News Figure

News Figure Hey guys follow my Instagram account

جنوبی وزیرستان اپر میں گاڑی پر دستی بم حملہ، فائرنگ؛ پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ امن کمیٹی کے رکن موسی خان شدید زخمیجنوبی ...
26/08/2026

جنوبی وزیرستان اپر میں گاڑی پر دستی بم حملہ، فائرنگ؛ پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ امن کمیٹی کے رکن موسی خان شدید زخمی

جنوبی وزیرستان اپر میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر دستی بم سے حملہ کرنے کے بعد فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار عبداللہ جاں بحق، جبکہ امن کمیٹی کے رکن موسیٰ خان عرف موسک زخمی ہوگئے۔

زخمی موسیٰ خان عرف موسک کو طبی امداد کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل بھی موسیٰ خان عرف موسک کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی۔ اس حملے میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے، تاہم فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

آصف محسود (سابقہ انچارج DSB) کے حق میں اور منفی پروپیگنڈے کے جواب میں ایک جامع، اثر انگیز اور قانونی و اخلاقی زاویے سے ت...
26/08/2026

آصف محسود (سابقہ انچارج DSB) کے حق میں اور منفی پروپیگنڈے کے جواب میں ایک جامع، اثر انگیز اور قانونی و اخلاقی زاویے سے تحریر درج ذیل ہے:
حق اور سچ کی آواز: پروپیگنڈا مافیا کے منہ پر تمانچہ
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک مخصوص مفاد پرست ٹولہ سابقہ انچارج DSB آصف محسود کے خلاف زہر اگلنے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے میں مصروف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھروں کے چولہے بھتہ خوروں اور منشیات فروشوں کی کالی کمائی پر جلتے ہیں۔ اپنی دال روٹی بند ہونے کے خوف اور ذاتی بغض کی بنا پر یہ لوگ عوام کو گمراہ کرنے اور آصف محسود کی ذات اور کردار کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔
حقیقت بمقابلہ جاہلانہ پروپیگنڈا
ان ناپاک سازشوں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں:
ڈی آئی خان میں تعیناتی: آصف محسود گزشتہ دو سالوں سے ڈیرا اسماعیل خان میں انتہائی ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا فی الوقت وزیرستان میں کوئی انتظام یا تعیناتی نہیں ہے۔
مافیا کا خوف: اس جھوٹے پروپیگنڈے کی اصل وجہ صرف ایک خوف ہے—انہیں ڈر ہے کہ اگر آصف محسود دوبارہ وزیرستان آ گئے تو نہ منشیات فروش بچیں گے، نہ بھتہ خور اور نہ ہی بدماش۔ اگر یہ ناسور ختم ہو گئے تو اس مافیا اور ان کے آلاتِ کار کا روزگار کیسے چلے گا؟
اعلٰی افسران کا اعتماد اور بہترین کارکردگی کا اعتراف
اگر یہ الزام تراشی کرنے والے اتنے ہی سچے ہیں تو اعلیٰ حکام کے اس اعتراف کا کیا جواب دیں گے؟
1. چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ صاحب نے آصف محسود کو بہترین ڈیوٹی کے ایوارڈ سے کیوں نوازا؟
2. آئی جی کے پی کے ذوالفقار حمید صاحب نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ کیوں دیا؟
3. ڈی آئی جی اسپیشل برانچ خیبر پختونخوا نے ان کی بہترین کارکردگی پر کیوں سراہا؟
4. متعدد ڈی پی اوز (DPOs) نے آصف محسود کو حسنِ کارکردگی کے اعزازات سے کیوں سرفراز کیا؟
5. ⁠ایک سوال پروپیگنڈا سازوں سے: کیا صوبے کے یہ تمام اعلیٰ، باصلاحیت اور ایماندار افسران بے وقوف ہیں؟ یا (معاذ اللہ) یہ سب بھی کرپٹ ہیں؟ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں، تو پھر آصف محسود کی صداقت اور ایمانداری پر انگلی اٹھانے والے یہ چند مفاد پرست کون ہوتے ہیں؟
کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں، صرف ذاتی دشمنی
آصف محسود کے خلاف آج تک کرپشن کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ بغیر کسی ثبوت کے، اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس وقت علاقے میں موجود نہیں ہیں، ان کے خلاف ایسی غلیظ زبان اور نازیبا پوسٹس کا استعمال کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی قانونی یا اخلاقی معاملہ نہیں بلکہ ذاتی بغض اور دشمنی ہے۔
قانونی جرم اور سیکیورٹی کا خطرہ
سوشل میڈیا پر اس طرح کا جھوٹا مواد شیئر کرنا اور ایک مخلص اور فرض شناس افسر کے خلاف نفرت پھیلانا نا صرف قانوناً جرم ہے، بلکہ آصف محسود کی زندگی کو مشکوک اور منفی مواد کے ذریعے شرپسندوں کی ٹارگٹ لسٹ پر لانے کی ایک خطرناک سازش ہے۔
ہم اعلیٰ حکام اور سائبر کرائم اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آصف محسود کی ذات اور کردار کو نشانہ بنانے والے اور منشیات مافیا کے پیروکاروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے تاکہ سچ کا بول بالا ہو اور فرض شناس افسران کی عزت و سیکیورٹی محفوظ رہے۔

رزمک میں انتظامیہ کا عوامی رابطے کی جانب اہم قدم، پہلی بار بازار میں کھلی کچہریشمالی وزیرستان کے خوبصورت اور پُرفضا علاق...
25/08/2026

رزمک میں انتظامیہ کا عوامی رابطے کی جانب اہم قدم، پہلی بار بازار میں کھلی کچہری

شمالی وزیرستان کے خوبصورت اور پُرفضا علاقے رزمک میں اسسٹنٹ کمشنر محمد طفیل آرائیں نے عوامی رابطے اور مسائل کے فوری ازالے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے رزمک بازار میں پہلی مرتبہ کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں مقامی عمائدین، عوام، محکمہ تعلیم، ٹی ایم او، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر محمد طفیل آرائیں نے شہریوں کے مسائل براہِ راست سنے اور مختلف محکموں سے متعلق شکایات اور تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر عوام کی جانب سے لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ، ٹی ایم او، محکمہ تعلیم، جنگلات، زراعت اور لائیو اسٹاک سمیت مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کی سروس ڈلیوری سے متعلق مسائل اجاگر کیے گئے۔

مقامی عمائدین اور شہریوں نے رزمک جیسے دورافتادہ علاقے میں پہلی مرتبہ بازار کی سطح پر کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے عوام کو ان کی دہلیز پر سننے کا یہ اقدام عوامی مسائل کے حل اور انتظامیہ و عوام کے درمیان اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسسٹنٹ کمشنر محمد طفیل آرائیں نے عوامی شکایات کو توجہ سے سنتے ہوئے متعلقہ محکموں کے نمائندگان کو مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات دیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا مؤثر انداز میں ازالہ کیا جائے۔

کھلی کچہری میں بالخصوص رزمک میں مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کی موجودگی اور سروس ڈلیوری بہتر بنانے کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔ عوام نے محکمہ زراعت کی فیلڈ سروسز، لائیو اسٹاک کی ویٹرنری سہولیات، محکمہ تعلیم کی کارکردگی، صفائی و بلدیاتی امور، پبلک ہیلتھ اور جنگلات سے متعلق مسائل بھی انتظامیہ کے سامنے رکھے۔

رزمک اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز پہاڑی مناظر اور خوشگوار موسم کے باعث شمالی وزیرستان کا ایک منفرد علاقہ ہے۔ مقامی حلقوں کے مطابق علاقے میں بنیادی سہولیات اور سرکاری سروس ڈلیوری کی بہتری سے نہ صرف مقامی آبادی کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ رزمک کے قدرتی اور سیاحتی امکانات کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔

مقامی عمائدین نے اسسٹنٹ کمشنر محمد طفیل آرائیں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل سننے کے لیے براہِ راست ان کی دہلیز پر پہنچنا ایک فعال، عوام دوست اور قابلِ تحسین انتظامی طرزِ عمل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جنوبی وزیرستان اپر: کمانڈر 223 ونگ کی آل وزیرستان شوٹنگ والی بال ٹورنامنٹ میں شرکتجنوبی وزیرستان اپر: ڈیلے شنکئی کے مقام...
17/08/2026

جنوبی وزیرستان اپر: کمانڈر 223 ونگ کی آل وزیرستان شوٹنگ والی بال ٹورنامنٹ میں شرکت

جنوبی وزیرستان اپر: ڈیلے شنکئی کے مقام پر جاری دوسرے آل وزیرستان شوٹنگ والی بال ٹورنامنٹ میں کمانڈر 223 ونگ، ، لیفٹیننٹ کرنل ملک احسان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور ٹورنامنٹ کے انعقاد میں تعاون فراہم کیا۔

اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل ملک احسان نے ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں اور منتظمین سے ملاقات کی، کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور نوجوانوں کو کھیلوں سمیت مثبت اور صحت مند سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی۔

ٹورنامنٹ میں وزیرستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن کے درمیان سنسنی خیز مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شوٹنگ والی بال جیسے مقبول کھیل کے مقابلوں سے نہ صرف نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے بلکہ مقامی سطح پر باہمی رابطوں، صحت مند مسابقت اور بھائی چارے کو بھی فروغ ملتا ہے۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کمانڈر 223 ونگ نے کھیلوں کی سرگرمیوں کو نوجوان نسل کی مثبت تربیت اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اہم قرار دیا اور ایسے مقابلوں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کی۔

مقامی عمائدین، کھلاڑیوں اور منتظمین نے ٹورنامنٹ میں شرکت اور تعاون پر کمانڈر 223 ونگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان اپر میں کھیلوں کی ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

دوسرا آل وزیرستان شوٹنگ والی بال ٹورنامنٹ نہ صرف کھیلوں کا ایک بڑا مقابلہ ہے بلکہ وزیرستان کے نوجوانوں کے درمیان مثبت روابط، باہمی ہم آہنگی اور کھیلوں کے جذبے کو فروغ دینے کی ایک مؤثر کوشش بھی ہے۔

جنوبی وزیرستان: 223 ونگ ایس ایچ ایس کی کاوشوں سے عمر راغزئی میں دکانوں کی مجوزہ منتقلی کے معاملے پر اہم جرگہ، متفقہ لائح...
05/08/2026

جنوبی وزیرستان: 223 ونگ ایس ایچ ایس کی کاوشوں سے عمر راغزئی میں دکانوں کی مجوزہ منتقلی کے معاملے پر اہم جرگہ، متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق

جنوبی وزیرستان: 223 ونگ ایس ایچ ایس کی جانب سے عمر راغزئی میں دکانوں کی مجوزہ منتقلی کے معاملے پر مقامی مشران و عمائدین کے ساتھ ایک اہم جرگہ منعقد کیا گیا۔ جرگے میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) کی ہدایات کی روشنی میں معاملے کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اس موقع پر شرکاء نے مسئلے کے حل کے لیے کمانڈر 223 ونگ ایس ایچ ایس کی فعال قیادت، ذاتی دلچسپی اور مشاورتی طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے اسے باہمی اعتماد اور مؤثر رابطے کی بہترین مثال قرار دیا۔

جرگے کے اختتام پر دکانوں کی مجوزہ منتقلی کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا، جبکہ مقامی مشران نے اس پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے علاقے میں امن، ہم آہنگی اور عوامی مفاد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

محمد انصار اللہ ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا تعیناتپشاور : حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ہیومن ریسورس ...
29/07/2026

محمد انصار اللہ ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا تعینات

پشاور : حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ نے محمد انصار اللہ کو فوری طور پر ڈائریکٹر جنرل، اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق محمد انصار اللہ، جو اس سے قبل پریس رجسٹرار (بی ایس-19) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 10 کے تحت فوری اثر سے ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا تعینات کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری کے احکامات پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی منظوری کے بعد عمل درآمد کیا گیا ہے، جبکہ اس کی نقول متعلقہ محکموں، چیف منسٹر سیکرٹریٹ، گورنر سیکرٹریٹ، اکاؤنٹنٹ جنرل، محکمہ اطلاعات اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

سرکاری حلقوں کے مطابق محمد انصار اللہ کو محکمہ اطلاعات میں وسیع انتظامی تجربہ حاصل ہے، اور ان کی بطور ڈائریکٹر جنرل تعیناتی سے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

27/07/2026
ضلع ٹانک میں زونگ نیٹ ورک کی بدانتظامی عروج پر، فقیرنی ٹاور کئی روز سے بند، صارفین شدید اذیت میں مبتلاٹانک: ضلع ٹانک میں...
21/07/2026

ضلع ٹانک میں زونگ نیٹ ورک کی بدانتظامی عروج پر، فقیرنی ٹاور کئی روز سے بند، صارفین شدید اذیت میں مبتلا

ٹانک: ضلع ٹانک میں زونگ پاکستان کی ناقص کارکردگی اور مبینہ انتظامی غفلت نے ہزاروں صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ذرائع اور مقامی آبادی کے مطابق فقیرنی کے مقام پر قائم زونگ موبائل ٹاور گزشتہ کئی روز سے غیر فعال ہے، جس کے باعث موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس تقریباً معطل ہو چکی ہے۔ نتیجتاً شہری، طلبہ، تاجر، سرکاری ملازمین، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور ہنگامی خدمات سے مستفید ہونے والے صارفین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود نہ تو ٹاور کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا گیا اور نہ ہی ذمہ دار عملے نے عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے۔ ان کے مطابق سروس کی مسلسل بندش سے نہ صرف روزمرہ رابطے متاثر ہوئے ہیں بلکہ آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل بینکاری، سرکاری امور، کاروباری لین دین اور ایمرجنسی صورتحال میں مواصلاتی رابطے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے زونگ کے مقامی ٹاور آپریٹر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹاور کی مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث اس کا ڈیزل (ایندھن) مبینہ طور پر چوری ہوتا رہا، جبکہ ٹاور کو طویل عرصے سے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث نیٹ ورک کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر ہے۔ یہ الزامات مقامی آبادی کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے ہونا باقی ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، وفاقی وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، زونگ پاکستان کی اعلیٰ انتظامیہ اور متعلقہ ضلعی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، فقیرنی ٹاور کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے، نیٹ ورک کی مسلسل خرابی کی وجوہات سامنے لائی جائیں، جبکہ ٹاور کی دیکھ بھال میں مبینہ غفلت، ایندھن کی مبینہ چوری اور انتظامی بے ضابطگیوں کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن کی معیاری سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں، مگر ضلع ٹانک کے صارفین طویل عرصے سے ناقص سروس، کمزور سگنلز اور غیر معیاری انٹرنیٹ کے باعث ذہنی اذیت اور معاشی نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اسکو مختصر بنائیں تاکہ دریا کو کوزے میں بند کیا جا سکے

21/07/2026

ضلع ٹانک: محکمہ سوئی گیس میں مبینہ بدانتظامی، دفتر غیر فعال، عملہ غائب، شہری شدید مشکلات کا شکار

ضلع ٹانک میں محکمہ سوئی گیس کی مبینہ غفلت اور انتظامی بے ضابطگیوں نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق محکمہ کا دفتر اکثر اوقات بند رہتا ہے جبکہ متعدد ملازمین مبینہ طور پر ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر سرکاری مراعات اور تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جس سے ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بل تقسیم کرنے والا عملہ کئی ماہ سے غائب ہے، جس کے باعث ہزاروں صارفین کو گیس کے بل بروقت موصول نہیں ہو رہے۔ نتیجتاً شہری بل حاصل کرنے، بروقت ادائیگی اور غیر ضروری جرمانوں سے بچنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے وفاقی وزارتِ توانائی، سوئی ناردرن گیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ کی ناقص کارکردگی اور مبینہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے، دفتر کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے، بلوں کی بروقت تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور ڈیوٹی سے غیر حاضر یا فرائض میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف شفاف انکوائری کے بعد سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا ادارے پر اعتماد بحال ہو سکے۔

Address

Khyber

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Figure posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share