News Figure

News Figure Hey guys follow my Instagram account

مکین کے دشکہ علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، 19/18 سالہ نوجوان جاں بحق، لاش کئی گھنٹوں تک جائے وقوعہ پر پڑی رہیمکین (...
01/06/2026

مکین کے دشکہ علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، 19/18 سالہ نوجوان جاں بحق، لاش کئی گھنٹوں تک جائے وقوعہ پر پڑی رہی

مکین (نمائندہ خصوصی): جنوبی وزیرستان اپر کے علاقے مکین کے دشکہ ایریا میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق آج صبح تقریباً 9 بجے نامعلوم دہشت گردوں نے 18/19 سالہ نوجوان رضا اللہ ولد عبدالمالک سکنہ زیڑ سار گاؤں ڈانگرکائی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد مقتول کی لاش کافی دیر تک جائے وقوعہ پر موجود رہی جبکہ متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کے لیے نگرانی اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
مزید تفصیلات موصول ہونے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

جنوبی وزیرستان اپر " پولیس " کا انکشاف؟ سیکیورٹی خدشات کے نام پر دو سال سے بند پولیس چوکیاں، سیکیورٹی نظام پر بڑا سوالیہ...
25/05/2026

جنوبی وزیرستان اپر " پولیس " کا انکشاف؟ سیکیورٹی خدشات کے نام پر دو سال سے بند پولیس چوکیاں، سیکیورٹی نظام پر بڑا سوالیہ نشان عوام بے یار و مددگار اور عدم تحفظ کا شکار

لدھا (نامہ نگار) جنوبی وزیرستان اپر میں مبینہ کاغذی تعیناتیوں اور بند پولیس چوکیوں سے متعلق خبروں کے بعد ضلعی پولیس آفیسر کی جانب سے جاری پریس ریلیز نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پولیس ترجمان نے اپنی وضاحت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ جن چوکیوں کا ذکر کیا گیا وہ تقریباً دو سال سے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بند ہیں اور وہاں اہلکار تعینات نہیں۔
تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس خود سیکیورٹی خدشات کے باعث حساس علاقوں میں قائم اپنی چوکیاں بند کرنے پر مجبور ہے تو پھر عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کس کے ذمہ ہے؟ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا سیکیورٹی اداروں کو تحفظ فراہم کرنا عوام کی ذمہ داری ہے یا عوام کو تحفظ دینا ریاستی اداروں کا فرض؟
مقامی افراد کے مطابق برواند، توروام، سپینکائی رغزائی، چغمالائی، کوٹ کائی، جناتہ، مکین، کڑمہ، احمدوام اور شوال جیسے حساس علاقوں میں پولیس چوکیوں کی بندش نے جرائم پیشہ عناصر اور مشکوک سرگرمیوں کے لیے میدان کھول دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر چوکیاں صرف عمارتوں تک محدود رہ جائیں اور عملی طور پر وہاں کوئی نفری موجود نہ ہو تو یہ پورا سیکیورٹی ڈھانچہ ناکامی کی علامت بن جاتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض اہلکار مبینہ طور پر بغیر ڈیوٹی گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ افسران “کچھ دو، کچھ لو” کی پالیسی کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ پولیس نے ان الزامات کی براہِ راست تردید نہیں کی، تاہم بند چوکیوں کے اعتراف نے شہریوں کے شکوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں نے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس، ریجنل پولیس آفس ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان اپر میں بند پولیس چوکیوں، اہلکاروں کی اصل تعیناتی، حاضریوں اور تنخواہوں کی ادائیگیوں کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔
Khyber Pakhtunkhwa Police RPO Dera Ismail Khan South Waziristan Upper Police Tank Police Islamabad Police

شمالی وزیرستان: صحافی عامر داوڑ کے گھر پر بارودی گولے گرنے کا واقعہ، شدید مذمتلدھا (نامہ نگار) شمالی وزیرستان سے تعلق رک...
24/05/2026

شمالی وزیرستان: صحافی عامر داوڑ کے گھر پر بارودی گولے گرنے کا واقعہ، شدید مذمت

لدھا (نامہ نگار) شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی عامر داوڑ کے گھر پر بارودی گولے گرنے کے واقعے کی صحافتی و سماجی حلقوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق آج دوپہر تقریباً ایک بجے پاک فوج کی ایک کانوائے پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ اور بھاری اسلحے کا استعمال شروع ہو گیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک بارودی گولہ صحافی عامر داوڑ کے گھر کے باہر آ گرا، جبکہ چند لمحوں بعد دوسرا گولہ گھر کے ایک کمرے سے جا ٹکرایا۔
ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے اُس وقت کمرے میں کوئی فرد موجود نہیں تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان پیش نہیں آیا، تاہم واقعے سے اہلِ خانہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔
مقامی افراد اور صحافی برادری نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں جاری بدامنی کے باعث شہری آبادی، بالخصوص صحافیوں کی جانیں مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔
صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

جنوبی وزیرستان اپر میں بار بار ٹرانسفر و پوسٹنگ پر عوامی تشویش، شفاف انکوائری کا مطالبہ۔جنوبی وزیرستان اپر میں پولیس افس...
21/05/2026

جنوبی وزیرستان اپر میں بار بار ٹرانسفر و پوسٹنگ پر عوامی تشویش، شفاف انکوائری کا مطالبہ۔

جنوبی وزیرستان اپر میں پولیس افسران کی آئے روز ٹرانسفر اور پوسٹنگ نے قبائلی عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہر چند ماہ بعد نئے ایس ایچ اوز کی تعیناتی سے نہ صرف پولیسنگ کا نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا بھی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف تھانوں میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی میرٹ، سینیارٹی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے مبینہ طور پر مالی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ مقامی حلقوں کے مطابق بعض تھانوں میں تعیناتیوں کے لئے باقاعدہ “بولی” لگنے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث اہل اور تجربہ کار افسران نظر انداز ہو رہے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کئی تھانوں میں شولڈر پروموشن حاصل کرنے والے اہلکاروں کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جس سے جنوبی وزیرستان اپر میں پولیسنگ کا نظام شدید متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے جرائم کی روک تھام، عوامی مسائل کے حل اور آمن وآمان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جب اس بارے ڈسٹرکٹ پولیس ڈیپارٹمنٹ جنوبی وزیرستان اپر کے پبلک ریلیشنز آفیسر محمد شعیب سے رابطہ کیا گیا اور پولیس ڈیپارٹمنٹ جنوبی وزیرستان اپر کے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں تمام ایس ایچ اوز کی تعیناتی مکمل طور پر میرٹ، سینیارٹی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس وقت تعینات تمام ایس ایچ اوز اپنے وسیع تجربے، بہترین سروس ریکارڈ اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر محکمہ پولیس کے قابل اور موسٹ سینئر افسران میں شمار ہوتے ہیں جبکہ انکے پروموشن کا کیس عدالت میں زیر التوا ہے وزیرستان اپر پولیس عوام کی خدمت، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی شکایت کے ازالے کے لئے ہمارا باقاعدہ اور مؤثر نظام موجود ہے۔ عوام کسی بھی وقت اپنی شکایات کے لئے ڈی پی او آفس سے رجوع کرسکتے ہیں،
قبائلی عمائدین اور مقامی عوام نے آئی جی خیبرپختونخوا اور آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں مبینہ بے ضابطگیوں، غیر قانونی ٹرانسفر و پوسٹنگ اور کرپشن کے الزامات کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ قبائلی اضلاع میں اس قسم کی مبینہ غیر قانونی اور رشوت پر مبنی تعیناتیوں کا سدباب ممکن بنایا جا سکے۔

جنوبی وزیرستان اپر میں بند پولیس چوکیوں پر مبینہ کاغذی تعیناتیاں، اہلکار گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے لگےلدھا ( نامہ ...
20/05/2026

جنوبی وزیرستان اپر میں بند پولیس چوکیوں پر مبینہ کاغذی تعیناتیاں، اہلکار گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے لگے

لدھا ( نامہ نگار ) جنوبی وزیرستان اپر میں پولیس نظام سے متعلق ایک نہایت تشویشناک اور حساس انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع کے مختلف علاقوں میں قائم متعدد پولیس چوکیاں عرصۂ دراز سے بند پڑی ہیں، تاہم ان چوکیوں پر اہلکاروں کی مبینہ طور پر صرف کاغذی تعیناتیاں ظاہر کر کے انہیں گھروں میں بیٹھے ماہانہ تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ برواند، توروام، سپینکائی رغزائی، چغمالائی، کوٹ کائی، جناتہ، مکین، کڑمہ، احمدوام، شوال اور دیگر علاقوں میں قائم کئی پولیس چوکیاں گزشتہ کئی ماہ سے غیر فعال ہیں۔ ابتدائی طور پر ان چوکیوں پر تعینات اہلکاروں کو متعلقہ تھانوں اور پولیس لائن منتقل کیا گیا تھا، تاہم اب مبینہ طور پر دوبارہ انہی بند چوکیوں پر اہلکاروں کی تعیناتی ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ عملی طور پر وہاں کوئی ڈیوٹی سرانجام نہیں دی جا رہی۔
ذرائع کے مطابق بعض اہلکاروں سے ماہانہ مبینہ کٹوتی کے عوض انہیں بغیر ڈیوٹی گھروں میں بیٹھے تنخواہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف انتظامی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان اپر پہلے ہی امن و امان کے نازک حالات سے دوچار ہے۔ ایسے میں حساس علاقوں میں پولیس کی عدم موجودگی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اگر پولیس چوکیاں بند رہیں اور اہلکار صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہوں تو اس سے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ ملنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
شہریوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل اور ریجنل پولیس آفس ڈیرہ اسماعیل خان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع میں تعینات اہلکاروں کو عملی طور پر اپنی ڈیوٹیوں کا پابند بنایا جائے اور بند چوکیوں کی موجودہ صورتحال عوام کے سامنے لائی جائے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بعض عناصر “کچھ دو، کچھ لو” کی پالیسی کے تحت اہلکاروں کو بغیر ڈیوٹی تنخواہیں دلوانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ڈھانچہ بھی کمزور ہو رہا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بند پولیس چوکیوں، اہلکاروں کی حاضری، تعیناتیوں اور تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Khyber Pakhtunkhwa Police Islamabad Police RPO Dera Ismail Khan

سینئر اساتذہ کا متفقہ امیدوار۔امیدوار برائے نائب صدر ٹیچر ایسوسی ایشن۔محمد الیاس محسود۔SSTاپنا قیمتی ووٹ دیکر کامیاب بنا...
20/05/2026

سینئر اساتذہ کا متفقہ امیدوار۔
امیدوار برائے نائب صدر ٹیچر ایسوسی ایشن۔
محمد الیاس محسود۔
SST
اپنا قیمتی ووٹ دیکر کامیاب بنائے،

15/05/2026

ٹانک: گزشتہ روز درے محسود عوامی نمائندہ جرگے کے پریس کانفرنس کے بعد ایم پی اے آصف محسود کا پریس کانفرنس۔
قومی اتحاد کو برقرار رکھنے کےلئے ایک ہی پلٹ فارم پر مل کر کام کریں گے۔
آپریشن راہ نجات کے دوران ہونے والے نقصانات کی معاوضے پر عید کے تیسرے روز مکین جرگہ ممبران اور ایم پی اے مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔
پریس کانفرنس

حالیہ سروے کے حوالے سے منتخب سروے کمیٹی کی جانب سے مجھ پر فنڈز میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور میرے خاندان پر بے بنیاد و من گھ...
14/05/2026

حالیہ سروے کے حوالے سے منتخب سروے کمیٹی کی جانب سے مجھ پر فنڈز میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور میرے خاندان پر بے بنیاد و من گھڑت الزامات لگانا افسوسناک عمل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، لیکن جھوٹے الزامات اور عوام کو گمراہ کرنے کی سیاست کسی صورت مناسب نہیں۔

میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان الزامات کا جواب الزام تراشی سے نہیں دوں گا بلکہ حقائق اور اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھوں گا۔

لہٰذا ان شاء اللہ کل بروز جمعہ 15 مئی 2026 صبح 11 بجے ڈی سی کمپاؤنڈ ٹانک میں میڈیا کے سامنے پریس کانفرنس کروں گا، جہاں سروے کے مسئلے کے حل کیلئے اٹھائے گئے اقدامات، اپنی کارکردگی اور تمام حقائق تفصیل سے قوم کے سامنے رکھوں گا۔

میں متعلقہ سروے کمیٹی کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ وہاں پہنچ کر عوام اور میڈیا کے سامنے کھل کر بات کرے۔
ایم پی اے آصف خان محسود

14/05/2026

ڈیرہ اسماعیل خان: درے محسود عوامی نمائندہ جرگے کا آپریشن راہ نجات کے دوران تباہ شدہ مکانات کے معاوضوں میں حائل روکاوٹیں اور صوبائی حکومت و منتخب نمائندوں کے کردار بارے ڈیرہ اسماعیل خان حق نواز پارک میں پریس کانفرنس۔۔۔

بنوں: پولیس چوکی فتح خیل پر بم دھماکہ، شدید فائرنگ جاری، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعاتضلع بنوں کے علاقے منڈان پولیس اسٹیشن کی...
09/05/2026

بنوں: پولیس چوکی فتح خیل پر بم دھماکہ، شدید فائرنگ جاری، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات

ضلع بنوں کے علاقے منڈان پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع پولیس چوکی فتح خیل پر زور دار بم دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور نامعلوم حملہ آوروں کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی دھماکے کے کچھ دیر بعد علاقے میں ایک اور بڑا دھماکہ بھی سنا گیا، جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں مسلسل گونج رہی ہیں۔ دھماکوں کے نتیجے میں قریبی عمارتوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے میں کئی افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم تاحال ہلاکتوں یا زخمیوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ مزید نفری طلب کر لی گئی ہے۔
تاحال ضلعی انتظامیہ، پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Address

Khyber

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Figure posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share