Rashid Bhullar

Rashid Bhullar Forming, Agri ,Dairy, Cattle & Protein

30/10/2024

کسان کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا۔!!

کسان مافیا نہیں ہے لیکن اب آپ کو مافیا بن کر دکھائے گا۔! اگر پاکستان میں گندم اگانے والی کوئی فیکٹری ہے تو آگاہ لیں،اگر آپ کے پاس اتنے ڈالر ہیں تو لے آئیں گندم باہر سے!!شکریہ✨

13/10/2024

حضور اگر اللہ نے ذرا سی بھی ہمیں عقل دی ہو تو سوچیں کہ یہ بازاری بیج ہیں زمینداروں سے ہی خرید کر ان کو بیچا جا رہا ہے۔ آپ کم کاشت کریں اور گھر کی صاف گندم استعمال کریں

Aslamoalikum to all....
19/08/2024

Aslamoalikum to all....

01/07/2024

پینٹ کوٹ پہن کر مدارس کو ہر ناکامی کا ذمہ دار قرار دینے اور خود کو ارسطو کا اوتار سمجھ لینےکاتعلق اگرعقل وخرد سےہوتا۔۔تو ساحل عدیم اِس عہد کا سر سید احمد خان ہوتا۔۔ ایک دوست نے کلپ بھیجا اور سُننےپراصرارکیا۔۔ سچ پوچھیں تومجھے یہ بندہ مخبوط الحواس لگتا ہے۔۔لاہور کےبھاٹی دروازے کےآس پاس، راوالپنڈی صدر اور ملتان حرم گیٹ کے قریب، بڑےبڑے بالوں والی، بے ربط وضع قطع کی حامل ایسی عظیم مخلوق کثرت سےپائی جاتی ہے۔۔ کسی کو چھیڑ کر دیکھ لیں آپ کوسیاست،مذہب، معیشت اور سماج پر ایسا لیکچر دیں گے کہ آپ حیران و ششدر رہ جائیں گے ۔۔ آپ کو لگنے لگے گا کہ یہ بندہ آخری ہے، اس کے بعدقیامت ہے۔۔درحقیقت وہ بیچارہ خود کوئی قیامت گزار کر اس حالت کوپہنچا ہوتا ہے۔۔اسےکسی اچھے معالج اورمناسب علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ اگوں جیویں تہاڈی مرضی۔۔ (نشر مکرر)

03/02/2023

" اے آئ " کیا ہے؟

انٹرنیٹ کی دنیا میں "اے آئی " آرٹیفشل آنٹیلیجنس یعنی کہ مصنوعی ذہانت حیرت انگیز طور پر انقلاب برپا کر رہی ہے۔ حال ہی میں جہاں بہت ساری دیگر ویب سائٹس اور سافٹ ویر انٹر نیٹ مارکیٹ میں لانچ ہوئے ہیں وہاں "چیٹ جی پی ٹی" کو ایک الگ انفرادیت حاصل ہے۔ بنیادی طور پر مائیکرو سافٹ اور گوگل بھی آرٹیفشل آنٹیلیجنس پر ہی منحصر ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدت آتی جا رہی ہے، 2010 میں ایم ایس آفس میں ٹیکسٹ ٹو سپیچ کے اضافے نے بہت شہرت حاصل کی،اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ صارفین بھی مستفید ہو رہے ہیں۔حال ہی میں سپیچ ٹو ٹیکسٹ حیرت انگیز طور پر نیا اضافہ ہے جس کے بعد انٹرنیٹ صارفین بے حد پرجوش دکھائ دیتے ہیں۔
"فیس بک" مجموعی طور پر مصنوعی ذہانت پر منحصر ہے، اس کا بہترین مظاہرہ آپ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انسان نما مشین سازی یعنی روبوٹ سازی کے شعبہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں جنگی مقاصد سے لے کر گھر گھرستی، میزبانی، تفریح اور حفاظتی اقدامات/ انتظامات جیسے شعبے شامل ہیں۔
حتکہ ذرائع نقل و حمل میں بغیر ڈرائیور/ پائلٹ کے اڑنے والی کاروں/ ٹیکسیوں کی صورت میں بھی مصنوعی ذہانت اثر انداز ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہم "گلوبل ویلیج " کے فلسفے پر یقین رکھتے ہوئے مطمئن ہیں کے آج کے دور میں ہم صحیح معنوں میں گلوبل ویلیج کے شہری ہیں تو یقین رکھیں کے 2030 دور نہیں جب ہمارا/ دنیا کا انحصار کافی حد تک آرٹیفشل آنٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت پر ہو گا۔
Rashid Bhullar راشد بھلر

24/01/2023

# بچوں کا مستقبل اور تعلیمی شعبہ جات کا چناو #
(حصہ دوم )
اگر شعبہ سائنس کو دیکھیں تو میڈیکل اور نان میڈیکل کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، میڈیکل کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے والدین اپنے آپ کو بیچنے سے قاصر ہیں
نان میڈیکل کی بات کریں تو ذوالوجی اور کیمسٹری کی اہمیت بہت محدود اور معدوم ہو چکی، باقی بچے کمپیوٹر، میتھ اور فزکس۔فزکس اور میتھ کا ساتھ بی عارضی ہے مگر پیشہ تدریس تک محدود، نوکری قسمت کی بات اگر کوئی قسمت بنانا جانتا ہو تو۔ اب ایک راستہ بچتا ہے وہ ہےشعبہ کمپیوٹر۔ زندگی کا ہر شعبہ کمپیوٹر سے جڑ چکا ہے۔ کمپیوٹر نے گزشتہ 20 سالوں میں بالعموم اور آخری 12 سالوں میں بالخصوص حیرت انگیز طور پر انقلاب برپا کیا ہے۔ ہمیں ہر طرف کمپیوٹر کا طوطی بولتا سنائی دیتا ہے۔ سب سے بہتر راستہ تو یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعلیم مکمل کی جائے تو ہزار دروازے کھلے ہیں مطلب ہزار دروازوں سے رزق آنا مکمن ہے۔ اگر یہ تعلیمی سفر مکمل نہیں بھی ہوتا تو بھی آپ کی رسائی دنیا ئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تجارتی منڈیوں تک لازمی رہتی ہے آخر میں اگر آپ بالکل بنیادی سطح کے ماہر ہیں تو بھی آپ شبانہ روز محنت کرکے فری لانسنگ کی دنیا میں جگہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کے عمر کی 30،35،40 بہاریں دیکھ چکے ہیں اور 20،30،40 ہزار کا ٹچ موبائل ہاتھ میں پکڑے بیٹھے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اب کیا کرنا، تو آپ 100فیصد غلط ہیں، فیس بک پر کالم نگاری، مثبت گفتگو کی مختصر فلم سازی اور خالص مصنوعات کی آن لائن فروخت کے ذریعے نہ صرف ذرائع آمدن میں اضافہ کرسکتے ہیں بلکہ مستقبل کو مزید یادگار بنا سکتے ہیں ۔
بچوں کو بہتر تعلیمی فیصلہ سازی کے ذریعے روشن مستقبل کی راہنمائی کرکے2023 کا اور انکی زندگی کا بہترین تحفہ دے سکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا
راشد بھلر

21/01/2023

# بچوں کا مستقبل اور تعلیمی شعبہ جات کا چناو #
قارئین کرام آپ کے ملاحظہ میں ہو گا کے بچے کو سکول شروع کرواتے وقت سکول کا معیار اور وہاں رائج نصاب اور انتظامی امور ہماری مختصر تحقیق کا مرکز ہوتے ہیں اس کے بعد پرائمری سکول مکمل ہونے کے بعد مڈل سٹنڈرڈ اورکجھ متعلقہ رسمی یا غیر رسمی تعلیم بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہو جاتی ہے
مقصد کامیاب زندگی اور روشن مستقبل۔ اسی دوران ہمیں مستقبل کو بھانپتے ہوئے ،وقت کی بدلتی ہوئی ضروریات اور تقاضوں کو بھانپتے ہوئے کسی مناسب شعبہ کا تعین اور اس کے لیے موزوں درسگاہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔اور وہ گورنمنٹ کا ادارہ ہو یا پھر مستند نجی ادارہ، دونوں صورتوں میں نظم و نسق، سہولیات، تعلیمی معیار قابل ترجیح ہونا چاہیے۔ جو کہ عموما" ہم نظر انداز کردیتے ہیں حتکہ ان بارے سوال بھی نہیں کرتے۔
اب بات کرتے ہیں قابل ترجیح تعلیمی شعبہ جات کی۔
بنیادی طور پر ہمارے سامنے سائنس، آرٹس اور ٹیکنالوجی جیسے عمومی شعبہ جات موجود ہوتے ہیں شعبہ آرٹس آپنی اہمیت تقریبا کھو چکا ، باقی سائنس اور ٹیکنالوجی میں خط کھینچا مشکل ہو جاتا ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس کے کونسی مضمون ہوں اور ٹیکنالوجی میں سے کونسی ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا جائے۔ (جاری ہے )
تحریر: راشد بھلر۔

Address

Kasur
Kasur
092

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rashid Bhullar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share