14/08/2025
خوشحال گڑھ کے مقام پر دریا سندھ کی گہرائی تقریباً 954 فٹ ہے ، اتنے گہرے بہتے پانی پر پُل کیسے تعمیر کیا گیا ،اور پُل کے ستونوں کو کسطرح کھڑا کیا گیا ، !!
دریائے سندھ کی مجموعی چوڑائی کو آگر دیکھا جائے ، تو خوشحال گڑھ کے مقام پر سب سے چھوٹے اور تنگ مقام سے دریا کا گزر ہے ، یہاں آپ تصویروں کو غور سے دیکھیں گے ، تو واضح نظر آتا ہیکہ دریا کے عین وسط میں کوئی ستون نہیں ، جہاں دونوں پُلوں(نئے اور پرانے) کے نیچے آپکو ستونیں نظر آرہی ہیں ،،، یہ پانی میں پہاڑ ہے ، اس پہاڑ کے اوپر بنائے گئے ہیں ۔
آپ بغیر ستون والے پُل بھی کہہ سکتے ہے ، تصویروں کو غور سے دیکھنے کے بعد آپکو اندازہ ہو جائیگا ، ایک طرف سے ستون کا فاصلہ بہت ہی کم ہے ، اور دوسری طرف بہت زیادہ بلکہ سہ چند ہے ۔
تاریخی کتابوں میں ذکر کچھ یوں ہیکہ کوہاٹ.........03-1902
جب خوشحال گڑھ پل کو ٹکڑوں میں دریاۓ سندھ پر لایا گیا...
راولپنڈی تا کوہاٹ تا ٹل ریلوے لائن مختلف مراحل میں تعمیر کی گئی. 1881 میں جنڈ سے خوشحال گڑھ تک ریلوے لائن بچھائی گئی. اپریل 1899 میں خوشحال گڑھ تا کوہاٹ تا ٹل ریلوے لائن بچھانے کے لئے علاقے کا سروے کیا گیا.
لیکن ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دریائے سندھ پر مستقل ریلوے پل کی بجائے رسیوں سے بنا پل بنایا جائے گا تاہم ایک حادثے کے بعد 1902 میں موجودہ پل بنانے کا فیصلہ ہوا. اس ریلوے لائن کی تعمیر کا مقصد تیراہ اور پاڑہ چنار کے ساتھ ملحقہ افغان سرحد پر جنگ کی صورت میں فوج اور اسلحہ کی افغان سرحد تک تیزی سے ترسیل کرنا تھا.
ایک بڑی عجیب بات جس کا تذکرہ تاریخ میں بہت کم ملتا ہے وہ یہ کہ جب یہ ریلوے لائن مکمل ہوئی تو سب سے پہلے اس پر تین ریلوے بوگیاں تجرباتی طور پر چلائی گئیں لیکن ان بوگیوں کو ریلوے انجن کے بجا ئے دو بیلوں اور ایک خچر سے کھینچا گیا.
کوہاٹ خوشحال گڑھ پل کو برطانیہ میں ٹکڑوں میں بنا کر کوہاٹ لایا گیا اگرچہ اٹک اور سکھر پر ایک پل تھا، لیکن 800 کلومیٹر کے فاصلہ میں دریائے سندھ پر کوئی گزرنے والا راستہ نہیں تھا جو دونوں کو الگ کرتا تھا۔ کوہاٹ میں ایک بڑی چھاؤنی قائم کی جا رہی تھی لیکن اسے صرف پشاور سے ہی سہارا دیا جا سکتا تھا اور کوہاٹ پاس (درۂ کوتل) سے اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی۔
خوشحال گڑھ میں ایک کراسنگ موجود تھی جس پر کشتیوں کے ایک پل کے ذریعے کام کیا جاتا تھا جسے گرمیوں میں دریا کے بڑھنے پر توڑنا پڑتا تھا۔ کشتیوں والی پُل کو جس گھونٹوں سے باندھا جارہا تھا ،اسکے آثار ابھی بھی موجود ، تصویروں میں سکتے ہیں ۔۔
ایک ریلوے لائن کو راولپنڈی سے جنڈ تک بڑھایا گیا اور 1902میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ریل/سڑک پل تعمیر کیا جائے۔
خوشحال گڑھ میں دریائے سندھ دو پھیلے ہوئے ریل/سڑک پل کا ڈیزائن رینڈل اور رابرٹسن کی ٹیم نے تیار کیا جس نے لینڈڈاؤن برج (سکھر ریلوے پل) پر بھی کام کیا تھا۔ آج بھی خوشحال گڑھ پل اسی حالت میں موجود ہے۔
نوٹ : تاریخی حوالہ جات ، برصغیر پاک و ہند کے زمانے کی کتابوں سے لی گئی ہیں ، ہوسکتا ہے کسی دوست کے پاس اور طرح کی معلومات ہو، رہنمائی فرمائیں ممنون رہونگا ۔
عابدنیازخان بنوں !!!