23/05/2026
مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے حکومت اور عوام کے تعلق کو جو اصول دیے، وہ جدید جمہوریت کے کئی بنیادی نکات سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ باتیں خاص طور پر *نامہ 53، مالک اشتر کے نام* اور *خطبہ 216، 229* میں آئی ہیں۔
1. *عوام کی رضامندی حکومت کی بنیاد ہے*
حضرت علی عہ نے فرمایا:
> "لوگوں کی محبت کا خزانہ جمع کرو، کیونکہ ان کی رضا ہی حکومت کی کامیابی ہے اور ان کی ناراضی ہی حکومت کا زوال ہے"
یعنی حکمران کا اقتدار عوام کی حمایت پر قائم ہے۔ زبردستی مسلط کردہ حکومت پائیدار نہیں ہوتی۔
2. *مشاورت اور رائے کا احترام*
"مشورہ میں کبھی تکبر نہ کرنا، اور خود کو مشورے سے بے نیاز نہ سمجھنا"
"میں تمہارا رب نہیں ہوں کہ تم پر غالب آؤں، بلکہ میں تمہارا ایک ساتھی ہوں"
امیرالمومنین عہ نے خود کو ہر معاملے میں صحابہ سے مشورہ لینے کا پابند رکھا۔ یہ "شورائیت" جدید جمہوریت کے پارلیمانی نظام سے مشابہت رکھتی ہے۔
3. *قانون کی حکمرانی - سب برابر*
"کوئی شخص قانون سے بالا تر نہیں، نہ قریبی اور نہ دور کا"
"اگر تمہارا کوئی عامل ظلم کرے اور تمہارے پاس اس کی شکایت پہنچے تو اسے برطرف کرو، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو"
یہ "Rule of Law" کا تصور ہے۔ گورنر، عام شہری، سب ایک ہی قانون کے ماتحت ہیں۔
4. اظہارِ رائے کی آزادی
> "مجھ سے اس طرح بات نہ کرو جس طرح جابروں سے کی جاتی ہے۔ اور مجھ سے وہ بات چھپاؤ نہیں جو تم مجھ سے کہنا چاہتے ہو۔ اور یہ گمان نہ کرو کہ میں ناراض ہو جاؤں گا"
یہ تنقید اور احتساب کا حق ہے۔ حضرت علی عہ نے عوام کو کھل کر سوال کرنے اور غلطی پر ٹوکنے کی دعوت دی۔
5. "عدل و مساوات بطور بنیادی مقصد"
"میں نے تمہیں اس لیے حکمران نہیں بنایا کہ تم پر حکومت کروں، بلکہ اس لیے کہ اللہ کے بندوں میں عدل قائم کرو"
حکومت کا مقصد طاقت نہیں، عدل ہے۔ کمزور اور مظلوم کی حمایت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
6. *عوامی فلاح و بہبود"
مالک اشتر کو لکھے گئے خط میں پورا ایک باب کسانوں، تاجروں، صنعتکاروں، غریبوں کے حقوق پر ہے۔ ٹیکس، زراعت، بازار، سب کے لیے الگ پالیسی دی گئی۔
یہ "Welfare State" کا تصور ہے۔
7. حکومت امانت ہے، وراثت نہیں
"یہ حکومت تمہاری ذاتی ملکیت نہیں، یہ اللہ کی امانت ہے تمہارے پاس"
اقتدار کو خاندانی یا ذاتی جاگیر سمجھنا حضرت علی عہ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ہے۔
خلاصہ حضرت علی علیہ السلام کا نظام "جمہوریت" کے لفظی معنی میں نہیں، بلکہ "مشاورتی، عادلانہ، عوامی جوابدہ حکومت" کے معنی میں جمہوری تھا۔
Syed Rahat Hussain Al Hussaini
SUC Pakistan
Allama Anwar Ali Najafi