12/08/2026
12 اگست، یومِ بابڑہ — تاریخ کا وہ سانحہ جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں
اے این پی کے کارکنان اور خدائی خدمتگاروں کی قربانیاں تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب — بابڑہ کے شہداء کو خراجِ عقیدت
کاٹلنگ: 12 اگست 1948ء خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا المناک دن ہے جسے سانحۂ بابڑہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ چارسدہ کے قریب بابڑہ کے میدان میں پیش آنے والے اس واقعے میں خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ افراد پر فائرنگ کی گئی۔ ہر سال 12 اگست کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ حلقے اس دن کو یومِ بابڑہ کے طور پر مناتے اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
سانحے کا پس منظر
قیامِ پاکستان کے بعد صوبہ سرحد، جسے آج خیبر پختونخوا کہا جاتا ہے، میں سیاسی حالات انتہائی کشیدہ تھے۔ اس وقت ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت ختم کردی گئی اور خان عبدالقیوم خان کو صوبے کا وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا۔ دوسری جانب باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک کے متعدد رہنما بھی حکومتی حراست میں تھے۔
خدائی خدمتگار تحریک، جس کی قیادت خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کر رہے تھے، عدم تشدد، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم اور سیاسی جدوجہد کی بنیاد پر منظم ہوئی تھی۔ 12 اگست 1948ء کو ان رہنماؤں کی گرفتاری اور سیاسی حالات کے خلاف احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں کارکن بابڑہ کے مقام پر جمع ہوئے۔
دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق حکومت نے اس اجتماع پر فائرنگ کی۔ تاہم واقعے کی نوعیت، ہلاکتوں کی تعداد اور بعض دیگر تفصیلات کے بارے میں سرکاری اور خدائی خدمتگار ذرائع کے بیانیے میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔
کتنے افراد شہید ہوئے؟
سانحۂ بابڑہ کا سب سے متنازع تاریخی پہلو شہداء کی تعداد ہے۔ بعض سرکاری حوالوں میں جاں بحق اور زخمی ہونے کے اعداد کم ملتے ہیں، جبکہ خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ، حتیٰ کہ سینکڑوں میں بیان کی ہے۔ بعض تحریک کے ذرائع 600 سے زائد شہداء کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اسی اختلاف کی وجہ سے ایک ذمہ دار تاریخی تحریر میں کسی ایک عدد کو حتمی قرار دینے کے بجائے مختلف دستیاب بیانیوں کا ذکر ضروری ہے۔
خدائی خدمتگار تحریک اور عدم تشدد
بابڑہ کا واقعہ صرف ایک سیاسی اجتماع پر فائرنگ کی داستان نہیں بلکہ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں خدائی خدمتگار تحریک کے عدم تشدد کے فلسفے کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
باچا خان نے اپنی سیاسی جدوجہد میں تشدد کے بجائے صبر، سیاسی شعور، تعلیم اور خدمتِ خلق کو بنیادی اہمیت دی۔ ان کے پیروکاروں کو اسی وجہ سے خدائی خدمتگار کہا گیا۔ بابڑہ کے واقعے کو اے این پی اور باچا خان کے نظریاتی حلقے اسی عدم تشدد کی جدوجہد میں دی جانے والی ایک بڑی قربانی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
بابڑہ کے بعد کیا ہوا؟
سانحۂ بابڑہ کے بعد خدائی خدمتگار تحریک کے خلاف حکومتی اقدامات مزید سخت ہوئے۔ ستمبر 1948ء میں تحریک پر پابندی عائد کی گئی اور اس کے کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ چارسدہ کے سردریاب میں خدائی خدمتگاروں کے مرکز کو بھی صوبائی حکومت کی جانب سے ختم کردیا گیا۔
یوں بابڑہ کا سانحہ ایک ایسے دور کی علامت بن گیا جس میں نئی ریاست کے ابتدائی برسوں میں صوبائی سیاست، مرکز و صوبہ تعلقات، سیاسی اختلاف اور ریاستی طاقت کے استعمال کے سوالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
یومِ بابڑہ کی اہمیت
وقت گزرنے کے باوجود بابڑہ کا نام خیبر پختونخوا کی سیاسی یادداشت سے محو نہیں ہوا۔ اے این پی اور باچا خان کے نظریاتی پیروکار ہر سال 12 اگست کو شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد کرتے ہیں، جن میں ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
2024ء میں بھی خیبر پختونخوا اسمبلی میں 12 اگست 1948ء کے بابڑہ قتلِ عام پر باقاعدہ بحث ہوئی، جو اس امر کی علامت ہے کہ یہ واقعہ آج بھی صوبے کی سیاسی اور تاریخی گفتگو کا حصہ ہے۔
تاریخ کا سبق
سانحۂ بابڑہ کو صرف ایک جماعت یا ایک سیاسی خاندان کی یاد تک محدود کرنے کے بجائے اسے پاکستان کی ابتدائی سیاسی تاریخ کے ایک اہم واقعے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ماضی کے واقعات کو جذبات کے ساتھ ساتھ دستاویزی شواہد، مختلف بیانیوں اور تاریخی تحقیق کی روشنی میں سمجھا جائے۔
12 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاسی اختلاف کو طاقت کے بجائے مکالمے، برداشت اور جمہوری اصولوں کے ذریعے حل کرنا ہی معاشرے کے لیے بہتر راستہ ہے۔
بابڑہ کے شہداء کی یاد محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ کا ایسا باب ہے جس پر آج بھی تحقیق، مکالمے اور یاد کے چراغ روشن ہیں۔