02/01/2026
پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) ایکٹ 2022 کی دفعہ 4 کی ذیلی دفعہ (4) کے تحت پالیسی بورڈ کا اجلاس ہر سہ ماہی منعقد کرنا قانونی طور پر لازم ہے، تاہم بطور چیئرمین پالیسی بورڈ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے تاحال کوئی اجلاس طلب نہیں کیا جا سکا، جس سے اتھارٹی کا گورننس نظام عملاً غیر فعال ہو چکا ہے۔کے پی آر اے صوبے کی اپنی آمدنی کا 70 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرنے والا ادارہ ہے، مگر اس کے باوجود قانون کے تحت قائم پالیسی بورڈ کا طویل عرصے سے غیر فعال رہنا صوبائی حکومت کی مالی ترجیحات اور انتظامی سنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پالیسی بورڈ کے بغیر ٹیکس پالیسی، اصلاحات، اہداف اور نگرانی کا نظام محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق پالیسی بورڈ کا آخری اجلاس 20 مارچ 2025 کو سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے طلب کیا گیا تھا، جس کے بعد اب تک قانونی تقاضوں کے برخلاف کوئی سہ ماہی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ اس طویل تعطل سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی داخلی آمدن کو مضبوط بنانے کے بجائے وفاقی محاصل اور این ایف سی ایوارڈ پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 4(4) کی مسلسل خلاف ورزی نہ صرف گورننس کی ناکامی ہے بلکہ یہ صوبے کے مالی نظم و ضبط اور شفافیت کے دعوؤں کو بھی مشکوک بناتی ہے۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو کے پی آر اے جیسے ریونیو ادارے محض وصولی مشین بن کر رہ جائیں گے، جبکہ پالیسی سازی اور احتساب کا آئینی و قانونی ڈھانچہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔