Live Kohat

Live Kohat A place to Connect with Live Kohat Its all About Kohat

پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ کے دیرینا کارکن قاسم زبیر۔ کوہاٹ کی سیاسی حلقوں سمیت عوامی حلقوں میں ایک ایسا نام جو چلتا پھرت...
15/05/2026

پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ کے دیرینا کارکن قاسم زبیر۔

کوہاٹ کی سیاسی حلقوں سمیت عوامی حلقوں میں ایک ایسا نام جو چلتا پھرتا نظریہ ہے۔ سب سے بڑی خوبی کہ ان کی شخصیت میں تدبر اور ہر طبقے فکر کے ساتھ بہترین تعلق ان کی شخصیت کا ایک الگ رشن پہلو ہے۔

ضلعی جنرل سیکریٹری کے لئے ایک بہترین چوائس ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ کے کارکنان نے طیب پٹھان کو ضلعی صدارت کے لئے نامزد کر لیا۔
13/05/2026

پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ کے کارکنان نے طیب پٹھان کو ضلعی صدارت کے لئے نامزد کر لیا۔

‏اے راہ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو ‏تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں‏⁦‪ ‬⁩
09/05/2026

‏اے راہ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
‏تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

‏⁦‪ ‬⁩

18/04/2026

مردان گرینڈ جلسہ۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیر رہنماء فیض الرحمان آفریدی نے پشاور اور مردان کے روڈوں کو عمران خان کی تصاویر سے بھر دیا۔

فیض الرحمان آفریدی کی جانب سے 19 اپریل مردان جلسے میں قائد عمران خان کی کال پر عوام الناس کو شرکت کی دعوت دے دی۔

17/04/2026

نئی آبادی بہادرکوٹ کی مین شہراہ کھنڈرات میں تبدیل۔ گیس والوں نے تباہی پھیر دی۔ علاقہ مکین سراپا احتجاج۔

حلقہ ایم پی اے اور ایم این اے کا بہاردرکوٹ کے ساتھ امتیازی سلوک۔ ترقیاتی کام تو دور کی بات، بچی کچی روڈ کو بھی تباہ کیا جارہا ہے۔ جب تک روڈ کا کام ساتھ میں شروع نہیں کیا جاتا، مزید کام نہیں کرنے دینگے۔

ہمیں گیس نہیں چائے، جیسے بجلی نہیں ہم گیس کے بغیر بھی گزارہ کرلینگے مگر سڑک کو برباد نا کیا جائے، مریضوں، بوڑھے بچے عورتیں یہ مین روڈ استعمال کرتے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے احتجاج کی کال دے دی۔

غلام قوم کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اسی طرح بھیڑ بکریوں کی طرح کھولا اور باندھا جاتا ہے۔ تم لوگوں پر قاببض طبقہ تمھیں یہ تھ...
14/04/2026

غلام قوم کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اسی طرح بھیڑ بکریوں کی طرح کھولا اور باندھا جاتا ہے۔
تم لوگوں پر قاببض طبقہ تمھیں یہ تھوڑا بہت جو دے رہے ہیں وہ تم پر احسان سمجھ کر دے رہے ہیں، ورنہ غلام قوم کی کیا اوقات کہ وہ تمام بنیادی سہولتیں حاسل کر سکیں۔

مردہ قومیں کبھی اپنے حقوق کے لئے نہیں لڑتی وہ بس غلامی کی زندگی گزار کر مر کھپ جاتی ہیں۔

14/04/2026

غلام قوم کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔

اور ہم ایک غلام قوم ہیں۔ غلاموں کے غلام۔

12/04/2026

بہادرکوٹ میں روڈ کے بیچو بیچ جہنم کے گھڑے کھود ڈالے۔ اس ملک میں جس کے جی میں جو ائے وہ کر دیتا ہے۔

گیس والو۔۔! اللہ تم لوگوں کو تباہ و برباد کردے ایسے جیسے تم لوگوں نے روڈ کو کردیا ہے۔

‏اسلام آباد کی 'بے بس میزبانی': کرائے کی زمین، پرائے مکین اور قومی وقار کا نوحہ۔اسلام آباد کی شاہراہیں آج کل ایک عجیب و ...
11/04/2026

‏اسلام آباد کی 'بے بس میزبانی': کرائے کی زمین، پرائے مکین اور قومی وقار کا نوحہ۔

اسلام آباد کی شاہراہیں آج کل ایک عجیب و غریب 'سفارتی فتح' کے جشن میں نہائی ہوئی ہیں، مگر اس چکا چوند کے پیچھے چھپی ذلت کی داستان شاید ہی کسی نے پڑھنے کی زحمت کی ہو۔ دنیا کے دو ازلی حریف، امریکہ اور ایران، مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے اسلام آباد کا انتخاب تو کر چکے ہیں، لیکن یہ انتخاب کسی 'اعتماد' کا ثمر نہیں، بلکہ ایک ایسی 'خالی اور بے روح جغرافیہ' کی تلاش تھی جہاں میزبان کی حیثیت ایک خاموش تماشائی سے زیادہ کچھ نہ ہو۔

پاکستان کا حکمران طبقہ اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد اس وقت ایک 'میزبان ملک' نہیں بلکہ 'کرائے کی ایک ایسی زمین' بن چکا ہے جس کا مالک اپنے ہی گھر میں اجنبی ہے۔

امریکی وفد کی آمد اور ان کے ہمراہ آنے والا لاؤ لشکر اس بے اعتمادی کا کھلا اشتہار ہے۔ جب ایک ملک اپنے سفارت کاروں کے ساتھ واشنٹن سے اپنے ذاتی زرہ بکتر ٹینک، جدید ترین ایمبولینسیں اور الیکٹرانک حملوں سے بچاؤ کا سامان کارگو جہازوں میں بھر کر لاتا ہے، تو وہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اسے اپنے میزبان کے سیکیورٹی اداروں، ہسپتالوں اور نیتوں پر ذرہ برابر بھروسہ نہیں ہے۔ اسلام آباد کی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا کردار صرف 'ٹریفک وارڈن' تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ مذاکرات کے مقام اور راستوں کا مکمل کنٹرول امریکی حفاظتی ٹیموں کے پاس ہے۔ کیا یہ خود مختاری ہے یا کسی کی غلامی کا ڈیجیٹل اشتہار؟

شہر کا معروف 'سرینا ہوٹل' اب ایک ہوٹل نہیں بلکہ کسی غیر ملکی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ وہاں سے پاکستانیوں اور مقامی اہلکاروں کا انخلا اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی مٹی پر تو قدم رکھنا چاہتی ہیں، مگر پاکستانیوں کے سائے سے بھی کتراتی ہیں۔ ہوٹل کے کمروں سے لے کر راہداریوں تک، وفاداریوں کا امتحان لیا گیا اور صرف ان ہی کو قریب رہنے دیا گیا جن پر پاکستان کا نہیں، بلکہ واشنگٹن کا مہرِ تصدیق ثبت تھا۔

دوسری جانب، تہران کا رویہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا ہوٹل کے بجائے اپنے سفارت خانے کی چاردیواری میں پناہ لینا اس تیکھے سوال کا جواب ہے کہ کیا ایران کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بھروسہ ہے؟ ہرگز نہیں! ایران کا اس مذاکراتی میز پر آنا پاکستان کی 'سفارت کاری' کا کمال نہیں، بلکہ چین کی 'ضمانت' اور کڑی شرائط کا نتیجہ ہے۔ ایرانی وفد اپنے ساتھ اپنے تکنیکی ماہرین اور محافظ اس خوف سے لایا ہے کہ کہیں ان کا میزبان ان کی جاسوسی کر کے معلومات کی منڈی میں کوئی نئی تجارت نہ شروع کر دے۔

سب سے زیادہ شرمناک منظر اسلام آباد کی فضاؤں میں برپا ہونے والی 'تکنیکی جنگ' ہے۔ امریکہ اور ایران نے اپنے اپنے جیمنگ سسٹم لگا کر وفاقی دارالحکومت کی فریکوئنسیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ جب ایک ریاست اپنے دارالحکومت کی فضاؤں اور لہروں پر کنٹرول کھو دے، تو اسے خود مختاری نہیں بلکہ 'سیکیورٹی کی نیلامی' کہا جاتا ہے۔ میزبان کے کھانے، میزبان کا انٹرنیٹ، اور میزبان کی حفاظت—جب ان تینوں چیزوں کو مہمان ٹھکرا دیں، تو پیچھے صرف ایک خالی عمارت رہ جاتی ہے جسے 'پاکستان' کہا جا رہا ہے۔

یہ مذاکرات خطے میں امن لائیں یا نہ لائیں، لیکن انہوں نے پاکستان کے مقتدر حلقوں کو آئینے میں ان کا اصل چہرہ ضرور دکھا دیا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنی معیشت بچانے کے لیے اپنی زمین 'لیز' پر دینے کے لیے تو تیار ہے، مگر عالمی سطح پر ایک 'بااعتماد شراکت دار' کی توقیر کھو چکی ہے۔

افسوس! کہ اسلام آباد کے لیے یہ تاریخی موقع ایک سفارتی فتح نہیں بلکہ ایک ایسی "خالی جغرافیہ" کی مہرِ تصدیق ہے، جہاں زمین تو ہماری ہے، پر فضاؤں میں حکم کسی اور کا چلتا ہے۔ یاد رکھیے، کہ محض کرسی اور میز مہیا کر دینے سے کوئی 'منصف' یا 'ثالث' نہیں بن جاتا؛ ثالث بننے کے لیے اس وقار کی ضرورت ہوتی ہے جو کرائے کے جہازوں اور ادھار کی سیکیورٹی سے کبھی حاصل نہیں ہوتا۔

سائفر انے پر لیٹنے والوں کے لئے اس میں واضح نشانیاں ہیں۔۔۔!
04/04/2026

سائفر انے پر لیٹنے والوں کے لئے اس میں واضح نشانیاں ہیں۔۔۔!

Address

Kohat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Live Kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category