Mind Ability

Mind Ability 🎭 Laugh. 🧠 Learn. 💪 Grow. Motivation | Reactions | Real Talk
🎥 Spreading good vibes, one post at a time.
🎬 New content every day!
📩 DM for collabs or features
(1)

سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے م...
11/07/2026

سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرات حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا۔

استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیوں کہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔

جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔

میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔ ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوات اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے
منقول۔۔۔

Disclaimer:
This content is based on publicly available social media posts. It is intended for informational purposes only.

"سب سے پہلے میں پاکستانی لوگوں کو سلام کرنا چاہتا ہوں یہ پاکستانی لوگ بڑے دل 💖 کے مالک ہیں۔ کہ خالی خزانے پر بھی وزیر خز...
11/07/2026

"سب سے پہلے میں پاکستانی لوگوں کو سلام کرنا چاہتا ہوں یہ پاکستانی لوگ بڑے دل 💖 کے مالک ہیں۔ کہ خالی خزانے پر بھی وزیر خزانہ بیٹھا رکھا ہے۔ 🙏✅🇵🇰"

Disclaimer:
This content is based on publicly available social media posts. It is intended for informational purposes only.

پکوڑا کس قوم کی ایجاد ہے، پہلی بار اسے کہاں، کس کے پاس اور کیا کرتے دیکھا گیا؟ مورخین کی اکثریت اس موضوع پر بالکل خاموش ...
11/07/2026

پکوڑا کس قوم کی ایجاد ہے، پہلی بار اسے کہاں، کس کے پاس اور کیا کرتے دیکھا گیا؟ مورخین کی اکثریت اس موضوع پر بالکل خاموش ہے۔ ان کی اس خاموشی کا سبب کیا ہے؟ اس پر بھی ایک پراسرار سا سکوت طاری ہے۔ ممکن ہے مورخین پکوڑے کھانے میں اس قدر مصروف ہو گئے ہوں کہ تحقیق کا وقت ہی نہ ملا ہو، یا پھر یہ بھی بعید نہیں کہ پکوڑے نوش فرمانے کے بعد انگلیوں پر جمی چکنائی کے باعث قلم بار بار ہاتھ سے پھسل جاتا ہو۔ وجہ جو بھی ہو، نقصان یہ ہوا کہ ہم پکوڑے کے نقطہ آغاز کے بارے میں ہمیشہ کے لیے الجھن کا شکار ہو گئے۔ ایک منفرد مورخ نے اس کا موجد ایک مکرانی کو قرار دیا ہے، جس نے بیسن کی کچھ ٹکیاں بلاوجہ ابلتے تیل میں پھینکیں اور چولہا جلانا بھول گیا۔ جب کافی دیر تک کچھ متبادل نتیجہ نہ نکلا تو مکرانی نے غصے میں پکارا: "پکو۔۔۔ڑے!" (یعنی اب یہ پکیں گے بھی؟)۔ بس یہی پکوڑوں کا نقطہ آغاز قرار پایا۔ تاہم، یہ روایت جتنی مجہول ہے، اس کے راوی اور وہ مکرانی صاحب بھی اتنے ہی گمنام معلوم ہوتے ہیں۔
اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لیے ہم 'پہیے' کی ایجاد سے استدلال لیتے ہیں، جس نے دنیا میں نقل و حمل کے نظام کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ اب اگرچہ اسلامی روایات کے مطابق یہ حضرت ادریس علیہ السلام کی صنعت کا حصہ ہے، مگر مغربی سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ یہ غاروں میں رہنے والے کسی قدیم انسان کے دماغ کی اختراع ہے۔ مغرب کی یہ روایت پکوڑے کی مذکورہ بالا 'مکرانی روایت' جتنی ہی معتبر معلوم ہوتی ہے۔ پکوڑوں کے بارے میں ایک اور دلفریب داستان بابا آدم کی گیارہویں یا تیرہویں نسل کے ایک نوجوان سے منسوب ہے، جو سیر و سیاحت کا دلدادہ تھا۔ ایک روز گھومتے گھومتے وہ دنیا کے آخری کنارے پر جا پہنچا، جس کے پار کوہِ قاف کی حدود شروع ہوتی تھیں۔ وہاں اس نے پریوں کے ایک جھرمٹ کو محوِ کھیل پایا۔ نوجوان فوراً پریوں کی شہزادی پر دل ہار بیٹھا۔ یہاں 'شہزادی' کا لفظ لکھنا تاریخ کی ادبی لاج رکھنے کے لیے ضروری ہے، ورنہ تاریخ بدذائقہ ہو جاتی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ انسانی ساخت کے باعث نوجوان کوہِ قاف نہیں جا سکتا تھا اور پری دنیا میں نہیں آ سکتی تھی۔
مایوس ہو کر نوجوان قریبی جنگل میں جا بیٹھا اور آہ و بکا کرنے لگا۔ ابھی اس نے چند ہی آہیں بھری تھیں کہ ایک زناٹے دار پتھر اس کے سر پر لگا۔ دیکھا تو ایک عمر رسیدہ، خبطی نما بڑھیا ہاتھوں میں پتھر لیے اس کا نشانہ لے رہی تھی۔ نوجوان کو روتا دیکھ کر بڑھیا کو رحم آ گیا، اس نے بقیہ پتھر ذرا آہستہ مارے اور رونے کی وجہ دریافت کی۔ دکھی داستان سن کر بڑھیا نے اسے ایک گہرا برتن دیا اور ایک خاص ترکیب بتائی۔ نوجوان خوشی خوشی کوہِ قاف کی سرحد پر گیا اور عین پریوں کے سامنے وہ برتن رکھ کر پکوڑے تلنے لگا۔ پکوڑوں کی مسحور کن خوشبو سونگھ کر پریاں دیوانہ وار کوہِ قاف کی سرحدیں توڑ کر باہر نکل آئیں۔ نوجوان پورے غول کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوا۔ واپسی پر اس نے اپنی محسنہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا: "مائی! اپنا نام تو بتا دیجیے تاکہ داستان سناتے ہوئے آسانی ہو۔" بڑھیا نے جواباً دو چار پتھر اور تاک کر مارے اور غصے سے اپنا نام "زبیدہ آپا" بتایا۔ چونکہ اس دور میں حقوقِ نسواں کی مغربی تنظیمیں موجود نہیں تھیں، اس لیے نوجوان متعدد پریوں سے شادیاں کر کے تا دمِ حیات ہنسی خوشی پکوڑے کھاتا رہا۔
روایات کے مطابق برصغیر پاک و ہند میں پہلے پکوڑا آیا، پھر انگریز آیا، اور آخر میں مرغا آیا (انڈے کا تاحال معلوم نہیں کہ وہ کب آیا)۔ کہتے ہیں ایک بار ایک انگریز افسر نے رمضان المبارک میں مسلمانوں کو زچ کرنے کا سوچا اور افطار سے چند لمحے قبل مسلمانوں کے ایک گروہ کے پاس جا پہنچا۔ اس نے نہایت تکبر سے پوچھا: "تمہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہ کر آخر ملتا کیا ہے؟" مسلمان خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ ایک بزرگ نے ساتھ بیٹھے نوجوان سے سرگوشی کی: "یہ گورا کہہ کیا رہا ہے؟" نوجوان نے جواب دیا: "بابا! معلوم نہیں انگریزی میں کیا ہانک رہا ہے، لگتا ہے اس کا بھی پکوڑے کھانے کا دل کر رہا ہے۔" چنانچہ بزرگ نے فوراً دو لذیذ پکوڑے انگریز کے ہاتھ میں تھما دیے۔ راوی لکھتا ہے کہ پکوڑے کا پہلا نوالہ حلق سے اترتے ہی انگریز پر عجیب رقت طاری ہو گئی۔ اس نے بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں گزاری اور اس کے حجرے سے اکثر "جنت کے پکوڑوں" کی صدائیں آتی تھیں۔ اس کے مرنے کے بعد جب ایک خاتون قبرستان گئی تو انگریز کی قبر سے پکوڑے تلنے کی خوشبو اور عجیب آوازیں سن کر بے ہوش ہو گئی۔ جب مولوی صاحب کو دم کرنے کے لیے بلایا گیا، تو انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے کہا: "ایسی باتوں پر پردہ ڈالنا چاہیے!" بس پھر کیا تھا، چند ہی دنوں میں یہ خبر پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ اس میں قصور پکوڑے کا نہیں، بلکہ اس انگریز کا تھا جس نے اپنے نفس کو پکوڑے کا غلام بنا لیا تھا۔
پکوڑے ہمیشہ معصوم نہیں ہوتے، یہ کبھی کبھار بین الاقوامی جھگڑوں کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔ جب دبئی محض ایک صحرا تھا، تو وہاں ایک پاکستانی اور ایک عرب شہری کو دست و گریبان پایا گیا۔ عرب کا اصرار تھا کہ "یہ 'بکوڑے' ہیں، بکواس مت کرو!" جبکہ پاکستانی کا دعویٰ تھا کہ "یہ 'پکوڑے' ہیں، ہمیں پکاؤ مت!" معاملہ سنگین ہونے ہی والا تھا کہ وہاں سے ایک عثمانی ترک کا گزر ہوا۔ وہ صورتحال بھانپ گیا اور فوراً کہیں سے پکوڑوں کا ایک گرم تھال لے آیا parrot۔ پکوڑے سامنے آتے ہی دونوں کا غصہ کافور ہو گیا اور وہ ایک دوسرے کو پکوڑے کھلانے لگے۔ عرب کہتا: "لو حبیبی! پکوڑا کھاؤ" اور پاکستانی کہتا: "نہیں شیخ صاحب! آپ بکوڑا تناول فرمائیں۔" بدقسمتی سے، پکوڑے ختم ہوتے ہی دونوں دوبارہ دست و گریبان ہو گئے۔
طبی اعتبار سے پکوڑوں کا کوئی دین ایمان نہیں۔ انہیں کھا کر بھی طبیعت خراب ہو سکتی ہے اور نہ کھا کر بھی۔ یونانی طبیب جالینوس کا کہنا ہے کہ پکوڑا پہلے درجے میں گرم، دوسرے درجے میں مرطوب اور تیسرے میں گرم و مرطوب ہے۔ تاہم، پاکستان کے مایہ ناز معالج حکیم پپو صابری کا کہنا ہے کہ جالینوس نے یہ تبصرہ پکوڑے کھانے کے بعد حالتِ مستی میں کیا تھا، ورنہ پکوڑا پہلے درجے میں بھی پکوڑا ہی ہوتا ہے اور آخری درجے میں بھی پکوڑا ہی رہتا ہے۔ پاکستان میں پکوڑوں کی اقسام پر فکری اختلاف پایا جاتا ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ اختلاف جھگڑے کا نہیں بلکہ محبت کا باعث بنتا ہے۔ اگر آپ کے ہاں پالک کے پکوڑے بنتے ہیں، تو کسی ایسے پڑوسی کے ہاں بھیج دیں جہاں آلو کے پکوڑے بنتے ہوں۔ وہ اس مختلف ذائقے پر احتجاج نہیں کریں گے، بلکہ چند دنوں بعد اپنی پلیٹ میں ایک نئی قسم کا پکوڑا سجاکر آپ کو بھیجیں گے۔ ثابت ہوا کہ پکوڑا صرف ایک غذا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں امن، بھائی چارے اور یکجہتی کا ایک بہترین سفیر ہے۔ لہٰذا اس کارِ خیر کو جاری رکھیے اور پکوڑے کھاتے رہیے!
Disclaimer:
This content is based on publicly available social media posts. It is intended for informational purposes only.

اب پہلے سے آرام ہے😐
11/07/2026

اب پہلے سے آرام ہے😐

جاگو پاکستانیوں🧐آپ نے تین گھروں کی بجلی کا بل دینا ہے ۔ جو بجلی آپ نے استعمال کی ہے اس کا بل جن کو فری بجلی ملتی ہے ان ک...
11/07/2026

جاگو پاکستانیوں🧐
آپ نے تین گھروں کی بجلی کا بل دینا ہے ۔
جو بجلی آپ نے استعمال کی ہے اس کا بل
جن کو فری بجلی ملتی ہے ان کے حصے کا بل
جو بجلی چوری کرتے ہیں ان کے حصے کا بل

Disclaimer:
This content is based on publicly available social media posts. It is intended for informational purposes only.

جن رشتے داروں یا دوستوں سے 30 دن سے رابطہ نہیں ہوا، انا چھوڑیں حال پوچھ لیں۔ کیا پتہ وہ کس حال میں ہوں دور ویسے بھی بےحس...
11/07/2026

جن رشتے داروں یا دوستوں سے 30 دن سے رابطہ نہیں ہوا، انا چھوڑیں حال پوچھ لیں۔ کیا پتہ وہ کس حال میں ہوں دور ویسے بھی بےحس ہو چکا ہے

Disclaimer:
This content is based on publicly available social media posts. It is intended for informational purposes only.

11/07/2026

Being Muslim in india | standup comedy

Salary ✅ Nokr ❌
10/07/2026

Salary ✅ Nokr ❌

یہ سب کیا دیکھنا پڑ رہا ہے ۔ اچھا ہے میں اندھا ہوں 😅
10/07/2026

یہ سب کیا دیکھنا پڑ رہا ہے ۔ اچھا ہے میں اندھا ہوں 😅

کاش میرٹ بولتا، تو آج عمر اکمل کا بلا بول رہا ہوتا! 💔🏏عمر اکمل... ایک ایسا نام جس نے جب انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا...
10/07/2026

کاش میرٹ بولتا، تو آج عمر اکمل کا بلا بول رہا ہوتا! 💔🏏
عمر اکمل... ایک ایسا نام جس نے جب انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا تو دنیا کے بڑے بڑے بولرز خوفزدہ ہو گئے تھے۔ اس کے پاس وہ کلاس اور ٹیلنٹ تھا جو صدیوں میں کسی ایک کھلاڑی کو ملتا ہے۔ لیکن افسوس، ہمارے ملک میں اکثر ٹیلنٹ کو میرٹ اور مینیجمنٹ کے غلط فیصلوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کا شاندار ریکارڈ (The Record):
اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس ٹیلنٹ کو صحیح گائیڈنس ملتی تو وہ پاکستان کے عظیم ترین بلے بازوں میں شامل ہو سکتے تھے:
ٹیسٹ کرکٹ: صرف 16 میچز میں 1,003 رنز، بشمول 1 شاندار سنچری اور 6 ففٹیز (ایوریج: 35.82)۔
ون ڈے (ODI): 121 میچز میں 3,194 رنز، جس میں 2 سنچریاں اور 20 ففٹیز شامل ہیں۔
ٹی 20 انٹرنیشنل:84 میچز میں 1,690 رنز، جہاں انہوں نے 8 نصف سنچریاں اسکور کیں اور ان کا بہترین اسکور 94 رہا۔
یہ وہ ریکارڈ ہے جو انہوں نے ایک ایسے دور میں بنایا جب انہیں مڈل آرڈر میں مسلسل مختلف پوزیشنز پر کھلایا گیا اور کبھی مستقل موقع نہیں دیا گیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ صرف گراؤنڈ پر کھیلنے کا نام نہیں ہے، یہ کھلاڑی کی ذہنی تربیت اور مینجمنٹ کے پائیدار تعاون کا نام ہے۔ جب آپ ایک نوجوان اور بے پناہ باصلاحیت کھلاڑی کو مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار رکھتے ہیں، اسے بار بار ڈراپ کرتے ہیں اور میرٹ سے ہٹ کر فیصلے کرتے ہیں، تو کھلاڑی کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ عمر اکمل سے غلطیاں ضرور ہوئیں، لیکن کیا مینیجمنٹ نے کبھی ایک سرپرست (Mentor) بن کر اسے سنبھالنے کی کوشش کی؟ یا صرف سائیڈ لائن کرنا آسان سمجھا؟
ایک فین کی حیثیت سے دل دکھتا ہے یہ دیکھ کر کہ جس کھلاڑی کو پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہونا چاہیے تھا، وہ نظام کی بے رخی کا شکار ہو گیا۔ ٹیلنٹ خدا کی دین ہوتا ہے، اور جب ہم اپنے ہی ہیروز کو صحیح سمت اور میرٹ پر موقع نہیں دیتے، تو نقصان صرف اس کھلاڑی کا نہیں، پوری قوم کے کرکٹ کلچر کا ہوتا ہے۔ عمر اکمل کا ضائع ہونا پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو ہمیشہ ہمیں یاد دلائے گا کہ صرف ٹیلنٹ ہونا کافی نہیں، میرٹ کا ہونا بھی لازمی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا عمر اکمل کے ساتھ انصاف ہوا؟ اپنے خیالات کا اظہار کمنٹس میں کریں۔👇

Disclaimer:
This content is based on publicly available social media posts. It is intended for informational purposes only.

Address

Orakzai, Kohat Division, KPK
Kohat
26000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mind Ability posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mind Ability:

Shortcuts

Share