Muhammad Yaqoob Razvi

Muhammad Yaqoob Razvi In E Commerce Every thing you need is here

07/01/2026

Your Client is your mentor

28/12/2025

ای کامرس کا جادو
ای کامرس کی اصل طاقت یہ ہے کہ یہ آپ کے سامنے “بازار” کو چھوٹا نہیں دکھاتی یہ آپ کو پورا ملک دکھاتی ہے۔ ہم اکثر روزی کو گلی کے نکڑ تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج خریداری کا میدان موبائل کی اسکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس میدان کو دیکھتے تو ہیں، مگر کھیلنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ اگر ہم ایک سادہ مثال سے سوچیں تو بات بالکل سیدھی ہو جاتی ہے۔

فرض کریں آپ نے ایک پراڈکٹ سورس کی جو آپ کو 110 روپے میں پڑتی ہے۔ آپ اس کے ساتھ پیکنگ، شپنگ/ہینڈلنگ اور مارکیٹنگ کا خرچ جوڑتے ہیں، اور اسے 500 روپے میں بیچتے ہیں۔ اب آپ کے ذہن میں فوراً یہ سوال آتا ہے کہ “اصل منافع بچتا بھی ہے یا نہیں؟” تو یہی تو کھیل ہے،آپ منافع کو میک اپ نہیں کرتے، آپ اسے نمبر بنا دیتے ہیں۔ مان لیں تمام اخراجات نکال کر آپ کے ہاتھ میں فی پراڈکٹ 250 روپے بچتے ہیں۔ یہ رقم بظاہر کم لگتی ہے، مگر جب یہی عمل “اسکیل” ہوتا ہے تو کم چیز بڑی بن جاتی ہے۔یہی ای کامرس کا جادو ہے۔

اب مارکیٹ کی طرف آئیں۔ پاکستان کی آبادی تقریباً پچیس کروڑ ہے۔ ہمیں پوری آبادی نہیں چاہیے۔ ہمیں صرف ایک چھوٹا سا حصہ چاہیے، اتنا چھوٹا کہ لوگ مذاق اڑا دیں مثلاً صرف ایک لاکھ یونٹس۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک لاکھ کہاں سے بکیں گے؟ جواب یہ ہے کہ آج کل کسٹمر کو آپ کے پاس آنے کی ضرورت نہیں، آپ کو کسٹمر کے سامنے جانے کی ضرورت ہے اور یہ آپ سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک مارکیٹ پلیس، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اور اپنے حلقۂ احباب کے نیٹ ورک سے کر سکتے ہیں۔ آپ کی دوستیاں، آپ کے گروپس، آپ کے شہر کی کمیونٹی، آپ کے جاننے والوں کا جاننے والا۔ یہ سب آپ کے لیے سیلنگ میدان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ کسی بڑی شاپ کے بغیر بھی شروع کرتے ہیں، کیونکہ آج دکان کا نام “توجہ” ہے اور اس کا کرایہ “کانٹینٹ” ہے۔

اب فرض کریں آپ مسلسل تین مہینے صحیح طریقے سے مارکیٹنگ کرتے ہیں، روزانہ پوسٹ، روزانہ ریچ آؤٹ، روزانہ کسٹمر ہینڈلنگ، اور اعتماد بنانے والا انداز اور آپ واقعی ایک لاکھ پراڈکٹس بیچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اگر فی پراڈکٹ آپ کو 250 روپے بچتے ہیں تو ایک لاکھ پر یہ بنتا ہے 2 کروڑ 50 لاکھ۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں لوگ چونک جاتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہن میں کاروبار ابھی تک “دکان، کرایہ، بڑے سرمائے” کا نام ہے، جبکہ ای کامرس میں اصل سرمایہ “سیکھنے کی ہمت اور روزانہ کی محنت” ہے۔

اور اس میں ایک اور زبردست اضافہ بھی ہے جو لوگ اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں، اگر آپ اپنے ہی شہر میں سیل کر رہے ہیں تو آپ بہت سے کیسز میں خود ڈیلیوری کر کے ڈیلیوری چارجز بھی بچا سکتے ہیں، خاص طور پر شروع میں۔ آپ کو معلوم ہے کہ کس محلے میں آرڈر ہیں، آپ روٹ بنا سکتے ہیں، ایک ہی وقت میں 5–10 ڈیلیوریز نکال سکتے ہیں، اور کسٹمر کے سامنے خود جا کر اعتماد بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ صرف پیسے بچانے کی بات نہیں، یہ “ریپیٹ کسٹمر” بنانے کی بات ہے۔ لوگ اس برانڈ سے دوبارہ خریدتے ہیں جس کا چہرہ، رویہ اور وعدہ انہیں سچا لگے۔ آپ کا اپنا شہر آپ کی ٹریننگ گراؤنڈ ہے۔کم خرچ، کم رسک، زیادہ کنٹرول، اور زیادہ سیکھنے کا موقع۔

البتہ ایک سچ ہم نے بھی ماننا ہے۔کاروبار میں منافع “گارنٹی” نہیں ہوتا کیونکہ ریٹرن، خراب پراڈکٹ، غلط ٹارگٹنگ، یا کمزور کسٹمر سروس نقصان بھی کروا سکتی ہے۔ لیکن یہی تو عقل مندی ہے کہ ہم کھیل کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ نقصان کم سے کم ہو، چھوٹا اسٹاک، کم SKU، پہلے پری آرڈر یا limited quantity، اپنے شہر میں خود ڈیلیوری، اور پروڈکٹ وہ جس کی مانگ واضح ہو۔ ناکامی زیادہ تر وہاں ہوتی ہے جہاں لوگ یا تو بغیر حساب کے کود پڑتے ہیں، یا پھر حساب سمجھ کر بھی قدم نہیں اٹھاتے۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے: کچھ نہیں بدلتا۔

تو سوال آخر میں یہی ہے کہ ہم کب تک غربت کو قسمت کہیں گے، جب کہ ہمارے ہاتھ میں ایک ایسا ماڈل موجود ہے جس میں ہم گھر بیٹھ کر بھی مارکیٹ تک پہنچ سکتے ہیں، اور چاہیں تو اپنے شہر میں خود جا کر ڈیلیوری دے کر خرچ بھی بچا سکتے ہیں؟ شروع کرنا کوئی رومان نہیں، یہ ایک فیصلہ ہے۔ ہم چھوٹا شروع کریں، سیکھتے جائیں، نمبر دیکھتے جائیں، اور روزانہ اپنے سسٹم کو بہتر کرتے جائیں۔ پھر ای کامرس “خیال” نہیں رہتی، یہ آمدن بن جاتی ہے۔

تو کیا خیال ہے؟ ہم 2026 میں شروع کر رہے ہیں یا پھر ایک اور سال صرف “سوچتے” رہیں گے؟

21/12/2025

Does God Exist?


20/12/2025

Address

Kalma Chowk
Kot Addu
34050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Yaqoob Razvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Yaqoob Razvi:

Share