06/06/2026
کوئٹہ میں تیزاب گرد فارغ
تو میری نہیں تو کسی کی نہیں کہہ کر لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والے کو نوشکی بس اسٹاپ پر گھیر کر ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا تھا جس پر اس نے فائرنگ کردی
لیڈی ڈاکٹر ائر ایمبولینس سے کراچی منتقل
کوئٹہ پولیس کا کہنا ہے کہ سینڈیمن سول ہسپتال میں ہفتے کو لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ہمایوں شاہ پولیس سرچ آپریشن کے دوران ’ہتھیار ڈالنے کے حکم پر فائرنگ کرنے‘ کے بعد مارا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے کہا ہے کہ ’ملزم کو نوشکی بس سٹاپ کے قریب دیکھا گیا۔ جب پولیس نے اسے ہتھیار ڈالنے کو کہا تو اس نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملزم مارا گیا۔‘
کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں ہفتے کی دوپہر کو ایک خاتون ڈاکٹر پر لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا، جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ملزم کی عدم گرفتاری پر ہسپتالوں میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال اور طبی سروسز کے بائیکاٹ کے بیانات دیے تھے۔
وارڈ میں موجود عینی شاہدین کے مطابق ہفتے کی دوپہر ایک نوجوان نے سرجیکل وارڈ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جیسے ہی پی جی ڈاکٹر ماہ نور ناصر باہر آئیں، اس نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔
فوکل پرسن ٹراما سینٹر عین الدین قریشی کے مطابق وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کی ہدایت پر ڈاکٹر کو فوری طور پر آریا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم کے معائنے کے بعد کراچی منتقلی کا فیصلہ ہوا۔ پیپلز ائر ایمبولینس سے ڈاکٹر کو آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا ہے علاج کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی