Zama Kohat

Zama Kohat تازہ ترین خبروں کے لئے پیج لائیک کریں

کوہاٹ میں تبادلوں کا سلسلہ جاریاسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات آصف خان تبدیل، تنویر احمد نئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات تعیناتکوہاٹ م...
12/09/2026

کوہاٹ میں تبادلوں کا سلسلہ جاری
اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات آصف خان تبدیل، تنویر احمد نئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات تعینات
کوہاٹ میں محکمۂ مدنیات کے افسران کے تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات آصف خان کا تبادلہ کر دیا گیا ہے، جبکہ تنویر احمد کو نیا اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات تعینات کر دیا گیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدنیات شکردرہ سمیت کوہاٹ میں مبینہ غیر قانونی گولڈ مائننگ کی روک تھام، قانون پر عملدرآمد اور قانونی مائننگ کے فروغ کے حوالے سے کس قدر مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

وقت آنے پر سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

ریسکیو 1122 میں 800 آسامیوں (نوکریوں) کا اعلانخیبرپختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) نے مختلف اضلاع میں 800 مست...
12/09/2026

ریسکیو 1122 میں 800 آسامیوں (نوکریوں) کا اعلان

خیبرپختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) نے مختلف اضلاع میں 800 مستقل آسامیوں پر بھرتی کا اعلان کردیا۔
اشتہار کے مطابق ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن (BPS-12) کی 350، فائر ریسکیو (BPS-11) کی 175 اور ڈرائیور (BPS-06) کی 275 آسامیاں شامل ہیں۔
امیدواروں کے لیے خیبرپختونخوا کا ڈومیسائل اور پاکستانی شہریت لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ عمر کی حد عمومی طور پر 22 سے 35 سال مقرر ہے۔
خواتین اور اقلیتی امیدواروں کو بھی درخواستیں جمع کرانے کی خصوصی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
امیدوار ETEA کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کراسکتے ہیں، جبکہ آسامیوں کی تفصیلات ETEA اور ریسکیو 1122 کی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔

کوہاٹ: گڑھی بنوریاں میں افغان باشندوں اور مقامی افراد کے درمیان شدید جھڑپ، ایک مقامی شخص زخمیکوہاٹ کے علاقے گڑھی بنوریاں...
11/09/2026

کوہاٹ: گڑھی بنوریاں میں افغان باشندوں اور مقامی افراد کے درمیان شدید جھڑپ، ایک مقامی شخص زخمی
کوہاٹ کے علاقے گڑھی بنوریاں میں افغان باشندوں اور مقامی افراد کے درمیان شدید جھڑپ کا واقعہ پیش آیا، جس کے دوران مبینہ طور پر ایک مقامی شخص زخمی ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق جھڑپ کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
واقعے کے بعد تھانہ سٹی کوہاٹ میں ابتدائی رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔ گڑھی بنوریاں کے سادات اور دیگر مقامی افراد نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او کوہاٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی افراد کا کہنا تھا کہ علاقے میں شرپسندی یا امن و امان خراب کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کا تعین کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
مقامی افراد نے مزید مطالبہ کیا کہ علاقے میں مقیم افغان باشندوں کے قانونی دستاویزات کی بھی جانچ پڑتال کی جائے اور جو افراد غیرقانونی طور پر مقیم یا کسی جرم میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

کوہاٹ مین سٹی کے پرانے لاری اڈہ میں چوروں کی دیدہ دلیری، ہوٹل سے نقدی اور سامان چوری کرلیا گیا۔ واقعے کے بعد اڈہ کے دکان...
10/09/2026

کوہاٹ مین سٹی کے پرانے لاری اڈہ میں چوروں کی دیدہ دلیری، ہوٹل سے نقدی اور سامان چوری کرلیا گیا۔ واقعے کے بعد اڈہ کے دکانداروں میں خوف و ہراس اور تشویش پائی جاتی ہے۔

06/09/2026
پختون قوم کی قیادت کا اصل حقدار کون؟
30/08/2026

پختون قوم کی قیادت کا اصل حقدار کون؟

26/08/2026

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین، تحصیل بڈھ بیر میں سابق آزاد امیدوار (پی کے 77) فضل محمد خان آفریدی کی شمولیت کے موقع پر

|

ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے نوجوان اور باصلاحیت کوہ پیما ماریہ بنگش کو کوہ پیمائی اور ایڈونچر اسپورٹس کے شعبے میں...
25/08/2026

ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے نوجوان اور باصلاحیت کوہ پیما ماریہ بنگش کو کوہ پیمائی اور ایڈونچر اسپورٹس کے شعبے میں ان کی شاندار لگن، بے مثال ہمت اور نمایاں کامیابیوں کے اعتراف میں نقد انعام سے نوازا۔اس موقع پر ماریہ بنگش کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا گیا کہ نوجوانوں، بالخصوص خواتین کی کھیلوں اور مہم جوئی کی سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی شرکت ایک مثبت اور خوش آئند رجحان ہے۔ماریہ بنگش نے سال 2024 میں مشہور پہاڑی مقامات میرانجانی اور مشکپوری کی پگڈنڈیوں سے اپنے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز کیا۔ ابتدائی مرحلے سے ہی انہوں نے عزم، حوصلے اور جذبے کے ساتھ مشکل اور چیلنجنگ پہاڑی مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا اور کوہ پیمائی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی مسلسل محنت اور ایڈونچر اسپورٹس سے وابستگی نوجوان نسل کے لیے بالخصوص ایک قابلِ تقلید مثال قرار دی گئی۔تقریب کے دوران ریجنل اسپورٹس آفیسر کوہاٹ اسد خان نے بھی ماریہ بنگش کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماریہ بنگش نے اپنی صلاحیتوں اور عملی جدوجہد کے ذریعے نہ صرف ذاتی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں بلکہ نوجوانوں میں کھیلوں، کوہ پیمائی اور صحت مند بیرونی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی مثبت کردار ادا کیا۔ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے اس موقع پر کہا کہ نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے ماریہ بنگش کی ہمت اور عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی کوہ پیمائی اور ایڈونچر اسپورٹس کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کریں گی اور ضلع کوہاٹ و ملک کا نام روشن کریں گی۔محمد نواز وزیر اور ریجنل اسپورٹس آفیسر اسد خان نے ماریہ بنگش کو خصوصی طور پر اس بات کی ترغیب دی کہ وہ دیگر نوجوانوں، خصوصاً خواتین کو کھیلوں، کوہ پیمائی، ایڈونچر اور دیگر صحت مند بیرونی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع اور مناسب حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرسکتی ہیں۔اس موقع پر ماریہ بنگش کی شاندار کارکردگی کو کوہاٹ کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان جیسے باہمت نوجوان ملک میں کھیلوں اور ایڈونچر کلچر کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ کھیل کی جانب سے بھی باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

محکمہ جنگلات اورکزئی کے قانونی اختیارات میں مبینہ مداخلت، ڈی ایف او اورکزئی کا ڈپٹی کمشنر اورکزئی سے نوٹس لینے کا مطالبہ...
20/08/2026

محکمہ جنگلات اورکزئی کے قانونی اختیارات میں مبینہ مداخلت، ڈی ایف او اورکزئی کا ڈپٹی کمشنر اورکزئی سے نوٹس لینے کا مطالبہ
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر، اورکزئی فاریسٹ ڈویژن ہنگو نے ڈپٹی کمشنر اورکزئی کو ایک تحریری مراسلے کے ذریعے محکمہ جنگلات کے قانونی اختیارات اور فرائض میں مبینہ مداخلت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے فوری انتظامی اور قانونی توجہ دینے کی درخواست کی ہے۔ مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کلایہ کی جانب سے جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل اور ٹرانسپورٹ پاسز سے متعلق معاملات میں مبینہ مداخلت خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002 اور خیبر پختونخوا فاریسٹ پروڈیوس ٹرانزٹ رولز 2004 کے تحت محکمہ جنگلات کے قانونی دائرۂ اختیار کو متاثر کر رہی ہے۔ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کی جانب سے لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جنگلاتی پیداوار کے انتظام، تحفظ اور اس کی قانونی نقل و حمل کو منظم کرنے کی بنیادی ذمہ داری محکمہ جنگلات اور متعلقہ مجاز فاریسٹ افسران پر عائد ہوتی ہے۔ مراسلے کے مطابق خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002 کی دفعہ 26 کے تحت ڈویژنل فاریسٹ آفیسر اپنے دائرۂ اختیار میں جنگلاتی پیداوار کے انتظام، تحفظ اور ضابطہ کاری کا مجاز اور ذمہ دار اتھارٹی ہے۔مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے تفویض کردہ اختیارات میں جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل کا ضابطہ اور کنٹرول، جنگلات سے متعلق جرائم کی روک تھام اور نشاندہی، قانون کے مطابق خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی اور جنگلاتی پیداوار کی قانونی نقل و حمل کے لیے ٹرانسپورٹ پاسز کا اجرا، تصدیق اور منسوخی شامل ہیں۔ڈی ایف او اورکزئی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ خیبر پختونخوا فاریسٹ پروڈیوس ٹرانزٹ رولز 2004 کے رول 3 کے تحت کسی بھی جنگلاتی پیداوار کو مجاز فاریسٹ آفیسر کی جانب سے جاری کردہ درست ٹرانسپورٹ پاس کے بغیر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ مراسلے کے مطابق لکڑی یا دیگر جنگلاتی پیداوار کے ماخذ، ملکیت اور اصلیت کی تصدیق کے علاوہ ٹرانسپورٹ پاس کے اجرا اور توثیق کا مکمل عمل محکمہ جنگلات کے قانونی دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔مراسلے میں ایک مخصوص واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 15 جولائی 2026 کو رجسٹریشن نمبر J-9637 والی ایک پک اپ گاڑی کو ایک پرانی منہدم شدہ عمارت سے حاصل کی گئی ایندھن کی لکڑی منتقل کرتے ہوئے پایا گیا۔ محکمہ جنگلات کے متعلقہ عملے نے گاڑی اور لکڑی کا معائنہ کیا اور لکڑی کے قانونی ماخذ اور ملکیت کے حوالے سے اطمینان کے بعد ٹرانسپورٹ پاس نمبر 02 مورخہ 15 جولائی 2026 جاری کیا گیا۔مراسلے کے مطابق محکمہ جنگلات کا دعویٰ ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور درست ٹرانسپورٹ پاس کی موجودگی کے باوجود مذکورہ گاڑی کو ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کلایہ نے روک لیا۔ خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران قانونی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالی گئی، ڈرائیور سے اصل ٹرانسپورٹ پاس لے لیا گیا اور محکمہ جنگلات کے قانونی دائرۂ اختیار اور ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے اختیارات سے متعلق اختلاف پیدا ہوا۔ اسی مراسلے میں تازی خیل فاریسٹ چیک پوسٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں محکمہ جنگلات کے عملے کے قبضے میں موجود اصل ٹرانسپورٹ پاسز مبینہ طور پر انتظامی ہدایات پر لے لیے جانے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق اس قسم کی کارروائیوں سے فیلڈ عملے کی سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی متاثر ہو رہی ہے۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر نے مراسلے میں قانونی مؤقف اختیار کیا ہے کہ فاریسٹ آرڈیننس 2002 اور ٹرانزٹ رولز 2004 کے تحت کسی ایگزیکٹو مجسٹریٹ یا انتظامی افسر کو مجاز فاریسٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ٹرانسپورٹ پاس کو ضبط کرنے یا یکطرفہ طور پر کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی ٹرانسپورٹ پاس کی اصلیت یا قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی شک پیدا ہو تو معاملہ تصدیق کے لیے پاس جاری کرنے والی متعلقہ فاریسٹ اتھارٹی کو بھیجا جانا چاہیے۔مراسلے میں خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002 کی دفعہ 110 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ فرائض انجام دینے والے فاریسٹ افسران کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اسی طرح دفعہ 79 اور خیبر پختونخوا فاریسٹ آفیسرز (پاورز، ڈیوٹیز اینڈ ریوارڈ) رولز 2004 کے رول 5 کا حوالہ دیتے ہوئے جرمانوں، ضبطی اور دیگر متعلقہ امور کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار کی موجودگی پر زور دیا گیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے قانونی معاملات میں مسلسل مداخلت سے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے قانونی دائرۂ اختیار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جنگلات سے متعلق قوانین کے نفاذ میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور فیلڈ میں خدمات انجام دینے والے عملے کے حوصلے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے مؤقف کے مطابق ایسی صورتحال جنگلاتی پیداوار کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام اور جنگلاتی وسائل کے تحفظ کے مقاصد میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔تاہم مراسلے میں ضلعی انتظامیہ کے امن و امان برقرار رکھنے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون اور بہتر باہمی رابطہ کاری کا حامی ہے۔ اس کے باوجود جنگلاتی پیداوار، ٹرانسپورٹ پاسز اور متعلقہ تکنیکی و قانونی معاملات خصوصی جنگلاتی قوانین کے تحت محکمہ جنگلات کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ڈویژنل فاریسٹ آفیسر نے ڈپٹی کمشنر اورکزئی سے درخواست کی ہے کہ خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002 اور ٹرانزٹ رولز 2004 کے تحت ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے خصوصی اور قانونی اختیارات کو برقرار رکھنے اور ان کا باضابطہ اعتراف کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ضلعی انتظامیہ کے تمام متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ وہ ٹرانسپورٹ پاسز کے اجرا، تصدیق اور نفاذ کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے شک یا ابہام کی صورت میں جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے معاملہ تصدیق کے لیے متعلقہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے پاس بھیجا جائے۔ محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان بہتر بین الادارہ جاتی رابطہ کاری کے لیے انتظامی ہدایات جاری کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے، تاکہ جنگلات سے متعلق قوانین پر ان کی اصل روح اور متن کے مطابق مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ڈی ایف او اورکزئی نے ڈپٹی کمشنر سے فوری اور مؤثر مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ محکمہ جنگلات کے قانونی دائرۂ اختیار کے تحفظ، ضلع اورکزئی میں جنگلاتی وسائل کے مؤثر انتظام اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان بہتر تعاون کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر کوہاٹ فوڈ سیفٹی ٹیم کی داخلی راستوں پر ناکہ بندی، مرغی گوشت کی چیکنگڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وز...
18/08/2026

ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر کوہاٹ فوڈ سیفٹی ٹیم کی داخلی راستوں پر ناکہ بندی، مرغی گوشت کی چیکنگ
ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر کی ہدایت پر کوہاٹ فوڈ سیفٹی ٹیم نے ضلع کوہاٹ کے مختلف داخلی راستوں پر ناکہ بندی کرکے ضلع میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔کارروائی کے دوران مختلف گاڑیوں کے ذریعے کوہاٹ شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں سپلائی کیے جانے والے مرغی کے گوشت کا معائنہ کیا گیا۔فوڈ سیفٹی ٹیم نے گوشت کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کا جائزہ لیا اور اس امر کی جانچ کی کہ مرغی کا گوشت مقررہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق منتقل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ گوشت کی تازگی، صفائی، درجہ حرارت اور نقل و حمل کے دوران اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کا بھی معائنہ کیا گیا تاکہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔فوڈ سیفٹی ٹیم کی جانب سے داخلی راستوں پر چیکنگ کا مقصد ضلع میں داخل ہونے والی اشیائے خورونوش کی سپلائی کی نگرانی اور عوام کو غیر معیاری یا غیر محفوظ خوراک سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق شدید گرمی کے موسم میں گوشت سمیت خراب ہونے والی غذائی اشیاء کی مناسب درجہ حرارت پر ترسیل انتہائی اہم ہے، کیونکہ ناقص طریقے سے منتقل کیا جانے والا گوشت شہریوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری جانب عوامی و سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی کے موجودہ موسم میں بعض مقامات پر مرغی کا گوشت بغیر ایئر کنڈیشنڈ یا مناسب ٹھنڈک کے انتظام والی گاڑیوں کے ذریعے کوہاٹ منتقل اور سپلائی کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوشت کی محفوظ ترسیل کے لیے حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کے داخلی راستوں پر مرغی گوشت اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی چیکنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے اور شدید گرمی کے دوران بغیر مناسب کولنگ سسٹم کے گوشت سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں کو داخلی راستوں کے ساتھ ساتھ شہر اور مختلف بازاروں میں بھی باقاعدگی سے معائنوں کا پابند بنایا جائے تاکہ شہریوں کو محفوظ، صاف ستھرا اور معیاری مرغی کا گوشت فراہم کیا جا سکے اور خوراک سے متعلق کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت روک تھام ممکن ہو۔

Address

Kohat
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zama Kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category