29/12/2025
پاکستان میں بہنے والے دریا نہ صرف قدرتی طور پر آپس میں مل جاتے ہیں بلکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم کے اندر 12 بڑی انٹر ریور لنک نہریں ہیں جو کہ دریاؤں جیسے مشرقی دریاؤں جیسے سندھ، جہلم اور چناب سے مغربی دریاوں جیسے راوی ستلج وغیرہ درمیان پانی کی منتقلی کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں تاکہ وسیع رقبے کو سیراب کیا جا سکے۔
پاکستان کے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم میں 19 بیراج، 3 بڑے ڈیم (تربیلا، منگلا، چشمہ) اور 120,000 سے زیادہ واٹر کورسز بھی شامل ہیں۔
یہ سارا نظام سیلاب کے دنوں میں مکمل بند کردیا جاتا ہے تاکہ نہری نظام کو سیلابی پانی، مٹی گارے اور کچرے سے بچایا جاسکے۔ کسی بھی دریا کا سیلابی پانی اس کے اندر چلتا ہے اسے کسی طرف موڑا نہیں جاتا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مون سون بارشوں اور باربار آنے والے سیلابوں کے لئے ہمیں اب سیلابی دریائی رابطہ نہروں کی طرف بھی آنا پڑے گا جیسے کہ :
1-تربیلا سے سیلابی پانی کی سیلابی نہر کے ذریعے سواں دریا / ڈیم کی طرف موڑنا،
2-منگلا ڈیم سے منگلا مرالہ لنک کینال کے ذریعے چناب میں پانی کے جانا،
3-سلیمانکی بیراج سے چولستان میں سیلابی نہریں لے جانا ،
4-چشمہ بیراج سے سیلابی نہر کے ذریعے صحرائے تھل میں پانی چھوڑنا،
5-گُدو بیراج سے صحرائے تھر میں سیلابی نہر سے پانی چھوڑنا
6۔ دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے ساتھ ساتھ میانوالی سے لے کر، تونسہ، ڈی جی خان، مری بُگٹی اور کیرتھر کے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی نالوں پر چھوٹے ڈیم بنانا اور سیلابی پانی کو پھیلانے والے سٹرکچرے بنانا-
-7۔پنجاب کے میدانی دریاؤں کے ساتھ ساتھ سیلابی پانی کو ذخیری کرنے والے پونڈ ایریا بنانا اور بیراجوں کی تعداد دُگنا کرنا۔
8۔ بھمبر نالے پر بھمبر ڈیم بنانا، چناب پر چنیوٹ ڈیم بنانا۔
9۔ راوی اور ستلج دریا سے سیلابی نہروں کے ذریعے سُکھ بیاس دریا کے راستے پر پانی ڈالنا