Punjab Rivers & Barrages Daily Updates

Punjab Rivers & Barrages Daily Updates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Punjab Rivers & Barrages Daily Updates, Digital creator, Kot Addu.

پنجاب کے دریاؤں نہروں اور بیراجوں پر پانی کی آمد اور آخراج ، سیلابی صورتحال ، نہروں کی بندش ، تمام معلومات کا قابل اعتماد زریعہ ۔ پیج کو فالو کریں اور دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

پاکستان میں بہنے والے دریا نہ صرف قدرتی طور پر آپس میں مل جاتے ہیں بلکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے انڈس بیسن ایری...
29/12/2025

پاکستان میں بہنے والے دریا نہ صرف قدرتی طور پر آپس میں مل جاتے ہیں بلکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم کے اندر 12 بڑی انٹر ریور لنک نہریں ہیں جو کہ دریاؤں جیسے مشرقی دریاؤں جیسے سندھ، جہلم اور چناب سے مغربی دریاوں جیسے راوی ستلج وغیرہ درمیان پانی کی منتقلی کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں تاکہ وسیع رقبے کو سیراب کیا جا سکے۔

پاکستان کے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم میں 19 بیراج، 3 بڑے ڈیم (تربیلا، منگلا، چشمہ) اور 120,000 سے زیادہ واٹر کورسز بھی شامل ہیں۔

یہ سارا نظام سیلاب کے دنوں میں مکمل بند کردیا جاتا ہے تاکہ نہری نظام کو سیلابی پانی، مٹی گارے اور کچرے سے بچایا جاسکے۔ کسی بھی دریا کا سیلابی پانی اس کے اندر چلتا ہے اسے کسی طرف موڑا نہیں جاتا۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مون سون بارشوں اور باربار آنے والے سیلابوں کے لئے ہمیں اب سیلابی دریائی رابطہ نہروں کی طرف بھی آنا پڑے گا جیسے کہ :

1-تربیلا سے سیلابی پانی کی سیلابی نہر کے ذریعے سواں دریا / ڈیم کی طرف موڑنا،

2-منگلا ڈیم سے منگلا مرالہ لنک کینال کے ذریعے چناب میں پانی کے جانا،

3-سلیمانکی بیراج سے چولستان میں سیلابی نہریں لے جانا ،

4-چشمہ بیراج سے سیلابی نہر کے ذریعے صحرائے تھل میں پانی چھوڑنا،

5-گُدو بیراج سے صحرائے تھر میں سیلابی نہر سے پانی چھوڑنا

6۔ دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے ساتھ ساتھ میانوالی سے لے کر، تونسہ، ڈی جی خان، مری بُگٹی اور کیرتھر کے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی نالوں پر چھوٹے ڈیم بنانا اور سیلابی پانی کو پھیلانے والے سٹرکچرے بنانا-

-7۔پنجاب کے میدانی دریاؤں کے ساتھ ساتھ سیلابی پانی کو ذخیری کرنے والے پونڈ ایریا بنانا اور بیراجوں کی تعداد دُگنا کرنا۔

8۔ بھمبر نالے پر بھمبر ڈیم بنانا، چناب پر چنیوٹ ڈیم بنانا۔

9۔ راوی اور ستلج دریا سے سیلابی نہروں کے ذریعے سُکھ بیاس دریا کے راستے پر پانی ڈالنا

خوشحال گڑھ کے مقام پر دریا سندھ کی گہرائی  تقریباً 954 فٹ ہے ، اتنے گہرے بہتے پانی پر پُل کیسے تعمیر کیا گیا ،اور پُل کے...
14/08/2025

خوشحال گڑھ کے مقام پر دریا سندھ کی گہرائی تقریباً 954 فٹ ہے ، اتنے گہرے بہتے پانی پر پُل کیسے تعمیر کیا گیا ،اور پُل کے ستونوں کو کسطرح کھڑا کیا گیا ، !!

دریائے سندھ کی مجموعی چوڑائی کو آگر دیکھا جائے ، تو خوشحال گڑھ کے مقام پر سب سے چھوٹے اور تنگ مقام سے دریا کا گزر ہے ، یہاں آپ تصویروں کو غور سے دیکھیں گے ، تو واضح نظر آتا ہیکہ دریا کے عین وسط میں کوئی ستون نہیں ، جہاں دونوں پُلوں(نئے اور پرانے) کے نیچے آپکو ستونیں نظر آرہی ہیں ،،، یہ پانی میں پہاڑ ہے ، اس پہاڑ کے اوپر بنائے گئے ہیں ۔

آپ بغیر ستون والے پُل بھی کہہ سکتے ہے ، تصویروں کو غور سے دیکھنے کے بعد آپکو اندازہ ہو جائیگا ، ایک طرف سے ستون کا فاصلہ بہت ہی کم ہے ، اور دوسری طرف بہت زیادہ بلکہ سہ چند ہے ۔

تاریخی کتابوں میں ذکر کچھ یوں ہیکہ کوہاٹ.........03-1902
جب خوشحال گڑھ پل کو ٹکڑوں میں دریاۓ سندھ پر لایا گیا...
راولپنڈی تا کوہاٹ تا ٹل ریلوے لائن مختلف مراحل میں تعمیر کی گئی. 1881 میں جنڈ سے خوشحال گڑھ تک ریلوے لائن بچھائی گئی. اپریل 1899 میں خوشحال گڑھ تا کوہاٹ تا ٹل ریلوے لائن بچھانے کے لئے علاقے کا سروے کیا گیا.

لیکن ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دریائے سندھ پر مستقل ریلوے پل کی بجائے رسیوں سے بنا پل بنایا جائے گا تاہم ایک حادثے کے بعد 1902 میں موجودہ پل بنانے کا فیصلہ ہوا. اس ریلوے لائن کی تعمیر کا مقصد تیراہ اور پاڑہ چنار کے ساتھ ملحقہ افغان سرحد پر جنگ کی صورت میں فوج اور اسلحہ کی افغان سرحد تک تیزی سے ترسیل کرنا تھا.

ایک بڑی عجیب بات جس کا تذکرہ تاریخ میں بہت کم ملتا ہے وہ یہ کہ جب یہ ریلوے لائن مکمل ہوئی تو سب سے پہلے اس پر تین ریلوے بوگیاں تجرباتی طور پر چلائی گئیں لیکن ان بوگیوں کو ریلوے انجن کے بجا ئے دو بیلوں اور ایک خچر سے کھینچا گیا.

کوہاٹ خوشحال گڑھ پل کو برطانیہ میں ٹکڑوں میں بنا کر کوہاٹ لایا گیا اگرچہ اٹک اور سکھر پر ایک پل تھا، لیکن 800 کلومیٹر کے فاصلہ میں دریائے سندھ پر کوئی گزرنے والا راستہ نہیں تھا جو دونوں کو الگ کرتا تھا۔ کوہاٹ میں ایک بڑی چھاؤنی قائم کی جا رہی تھی لیکن اسے صرف پشاور سے ہی سہارا دیا جا سکتا تھا اور کوہاٹ پاس (درۂ کوتل) سے اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی۔

خوشحال گڑھ میں ایک کراسنگ موجود تھی جس پر کشتیوں کے ایک پل کے ذریعے کام کیا جاتا تھا جسے گرمیوں میں دریا کے بڑھنے پر توڑنا پڑتا تھا۔ کشتیوں والی پُل کو جس گھونٹوں سے باندھا جارہا تھا ،اسکے آثار ابھی بھی موجود ، تصویروں میں سکتے ہیں ۔۔

ایک ریلوے لائن کو راولپنڈی سے جنڈ تک بڑھایا گیا اور 1902میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ریل/سڑک پل تعمیر کیا جائے۔

خوشحال گڑھ میں دریائے سندھ دو پھیلے ہوئے ریل/سڑک پل کا ڈیزائن رینڈل اور رابرٹسن کی ٹیم نے تیار کیا جس نے لینڈڈاؤن برج (سکھر ریلوے پل) پر بھی کام کیا تھا۔ آج بھی خوشحال گڑھ پل اسی حالت میں موجود ہے۔

نوٹ : تاریخی حوالہ جات ، برصغیر پاک و ہند کے زمانے کی کتابوں سے لی گئی ہیں ، ہوسکتا ہے کسی دوست کے پاس اور طرح کی معلومات ہو، رہنمائی فرمائیں ممنون رہونگا ۔

عابدنیازخان بنوں !!!

Date : 31-07-2025
31/07/2025

Date : 31-07-2025

Check out the all new Honda CG 150!
30/07/2025

Check out the all new Honda CG 150!

08/12/2023

Address

Kot Addu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjab Rivers & Barrages Daily Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share