05/06/2026
ڈاکٹروں پر لائسنس میڈیکل فارم کے عوض رقم وصولی کا الزام بے بنیاد قرار، سوشل میڈیا پوسٹ کی تردید
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اس پوسٹ کی سختی سے تردید کی گئی ہے جس میں ڈاکٹروں پر ڈرائیونگ لائسنس کے میڈیکل فارم بھرنے کے عوض رقم وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔متعلقہ طبی ذرائع اور حکام کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے، جس کا مقصد عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنا اور طبی برادری کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے۔حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے فارم کا تفصیلی جائزہ لینے پر متعدد فنی اور انتظامی خامیاں سامنے آئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ فارم یا تو جعلی ہے یا پھر مقررہ ضوابط کے مطابق تیار نہیں کیا گیا۔ فارم میں "ظاہری عمر" کے خانے میں عمر درج کرنے کے بجائے سالِ پیدائش لکھا گیا ہے، جو بنیادی طریقہ کار سے ناواقفیت اور فارم کے غیر مستند ہونے کا واضح ثبوت ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ فارم کا تمام اندراج ایک ہی فرد کی جانب سے کیا گیا دکھائی دیتا ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعلقہ ماہر ڈاکٹروں کی جانچ، رائے اور منظوری ضروری ہوتی ہے۔اس لیے فارم کی موجودہ شکل سرکاری طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتی۔حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ فارم پر لگی مہر لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ کے کسی حاضر سروس ڈاکٹر سے منسوب نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق متعلقہ ریکارڈ سے ہوتی ہے۔اس بنا پر سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کی کوئی قانونی یا عملی حیثیت نہیں بنتی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ نظام کے تحت ڈرائیونگ لائسنس کے لیے میڈیکل کلیئرنس کا عمل آن لائن طریقہ کار کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جس میں مختلف تصدیقی مراحل اور جانچ پڑتال شامل ہوتی ہے۔ اس نظام کے باعث کسی بھی جعلی یا غیر مستند دستاویز کے استعمال کے امکانات نہایت محدود ہو جاتے ہیں۔طبی حلقوں اور متعلقہ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں سے تصدیق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات اور من گھڑت خبروں کا پھیلاؤ نہ صرف عوام کو گمراہ کرتا ہے بلکہ طبی اداروں اور پوری طبی برادری کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔حکام نے واضح کیا کہ ڈاکٹروں پر لگائے گئے الزامات کی بھرپور تردید کی جاتی ہے اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ حقائق کی تصدیق کے بغیر کسی قسم کی معلومات آگے نہ پھیلائے۔