News Watch TV

News Watch TV Only News and Entertainment
(225)

02/01/2026

کرک : مہنگائی نے دیہاڑی دار مزدوروں اور غریب عوام کی زندگی مشکل کر دی، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھ گئی ، شہریوں نے حکومت سے پر زور اپیل کی ہے کہ فوری اقدامات کے ذریعے مہنگائی پر قابو پایا جائے اور ضرورت مند طبقے کے لیے ریلیف فراہم کیا جائے۔

02/01/2026

مروہ انٹرنیشنل بیکرز اینڈ سویٹ ہاؤس تخت نصرتی کی شاندار کامیابی کا سفر تسلسل کے ساتھ جاری ، لواغر اڈہ میں دوسرے برانچ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا مزید تفصیل قیصر بخاری کی رپورٹ میں

پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) ایکٹ 2022 کی دفعہ 4 کی ذیلی دفعہ (4) کے تحت پالیسی بورڈ کا اجلاس ہر...
02/01/2026

پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) ایکٹ 2022 کی دفعہ 4 کی ذیلی دفعہ (4) کے تحت پالیسی بورڈ کا اجلاس ہر سہ ماہی منعقد کرنا قانونی طور پر لازم ہے، تاہم بطور چیئرمین پالیسی بورڈ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے تاحال کوئی اجلاس طلب نہیں کیا جا سکا، جس سے اتھارٹی کا گورننس نظام عملاً غیر فعال ہو چکا ہے۔کے پی آر اے صوبے کی اپنی آمدنی کا 70 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرنے والا ادارہ ہے، مگر اس کے باوجود قانون کے تحت قائم پالیسی بورڈ کا طویل عرصے سے غیر فعال رہنا صوبائی حکومت کی مالی ترجیحات اور انتظامی سنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پالیسی بورڈ کے بغیر ٹیکس پالیسی، اصلاحات، اہداف اور نگرانی کا نظام محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق پالیسی بورڈ کا آخری اجلاس 20 مارچ 2025 کو سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے طلب کیا گیا تھا، جس کے بعد اب تک قانونی تقاضوں کے برخلاف کوئی سہ ماہی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ اس طویل تعطل سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی داخلی آمدن کو مضبوط بنانے کے بجائے وفاقی محاصل اور این ایف سی ایوارڈ پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 4(4) کی مسلسل خلاف ورزی نہ صرف گورننس کی ناکامی ہے بلکہ یہ صوبے کے مالی نظم و ضبط اور شفافیت کے دعوؤں کو بھی مشکوک بناتی ہے۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو کے پی آر اے جیسے ریونیو ادارے محض وصولی مشین بن کر رہ جائیں گے، جبکہ پالیسی سازی اور احتساب کا آئینی و قانونی ڈھانچہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔

کرک (شعبہ تعلقات عامہ)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک سعود خان نے بہترین کارکردگی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر تھانہ یعقو...
02/01/2026

کرک (شعبہ تعلقات عامہ)
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک سعود خان نے بہترین کارکردگی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر تھانہ یعقوب خان شہید کے ایس ایچ او عادل خان کو ایس ایچ او آف دی منتھ کے اعزاز سے نوازا۔ ڈی پی او کرک نے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی محکمہ کی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ مؤثر اور عوام دوست پولیسنگ کو فروغ دیا جا سکے۔

دہشت گردی کے فرنٹ لائن صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے کمزور سی ٹی ڈی صوبائی حکومت کی نااہلی عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن ...
02/01/2026

دہشت گردی کے فرنٹ لائن صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے کمزور سی ٹی ڈی
صوبائی حکومت کی نااہلی عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی

سوات سیرینا ہوٹل پر قبضے کا منصوبہ  چالیس سالہ پرانا  سوات سرینا ہوٹل بند کر دیا گیا
02/01/2026

سوات سیرینا ہوٹل پر قبضے کا منصوبہ
چالیس سالہ پرانا سوات سرینا ہوٹل بند کر دیا گیا

کرک(نمائندہ حصوصی)طلحہ فاؤنڈیشن سے وابستہ انجینئر واصف حسین کی بازیابی بظاہر ایک خوش آئند خبر ہے، تاہم اس کے پس منظر میں...
01/01/2026

کرک(نمائندہ حصوصی)طلحہ فاؤنڈیشن سے وابستہ انجینئر واصف حسین کی بازیابی بظاہر ایک خوش آئند خبر ہے، تاہم اس کے پس منظر میں جنم لینے والے سوالات، ابہامات اور تضادات نے اس معاملے کو ایک سادہ واقعہ کے بجائے ایک پیچیدہ اور غور طلب معاملہ بنا دیا ہے، جس پر سنجیدہ صحافتی اور عوامی بحث ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ایک طرف مغوی کی خیریت کے ساتھ واپسی پر اہلِ خانہ، دوست احباب اور علاقہ مکینوں نے سکھ کا سانس لیا، تو دوسری جانب اس پوری کارروائی کے طریقہ کار، دعوؤں اور کریڈٹ لینے کی دوڑ نے ریاستی اداروں، منتخب نمائندوں اور سماجی تنظیموں کے کردار پر کئی بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں؛ اطلاعات کے مطابق خٹک اتحاد کے صدر الحاج مدثر ایوب اور جنرل سیکرٹری نور محمد نے انجینئر واصف حسین کی بازیابی کو اپنا پانچواں کامیاب کیس قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی خٹک اتحاد نے ہی مغوی کو بازیاب کروایا، حالانکہ اس دعوے کے برعکس چند دن قبل طلحہ فاؤنڈیشن کے لیے باقاعدہ طور پر 14 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، اس کمیٹی کا مقصد نہ صرف مغوی کی بازیابی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا تھا بلکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اعلیٰ حکام سے رابطہ کاری کو بھی منظم انداز میں آگے بڑھانا تھا، تاہم حالات اس وقت یکسر تبدیل ہو گئے جب تحصیل پریس کلب تخت نصرتی بمقام آمبیری کلاں میں مشران، عمائدین علاقہ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ 14 رکنی کمیٹی کو مختصر کر کے سات رکنی کر دیا جائے تاکہ فیصلہ سازی میں تیزی آئے اور ذمہ داریوں کا تعین واضح ہو سکے، اس اجلاس میں متفقہ طور پر یہ بھی طے پایا کہ کمشنر کوہاٹ سے ملاقات کر کے مغوی کی بازیابی کے لیے ایک مربوط اور سرکاری سطح پر مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی، لیکن اسی دوران ایک اور متوازی پیش رفت سامنے آئی جب سابق وزیرِ زراعت اور ممبر صوبائی اسمبلی محمد سجاد بارکوال نے براہِ راست انسپکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات طے کر لی، جس سے کمیٹی کے اندر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی یہ تاثر ابھرا کہ معاملات ایک منظم اجتماعی فورم کے بجائے انفرادی کوششوں کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں، صورتحال اس وقت مزید الجھ گئی جب متعین سات رکنی کمیٹی کے پانچ ارکان پشاور میں انسپکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور ملاقات کے منتظر تھے کہ اسی دوران دو ارکان، جو خٹک اتحاد کے صدر اور جنرل سیکرٹری تھے، کی جانب سے اچانک اطلاع دی گئی کہ انجینئر واصف حسین کو بازیاب کر لیا گیا ہے، اس اعلان نے نہ صرف پشاور میں موجود پانچ رکنی کمیٹی کو حیران و پریشان کر دیا بلکہ یہ سوال بھی شدت سے اٹھا کہ آخر متفقہ طور پر قائم کی گئی سات رکنی کمیٹی کو کیوں بائی پاس کیا گیا، دو ارکان الگ ہو کر کس اختیار اور کس بنیاد پر مغوی کی بازیابی کے لیے گئے، اور اگر واقعی یہ ایک اجتماعی کامیابی تھی تو باقی اراکین کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؛ مزید یہ کہ خٹک اتحاد کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ سامنے آنا کہ وہی ہر بار مغویوں کو بازیاب کرواتا ہے، خود ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پولیس، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ انہیں ہر معاملے میں کسی غیر سرکاری اتحاد یا تنظیم کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے، یا پھر یہ محض کریڈٹ لینے کی سیاست ہے جس کے ذریعے عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ اس کیس میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بات بھی زیرِ گردش ہے کہ اغواء کاروں کو مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے کے تعاون کا وعدہ یا دباؤ ڈال کر مغوی کو فری میں چھوڑنے پر آمادہ کیا گیا، اگر ایسا ہے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ پانچ کروڑ روپے کہاں سے آئے، کس نے دینے کا وعدہ کیا، اور اگر واقعی کوئی رقم ادا نہیں کی گئی تو پھر اغواء کار کس بنیاد پر اتنے بڑے مغوی کو بغیر کسی شرط کے چھوڑ کر چلے گئے، کیا یہ محض دباؤ کا نتیجہ تھا، کسی خفیہ ڈیل کا حصہ تھا یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائی کا نتیجہ، جسے سامنے لانے کے بجائے پسِ پردہ رکھا گیا؛ اسی طرح ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا اغواء کاروں کو گرفتار کیا گیا یا وہ قانون کی گرفت سے آزاد رہے، کیونکہ اگر مغوی بازیاب ہو گیا لیکن اغواء کار دندناتے پھر رہے ہیں تو یہ قانون کی عملداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، مزید برآں یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ خٹک اتحاد کے ساتھ پولیس کی بھاری نفری کس حیثیت میں اور کس حکم پر گئی، آیا یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ کے کسی باقاعدہ ٹاسک کا حصہ تھا یا پھر غیر رسمی طور پر کیا گیا اقدام تھا، اور اگر واقعی ضلعی انتظامیہ اس سارے عمل میں شریک تھی تو پھر پشاور میں آئی جی پی سے ملاقات کے منتظر کمیٹی اراکین کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، کیوں انہیں آخری لمحے پر محض ایک اطلاع دے کر فارغ کر دیا گیا، اس تمام صورتحال نے عوام میں یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ نہ صرف کمیٹی سازی ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئی بلکہ فیصلے بند کمروں میں محدود افراد کے ذریعے کیے گئے، جس سے شفافیت، اجتماعی مشاورت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو شدید نقصان پہنچا، لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام متعلقہ فریقین بشمول ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، خٹک اتحاد، کمیٹی کے اراکین اور سیاسی نمائندے کھل کر حقائق عوام کے سامنے رکھیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ انجینئر واصف حسین کی بازیابی دراصل کس کی کوششوں کا نتیجہ تھی، کیا واقعی ادارے کمزور ہو چکے ہیں یا پھر انہیں دانستہ طور پر پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مستقبل میں ایسے حساس معاملات کو ذاتی تشہیر اور کریڈٹ کی سیاست سے نکال کر ایک منظم، شفاف اور ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت کیسے نمٹایا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر آج ان سوالات کا جواب نہ دیا گیا تو کل کسی اور مغوی کے معاملے میں یہی ابہام، یہی تضاد اور یہی انتشار دوبارہ جنم لے گا، جو نہ صرف عوام کے اعتماد کو مجروح کرے گا بلکہ ریاستی رٹ کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغانستان کی سرزمین پر بھارت کی ایک اور گیم ، افغانستان کو فارورڈ بیس کے طور پر استعمال کرنے کے واض...
01/01/2026

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغانستان کی سرزمین پر بھارت کی ایک اور گیم ، افغانستان کو فارورڈ بیس کے طور پر استعمال کرنے کے واضح شواہد سامنے آ گئے ، صوبہ وردک میں اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرون گر گیا،یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اللّٰہ کی مہربانی ہے کہ بھارت کی سازشیں ہر بار بے نقاب ہو جاتی ہیں،تفصیلات کے مطابق 1 جنوری 2026 کو افغانستان کے صوبہ میدان وردک کے دارالحکومت میدان شہر کے مضافات میں ایک بھارتی ڈرون گر گیا جس نے خطے میں جاری بھارت کے ایک خفیہ اور خطرناک کھیل کو عیاں کر دیا۔اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت افغان فضائی حدود کو استعمال کرتے ہوئے خفیہ نگرانی اور انٹیلی جنس آپریشنز کررہا ہے جن کا مقصد نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیا اور چین جیسے ممالک کی جاسوسی بھی ہے۔ افغانستان کو اس حکمتِ عملی میں ایک عارضی اور قابلِ استعمال فارورڈ بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں مشکوک ڈرون سرگرمیوں اور سیکیورٹی واقعات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور یہ واقعہ ان خدشات کی عملی تصدیق ہے۔ یہ کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی خفیہ حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے ذریعے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔یہ وہ حساس جغرافیائی خطہ ہے جہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ اس تناظر میں ایک اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آتا ہے: اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو غیر ملکی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور کاروائیوں کے لیے کرائے پر دے دے تو وہ محض تماشائی نہیں رہتی بلکہ خود اس کھیل کی شریک بن جاتی ہے۔کرائے پر دی گئی خودمختاری درحقیقت خودمختاری سے دستبرداری ہوتی ہے اور اس کے نتائج ناگزیر ہوتے ہیں۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ بھارت ماضی میں بھی *فالس فلیگ آپریشنز اور پراکسی حربوں کے ذریعے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرتا رہا ہے۔افغانستان میں بھارتی ڈرون کا یہ واقعہ اسی خفیہ کھیل کی ایک اور واضح مثال ہے، اور اب یہ حقیقت زیادہ دیر تک پردے میں نہیں رہ سکتی۔

01/01/2026

کرک: اہلیان لکڑکی بانڈہ کا پارہ چڑھ گیا ، بنیادی سہولیات پانی اور گیس کے عدم فراہمی کے خلاف سراپا اختجاج ، آمدہ پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان جبکہ سرکاری دفاتر کو تالے لگانے کی دھمکی

01/01/2026

صوابی کا زوال، تبدیلی سرکار، اسد قیصر کا حلقہ، پل کی حالت زار،عوام شدید مشکلات کا شکار۔۔۔

01/01/2026

ڈسٹرکٹ آفس پاکستان پینشنیئرز واپڈا ایسوسی ایشن ضلع کرک کا شاندار افتتاحی تقریب کا انعقاد ، سابق ایم این اے مفتی اجمل خان و سابق صوبائی وزیر ملک ظفر اعظم نے ضلعی صدر ریٹائرڈ ایس ڈی او واپڈا نصر اللہ خان خٹک کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر ڈسٹرکٹ آفس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

Address

Karak
27200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Watch TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to News Watch TV:

Share