Robin News

05/05/2026

📢 چارسدہ میں افسوسناک واقعہ | احتجاج جاری | مکمل تفصیل

چارسدہ میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی میت ہسپتال سے ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی منتقل کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب سینکڑوں افراد کی جانب سے احتجاج تاحال جاری ہے جو فاروقِ اعظم چوک میں جمع ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

علاقے میں صورتحال حساس ہے اور لوگ انصاف کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے حالات کو قابو میں رکھنے اور مظاہرین سے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ واقعہ مقامی سطح پر گہرے دکھ اور غم کا باعث بنا ہوا ہے اور عوامی سطح پر فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

🔥 ویڈیو دیکھیں اور مکمل تفصیل جانیں 👇

04/05/2026

🏆✨ پشاور کی شان — ہماری پہچان ✨🏆

ہم صرف سپورٹر نہیں… ہم خود پشاور زلمی ہیں! 💛
ہمیں فخر ہے کہ ہم پشاور سے تعلق رکھتے ہیں، اور آج ہماری ٹیم نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا 🇵🇰

دل کی گہرائیوں سے شکریہ Babar Azam ❤️
آپ نے اپنی محنت، لیڈرشپ اور شاندار پرفارمنس سے PSL ٹرافی جیت کر دکھائی — یہ جیت صرف ٹیم کی نہیں بلکہ پورے پشاور اور پاکستان کی ہے!

تمام پشاور زلمی کے فینز اور سپورٹرز کو دل سے مبارکباد 🎉
یہ خوشی ہم سب کی مشترکہ خوشی ہے، اور یہ جشن پورے پاکستان کا ہے! 🇵🇰💫

💥 زلمی ہے تو یقین ہے 💥












02/05/2026

📢 پاکستان لون اسکیمز 2026 | کرک اور پورے پاکستان کے لوگوں کے لیے سنہری موقع
کرک اور پورے پاکستان کے محنت کش، نوجوان اور کم آمدنی والے افراد کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے ایک بہترین اور سنہری موقع سامنے آیا ہے۔
2026 میں مختلف لون اسکیمز متعارف کروائی گئی ہیں جن کا مقصد عوام کو مالی سہولت فراہم کرنا اور انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے، گھر بنانے اور خود کفیل بنانے میں مدد دینا ہے۔
💰 ان اسکیمز کے ذریعے آپ آسان اقساط، کم یا بغیر سود قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
🔗 اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ:
نیچے دیا گیا لنک اوپن کریں 👇
👉 https://jobversepk.blogspot.com/2026/05/pakistan-loan-schemes-2026.html⁠�
لنک اوپن کرنے کے بعد آپ کو مکمل تفصیل اور اپلائی کرنے کے آپشن مل جائیں گے۔ وہاں سے آپ اپنی مطلوبہ لون اسکیم کے لیے آسانی سے درخواست دے سکتے ہیں۔
👉 اہم اسکیمز:
✔ وزیراعظم یوتھ لون اسکیم
✔ اخوت فاؤنڈیشن (بغیر سود قرض)
✔ احساس مائیکرو لون پروگرام
✔ ہاؤسنگ / اپنا گھر اسکیم
⚠️ اہم ہدایت: صرف اصل اور سرکاری معلومات پر اعتماد کریں، اور کسی بھی ایجنٹ کو پیسے نہ دیں۔
🔥 نتیجہ:
یہ اسکیمز کرک اور پورے پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بہترین موقع ہیں اپنی زندگی بدلنے کا۔ اگر آپ محنت کرنے والے ہیں تو یہ وقت ضائع نہ کریں۔
📌 مزید معلومات کے لیے ہماری ویڈیو دیکھیں اور پیج کو فالو کریں۔

28/04/2026

ضلع کرک ایک مالدار ترین خطہ ہے—گیس، تیل اور قدرتی وسائل سے بھرپور—مگر افسوس کہ یہاں کی عوام آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ اس بار پانی کے شدید بحران کو دیکھتے ہوئے ڈیموں کے نام پر بھاری فنڈز منظور کیے گئے، تاکہ عوام کو پانی مل سکے، کسانوں کو ریلیف مل سکے، جانوروں کو پانی میسر ہو، اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو۔ مگر سوال آج بھی وہی ہے… وہ فنڈ کہاں گئے؟
زمین پر جو ڈیم نظر آ رہے ہیں، وہ ترقی نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان ہیں۔ اگر سو فیصد فنڈ آیا تھا، تو عوام پوچھ رہی ہے کہ کام صرف دس فیصد کیوں نظر آ رہا ہے؟ باقی پیسہ کہاں گیا؟ اگر اتنے بڑے بجٹ آئے تھے تو آج بھی لوگ پانی کے لیے کیوں ترس رہے ہیں؟ آج بھی انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی کیوں پی رہے ہیں؟
کرک ہر سال ملک کو وسائل دیتا ہے، گیس دیتا ہے، تیل دیتا ہے، مگر بدلے میں محرومی لیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ضلع کرک کے نام پر فنڈ آتے ہیں، مگر عوام تک فائدہ نہیں پہنچتا۔ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، اور پھر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
مگر ایک گلہ اپنے لوگوں سے بھی ہے…
آپ ہماری ویڈیوز ٹک ٹاک پر دیکھتے ہیں، فیس بک پر دیکھتے ہیں، سچ سنتے ہیں، مگر ہمارا TikTok اکاؤنٹ فالو نہیں کرتے، Facebook پیج فالو نہیں کرتے، کمنٹ نہیں کرتے، سپورٹ نہیں کرتے۔ یاد رکھیں، اگر آپ اپنی آواز اٹھانے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو کل آپ کی آواز کون اٹھائے گا؟
Robin News بغیر خوف، بغیر ڈر، صرف حق اور سچ کے لیے میدان میں کھڑا ہے۔ ہم آپ کے لیے بول رہے ہیں، اب آپ کا فرض ہے کہ ہمارا TikTok اکاؤنٹ فالو کریں، Facebook پیج فالو کریں، ویڈیو شیئر کریں، کمنٹ کریں تاکہ یہ آواز مزید طاقتور بنے۔
یہ صرف ایک پیج نہیں، یہ ضلع کرک کے عوام کی آواز ہے۔ اگر آپ ساتھ دیں گے تو یہ آواز ایوانوں تک جائے گی۔

26/04/2026

(کرک کے لوگوں کے لیے)
“آج ہم آپ کو کوئی کرپشن نہیں سکھا رہے… نہیں نہیں، ہم تو صرف ‘بزنس’ سکھا رہے ہیں!
ایسا بزنس جس میں عوام کے نام پر کروڑوں کے فنڈ آتے ہیں… اور زمین پر صرف مٹی کا ڈھیر نظر آتا ہے۔
آج ہم نے صرف تین منٹ میں آپ کو ایک ڈیم بنا کر دکھایا…
کاغذوں میں مکمل، فائلوں میں منظور، اور تصویروں میں شاندار!
لیکن حقیقت؟ حقیقت میں صرف پچاس ہزار کا کام… اور باقی پیسہ ‘بزنس’ میں چلا گیا۔
یہ کوئی کہانی نہیں، یہ ایک سسٹم ہے…
جہاں غریب کے نام پر فنڈ آتا ہے، لیکن غریب تک نہیں پہنچتا۔
کرک کے عوام!
یہ ویڈیو کسی کو سکھانے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔
تاکہ آپ پہچان سکیں کہ اصل ترقی کیا ہے اور کاغذی ترقی کیا ہے۔
اگر آپ خاموش رہے تو یہی ‘بزنس’ چلتا رہے گا…
اور اگر آپ جاگ گئے تو یہی نظام بدل بھی سکتا ہے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔”

23/04/2026

عنوان: فالا ڈیم – کروڑوں کا بل، ہزاروں کا کام

دوستو، میں آج پھر بہادر خیل، تحصیل بی ڈی شاہ، ضلع کرک کے فالا ڈیم پر کھڑا ہوں۔

یہ میرا تیسرا وزٹ ہے اور تینوں ڈیموں کی کہانی ایک جیسی ہے۔ سنو:

پہلا ڈیم: بل بنا چالیس لاکھ کا، زمین پر کام ہوا زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ کا۔
دوسرا ڈیم: بل بنا دو کروڑ کا، زمین پر لگے مشکل سے 15 لاکھ روپے۔
تیسرا یعنی یہ فالا ڈیم: بل بنا 50 سے 60 لاکھ کا، اور یہاں کام ہوا صرف 10 سے 12 ہزار کا۔ جی ہاں، صرف ایک ٹریکٹر چلا اور بس۔

یہ ڈیم نہیں ہے۔ یہ تو برسات میں بننے والا وہی نالہ ہے جہاں پانی خود رُک جاتا ہے۔ 12 ہزار کا گڑھا کھود کر 60 لاکھ کا بل؟

**عنایت اللہ شاہد خٹک صاحب**، یہ پیسہ کس کا تھا؟ یہ عوام کی خون پسینے کی کمائی تھی۔ ہمارے گاؤں کا ایک بزرگ، اللہ ان کو جنت دے، اپنی جیب سے جانوروں کے لیے اس سے بہتر تالاب بنا گیا تھا۔ آپ لاکھوں لے کر کیا بنا گئے؟

یہ کرپشن نہیں، کھلی لوٹ مار ہے۔ کرک کے بہادر خیل بانڈہ کے لوگ خود آ کر دیکھ لیں۔ یہاں ڈیم کے نام پر مذاق ہوا ہے۔

میں صرف اتنا کہتا ہوں: جو بھی یہ ویڈیو دیکھ رہا ہے، اس کو آگے شئیر کرے۔ کرک کا ہر بندہ یہ سچ جان لے۔ جب تک ہم چپ رہیں گے، یہ 12 ہزار کا کام اور 60 لاکھ کا بل چلتا رہے گا۔

عنایت اللہ شاہد خٹک صاحب، حساب دو!

#بہادرخیل

18/04/2026

ضلع کرک کے علاقے بہادر خیل میں بنایا گیا یہ ڈیم آج کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
یہ منصوبہ جسے عوامی فلاح کے لیے بنایا گیا تھا، زمینی حقیقت میں ایک تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ دعویٰ تو کروڑوں روپے خرچ ہونے کا کیا گیا، مگر تعمیر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نہ معیار کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی انجینئرنگ اصولوں پر عمل کیا گیا۔
📍 لوکیشن: بہادر خیل، تحصیل بانڈہ داؤد شاہ، ضلع کرک (خیبر پختونخوا)
⚠️ ڈیم میں لیکیج کے آثار
⚠️ کمزور اور غیر معیاری تعمیر
⚠️ حفاظتی اقدامات کی کمی
⚠️ قریبی آبادی اور زمینوں کے لیے ممکنہ خطرہ
یہ صورتحال اگر درست ہے تو یہ صرف ایک ناکام منصوبہ نہیں بلکہ عوامی وسائل کے استعمال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
عوام کا پیسہ عوام کی بہتری اور تحفظ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ ایسے منصوبوں پر جہاں معیار اور ذمہ داری دونوں نظر انداز ہو جائیں۔
یہ ویڈیو ایک اہم سوال اٹھاتی ہے:
کیا اس منصوبے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہوں گی؟
📢 اس ویڈیو کو شیئر کریں تاکہ آواز بلند ہو اور حقیقت سامنے آئے۔

16/04/2026

"یہ ضلع کرک، بانڈہ داؤد شاہ، بہادر خیل کا وہ ڈیم ہے جس کے لیے سرکاری ریکارڈ میں 84 لاکھ روپے منظور ہوئے۔

میں نے خود موقع پر وزٹ کیا۔ یہ ویڈیو ثبوت ہے۔

ماہرین اندازہ لگا لیں: کیا یہ 84 لاکھ کا منصوبہ لگتا ہے؟ زمینی حقیقت بتاتی ہے کہ یہ کام بمشکل 3 سے 4 لاکھ روپے کا ہے۔

سوال سیدھا ہے: باقی 80 لاکھ روپے کہاں ہیں؟
یہ عوام کا پیسہ ہے۔ اس کا حساب کون دے گا؟

ہم متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منصوبے کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے قوم کے سامنے لایا جائے۔

کرپشن نامنظور۔ حساب ہو کر رہے گا۔"

وائرل ہیش ٹیگز:

12/04/2026

کرک: زمینی حقائق پر مبنی خصوصی رپورٹ
یہ رپورٹ کسی دوسرے کے بیان پر نہیں بلکہ براہِ راست مشاہدے اور فیلڈ سروے پر مبنی ہے۔
کرک کے اس مقام پر صاف پانی موجود ہونے کے باوجود آس پاس کے دیہات کے عوام اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ رپورٹنگ کے دوران موقع پر دیکھا گیا کہ لوگ پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق ٹوب ویل منصوبوں کے لیے فنڈز تو جاری کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر ان منصوبوں کا عملی نفاذ مؤثر نظر نہیں آتا۔ جس کے باعث پانی گھروں تک پہنچنے کے بجائے صرف مخصوص مقامات تک محدود رہ جاتا ہے۔
نتیجتاً عام شہری مہنگے ٹینکرز پر انحصار کر رہے ہیں، جو غریب طبقے کے لیے مزید مالی بوجھ کا سبب بن رہا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرک میں پانی کا مسئلہ قلت کا نہیں بلکہ انتظامی اور عملی نفاذ کا ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔



10/04/2026

🚨 ضلع کرک کے لوگو! اگر آپ اپنے بچوں کا مستقبل عزیز رکھتے ہیں تو یہ ویڈیو ہرگز اسکیپ نہ کریں!

آج ہم حقیقت کے بیچ کھڑے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں، یہ وہ سچ ہے جو آپ خود دیکھ رہے ہیں۔ انار بانڈہ اور دیگر علاقوں میں لوگ وہ پانی پینے پر مجبور ہیں جو انسان تو کیا، جانوروں کے لیے بھی مناسب نہیں۔ نالیوں کا گندا پانی… اور یہی ہماری مجبوری بن چکا ہے۔

ایک طرف دعوے اور تقریریں، دوسری طرف کرک کی زمین پر تلخ حقیقت۔ جب بات سامنے آئی تو بحث میں بھی یہی سوال اٹھا کہ آخر کرک کو کیوں پیچھے چھوڑ دیا گیا؟ کیوں آج بھی بنیادی ضرورت—صاف پانی—ایک خواب بنی ہوئی ہے؟

ہم اپنے نمائندوں، خاص طور پر شاہد خٹک سے پوچھتے ہیں:
👉 کیا کرک کے عوام اسی دن کے لیے ووٹ دیتے ہیں؟
👉 کیا صاف پانی بھی اب ایک مہنگی چیز بن چکی ہے؟
👉 کیا غریب آدمی کو گندا پانی پینے پر مجبور چھوڑ دینا انصاف ہے؟

یہ ویڈیو صرف بات نہیں کر رہی—یہ گواہی دے رہی ہے۔ ہم خود اسی جگہ موجود ہیں، ہم نے خود وہی پانی دیکھا… اور چکھا بھی، کیونکہ یہاں صاف پانی ملتا ہی نہیں، اور اگر ملتا ہے تو اتنا مہنگا کہ غریب کی پہنچ سے باہر۔

📢 کرک کے باشعور عوام!
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر آپ نے پھر وہی فیصلہ دہرایا تو یہ صرف ایک ووٹ نہیں ہوگا—یہ اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

ایک لمحہ رک کر سوچیں…
اپنے لیے سوچیں،
اپنے بچوں کے لیے سوچیں،
اپنے کرک کے لیے سوچیں۔

04/04/2026

📢 اگر آپ کا تعلق کرک سے ہے تو یہ ویڈیو آپ ہی کے لیے ہے — اسے ضرور دیکھیں!

آج اسمبلی میں ایک بہن نے جو آواز اٹھائی، وہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ کرک کے ہر شہری کی ترجمانی ہے۔

کرک میں مسئلہ صرف پانی کا نہیں ہے…
یہ پانی، گیس اور بجلی—تینوں کا بحران ہے۔

ہماری زمین سے گیس نکلتی ہے،
لیکن ہمارے گھروں تک نہیں پہنچتی۔
آخر کیوں؟

ہمارا حق ہمیں کیوں نہیں ملتا؟

جو فنڈز غریب عوام کے لیے آتے ہیں،
وہ راستے میں ہی کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟
کیوں ہر بار حق دار محروم رہ جاتا ہے؟

یہ سوال صرف ایک شخص کا نہیں،
یہ پورے کرک کی آواز ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں—
اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔

✊ کرک کے عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے—پانی، گیس، اور بجلی ہر شہری کا بنیادی حق ہے!


- “کرک کا حق دو”
- “پانی گیس بحران”
- “حق کیوں نہیں؟”
- “کرک کی آواز”
- “فنڈز کہاں گئے؟”

Address

Karak

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923149247432

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Robin News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share