21/09/2026
بزرگ صحافی، شاعر، عالم و ادیب میر علی شیر ناز براہوئی کے سرکاری علاج کے لیے فوری اپیل
خضدار: براہوئی اکیڈمی خضدار برانچ کے صدر محمد وارث شاہین نے جہلاوان کے بزرگ صحافی، ممتاز براہوئی عالم، ادیب و شاعر، کئی کتب کے مصنف اور خضدار پریس کلب کے سابق چیئرمین میر علی شیر ناز براہوئی صاحب کی علالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ سرکاری، ادبی و ثقافتی اداروں اور جہلاوان کی سیاسی و سماجی شخصیات سے ان کے فوری اور مکمل علاج کی اپیل کی ہے۔
محمد وارث شاہین نے کہا کہ میر علی شیر ناز براہوئی محض ایک فرد نہیں بلکہ جہلاوان کی علمی، ادبی اور صحافتی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قلم، کتاب، صحافت اور علم و ادب کی خدمت میں گزارا۔ آج جب وہ خود علاج کے محتاج ہیں تو ان کی خدمت اور مدد کرنا ہم سب کی اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ خضدار، حکومتِ بلوچستان، محکمہ ثقافت و ادب اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں سے اپیل کی کہ میر علی شیر ناز براہوئی کے علاج کے تمام ممکنہ سرکاری وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انہیں کسی اچھے اور معیاری ہسپتال میں فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان، براہوئی اکیڈمی پاکستان، براہوئی ادبی سوسائٹی کوئٹہ اور دیگر ادبی و ثقافتی اداروں سے بھی اپیل ہے کہ اپنے بزرگ اہلِ قلم کی اس مشکل گھڑی میں محض اظہارِ ہمدردی تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر ان کے علاج میں اپنا کردار ادا کریں۔
اسی طرح خضدار پریس کلب سے بھی خصوصی اپیل ہے کہ میر علی شیر ناز براہوئی صاحب کی سابقہ صحافتی خدمات اور پریس کلب کے سابق چیئرمین کی حیثیت سے ان کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے۔
ہم بالخصوص جہلاوان خضدار سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی میر یونس عزیز زہری، چیف آف جہلاوان نواب ثناء اللہ خان زہری، آغا شکیل احمد خضداری، قائدِ جہلاوان عوامی پینل و مرکزی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی میر شفیق الرحمن مینگل اور جہلاوان کی دیگر سیاسی، قبائلی، سماجی و ادبی شخصیات سے بھی دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ میر علی شیر ناز براہوئی صاحب کے فوری، باعزت اور مکمل علاج کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ یہ وقت اس بزرگ اہلِ قلم کو یاد کرنے کا نہیں بلکہ ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، جنہوں نے اپنی زندگی قلم کے ذریعے معاشرے کی خدمت، علم کی ترویج اور ادب کی آبیاری میں گزاری، آج ان کی خدمت اور علاج ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
آئیے، میر علی شیر ناز براہوئی صاحب کو تنہا نہ چھوڑیں؛ ان کے علاج کے لیے اپنی آواز، اپنا اثر و رسوخ اور اپنے وسائل استعمال کریں۔