01/03/2026
آخری سلام یا غیرتی 😭🙏
آج تاریخ کا ایک اور ورق خون سے رنگا گیا ہے۔ ایک رہنما خاموش کرا دیا گیا — اور دنیا پھر خاموش ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہماری خاموشی کب تک؟ کیا ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے؟ کیا ہماری غیرت، ہماری حمیت، ہماری اُمت کا تصور صرف تقریروں اور نعروں تک محدود رہ گیا ہے؟
یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، یہ وقت جواب طلب کرنے کا ہے۔ یہ وقت ہے کہ مسلم دنیا کی قیادت اپنے ضمیر سے پوچھے — جب ایک شخصیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کیا ہم صرف سفارتی بیانات پر اکتفا کریں گے؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف مذمتی ٹویٹ تک محدود ہے؟ تاریخ گواہ ہے، جو قومیں ظلم پر خاموش رہتی ہیں، وہ خود بھی کبھی نہ کبھی اسی چکر میں آ جاتی ہیں۔
ہمیں کسی سے جنگ نہیں چاہیے، ہمیں کسی سے نفرت نہیں چاہیے — مگر ہمیں انصاف چاہیے۔ ہمیں سچ چاہیے۔ ہمیں وہ جرات چاہیے جو ہمارے اسلاف کی پہچان تھی۔ اگر ہم نے آج حق اور باطل کے درمیان فرق واضح نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب وقت آیا تھا، تم کہاں کھڑے تھے؟
یہ صرف ایک ملک یا ایک شخصیت کا معاملہ نہیں — یہ اصولوں کا معاملہ ہے۔ یہ خودمختاری کا سوال ہے۔ یہ عالمی انصاف کے نظام کی ساکھ کا سوال ہے۔ اگر طاقتور ہی فیصلہ کریں گے کہ کون زندہ رہے اور کون نہیں، تو پھر قانون کی کتابیں صرف کمزوروں کے لیے کیوں رہ جائیں؟
مسلم دنیا کے حکمرانوں سے گزارش نہیں، بلکہ سوال ہے: کیا آپ تاریخ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں یا خاموشی کی سیاہی میں گم؟ وقت آ گیا ہے کہ مشترکہ مؤقف اپنایا جائے، شفاف اور غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے، اور دنیا کو بتایا جائے کہ انصاف صرف طاقت کا نام نہیں — انصاف اصول کا نام ہے۔
ہمیں غصے کو حکمت میں بدلنا ہوگا، جذبات کو اتحاد میں بدلنا ہوگا، اور دکھ کو عملی قدم میں ڈھالنا ہوگا۔ یہی اصل غیرت ہے — شور نہیں، بلکہ ثابت قدمی۔ نفرت نہیں، بلکہ حق کے لیے استقامت۔
اگر دل میں درد ہے تو اسے لفظ دو۔ اگر ضمیر زندہ ہے تو اسے آواز دو۔ کیونکہ تاریخ خاموش قوموں کو یاد نہیں رکھتی — تاریخ صرف اُنہیں یاد رکھتی ہے جو سچ کے لیے کھڑے ہوئے۔