقہ مقامی کونسل، بنیادی مراکز صحت، ہسپتالوں اور سرکاری اسکولوں سے مفت دستیاب ہو سکتا ہے۔

ضروری دستاویزات
- والدین/سرپرست کا شناختی کارڈ
- مکمل درخواست فارم
- درخواست دہندہ کے دستخط یا انگوٹھا
- گھر میں پیدائش کی صورت میں حلف نامہ
- دو گواہان بمعہ شناختی کارڈ
- ہسپتال میں پیدائش کی صورت میں ہسپتال سرٹیفکیٹ، برتھ سرٹیفکیٹ یا ویکسینیشن کارڈ
- متعلقہ مقامی تصدیق، اگر ضروری ہو

اندراج اور سرٹیفکیٹ
درخواست وصول ہونے کے بعد رجسٹرار پیدائش کا اندراج رجسٹر فارم "A-1” میں کرے گا۔ اس کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ فارم "C" کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔

2. پیدائش کا تاخیر سے اندراج

اگر پیدائش کا اندراج 30 دن کے اندر نہ ہو سکے تو تاخیر کے حساب سے الگ طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔

عمومی اندراج
- مدت: پیدائش کے 30 دن کے اندر
- کارروائی کا وقت: تقریباً 3 دن

ایک ماہ سے دو سال تک تاخیر
اگر پیدائش کو ایک ماہ سے زائد مگر دو سال تک کا عرصہ گزر چکا ہو تو:
- درخواست فارم “A” پر دی جائے گی
- حلف نامہ جمع ہوگا
- دو گواہان بمعہ شناختی کارڈ درکار ہوں گے
- برتھ سرٹیفکیٹ، ویکسینیشن کارڈ یا متعلقہ ثبوت پیش کیا جائے گا
- ثبوت موجود نہ ہونے کی صورت میں علاقے کی تصدیق کی جا سکتی ہے
- تصدیق کے بعد عموماً 7 دن میں فیصلہ کیا جائے گا

دو سال سے زائد تاخیر

اگر پیدائش کو دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہو تو:

- معاملہ متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو بھیجا جائے گا
- مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی
- مجاز افسر کے حکم کے بعد اندراج کیا جائے گا
- اس مرحلے پر حلف نامہ، گواہان، شناختی دستاویزات اور دستیاب ثبوت نہایت اہم ہوں گے
- کارروائی میں تقریباً 30 دن لگ سکتے ہیں

3. لاوارث یا بے سہارا بچوں کا اندراج
ایسے بچے جن کے والدین یا خاندان کا پتا معلوم نہ ہو اور وہ کسی یتیم خانے، فلاحی ادارے یا کسی شخص کی تحویل میں ہوں، ان کا اندراج بھی قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے گا۔

ایسے معاملات میں:
- متعلقہ ادارے/سرپرست کی معلومات درج کی جائیں گی
- دستیاب حالات و کوائف رجسٹر میں شامل کیے جائیں گے
- ریمارکس کے خانے میں متعلقہ تفصیل درج کی جائے گی
- اندراج مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے گا

4. بیرونِ ملک پیدا ہونے والے پاکستانی بچوں کا اندراج

اگر پاکستانی شہری کا بچہ بیرونِ ملک پیدا ہو تو:
- پیدائش کا اندراج متعلقہ پاکستانی سفارت خانے، ہائی کمیشن یا قونصل خانے میں کروایا جائے
- اندراج پیدائش کے 90 دن کے اندر کروانا چاہیے
- 90 دن سے زائد تاخیر کی صورت میں سفارت خانہ/قونصل خانہ ضروری تصدیق کے بعد اندراج کرے گا
- بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے NICOP اور غیر ملکی نژاد افراد کے لیے POC سے متعلقہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے

5. وفات کا اندراج

کسی فرد کی وفات کا اندراج بھی لازمی قانونی عمل ہے۔
ذمہ دار فرد
وفات کے اندراج کی ذمہ داری عموماً درج ذیل پر عائد ہوتی ہے:
- گھر کا سربراہ
- اہلِ خانہ
- قریبی رشتہ دار

مدت
وفات کے بعد 30 دن کے اندر متعلقہ مقامی کونسل میں اندراج کروایا جائے۔

درخواست فارم
وفات کے اندراج کے لیے فارم "B" استعمال ہوگا۔

ضروری دستاویزات
- درخواست گزار کا شناختی کارڈ
- متوفی کی شناختی معلومات
- گھر میں وفات کی صورت میں حلف نامہ
- دو گواہان بمعہ شناختی کارڈ
- ہسپتال میں وفات کی صورت میں ہسپتال کی تصدیق
- متعلقہ ثبوت، جہاں ضروری ہو

اندراج اور سرٹیفکیٹ
رجسٹرار وفات کا اندراج رجسٹر **فارم “B-1”** میں کرے گا۔ اس کے بعد وفات کا سرٹیفکیٹ **فارم “D”** کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔

6. وفات کا تاخیر سے اندراج
اگر وفات کا اندراج 30 دن کے اندر نہ ہو سکے تو:
- 31 دن سے 90 دن تک تاخیر کی صورت میں معاملہ متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو بھیجا جائے گا
- مکمل جانچ پڑتال کے بعد وفات کے اندراج کا حکم جاری ہوگا
- گھر میں وفات کی صورت میں حلف نامہ اور گواہان ضروری ہوں گے
- ہسپتال میں وفات کی صورت میں ہسپتال کی تصدیق پیش کی جائے گی

7. بیرونِ ملک وفات پانے والے پاکستانی شہری کا اندراج
اگر کوئی پاکستانی شہری بیرونِ ملک وفات پا جائے تو:
- وفات کا اندراج متعلقہ پاکستانی سفارت خانے، ہائی کمیشن یا قونصل خانے کے ذریعے کیا جائے گا
- وہاں سے اصل سرٹیفکیٹ حاصل کیا جائے گا
- بعد ازاں متعلقہ مقامی کونسل میں وفات کا اندراج کروایا جا سکتا ہے

8. شادی/نکاح کا اندراج

شادی یا نکاح کا اندراج خاندانی اور قانونی ریکارڈ کے لیے ضروری ہے۔
ذمہ دار فرد
شادی کے اندراج کی ذمہ داری عموماً:
- شادی شدہ مرد
- شادی شدہ عورت
- گھر کا سربراہ
پر عائد ہوتی ہے۔

مدت
شادی/نکاح کا اندراج 30 دن کے اندرمتعلقہ مقامی کونسل میں کروایا جائے۔

درخواست فارم اور ریکارڈ
- درخواست فارم: فارم "H"
- نکاح نامہ درخواست کے ساتھ منسلک کیا جائے گا
- اندراج رجسٹر: فارم "H-1"
- شادی/نکاح سرٹیفکیٹ: فارم "I"

نکاح رجسٹرار کا کردار
- مقامی کونسل مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961 کے تحت نکاح رجسٹرار کو لائسنس جاری کرتی ہے
- نکاح رجسٹرار کا لائسنس فارم G کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے
- نکاح رجسٹرار نکاح کے بعد متعلقہ فارم 7 دن کے اندر سیکریٹری کو ارسال کرے گا

یونین کونسل کی جغرافیائی حدود سے باہر شادی
اگر شادی/نکاح متعلقہ مقامی یونین کونسل کی جغرافیائی حدود سے باہر ہوا ہو تو:
- فارم "H" کے ساتھ درخواست دی جائے گی
- حلف نامہ اور دو گواہان شامل کیے جائیں گے
- سیکریٹری 15 دن میں فیصلہ کرے گا
- انکار کی صورت میں متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو 30 دن کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے

شادی کی کم از کم عمر
سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، 2013 کے تحت سندھ میں شادی کی کم از کم عمر مرد اور عورت دونوں کے لیے 18 سال ہے۔ خلاف ورزی قابلِ سزا ہے۔

9. طلاق کا اندراج
طلاق کا اندراج بھی مقامی کونسل کے ریکارڈ میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ذمہ دار فرد
طلاق کے اندراج کی ذمہ داری درج ذیل افراد پر ہو سکتی ہے:
- متعلقہ مرد
- متعلقہ عورت
- بھائی
- والد
- گھر کا سربراہ

مدت
طلاق کا اندراج 30 دن کے اندرمتعلقہ مقامی کونسل میں کروایا جائے۔

درخواست فارم اور ریکارڈ
- درخواست/حلف نامہ: فارم "L"
- اندراج رجسٹر: فارم "J-1"
- غیر حاضری کا نوٹس: فارم "J-2"
- طلاق سرٹیفکیٹ: **فارم "K"

قانونی عمل
مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961 کے تحت:
- طلاق کا نوٹس متعلقہ یونین کونسل/چیئرمین کو دیا جاتا ہے
- مصالحتی کارروائی کے لیے 90 روزہ مدت ہوتی ہے
- اس مدت کے بعد طلاق مؤثر اور قابلِ اندراج ہوتی ہے

یونین کونسل کی جغرافیائی حدود سے باہر طلاق
اگر طلاق متعلقہ یونین کونسل کی جغرافیائی حدود سے باہر واقع ہوئی ہو تو:

- فارم “L” کے ساتھ درخواست دی جائے گی
- حلف نامہ اور دو گواہان شامل کیے جائیں گے
- سیکریٹری 15 دن میں فیصلہ کرے گا
- اپیل کی صورت میں متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر 30 دن میں فیصلہ کرے گا

10. غیر مسلم شہریوں کی شادی اور طلاق
ہندو شہری
- سندھ ہندو میرج ایکٹ، 2016، ترمیمی ایکٹ 2018 کے تحت شادی کا اندراج کیا جاتا ہے
- شادی کا اندراج 45 دن کے اندر متعلقہ یونین کونسل/بلدیاتی ادارے میں ضروری ہے
- شادی کی کم از کم عمر 18 سال ہے
- 2018 کی ترمیم کے بعد طلاق اور دوبارہ شادی کا حق بھی دستیاب ہے

مسیحی شہری
- مسیحی شادی کا اندراج کرسچن میرج ایکٹ، 1872 کے تحت لائسنس یافتہ پادری/منسٹر کے ذریعے ہوتا ہے
- نکاح/شادی کی تنسیخ یا طلاق ڈائیورس ایکٹ، 1869 کے تحت متعلقہ عدالت کے حکم سے ہوتی ہے

دیگر اقلیتیں
- سندھ ہندو میرج ایکٹ، 2016 کا اطلاق ہندو، بدھ مت، جین اور سکھ شہریوں پر بھی ہوتا ہے
- دیگر معاملات متعلقہ پرسنل لاء کے مطابق نمٹائے جاتے ہیں
- ہر صورت میں متعلقہ اندراج مقامی کونسل کے ریکارڈ اور کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ کیا جاتا ہے

11. نام کی تبدیلی، درستگی اور منسوخی
اگر پیدائش یا وفات کے اندراج میں درستگی، تبدیلی یا منسوخی درکار ہو تو:
- درخواست سیکریٹری/چیئرمین کو دی جائے گی
- تسلی اور جانچ کے بعد 15 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے گا
- بچے کے نام کی تبدیلی کی صورت میں، اگر اندراج کو 3 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہو تو اخبار میں اشتہار شائع کرانا ضروری ہوگا
- فیصلے سے عدم اطمینان کی صورت میں متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر/مقامی حکومت کو 30 دن کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے
- تبدیلی یا درستگی کی مقررہ فیس ضابطے کے مطابق ادا کی جائے گی

12. اندراج کی جانچ اور تصدیق
کوئی بھی پاکستانی شہری مقررہ فیس کے ساتھ تحریری درخواست دے کر پیدائش یا وفات کے اندراج کی جانچ یا تصدیق کروا سکتا ہے۔
- رجسٹرار درخواست کا اندراج فارم "E" میں کرے گا
- درخواست گزار کو رسید جاری کی جائے گی
- تصدیق متعلقہ ریکارڈ کے مطابق کی جائے گی

13. سرٹیفکیٹ، نقل اور رپورٹ

نقل یا سرٹیفکیٹ کا حصول
- اندراج کے ریکارڈ کی نقل یا سرٹیفکیٹ کے لیے مقررہ فیس کے ساتھ درخواست دی جائے گی
- نقل **فارم “E”** کے ذریعے جاری کی جا سکتی ہے

فیس
- پیدائش اور وفات کا بروقت اندراج مفت ہے
- کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ کی مقررہ فیس وصول کی جاتی ہے

ماہانہ رپورٹ
- مقامی کونسل ماہانہ اندراجات اور جاری کردہ اسناد کی رپورٹ فارم "F" میں متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو بھیجتی ہے

14. جرمانے اور سزائیں
غلط رپورٹ، غلط اندراج، جعلی معلومات، ریکارڈ میں ردوبدل یا ذیلی قوانین کی خلاف ورزی قابلِ سزا عمل ہے۔ ایسے معاملے میں متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
چونکہ تمام اندراجات کمپیوٹرائزڈ اور مربوط نظام میں محفوظ ہوتے ہیں، اس لیے جعلی یا غلط معلومات فراہم کرنے پر متعلقہ قوانین، بشمول نادرا آرڈیننس 2000 کی متعلقہ دفعات کے تحت بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

15. اہم فارموں کی فہرست
- فارم A: پیدائش کے اندراج کی درخواست
- فارم A-1: پیدائش کا اندراج رجسٹر
- فارم B: وفات کے اندراج کی درخواست
- فارم B-1: وفات کا اندراج رجسٹر
- فارم C: پیدائش کا سرٹیفکیٹ
- فارم D: وفات کا سرٹیفکیٹ
- فارم E: نقل/جانچ/تصدیق پیدائش و وفات
- فارم F: پیدائش و وفات کی ماہانہ رپورٹ
- فارم G: نکاح رجسٹرار کے لائسنس کا فارم
- فارم H: شادی/نکاح کے اندراج کی درخواست
- فارم H-1: شادی/نکاح کا اندراج رجسٹر
- فارم I: شادی/نکاح کا سرٹیفکیٹ
- فارم J: طلاق کے اندراج کی درخواست
- فارم J-1: طلاق کا اندراج رجسٹر
- فارم J-2: طلاق میں غیر حاضری کا نوٹس
- فارم K: طلاق کا سرٹیفکیٹ
- فارم L: درخواست دہندہ کا حلف نامہ

16. عوام کے لیے اہم ہدایات
- پیدائش اور وفات کا اندراج 30 دن کے اندر کروائیں
- شادی اور طلاق کا اندراج بھی 30 دن کے اندر کروائیں
- ہندو شادی کا اندراج 45 دن کے اندر متعلقہ ادارے میں کروایا جائے
- بروقت اندراج سے فیس، تاخیر، تصدیق اور اضافی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے
- درخواست کے وقت شناختی کارڈ، گواہان، حلف نامہ اور متعلقہ ثبوت ضرور ساتھ لائیں
- اندراج کے بعد کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کریں
- فراہم کردہ معلومات درست، مکمل اور سچ پر مبنی ہونی چاہئیں
- غلط بیانی، جعلی دستاویزات یا غلط اندراج قانونی کارروائی کا باعث بن سکتے ہیں
- پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا درست اندراج خاندانی، قانونی اور سرکاری ریکارڈ کے تحفظ کے لیے ضروری ہے

یاد رکھیں
بروقت اندراج شہریوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اسکول داخلہ، وراثتی حقوق، پنشن، انشورنس، نکاح/طلاق کے قانونی ریکارڈ، بیرونِ ملک دستاویزات اور دیگر سرکاری سہولتوں کے حصول میں آسانی فراہم کرتا ہے۔
اپنے خاندان کے اہم واقعات کا اندراج مقررہ مدت میں متعلقہ مقامی کونسل/یونین کونسل میں ضرور کروائیں، تاکہ آپ کا قانونی ریکارڈ درست، محفوظ اور قابلِ استعمال رہے۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Barkat Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Barkat Ali:

Shortcuts

Share