Kohat online

Kohat online We will update... kohatonline.blogspot.com

21/08/2026

Ajeeb waradad.. ..عجیبہ فراڈونہ۔ھھھ

ڈویژنل قرات و نعت مقابلہ جاری ہے
20/08/2026

ڈویژنل قرات و نعت مقابلہ جاری ہے

20/08/2026

Must watch

ایک شہرت یافتہ این جی او کو درج زیل سٹاف کو ضرورت ہے آج ہی آپلائی کیجیے تفصیلات کیجیے ان باکس میسج کیجیے
25/07/2026

ایک شہرت یافتہ این جی او کو درج زیل سٹاف کو ضرورت ہے آج ہی آپلائی کیجیے تفصیلات کیجیے ان باکس میسج کیجیے

ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر اسٹیشن پر اترتا، اگلے اسٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔ساتھ بیٹ...
24/07/2026

ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر اسٹیشن پر اترتا، اگلے اسٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔

ساتھ بیٹھے مسافر نے حیران ہو کر پوچھا: "بھائی! جہاں جانا ہے، وہاں تک کی ایک ہی ٹکٹ کیوں نہیں لے لیتے؟"

اس نے جواب دیا: "ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے، اس لیے تھوڑا تھوڑا سفر کرتا ہوں!"

لگتا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی نسخہ اپنایا گیا ہے۔

پہلے ایک ساتھ بڑا اضافہ ہوتا تھا تو لوگ شور مچاتے تھے، اب شاید سوچا گیا ہے کہ ایک ساتھ بڑا جھٹکا دینے کے بجائے، روز تھوڑا تھوڑا اضافہ کر دیا جائے۔

16/05/2026
اہم اعلان کوہاٹ کے عوام کے لیے ایک اور اعزاز سَن آف کوہاٹ ٹیم کی جانب سے کوہاٹ کے بچوں کےتعلیم کے ایک نئے روشن باب کا آغ...
07/04/2026

اہم اعلان
کوہاٹ کے عوام کے لیے ایک اور اعزاز
سَن آف کوہاٹ ٹیم کی جانب سے کوہاٹ کے بچوں کےتعلیم کے ایک نئے روشن باب کا آغاز۔ کوہاٹ کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے لیے بہت جلد (سَن آف کوہاٹ سکول اینڈ کالج ) کا افتتاح ہونے جارہا ہے جس میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سکول و کالج کا افتتاح — علم، ترقی اور روشن مستقبل کی جانب ایک نئی شروعات۔

سیپٹک سسٹم کیسے کام کرتا ہے: گھریلو گندے پانی سے صاف زیر زمین پانی تکسیپٹک سسٹم بہت سے دیہی اور آف گرڈ گھروں کا ایک اہم ...
18/03/2026

سیپٹک سسٹم کیسے کام کرتا ہے: گھریلو گندے پانی سے صاف زیر زمین پانی تک

سیپٹک سسٹم بہت سے دیہی اور آف گرڈ گھروں کا ایک اہم حصہ ہے جو خاموشی سے زیر زمین گندے پانی کا علاج کرتا ہے، بغیر شہری سیور کنکشن کی ضرورت کے۔
تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک عام سیپٹک سسٹم قدم بہ قدم کیسے کام کرتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ فضلہ کیسے محفوظ طریقے سے ٹوٹتا ہے، فلٹر ہوتا ہے اور ماحول میں واپس جاتا ہے۔

قدم 1: گندا پانی گھر سے نکلتا ہے
گھر کے تمام گندے پانی — سنک، بیت الخلا، شاور اور آلات سے — ایک مرکزی پائپ سے نکل کر سیپٹک ٹینک میں جاتا ہے۔
یہ ٹینک عام طور پر زمین کے اندر دفن ہوتا ہے اور فضلہ کو الگ کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔

قدم 2: سیپٹک ٹینک کے اندر الگ ہونا
سیپٹک ٹینک کے اندر گندا پانی قدرتی طور پر تین تہوں میں الگ ہو جاتا ہے:
- سکم: تیل، چکنائی اور ہلکے مادے اوپر تیرتے ہیں
- افلونٹ: درمیان میں جزوی طور پر صاف مائع رہتا ہے
- سلج: بھاری ٹھوس چیز نیچے بیٹھ جاتی ہے

ٹینک کے اندر اینیروبک بیکٹیریا نامیاتی مادوں کو توڑنے کا کام شروع کر دیتے ہیں، جس سے ٹھوس چیزوں کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

قدم 3: افلونٹ ڈسٹری بیوشن باکس میں جاتا ہے
جزوی طور پر علاج ہونے کے بعد مائع افلونٹ ٹینک سے نکل کر ڈسٹری بیوشن باکس میں جاتا ہے۔
یہ باکس گندے پانی کو برابر تقسیم کرتا ہے تاکہ اگلے مرحلے کا علاج متوازن اور موثر ہو۔

قدم 4: ڈرین فیلڈ (لیچ فیلڈ)
ڈسٹری بیوشن باکس سے افلونٹ سوراخ والے پائپوں میں جاتا ہے جو ڈرین فیلڈ میں بچھائے جاتے ہیں، جسے لیچ فیلڈ بھی کہتے ہیں۔
یہ پائپ کچلی ہوئی چٹان، کنکری، ریت اور مٹی کی تہوں سے گھرے ہوتے ہیں۔
جیسے جیسے افلونٹ پائپوں سے آہستہ آہستہ نکلتا ہے:
- کنکری اور مٹی باقی ذرات کو فلٹر کرتی ہے
- مٹی میں موجود جرثومے نقصان دہ بیکٹیریا اور آلودگیوں کو توڑ دیتے ہیں
- پانی قدرتی حیاتیاتی علاج سے صاف ہو جاتا ہے

قدم 5: صاف پانی زمین میں واپس جاتا ہے
مٹی کی تہوں سے گزرنے کے بعد فلٹر ہونے والا پانی محفوظ طریقے سے زیر زمین پانی کے نظام میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ آخری مرحلہ قدرتی علاج کا عمل مکمل کرتا ہے اور پانی کو بغیر آلودگی پھیلائے ماحول میں واپس جانے دیتا ہے۔

سیپٹک سسٹم کیوں موثر ہیں
ایک مناسب ڈیزائن اور دیکھ بھال والا سیپٹک سسٹم یہ دیتا ہے:
- بغیر بجلی کے قابل اعتماد گندے پانی کا علاج
- ماحول کی طویل مدتی حفاظت
- کم چلنے کا خرچہ
- شہری سیور سسٹم سے آزادی

جب یہ صحیح کام کرتا ہے تو سیپٹک سسٹم عوامی صحت اور مقامی پانی کی سپلائی دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔

مناسب دیکھ بھال کی اہمیت
سیپٹک سسٹم کو موثر رکھنے کے لیے:
- سیپٹک ٹینک کو باقاعدگی سے پمپ کروائیں
- نہ گلنے والی چیزوں کو فلش نہ کریں
- چکنائی اور کیمیکل کم ڈالیں
- ڈرین فیلڈ کو بھاری گاڑیوں اور گہری جڑوں والے پودوں سے بچائیں

دیکھ بھال کی غفلت سے نظام ناکام ہو سکتا ہے، زیر زمین پانی آلودہ ہو سکتا ہے اور مہنگی مرمت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

نتیجہ
تصویر میں دکھایا گیا سیپٹک سسٹم بتاتا ہے کہ انجینئرنگ اور قدرتی حیاتیاتی عمل مل کر گھریلو گندے پانی کو محفوظ طریقے سے علاج کیسے کرتے ہیں۔
یہ زیادہ تر زیر زمین چھپا رہتا ہے مگر صفائی برقرار رکھنے، زیر زمین پانی کی حفاظت اور دیہی پائیدار زندگی کی حمایت میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

16/03/2026

عنوان:
پاکستان کو امیر بنانے کا نیا راستہ — زیرو مارجنل کاسٹ سوسائٹی

دنیا میں ایک بہت طاقتور خیال ہے جسے مشہور مفکر Jeremy Rifkin نے بیان کیا ہے۔
اسے کہتے ہیں:

Zero Marginal Cost Society

سادہ الفاظ میں اس کا مطلب ہے:

جب کسی چیز کو ایک بار بنانے کے بعد
اسے کروڑوں لوگوں تک پہنچانے کی قیمت تقریباً صفر رہ جائے۔

اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا موقع چھپا ہوا ہے۔

پاکستان صنعتی انقلاب میں پیچھے رہ گیا۔
لیکن اب ایک نیا انقلاب آ چکا ہے:

انٹرنیٹ + AI کا انقلاب

اور اس میں داخل ہونے کی قیمت تقریباً صفر ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں پاکستان کیسے اس سے امیر بن سکتا ہے۔



1️⃣ تعلیم تقریباً مفت ہو سکتی ہے

پہلے کیا ہوتا تھا؟

ایک یونیورسٹی بنانے کے لیے چاہیے ہوتے تھے:

• اربوں روپے کی عمارت
• مہنگے پروفیسر
• بڑی لیبارٹریاں

لیکن آج کیا ہو رہا ہے؟

ایک بہترین استاد ایک بار لیکچر ریکارڈ کرے
اور کروڑوں بچے وہی لیکچر دیکھ سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر:

• YouTube
• ChatGPT
• Khan Academy

فرض کریں:

ایک استاد 500 لیکچر ریکارڈ کرتا ہے۔

اور
1 کروڑ بچے وہی لیکچر دیکھتے ہیں۔

تو فی طالب علم خرچ کیا ہوا؟

تقریباً صفر۔

اسی لیے AI اسکول اور ڈیجیٹل تعلیم پاکستان کو تیزی سے بدل سکتی ہے۔



2️⃣ فیکٹریوں کی جگہ ڈیجیٹل نوکریاں

پرانے زمانے میں صنعت لگانے کے لیے چاہیے ہوتا تھا:

• زمین
• بجلی
• مشینیں
• اربوں روپے

لیکن آج دنیا بدل گئی ہے۔

ڈیجیٹل کام کے لیے صرف تین چیزیں کافی ہیں:

1️⃣ ایک لیپ ٹاپ
2️⃣ انٹرنیٹ
3️⃣ ایک مہارت

اور اب دنیا کے پلیٹ فارم موجود ہیں:

• Upwork
• Fiverr
• Toptal

جہاں پاکستانی لوگ اپنی مہارت پوری دنیا کو بیچ سکتے ہیں۔

سوچئے اگر:

50 لاکھ پاکستانی
ہر ماہ $500 کمائیں

تو سالانہ آمدنی بنے گی:

30 ارب ڈالر

یہ رقم پاکستان کی معیشت کو بدل سکتی ہے۔



3️⃣ AI انسان کی طاقت کو 10 گنا بڑھا دیتا ہے

AI نے ایک نئی طاقت دی ہے۔

اب ایک انسان 10 لوگوں کا کام کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر:

• ChatGPT
• Midjourney
• CapCut

ان ٹولز کی مدد سے لوگ بنا سکتے ہیں:

• ویڈیوز
• مارکیٹنگ
• سافٹ ویئر
• ڈیزائن
• مواد (Content)

اور وہ بھی تقریباً بغیر خرچ کے۔

اس کا مطلب ہے:

جس کے پاس خیال اور تخلیقیت ہے
وہ اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے۔



4️⃣ مائیکرو فیکٹریاں — چھوٹے گھروں میں صنعت

پہلے صنعت کا مطلب تھا:

بڑی بڑی فیکٹریاں۔

لیکن اب نئی ٹیکنالوجی آ چکی ہے۔

جیسے:

• Laser Cutting
• 3D Printing
• CNC Machines
• AI Design

اب ایک چھوٹا سا ورکشاپ یا گھر بھی فیکٹری بن سکتا ہے۔

وہ بنا سکتا ہے:

• فرنیچر
• الیکٹرانکس پارٹس
• ٹولز
• کسٹم مصنوعات

یعنی صنعت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گی۔

ہر گلی میں ایک مائیکرو فیکٹری ہو سکتی ہے۔



5️⃣ شیئرنگ اکانومی — چیزیں بانٹ کر پیسہ کمانا

دنیا میں ایک اور انقلاب آیا ہے:

Sharing Economy

جہاں لوگ اپنی چیزیں دوسروں کو استعمال کرنے دیتے ہیں۔

مثال:

• Uber
• Airbnb

ان پلیٹ فارمز نے ثابت کیا کہ:

لوگ اپنی چیزوں سے بھی کمائی کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ایسے نظام بن سکتے ہیں۔

جہاں لوگ شیئر کریں:

• گاڑیاں
• اوزار
• گھر
• مہارت

اور اس سے آمدنی پیدا کریں۔



پاکستان کے لیے ایک سادہ تصور

سوچئے اگر:

1 کروڑ نوجوان تربیت حاصل کریں:

• AI
• ڈیزائن
• مارکیٹنگ
• کوڈنگ
• ویڈیو ایڈیٹنگ

اور ہر شخص کمائے:

$500 ماہانہ

تو کل آمدنی ہوگی:

1 کروڑ × $500

$5 ارب ہر مہینہ

سال میں:

$60 ارب

یہ کئی ملکوں کی کل برآمدات سے زیادہ ہے۔



پاکستان کی اصل دولت کیا ہے؟

پاکستان کی اصل دولت یہ نہیں ہے:

• تیل
• گیس
• معدنیات

پاکستان کی اصل دولت ہے:

انٹرنیٹ سے جڑے نوجوان۔

اگر انہیں سکھا دیا جائے کہ:

AI
اور
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی
کیسے استعمال کرنی ہے

تو پاکستان بہت تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔



خلاصہ ایک جملے میں

جب علم تقریباً مفت ہو جائے
تو وہ قوم امیر ہو جاتی ہے
جو اپنے لوگوں کو ٹیکنالوجی استعمال کرنا سکھا دے۔





15/03/2026

پاکستان کا بجٹ — ایک کہانی جو ایک 12 سالہ بچے کو بھی سمجھ آ جائے

ایک گاؤں میں ایک محنتی ابو رہتے تھے۔
وہ ہر مہینے 100 روپے کماتے تھے۔

یہ 100 روپے اصل میں پاکستان کے پورے بجٹ کی مثال ہیں۔

حقیقت میں پاکستان کی حکومت سال میں تقریباً 19 ٹریلین روپے (19 ہزار ارب روپے) خرچ کرتی ہے۔
لیکن سمجھنے کے لئے ہم اسے 100 روپے مان لیتے ہیں۔



ابو کے 100 روپے کہاں جاتے ہیں؟

ایک دن ابو بیٹھے اور سوچنے لگے:

“میں 100 روپے کماتا ہوں، لیکن یہ جاتے کہاں ہیں؟”

چلو دیکھتے ہیں۔



سب سے پہلے — پرانے قرض

ابو نے سب سے پہلے 47 روپے الگ رکھ دیئے۔

کیوں؟

کیونکہ ابو نے پہلے بینک سے قرض لیا تھا۔

اب ہر مہینے انہیں اس قرض پر سود دینا پڑتا ہے۔

پاکستان کے بجٹ میں بھی یہی ہوتا ہے۔

حقیقی رقم:

9 ٹریلین روپے (9000 ارب)
صرف پرانے قرضوں کا سود ادا کرنے میں چلے جاتے ہیں۔

یعنی ابو کے 100 روپے میں سے 47 روپے تو فوراً بینک لے جاتا ہے۔



دوسرا خرچ — حفاظت

ابو کہتے ہیں:

“گھر کی حفاظت بھی ضروری ہے۔”

اس لئے وہ 11 روپے الگ رکھتے ہیں۔

یہ پیسے جاتے ہیں:
• فوج
• نیوی
• ایئر فورس
• ملک کی حفاظت

حقیقی رقم:

2.1 ٹریلین روپے (2100 ارب)



تیسرا خرچ — سرکاری ملازمین کی تنخواہیں

ابو کہتے ہیں:

“گھر کے کام کرنے والے لوگوں کو بھی پیسے دینے ہیں۔”

پاکستان میں لاکھوں لوگ سرکاری ملازم ہیں، جیسے:
• استاد
• پولیس
• ڈاکٹر
• کلرک
• سرکاری افسر

ان سب کی تنخواہوں کے لئے ابو 18 روپے رکھتے ہیں۔

حقیقی رقم:

3.4 ٹریلین روپے (3400 ارب)



چوتھا خرچ — پنشن

ابو کہتے ہیں:

“جو لوگ پہلے کام کرتے تھے اور اب بوڑھے ہو گئے ہیں، ان کی مدد بھی کرنی ہے۔”

اس لئے وہ 5 روپے پنشن کے لئے رکھتے ہیں۔

حقیقی رقم:

1 ٹریلین روپے (1000 ارب)



پانچواں خرچ — سبسڈی

کبھی کبھی ابو کو گھر والوں کی مدد بھی کرنی پڑتی ہے۔

مثلاً:
• بجلی سستی کرنا
• آٹا سستا کرنا
• تیل سستا کرنا

اس کے لئے ابو 7 روپے رکھتے ہیں۔

حقیقی رقم:

1.3 ٹریلین روپے (1300 ارب)



چھٹا خرچ — صوبوں کو پیسے دینا

ابو کہتے ہیں:

“گھر کے دوسرے حصوں کو بھی پیسے دینے ہیں۔”

پاکستان میں یہ پیسے صوبوں کو دیئے جاتے ہیں۔

اس کے لئے 7 روپے رکھے جاتے ہیں۔

حقیقی رقم:

1.3 ٹریلین روپے (1300 ارب)



آخری خرچ — مستقبل بنانا

اب ابو کے پاس تھوڑے سے پیسے رہ جاتے ہیں۔

صرف 5 روپے۔

ابو کہتے ہیں:

“ان پیسوں سے ہمیں اپنے گھر کا مستقبل بنانا ہے۔”

ان پیسوں سے بنتے ہیں:
• سڑکیں
• اسکول
• اسپتال
• ڈیم
• نئی عمارتیں

حقیقی رقم:

1 ٹریلین روپے (1000 ارب)



ابو کے 100 روپے کا پورا حساب

خرچ ابو کے 100 روپے میں سے
پرانے قرض کا سود 47 روپے
ملک کی حفاظت 11 روپے
سرکاری تنخواہیں 18 روپے
پنشن 5 روپے
سبسڈی 7 روپے
صوبوں کو پیسے 7 روپے
ترقیاتی کام 5 روپے

کل = 100 روپے



اس کہانی کا سب سے بڑا سبق

ابو کے 100 روپے میں سے

47 روپے صرف پرانے قرض میں چلے جاتے ہیں۔

اور

صرف 5 روپے مستقبل بنانے میں لگتے ہیں۔

اسی لئے پاکستان کو ترقی کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

Address

Kohat
26000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kohat online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share