11/06/2026
وفاقی بجٹ 2026-27 میں مجوزہ ٹیکس تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی سے مختلف کمپنیوں کی بائیکس چند ہزار سے لے کر 16 ہزار روپے تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت موجودہ 1 فیصد وفاقی ٹیکس کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ یہ ٹیکس تمام پیٹرول اور کمبسشن انجن والی گاڑیوں پر لاگو ہوگا، جن میں موٹر سائیکلیں بھی شامل ہیں۔
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی موٹر سائیکل ہونڈا CD70 کی قیمت میں تقریباً 3,100 روپے اضافہ متوقع ہے، جبکہ CG125 تقریباً 4,500 روپے، CB150F تقریباً 10,100 روپے اور CG150 تقریباً 9,100 روپے تک مہنگی ہو سکتی ہے۔
اسی طرح سوزوکی GS150 کی قیمت میں 8,100 روپے جبکہ GR150 اور GSX125 کی قیمتوں میں 10 ہزار روپے سے زائد اضافے کا امکان ہے۔ ہائی اسپیڈ سائیکلون 250 سمیت دیگر برانڈز کے بعض ماڈلز کی قیمتوں میں 16 ہزار روپے تک اضافہ متوقع بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ممکنہ اضافے سے عام صارفین، ڈیلیوری رائیڈرز اور بائیک ٹیکسی سروس سے وابستہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ملک میں لاکھوں افراد روزگار اور سفر کے لیے موٹر سائیکلوں پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم یاد رہے کہ یہ تمام تجاویز ابھی حتمی نہیں ہیں۔ اصل صورتحال وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کے بعد واضح ہوگی، جسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔