27/12/2025
تھر کا محکمہ صحت کرپشن کی نگاہ ،، افسران تو چلے گئے مگر پینڈورا باکس کو تالے لگانہ بھول گئے۔۔
100 کے قریب نئی نوکریوں کی گنجائش محکمہ صحت تھر میں ہوتی ہےتو اس پر ڈبل بھرتی پر بہت سارے لوگوں سے نوکری کے عیوض رشوت طلب کی جاتی ہے نوکریاں دینے والے تو چلے گئے ہیں لیکن 89 افراد کو اضافی قرار دیکر انہیں فارغ کیا گردیا گیا، جس کے بعد وہ عدالت میں چلے گئے۔۔2 سے 3 سال تک عدالتی کارروائی چلتی رہی جس کے بعد عدالت نے تمام ملازمین کو بحال کرکے ان کے واجبات پورے دینے کا آرڈر جاری کیا۔۔۔
عدالتی فیصلے کے بعد محکمہ صحت مٹھی کے افسران کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھی کیونکہ ہر اسٹاف کو 30 سے 40 لاکھ روپے کے بقایاجات بن رہے تھے جس کی وصولی ایک کہنہ مشق ڈاکٹر موہن لال کے حوالے کی جاتی ہے جوکہ ہیلتھ ایجوکیشن آفیسر کے طور پر تعینات ہے۔۔اس نے اکاؤنٹس افسر کی غیر موجودگی میں شان جونیجو نامی کلرک کو یہ کام سونپا کہ تمام اسٹاف سے 50 فیصد رقم بطور کمیشن لینے پر رضامند کیا جائے۔۔شان جونیجو ایک بااثر ہے ہر کوئی گھبراتے ہوئے کمیشن دینے کے لیے رضامند ہوجاتا ہے لیکن 89 افراد کے کاغذات و دیگر چیزیں چیک کرنے کے بعد 49 ملازمین کو درست قرار دیکر ان سے ڈیل کی باتیں کی گئیں جس میں 31 ملازمین نے ملنے والے بقایاجات میں سے 50 فیصد رقم واپس کرنے کی حامی بھرلی باقی 18 افراد انکار کرتے ہیں۔۔۔جن افراد نے رقم دینے کے لیے رضامندی ظاہر کی ان سے چیک لیے گئے جو مختلف افراد کے نام پر تھے۔۔شان جونیجو کی شامت یہاں سے شروع ہوتی ہے انہوں نے اپنے خاندان کی کمپنی شایان انٹرپرائیز کے نام پر 12 لاکھ سے لیکر 15 لاکھ کے کئی چیک لیے جبکہ میارام نامی شخص کے نام سے چیک لینے کے ساتھ AM communication ,جے پرکاش کے نام پر بہت سارے چیک اچانک ان کے اکاؤنٹس میں جمع ہوتے ہیں۔۔پہلی بار کرپشن کرنے والے ان تھری بھائیوں کو پتا ہی نہیں لگا کہ ایک اکائونٹ میں جمع ہونے والے لاکھوں روپے کے ایک ایک چیک جو مجموعی طور 2 سے 3 کروڑ تک پہنچ جاتا ہے کل کیسے ثابت کریں گے تمام بحال ہونے والے ملازمین سے ملنے والی رقم کے پیسے ان اکاؤنٹ میں کیوں جمع ہورہے ہیں۔۔۔؟؟ قربان جاؤں ان تھری بھائیوں کے کرپشن کرنے پر کہ یہ بھی سمجھ نہیں سکا کہ ڈیپلو شہر کا بندہ عمرکوٹ اور کنری برانچ میں اپنے چیک سندھ بینک کے اکاؤنٹ میں کیوں جمع کررہے ہیں۔۔۔؟؟!! عمرکوٹ میں رہائش پذیر اور کمیشن کی بندربانٹ کرنے والے ڈاکٹر موہن لال کو یہ ہوش ہی نہیں رہا کہ کرپشن کررہا ہوں لیکن ان کے نشانات اپنے پیچھے کیسے لیکر جارہا ہوں۔۔۔۔!!!
ملازمین کی کمیشن کے جیسے جیسے چیک ذکر کردہ اکاؤنٹس میں جمع ہوتے ہیں باقی رہ جانے والے 18 افراد نے ہائی کمان کو درخواستیں دینا شروع کیں تو انکوائری شروع ہوجاتی ہے لیکن اس میں ان کی چالاکی تو دیکھیں جن افراد نے انکار کیا انہیں بیان دینے کے لیے بلایا ہی نہیں گیا۔۔۔لیکن وہ اچانک پہنچ جاتے ہیں انہوں نے انکوائری کمیٹی کے آگے پھانڈہ پھوڑ دیا جس کے بعد بیانات لیے گئے لیکن انکوائری کرنے والی ٹیم کو 13 توپوں کی سلامی دی جائے کہ بینک سے تمام دستاویزی ثبوت ملنے کے بعد بھی سفارش اور لین دین کرکے تھرکے سب سے بڑے کرپشن اسکینڈلز میں کسی کے خلاف کاروائی کرنے کی تجویز نہیں دی۔۔پتا چلا کہ اینٹی کرپشن والے بھی آئے اور آنہیں بھی خاموش کرایا گیا۔۔ابھی اس معاملے کو ایسے دبایا گیا ہے جیسے کچھ نہیں ہوا،غریب ملازمین سے لی گئی رشوت کی رقم واپس ہوئی نہ ہی کمیشن بٹورنے والے شان جونیجو کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔۔اکاؤنٹ کلرک 17 گریڈ کے اکاؤنٹس افسر کے عہدے پر براجمان ہیں اور ڈاکٹر موہن لال اسی طرح بجٹ کے دیگر ہیڈ میں نگاہیں ڈال کر بیٹھا ہے کہ کس طرح جعلی بل بناکر رقم بٹوریں۔۔۔
تھرپارکر میں کرپشن کے اس انوکھے کیس میں کاروائی نہ ہونے کے دیگر محکموں پر اب برے اثرات شروع ہوگئے ہیں دیگر ملازمین بھی ایسے ہی سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر موہن لال اور شان جونیجو کو کیا ہوا جس
میں بینک کے ثبوت بھی ملے تو ہمیں کیا ہوگا۔۔۔؟؟؟