10/08/2026
الحمدللہ! ایجوکیشن فیلوز (EFs) کے لیے امید کی نئی کرن
محترم وزیرِِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی جانب سے EFs کوExtension دینے کا اعلان یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ہم اس فیصلے کو سراہتے ہیں، لیکن اعلان صرف آغاز ہے، اصل بات اس پر مکمل عملدرآمد ہے۔
گلگت بلتستان بھر کے ہزاروں EFs نے محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، طلبہ کو پڑھایا اور سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کو سہارا دیا۔
وزیر اعلیٰ صاحب! آپ خود کہتے رہے ہیں کہ پہلے کارکردگی دکھائیں، نتائج دیں، پھر مطالبات کی بات کریں۔ تو آج کارکردگی بھی آپ کے سامنے ہے، نتائج بھی آپ کے سامنے ہیں اور ہماری خدمات بھی آپ کے سامنے ہیں۔
اگر ہماری کارکردگی آپ کے لیے قابلِ فخر ہے، اگر ہماری خدمات گلگت بلتستان کے تعلیمی نظام کے لیے مفید ہیں، تو پھر اب صرف تعریف نہیں، عملی فیصلہ بھی چاہیے۔
سر ! اب گزارش یہ ہے کہ جب ہم آپ کی توقعات پر پورا اتر چکے ہیں تو ہمارے جائز مطالبات پر فیصلہ کیوں نہیں؟ آپ جس مقام پر ہیں، وہاں یہ کام ناممکن نہیں؛ بلکہ آپ کے ایک مضبوط فیصلے کا منتظر ہے۔
اس لیے EFs کو ان کے حق کی تنخواہ اور روزگار کا تحفظ دینا ذمہ داری ہے۔
اب بات وعدوں سے آگے بڑھنی چاہیے۔ ہمارے مطالبات بالکل واضح ہیں:
➊ ماہانہ تنخواہ کم از کم 65,000 روپے مقرر کی جائے۔
➋ سال کے 12 ماہ مکمل تنخواہ دی جائے، بشمول گرمیوں کی تعطیلات۔
➌ نوجوان EFs کو کم از کم 5 سالہ Contract ایکسٹینشن دی جائے اور پرو ویڈنٹ فنڈ قائم کیا جائے تاکہ ہزاروں نوجوان اساتذہ ہر چند ماہ بعد اپنے مستقبل کی فکر میں مبتلا نہ ہوں۔
➍ تنخواہوں کی مکمل، بروقت اور شفاف ادائیگی یقینی بنائی جائے اور غیرضروری کٹوتیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
5-وینٹر کی چھٹیوں میں صرف ایجوکیشن فیلو ٹیچرز سے ٹیوٹی نہ لیا جائے۔
آپ کے لیے یہ صرف ایک نوٹیفکیشن ہو سکتا ہے، لیکن ہزاروں نوجوان اس فیصلے میں اپنا روزگار، اپنے گھر کا چولہا اور اپنے مستقبل کا سہارا دیکھ رہے ہیں۔
ہم نے نتائج دیے ہیں، اب آپ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔شکریہ