06/07/2026
کرک شہر کے مشہور چوراہوں/چوکوں کے نام:
کرک، صرف ایک شہر کا نام نہیں بلکہ یہ غیرت، بہادری، علم، تہذیب اور عظیم روایات کے امین قبیلۂ خٹک کی سرزمین ہے۔ اس دھرتی نے تاریخ کو ایسے عظیم سپوت دیے ہیں جن کی خدمات آج بھی قابلِ فخر ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے شہر کی نمایاں جگہوں کی شناخت بھی ہماری تاریخ، ثقافت اور قومی تشخص کی آئینہ دار ہو۔
آج کرک شہر کے دو بڑے اور مشہور چوک "جیل چوک" اور "تنگوڑی چوک" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ نام عوام میں معروف ہیں، لیکن ایک تاریخی اور باوقار شہر کے مرکزی چوراہوں کے لیے یہ نام زیادہ مؤثر اور پرکشش محسوس نہیں ہوتے۔ خاص طور پر "جیل چوک" کا نام شہر کی مثبت شناخت کی بجائے ایک سرکاری عمارت سے منسوب ہونے کا تاثر دیتا ہے۔
میری تجویز ہے کہ ان دونوں چوکوں کے نام تبدیل کرکے انہیں قبیلۂ خٹک کی کسی عظیم شخصیت، قومی ہیرو، شہید، نامور سرکاری افسر، مجاہد یا علمی و ادبی شخصیت کے نام سے منسوب کیا جائے۔ اس طرح نہ صرف ان عظیم شخصیات کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی بلکہ نئی نسل بھی اپنی تاریخ اور اپنے اکابرین سے روشناس ہوگی۔
خصوصاً جیل چوک، جو شہر کا ایک اہم داخلی اور مرکزی مقام ہے، اسے "خوشحال خان خٹک چوک" کا نام دیا جائے۔ وہاں ایک خوبصورت اور دیدہ زیب یادگاری سائن بورڈ نصب کیا جائے، جس پر خوشحال خان خٹک بابا کی تصویر کے ساتھ نمایاں الفاظ میں "Welcome to the Land of Khattaks" درج ہوں۔ یہ شہر میں آنے والے ہر مسافر کو فوراً یہ احساس دلائے گا کہ وہ ایک ایسی سرزمین میں داخل ہو رہا ہے جس کی تاریخ بہادری، خودداری، علم اور ثقافت سے روشن ہے۔
اس اقدام سے کرک کی ایک منفرد شناخت قائم ہوگی اور دوسرے اضلاع و صوبوں سے آنے والے افراد پر قبیلۂ خٹک کی عظمت اور تاریخی مقام کا مثبت تاثر قائم ہوگا۔
امید ہے کہ ضلعی انتظامیہ، منتخب عوامی نمائندے، بلدیاتی ادارے اور اہلِ کرک اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ، اپنے ہیروز اور اپنی تہذیبی شناخت سے مضبوطی کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
محمد ہاشم خٹک ایڈوکیٹ ہائی کورٹ 🚩