Jhatial Youth World

Jhatial Youth World All the activities of Jhatial community I have made this page for sharing more & more knowledge for every person who wants to increase general knowledge.

I think that my Quiz is easy to understand. the language is not matter, because I write the questions in Urdu, Sindhi & English. I had been doing this work from cell phone messages. then I thought of uploading it on internet. I think that my Quiz has something for every person though he is a student, preparing himself for job test etc.

جھتیال یوتھ ورلڈ کی جانب سے بچوں کا عالمی دن مبارک ہو۔🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
01/06/2026

جھتیال یوتھ ورلڈ کی جانب سے بچوں کا عالمی دن مبارک ہو۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

غلام عباس جھتیال۔۔غلام عباس جھتیال ولد دین محمد جھتیال ولد مانجھی جھتیال ولد شھداد جھتیال ولد باجھی جھتیال ولد مانجھی جھ...
31/05/2026

غلام عباس جھتیال۔۔
غلام عباس جھتیال ولد دین محمد جھتیال ولد مانجھی جھتیال ولد شھداد جھتیال ولد باجھی جھتیال ولد مانجھی جھتیال ولد جھانگی جھتیال کی پیدائش یکم دسمبر 1963ء کو گاؤں شہداد جھتیال عرف گوٹھ وڈو جھتیال عرف گوٹھ علی مردان جتوئی تعلقہ میہڑ، ضلع دادو میں ہوئی۔ آپ کے چار بھائی غلام حسین جھتیال، محمد قاسم جھتیال، مولوی محمد منیر جھتیال اور علی گوھر جھتیال اور دو بہنیں ہیں اور ان میں سب سے چھوٹے آپ تھے اس لیے بچپن میں گھر میں انکو ننڈھڑا اور ننڈھو یعنی چھوٹو کہا جاتا تھا۔

1968ء میں غلام عباس جھتیال کا خاندان اور چار دوسرے خاندان اپنے آبائی گاؤں سے نکل کر میہڑ سے رادھن روڈ پر مشہور ولیج پپری کے سامنے 250 جریب زمین خرید کر کہ اپنا چھوٹا سا گاؤں قائم کر کہ وہاں آباد ہوئے۔ یہ گاؤں ان کے چچا علی حیدر جھتیال کے نام سے قائم ہوا۔ اور آج بھی قائم و دائم ہے۔

غلام عباس جھتیال نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے جنوب مغرب کی طرف ولیج ٹھوڑھا میں حاصل کی۔ مڈل کلاس اپنے ولیج سے مشرق کی طرف گورنمنٹ مڈل سکول بٹ سرائی سے حاصل کی اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول میہڑ سے 1978 میں پاس کیا۔ مذکورہ تعلیم میں انکے بڑے بھائی علی گوہر بھی ساتھ تھے۔
اپنی تعلیم کے دوران پرائمری مڈل اور ہائی سکول کے اساتذہ انکی ذہانت کی تعریف کرتے تھے لہٰذا ان کے چچا علی حیدر جھتیال جوکہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اس لیے ان کی خاص توجہ تھی کہ غلام عباس پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے۔

میٹرک کے بعد سندھ کے اس وقت کے مشہور کالج سچل سرمست گورنمنٹ سائنس آرٹس اینڈ کامرس کالج نواب شاہ میں داخلہ لیا جہاں انکے بڑے بھائی مولوی محمد منیر جھتیال بطور عریبک ٹیچر پہلے ہی اس شہر میں رہائش پذیر تھے۔ سچل سرمست کالج نواب شاہ میں اس وقت بہت قابل اساتذہ موجود تھے اور یہ کالج اپنی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کی اور زیرو فیصد نقل کی وجہ سے بڑا مشہور تھا۔

کالج کے زمانے میں غلام عباس جھتیال کی توجہ بائیں بازو کی طلبہ سیاست کی طرف ہوگئی کیونکہ اس وقت آمر ضیاء کی غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت اپنے جوبھن پر تھی۔ سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت اختیار کی اور سچل کالج یونٹ کے جنرل سیکریٹری بنے جبکہ صدر پیر مظھرالحق قریشی اور نواب شاہ کے مشہور طالب علم رہنما صفت رند ضلع نواب شاھ کی طلبہ سیاست کو اپنی رہنمائی میں چلا رہے تھے۔ غلام عباس جھتیال نے اپنی طلبہ سیاست کی سرگرمی کی وجہ سے اپنی تعلیم پر اچھی طرح دھیان نہ دے سکے اور میڈیکل یعنی ایم بی بی ایس میں داخلہ نہ ہو سکا۔ اپنی زندگی کی پہلی ناکامی کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوئے کیونکہ انکے اکثر دوست میڈیکل اور انجنیئرنگ میں سلیکٹ ہوگئے۔ واپس اپنے گاؤں جاکر پاکستان نیوی میں اپلاء کیا جہاں وہ جونیئر آڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس طرح 1980ء کی دہائی کے شروعات میں غلام عباس جھتیال 18 - 19 سال کی عمر میں میہڑ دادو سے کراچی آگئے۔

کراچی میں رہتے ہوئے 1984ء میں گریجوئیشن اور 1986ء میں اکنامکس میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی اور سندھ سیکریٹریٹ میں اگست 1986ء میں اسسٹنٹ کے طور پر میرٹ پر جاب حاصل کی۔ لہٰذا پاکستان نیوی چھوڑ کر سندھ سیکریٹریٹ میں آگئے۔ ان کے کیریئر کا سفر اسسٹنٹ سے سینئر اسسٹنٹ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، سپرنٹنڈنٹ، اکاونٹس آفیسر، سیکشن آفیسر، اسسٹنٹ ڈائرکٹر، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی ڈائرکٹر، ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی سیکریٹری گریڈ 18 پر منتج ہوا اور اپنے کیریئر کے دوران مختلف محکموں جیسا کہ محکمہ تعلیم، محکمہ انہار اریگیشن ڈپارٹمنٹ، محکمہ فنانس، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ، محکمہ بلدیات، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، چیف منسٹر سیکریٹریٹ، سپیشل انیشیٹو ڈپارٹمنٹ، ہوم ڈپارٹمنٹ اور آخری پوسٹنگ محکمہ صحت حکومت سندھ میں ہوئی جہاں سے اپنی عمر عزیز کے تقریبا چالیس سال گزارنے کے بعد سرکار کو خیرباد کہتے ہوئے 2023ء میں رٹائر ہوئے۔
غلام عباس جھتیال اپنی جاب کے دوران اپنے مطالعے کو جاری رکھا۔ پہلے وہ ایک لبرل آزاد خیال بائیں بازو کے لوگوں سے تعلق رکھتے تھے اور انکا پسندیدہ رہنما کامریڈ جام ساقی تھا اور خان ولی خان، میر غوث بخش خان بزنجو، سردار اکبر خان بگٹی سے بھی ایک قسم کی ذہنی وابستگی تھی ۔
تاہم 1985ء میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو ان سے طویل سیاسی بحث ہوا۔ بزرگ نے پوچھا کہ آپ نے کیا پڑھا ہے تو غلام عباس جھتیال نے کہا کہ میں نے کارل مارکس کو، اینجل کو، مائوزی تنگ کو، لینن کو، کم ال سنگ کو، فیدرل کاسترو کو اور دوسرے کئی نام گنوائے تو بزرگ نے کہا کہ "عباس بھائی !! کیا آپ نے قرآن کو معنی و مطالب و تفاسیر کے ساتھ پڑھا ہے؟ کیا احادیث کی کتابیں صحاح ستہ یعنی بخاری مسلم ترمذی ابوداود نسائی اور مسند امام احمد پڑھی ہیں؟ کیا آپ نے ابن العربی، امام غزالی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو، حیات سندھی کو ،مولانا عبیداللہ سندھی کو پڑھا ہے؟ کیا آپ نے امام مالک، امام ابو جنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کو پڑھا ہے؟ کیا آپ نے اسلامی تاریخ پڑھی ہے؟ کیا آپ نے اسلامی فلسفہ پڑھا ہے؟ میں نے انکار کیا تو اس صاحب نے فرمایا پہلے انکو پڑھ لو پھر آپ انصاف کرو کہ دونوں میں کیا فرق ہے اور کون صحیح ہے۔

غلام عباس جھتیال نے کرشمہ قدرت کا ایک عجیب قصہ بتاتے ہوے کہا کہ اس عالم سے ملاقات کے کچھ ہی دنوں بعد لالو کھیت لیاقت آباد کراچی میں جہاں وہ شام کو آفس ٹائم بعد ٹیوشن پڑھاتے تھے وہاں ایک بزرگ سے ملاقات رہتی تھی جو انگریز دور میں ریاست ٹونک انڈیا کے راجہ کے وار سیکریٹری War Secretary رہ چکے تھے جن کا نام نثار احمد ھاشمی تھا انہوں نے قرآن مجید کا ایک مترجم نسخہ دیا اور کہا کہ آپ پڑھنے پڑھانے کے شوقین ہیں یہ نسخہ آپ لے لیں اور پڑھیں۔ یہ میری طرف سے آپ کے لیے تحفہ ہے۔ اس مصحف کو دیکھا تو پتہ چلہ کہ اس میں ایک معنی حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانوی دوسری معنی اسیر مالٹا شیخ الھند مولانا محمود الحسن کی تھی اور ہاشیے میں مختصر تفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی بار مجھے ایمانی حلاوت نصیب ہوئی اور پتہ چلا کہ علم کیا چیز ہے۔ اللہ سے محبت کیا چیز ہے۔ رسول اللہ سے تعلق و محبت کیا چیز ہے اور دنیا کی زندگی کا مطلب کیا ہے۔ آخرت کیوں ضروری ہے۔ غلام عباس جھتیال نے بتایا کہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ پڑھتے ہوئے اور معنی و مطالب پر غور کرتے ہوئے جب سورہ یس کی اس آیت پر پہنچا جہاں اللہ پاک نے فرمایا۔۔۔
اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ نُّطۡفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞ترجمہ:
اور کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا تھا؟ پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا بن گیا۔
وَضَرَبَ لَـنَا مَثَلًا وَّ نَسِىَ خَلۡقَهٗ‌ ؕ قَالَ مَنۡ يُّحۡىِ الۡعِظَامَ وَهِىَ رَمِيۡمٌ ۞
ترجمہ: ہمارے بارے میں وہ باتیں بناتا ہے، اور خود اپنی پیدائش کو بھلا بیٹھا ہے، کہتا ہے کہ : ان ہڈیوں کو کون زندگی دے گا جبکہ وہ گل چکی ہوں گی؟
قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ۞
ترجمہ: کہہ دو کہ : ان کو وہی زندگی دے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ پیدا کرنے کا ہر کام جانتا ہے۔
یہ آیات پڑھ کر دوبارہ کلمہ پڑھا اور دوبارہ مشرف بایمان ہوا۔ اس کے بعد اسلامی تاریخ پر تقریباً بیس کتابیں پڑھیں اور جدید عربی کا تین سالہ کورس کیا جو مصر کی الازھر یونیورسٹی سے باء پوسٹ حاصل کیا اور جدید عربی کا چھ مہینہ کا کورس نارتھ ناظم آباد جناب مولانا آصف قاسمی صاحب کے مدرسے سے شام کو کیا جہاں غیر ملکی طلبہ بھی پڑھتے تھے۔ اسی دوران مختلف مکاتب فکر کے علماء سے اور مذھبی غیر مذھبی سیاستدانوں سے ملاقاتیں بھی کرتا تھا۔ انہی دنوں مصر کے مشہور قاری باسط اور افغان رہنمائوں گلدبدین حکمتیار اور ربانی صاحب سے بھی جامعہ اسلامیہ بنوریہ میں ملاقات ہوئی۔ علماء میں سائیں عبدالکریم قریشی بیر شریف، مولانا فضل الرحمن خان، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا محمد طاھر عرف سجن سائین، شہید احسان الاھی ظھیر، حافظ سعید احمد مجاھد سمیت تمام مکاتب فکر کے کئی جید علماء سے ملاقاتیں کیں اور ان سے سوالات جوابات کی محفل میں حصہ لیا۔
اپنی جاب کے دوران غلام عباس جھتیال نے 1992ء میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا لیکن ایوریج حاصل نہ بن سکنے کی وجہ سے فیڈرل سروس میں منتخب نہ ہوسکے۔ پھر 1995ء میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی طرف سے مقابلے کے امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئے لیکن زبانی امتحان میں ناانصافی ہونے کی وجہ سے صرف ایک مارک کم ہونے کی وجہ سے سلیکٹ نہ ہوسکے۔۔۔لیکن اپنے کیریئر میں آگے بڑھتے رہے۔

غلام عباس جھتیال نے مزید بتایا کہ 1999- 2000- 2001 -2002 اور 2003ء میں تبلیغی جماعت کے ساتھ گہری وابستگی رہی اور ایک چار مہینے کا سفر اور دو چالیس چالیس دن کے اسفار ہوئے جن میں اپنی تشکیل کے دوران سندھ، پنجاپ اور کے پی کے کے کافی شہروں دیہاتوں میں جانا ہوا۔ ایک بار لودھراں شہر کے باء پاس والی مسجد میں تشکیل کے دوران قریب کے جھتیال برادری کو پتہ چلہ تو ملک محمد صدیق جھتیال تشریف لائے ملاقات کی اور اپنے گاؤں چلنے کا کہا لیکن اپنی جماعت کے غیر ملکی ساتھیوں کے ترجمان کی حیثیت سے باہر نہیں جاسکتا تھا اس لیے نہیں گئے۔

غلام عباس جھتیال نے 2006ء میں پہلا تیس دن کا سعودی عرب کا سفر کیا جس میں عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی اور دوسرا سفر چالیس دن کا 2008ء میں کیا جس میں عمرہ کے علاوہ فرض حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ دونوں اسفار میں مدینہ منورہ میں بھی قیام کے لیے کافی دن ملے۔ اس کے علاوہ سیاحت کے شوق کی وجہ سے ملائشیا اور آذربائیجان کا سفر بھی کر چکے ہیں اور دوران سفر دبئی ایئرہورٹ بھی پر بھی کچھ وقت گزارا ہے۔
غلام عباس جھتیال ایک سوشل ورکر کے طور پر کراچی میں اپنے علائقے میں مشہور ہیں۔ شانتی نگر ویلفیئر ایسوسیئیشن کے ایک فعال رکن ہیں جہاں ایک بار نائب صدر شاہ لطیف سکول کے بورڈ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے علائقے میں ہر وقت لوگوں کے چھوٹے موٹے کاموں کے حل کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ 2010- 2011 اور 2022ء کے سیلابوں اور برساتوں میں اپنے ملکی اور غیر ملکی دوستوں سے مالی مدد لے کر ضلع دادو اور ضلع سجاول اور ضلع بدین اور تھر پارکر کے کافی متاثرین کی مدد کی جس میں راشن کا سامان اور نقد شامل تھا ۔

اپنے جھتیال برادری کے اتحاد و اتفاق اور دوسرے باہمی مسائل کے حل کے لیے بھی سرگردان رہتے ہیں۔ جھتیال برادری پر لکھے گئے کتاب کے سلسلے میں پروفیسر مدد علی صاحب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتے رہے۔ کراچی میں جھتیال برادری کو اکھٹا کرنے میں رجب علی جھتیال سے تعاون کرتے رہے ۔

جھتیال برادری پر لکھے گئے کتاب کی رونمائی پر اپنی طبیعت کی ناسازگی کے باوجود حیدرآباد تشریف لے گئے اور برادری کو خطاب کیا۔ برادری کے سردار جناب منور خان صاحب سے بڑا محبت والا تعلق رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ہے کہ اکرموا ساداتکم کہ اپنے بڑوں کی عزت کیا کرو لہٰذا ہر سال عیدین پر ان سے سلام۔دعا رکھتے ہیں اور جب بھی اپنے گاؤں میہڑ جانا ہوتا ہے تو رادھن سٹی جا کر سردار صاحب سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔

کراچی میں رہائش اختیار کرنے کے بعد غلام عباس جھتیال کی شادی کراچی میں قدیمی طور سے آباد ایک ساکھانی چانڈیو بلوچ کے معتمد شخص جناب محمد انور بلوچ کی صاحبزادی سے شادی ہوئی اور آپ کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹا آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں ڈیکن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں جاب کر رہے ہیں اور دوسرا بیٹا ابھی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ بیٹیوں میں ایک بیٹی زولاجی میں بی ایس کرنے کے بعد وفاقی حکومت میں گریڈ 17 میں آفیسر یعنی اینٹامولاجسٹ ہیں اور باقی دو بیٹیاں پونیورسٹی سے بی بی اے اور ماسٹرس مکمل کر چکی ہیں۔

غلام عباس جھتیال نے مزید بتایا کہ یہاں کراچی میں آنے کے بعد اور یہاں کے حالات دیکھنے کے بعد یہ تہیہ کیا کہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی کراچی میں آباد کرنا ہے اور آج الحمدللہ ان کی ایک بہن ایک بھائی اور دو بھائیوں کے اپنے اپنے گھر کراچی میں ہیں اور بھائیوں اور ایک بہن کی اولادیں خوب پڑھ لکھ کر اعلی عہدوں پر جاب کر رہے ہیں ان میں سے کچھ کراچی میں اور کچھ بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔

غلام عباس جھتیال گورنمنٹ جاب سے رٹائر ہونے کے بعد گھر میں بیٙٹھنے کے بجاء دادو گروپ آف کمپنیز کے فیملی تکافل کے شعبے میں کنسلٹنٹ کے طور پر وابستہ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ اپنی زرعی زمین کی دیکھ بھال کرنے جاتی سجاول بھی جاتے رہتے ہیں۔ ان کی آبائی زمین کی دیکھ بھال جو کہ میہڑ میں ہے ان کے بڑے بھائی کی اولاد کرتے ہیں۔

غلام عباس جھتیال کو مساجد بنانے کا بھی شوق رہتا ہے۔ آپ نے بتایا کہ اپنے محلے میں جامع مسجد زینب اور مدرسہ خلفاء راشدین کے خود مہتمم ہیں ۔ان کے علاوہ مدھو گوٹھ کراچی میں ایک مسجد، سیوھن شریف شہر کے جمالی محلہ کھوسہ پاڑہ میں ایک مسجد، میہڑ شہر کے حاطہ محلہ میں ایک مسجد اور اپنے گاؤں میں بھی ایک مسجد بنانے کی توفیق اللہ پاک نے بخشی ہے۔

غلام عباس جھتیال نے اپنے کیریئر میں ایک محنتی قابل اور وقت کے پابند آفیسر رہے اور کبھی کسی سے کوئی ناجائز رقم نہ طلب کی اور ناہی کسی سے لی اور ناہی کسی کے کام۔یا فائیل کو ناجائز روکا۔ آپ ایک ایماندار اور خدا ترس آفیسر کے طور پر مشہور رہے۔ اپنے کیریئر میں کبھی بھی سسپینڈ نہیں ہوئے، کبھی شوکاز نوٹس اشو نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی کسی خردبرد کے کیس میں ملوث رہے۔

غلام عباس جھتیال نے سرکاری جاب سے رٹائر ہونے کے بعد باقائدہ سیاسی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں اور جےیو آء میں شمولیت اختیار کی ہے۔ جے یو آء یوسیب7 شانتی نگر کراچی اور گلشن اقبال ٹائون کے اہم ذمہ داروں میں شامل ہیں اور ضلعہ شرقی کراچی کے ضلع کائونسل کے رکن ہیں اور مولانا فضل الرحمن سے انتہائی محبت و عقیدت والہ تعلق رکھتے ہیں۔

ایک صاف ستھرے اجلے کردار کے مالک انسان اپنے زندگی کے آخری ایام اللہ کے کرم سے انتہائی خوشحالی اور سکون سے اپنی فیملی کے ساتھ کراچی میں گزار رہے ہیں۔
الحمد للہ رب العالمین۔

غلام عباس جھتیال: علم، جدوجهد، خدمت جو روشن سفر۔۔۔۔غلام عباس جھتیال ولد دين محمد جھتیال، ولد مانجهي جھتیال، ولد شهداد جھ...
31/05/2026

غلام عباس جھتیال: علم، جدوجهد، خدمت جو روشن سفر۔۔۔۔
غلام عباس جھتیال ولد دين محمد جھتیال، ولد مانجهي جھتیال، ولد شهداد جھتیال، ولد باجهي جھتیال، ولد مانجهي جھتیال، ولد جهانگي جھتیال، پھرین ڊسمبر 1963ع تي تعلقي ميهڙ، ضلعي دادو جي ڳوٺ شهداد جھتیال (ڳوٺ وڏو جھتیال) ۾ جنم ورتو. سندن چار ڀائر غلام حسين جھتیال، محمد قاسم جھتیال، مولوي محمد منير جھتیال ۽ علي گوهر جھتیال آهن، جڏهن تہ ٻہ ڀينرون پڻ آهن. هو سڀني ڀائرن ۽ ڀينرن ۾ سڀ کان ننڍا هئا، تنهنڪري گهر ڀاتي محبت مان کين "ننڍڙو" ۽ "ننڍو" سڏيندا هئا.

1968ع ۾ سندن خاندان ۽ ٻين چئن خاندانن پنهنجي اباڻي ڳوٺ مان لڏي، ميهڙ ـ راڌڻ روڊ تي مشهور ڳوٺ پپري جي سامهون تقريباً 250 جريب زمين خريد ڪري نئون ڳوٺ آباد ڪيو. اهو ڳوٺ سندن چاچي علي حيدر جھتیال جي نالي سان قائم ٿيو، جيڪو اڄ بہ آباد ۽ قائم دائم آهي.

غلام عباس جھتیال ابتدائي تعليم ڳوٺ ٺوڙها مان حاصل ڪئي. مڊل تعليم گورنمنٽ مڊل اسڪول ٻٽ سراءِ مان ۽ 1978ع ۾ گورنمنٽ هاءِ اسڪول ميهڙ مان ميٽرڪ پاس ڪئي. تعليم دوران سندن وڏو ڀاءُ علي گوهر جھتیال پڻ ساڻن گڏ پڙهندو رهيو. ننڍپڻ کان ئي غلام عباس جھتیال غير معمولي ذهانت، تيز فهمي ۽ محنت سبب استادن جي خاص توجھ جو مرڪز رهيا. سندن چاچي علي حيدر جھتیال جي وڏي خواهش هئي تہ هو اعليٰ تعليم حاصل ڪري ڊاڪٽر بڻجن. ميٽرڪ کان پوءِ هنن سچل سرمست گورنمنٽ سائنس، آرٽس اينڊ ڪامرس ڪاليج نواب شاھ ۾ داخلا ورتي. اهو ادارو پنهنجي اعليٰ تعليمي معيار، سخت نظم ۽ نقل کان پاڪ ماحول سبب سنڌ جي ممتاز تعليمي ادارن مان شمار ٿيندو هو.
ڪاليج واري دور ۾ ملڪ تي جنرل ضياءُ الحق جي فوجي حڪومت قائم هئي. ان سياسي ماحول غلام عباس جھتیال جي فڪر تي اثر ڇڏيو ۽ هو ترقي پسند شاگرد سياست ڏانهن راغب ٿيا. هنن سنڌ نيشنل اسٽوڊنٽس فيڊريشن ۾ شموليت اختيار ڪئي ۽ سچل ڪاليج يونٽ جا جنرل سيڪريٽري چونڊيا ويا. ان دور ۾ پير مظهر الحق قريشي ۽ صفت رند جهڙا شاگرد اڳواڻ سندن سياسي تربيت جا اهم ذريعا رهيا.

سياسي سرگرمين سبب هو پنهنجي تعليمي مقصدن تي مڪمل توجھ نہ ڏئي سگهيا، جنهن جي نتيجي ۾ ايم بي بي ايس ۾ داخلا حاصل نہ ڪري سگهيا. اها سندن زندگيءَ جي پهرين وڏي مايوسي هئي، ڇاڪاڻ تہ سندن ڪيترائي دوست ميڊيڪل ۽ انجنيئرنگ جي شعبن ۾ چونڊجي ويا هئا. ان کان پوءِ هنن پاڪستان نيوي ۾ درخواست ڏني ۽ جونيئر آڊيٽر طور چونڊجي ويا. اهڙي طرح نوجوانيءَ ۾ ئي ميهڙ کان ڪراچي منتقل ٿي ويا.

ڪراچي ۾ رهندي هنن 1984ع ۾ گريجوئيشن ۽ 1986ع ۾ اقتصاديات ۾ ماسٽرز جي ڊگري حاصل ڪئي. ساڳئي سال آگسٽ 1986ع ۾ ميرٽ تي سنڌ سيڪريٽريٽ ۾ اسسٽنٽ طور نوڪري حاصل ڪئي، جنهن کان پوءِ پاڪستان نيوي ڇڏي سنڌ حڪومت جي انتظامي ڍانچي جو حصو بڻيا. سندن سرڪاري ڪيريئر اسسٽنٽ کان شروع ٿي سينئر اسسٽنٽ، اسسٽنٽ سپرنٽنڊنٽ، سپرنٽنڊنٽ، اڪائونٽس آفيسر، سيڪشن آفيسر، اسسٽنٽ ڊائريڪٽر، اسسٽنٽ ڪمشنر، ڊپٽي ڊائريڪٽر، ڊپٽي ڪمشنر ۽ آخرڪار گريڊ 18 جي ڊپٽي سيڪريٽري جي عهدن تائين پهتو.

پنهنجي تقريباً چاليهن سالن جي سرڪاري خدمت دوران هنن تعليم، آبپاشي، ناڻي، سروسز اينڊ جنرل ايڊمنسٽريشن، بلديات، بينظير انڪم سپورٽ پروگرام، چيف منسٽر سيڪريٽريٽ، اسپيشل انيشيٽو، هوم ڊپارٽمينٽ ۽ صحت کاتي سميت ڪيترن ئي اهم ادارن ۾ خدمتون سرانجام ڏنيون. 2023ع ۾ هو عزت، وقار ۽ نيڪ نامي سان رٽائر ٿيا.

غلام عباس جھتیال جي شخصيت جو هڪ اهم پاسو سندن علم دوستي آهي. نوجوانيءَ ۾ هو ترقي پسند فڪر جا حامي هئا ۽ ڪامريڊ جام ساقي، خان عبدالولي خان، مير غوث بخش بزنجو ۽ ٻين قومي اڳواڻن جي سوچ کان متاثر هئا. 1985ع ۾ هڪ عالم بزرگ سان ملاقات سندن فڪري زندگيءَ ۾ اهم موڙ ثابت ٿي. ان بزرگ کين قرآن مجيد، حديث، اسلامي تاريخ، اسلامي فلسفي ۽ مسلمان مفڪرن جي مطالعي ڏانهن متوجه ڪيو. ڪجھ ئي عرصي بعد هڪ بزرگ نثار احمد هاشمي کين قرآن مجيد جو ترجمو ۽ مختصر تفسير وارو نسخو تحفي طور ڏنو.

غلام عباس جھتیال بيان ڪن ٿا تہ جڏهن هنن قرآن مجيد کي ترجمي ۽ تفسير سان پڙهڻ شروع ڪيو تہ کين ايماني حلاوت نصيب ٿي. خاص طور سورة يس جون آيتون، جن ۾ انسان جي تخليق ۽ قيامت جي حقيقت جو ذڪر آهي، سندن دل تي گهرو اثر ڇڏي ويون. ان کان پوءِ سندن فڪر، سوچ ۽ زندگيءَ جو رخ تبديل ٿي ويو.
هنن اسلامي تاريخ، اسلامي فلسفي، تفسير، حديث ۽ عربي ادب جو وسيع مطالعو ڪيو. جديد عربي ٻوليءَ جا مختلف ڪورس مڪمل ڪيا ۽ ڪيترن ئي نامور عالمن، دانشورن ۽ سياسي شخصيتن سان ملاقاتون ڪيون.
1992ع ۾ فيڊرل پبلڪ سروس ڪميشن جو سي ايس ايس امتحان پاس ڪيائون، پر مجموعي معيار تي پورو نہ لهڻ سبب چونڊ نہ ٿي سگهي. 1995ع ۾ سنڌ پبلڪ سروس ڪميشن جو مقابلي وارو امتحان پڻ ڪاميابيءَ سان پاس ڪيائون، پر صرف هڪ نمبر گهٽ هجڻ سبب آخري چونڊ ۾ شامل نہ ٿي سگهيا.

1999ع کان 2003ع تائين تبليغي جماعت سان سندن گهرو تعلق رهيو. هنن چار مهينن جو هڪ ۽ چاليهن ڏينهن جا ٻہ اهم سفر ڪيا، جن دوران سنڌ، پنجاب ۽ خيبرپختونخوا جي ڪيترن ئي شهرن ۽ ڳوٺن ۾ دعوتي ۽ اصلاحي سرگرمين ۾ حصو ورتو. 2006ع ۽ 2008ع ۾ سعودي عرب جا روح پرور سفر ڪيائون، جن دوران عمري ۽ حج جي سعادت حاصل ڪئي. ان کان سواءِ ملائيشيا ۽ آذربائيجان جي سياحت پڻ ڪئي.

غلام عباس جھتیال سماجي خدمت جي ميدان ۾ بہ نمايان حيثيت رکن ٿا. شانتي نگر ويلفيئر ايسوسيئيشن جا سرگرم رڪن رهيا آهن ۽ پنهنجي علائقي جي تعليمي، سماجي ۽ فلاحي سرگرمين ۾ هميشہ اڳڀرا رهيا آهن.
2010ع، 2011ع ۽ 2022ع جي ٻوڏن ۽ برساتن دوران هنن پنهنجي دوستن ۽ خيرخواهن جي تعاون سان دادو، سجاول، بدين ۽ ٿرپارڪر جي سوين متاثر خاندانن تائين راشن، مالي امداد ۽ ضروري سامان پهچائڻ ۾ اهم ڪردار ادا ڪيو.

جھتیال برادريءَ جي اتحاد، تنظيم ۽ ترقي لاءِ پڻ هميشہ سرگرم رهيا آهن. برادريءَ جي تاريخ ۽ سڃاڻپ بابت ٿيندڙ علمي ۽ ادبي ڪوششن ۾ ڀرپور تعاون ڪيو ۽ مختلف اجتماعن ۾ رهنمائي ڪندڙ ڪردار ادا ڪيو.

ڪراچي ۾ رهائش اختيار ڪرڻ کان پوءِ سندن شادي محمد انور بلوچ جي صاحبزادي سان ٿي. الله تعاليٰ کين ٻن پٽن ۽ ٽن نياڻين سان نوازيو. سندن اولاد اعليٰ تعليم يافتہ آهي ۽ مختلف ملڪي ۽ بين الاقوامي ادارن ۾ خدمتون سرانجام ڏئي رهي آهي.

غلام عباس جھتیال پنهنجي خاندان جي ترقي، تعليم ۽ معاشي استحڪام لاءِ پڻ اهم ڪردار ادا ڪيو. سندن ڪوششن سان خاندان جا ڪيترائي فرد ڪراچي ۽ ٻاهرين ملڪن ۾ آباد ٿيا ۽ اعليٰ تعليم حاصل ڪري اهم عهدن تي پهتا. رٽائرمينٽ کان پوءِ بہ هو عملي زندگيءَ کان پري نہ رهيا. هن وقت داود گروپ آف ڪمپنين جي فيملي ٽڪافل شعبي سان صلاحڪار طور لاڳاپيل آهن. ان سان گڏ پنهنجي زرعي زمينن جي سار سنڀال ۽ سماجي خدمتن ۾ پڻ سرگرم آهن.

مسجدن جي تعمير ۽ ديني خدمتن سان بہ سندن خاص دلچسپي رهي آهي. ڪراچي، سيوهڻ شريف، ميهڙ ۽ پنهنجي اباڻي ڳوٺ ۾ مسجدن جي تعمير ۽ آبادڪاريءَ ۾ اهم ڪردار ادا ڪيو آهي.

پنهنجي سڄي سرڪاري ڪيريئر دوران غلام عباس جھتیال هڪ ايماندار، محنتي، وقت جي پابند ۽ فرض شناس آفيسر طور مشهور رهيا. هنن ڪڏهن بہ ناجائز فائدو حاصل نہ ڪيو، نہ ڪنهن جو ڪم بنا سبب روڪيو ۽ نہ ئي ڪنهن بدعنوانيءَ جي الزام هيٺ آيا. سندن سروس رڪارڊ بي داغ ۽ مثالي رهيو. سرڪاري ملازمت مان رٽائر ٿيڻ کان پوءِ هنن باقاعده سياسي سرگرمين ۾ حصو ورتو ۽ جمعيت علماءِ اسلام ۾ شموليت اختيار ڪئي. هو جميعت علماءِ اسلام جي مقامي ۽ ضلعي سطح جي تنظيمي ذميوارين ۾ سرگرم آهن ۽ مولانا فضل الرحمن سان عقيدت ۽ احترام جو تعلق رکن ٿا.

غلام عباس جھتیال هڪ صاف سٿري ڪردار، اعليٰ اخلاق، علم دوستي، سماجي خدمت، خانداني وفاداري ۽ ديني وابستگيءَ جي خوبين سان سينگاريل شخصيت آهن. اڄ هو الله تعاليٰ جي فضل ۽ ڪرم سان پنهنجي خاندان سان گڏ ڪراچي ۾ عزت، سڪون ۽ خوشحاليءَ واري زندگي گذاري رهيا آهن.
الحمد لله رب العالمين...

‎إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎‎ڳوٺ باهو جهتيال جي معزز، نيڪ دل ۽ سماجي شخصيت حاجي سڪندر جهتيال صاحب رضا ال...
28/05/2026

‎إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

‎ڳوٺ باهو جهتيال جي معزز، نيڪ دل ۽ سماجي شخصيت حاجي سڪندر جهتيال صاحب رضا الاهي سان انتقال ڪري ويا آهن

‎حاجي سڪندر جهتيال صاحب هميشه پنهنجي برادري، دوستن ۽ علائقي جي ماڻهن سان محبت، خلوص ۽ احترام وارو رويو رکندا هئا۔ مرحوم جي وڇوڙي سان نه صرف سندن خاندان پر سموري ڳوٺ باهو جهتيال هڪ مخلص ۽ باوقار شخصيت کان محروم ٿي ويو آهي۔
‎الله پاڪ مرحوم کي پنهنجي جوار رحمت ۾ اعليٰ مقام عطا فرمائي، سندن سمورن نيڪ عملن کي قبول فرمائي ۽ جنت الفردوس ۾ اعليٰ جاءِ نصيب ڪري۔ آمين
‎ڏکويل خاندان، عزيزن ۽ سمورن سوڳوارن سان دلي تعزيت ۽ همدردي جو اظهار ڪجي ٿو۔ الله پاڪ کين هي وڏو صدمو صبر ۽ همت سان برداشت ڪرڻ جي توفيق عطا فرمائي۔ آمين۔

‎سوڳوار
‎حاجي منظور جهتيال (ڀاء)
‎عادل حسين جهتيال (ڀاء)
‎نورنبي جهتيال (ڀاء)
‎الله بخش جهتيال (ڀاء)
‎شاهد حسين جهتيال (ڀائيٽيو)
‎شاھ محمد جهتيال (ڀائيٽيو)

جھتیال یوتھ ورلڈ کی جانب سے عالم انسانیت کو عیدالاضحیٰ مبارک ہو۔🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
27/05/2026

جھتیال یوتھ ورلڈ کی جانب سے عالم انسانیت کو عیدالاضحیٰ مبارک ہو۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🌹 مبارکباد 🌹الحمدللہ!جھتیال برادری کو محمد عثمان کی شاندار کامیابی پر دلی خوشی ہے، جنہوں نےاسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (I...
26/05/2026

🌹 مبارکباد 🌹
الحمدللہ!
جھتیال برادری کو محمد عثمان کی شاندار کامیابی پر دلی خوشی ہے، جنہوں نے
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (IUB) میں
Doctor of Pharmacy (Pharm-D) First Professional
کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے
687 نمبر حاصل کیے۔ ✨
اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں، عزت، علمِ نافع اور دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین 🤲

مہر شاہد سلطان جھتیال صاحب جو اس وقت یوکے میں مقیم ہیں۔ مہر شاہد سلطان جھتیال قوم کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جنہوں نے اپنی ز...
26/05/2026

مہر شاہد سلطان جھتیال صاحب جو اس وقت یوکے میں مقیم ہیں۔ مہر شاہد سلطان جھتیال قوم کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت، فلاحی کاموں اور دکھی انسانوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
کالم: " نفسا نفسی کا دور اور انسانیت کے چراغ"
آج کا دور 5G ٹیکنالوجی کی برق رفتاری کا دور ہے، جہاں فاصلے تو سمٹ گئے ہیں، مگر! دلوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر طرف ایک ہی تماشہ برپا ہے—نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر شخص راتوں رات امیر ہونے کے " شارٹ کٹ" کی تلاش میں اندھا دھند بھاگ رہا ہے۔ اس ماڈرن دور میں انسان اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ دولت کی ہوس میں دنیا کے معزز ترین رشتوں کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرتا اور ضمیر کا سودا اس کے لیے معمولی سی بات بن چکی ہے۔ آئے روز کے مشاہدات اور تلخ حقائق دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے۔ کہ شاید انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے اور یہ دنیا اب صرف فتنہ و فساد کا مسکن رہ گئی ہے۔ لیکن! تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی ظلمت کی سیاہی حد سے بڑھنے لگتی ہے، تو قدرت کہیں نہ کہیں سے روشنی کی ایک ایسی کرن نمودار کرتی ہے جو مایوسی کے بادلوں کو چھانٹ دیتی ہے۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کا اپنے خالق پر بھروسہ اور پختہ ہو جاتا ہے کہ یہ کائنات آج بھی اگر قائم و دائم ہے، تو یہ صرف ان نفوسِ قدسیہ کی بدولت ہے۔ جن کے سینے انسانیت کے درد سے لبریز ہیں۔
میری پیاری اور پسندیدہ شخصیت ضلع مظفرگڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بستی ڈنگی کی مٹی سے اُبھرنے والا ایک معتبر نام جھتیال برادری کا چشم و چراغ،
محترم مہر شاہد سلطان جھتیال ہے۔? اُنہوں نے اپنی زندگی کا محور و مقصد محض ذاتی نمود و نمائش کو نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی مخلوق کی خدمت کو بنا لیا ہے۔ جہاں لوگ اپنی دولت تجوریوں میں چھپا کر رکھتے ہیں، وہاں شاہد سلطان اپنے مالک کے دیئے ہوئے خزانوں کو اسی کے بندوں پر نچھاور کر رہے ہیں۔ مہر شاہد سلطان صاحب اس صدی کے ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا اصل مقصد صرف اپنی ذات کی ترقی نہیں بلکہ خدا کی مخلوق کی خدمت کو بنایا ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دولت کو جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ بانٹنے کے لیے کماتے ہیں، جو اپنی خوشیوں میں دوسروں کے آنسو پونچھنے کو اصل کامیابی سمجھتے ہیں۔
آج جب ایک طرف لوگ اپنی اولاد کے مستقبل کیلئے خزانے جمع کر رہے ہیں، دوسری جانب مہر شاہد سلطان اللّہ کی مخلوق کی بیٹیوں کے مستقبل سنوارنے میں مصروف ہیں۔
دنیا میں بہت سے لوگ اپنی ذات، اپنے کاروبار اور اپنی ترقی تک محدود رہتے ہیں، لیکن کچھ عظیم لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں اور انسانیت کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ مہر شاہد سلطان بھی انہی عظیم اور باکردار شخصیات میں شامل ہیں۔ جو نہ صرف ضلع مظفرگڑھ ، ضلع کوٹ ادو ، ضلع ملتان ، ضلع جھنگ ، ضلع لیہ بلکہ پورے پاکستان میں بھی اپنی فلاحی خدمات کے باعث قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
مہر شاہد سلطان غریب، نادار، بیواؤں، یتیموں، معذور افراد اور بے سہارا خاندانوں کی مدد میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ آج کے دور میں جہاں بہت سے لوگ غرباء کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہاں مہر شاہد سلطان خاموشی کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سینکڑوں مستحق خاندانوں میں فوڈ پیکجز تقسیم کرنا، عید کے موقع پر غریب خاندانوں کو خوشیوں میں شامل کرنا اور ضرورت مند افراد کی مالی مدد کرنا، بیوہ اور یتیم بچیوں کےلئے کپڑے ، جوتے اور مالی امداد فراہم کرنا۔ سیوریج کی نکاسی کےلئے نالیاں بنانا۔ مسجدوں کی تعمیر کےلئے ڈونیشن دینا۔ ان کی انسان دوستی کا واضح ثبوت ہے۔
معذور افراد کیلئے ان کی خدمات خصوصی طور پر قابلِ تعریف ہیں۔ وہ معذور افراد کو ویل چیئرز، بیساکھیاں اور دیگر معاون خصوصی آلات فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی آسانی اور عزت کے ساتھ گزار سکیں۔ ایسے افراد جو جسمانی مجبوریوں کے باعث مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، ان کے لیے مہر شاہد سلطان جھتیال کسی مسیحا سے کم نہیں۔ ان کا یہ جذبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کمزور اور مجبور لوگوں کا سہارا بنا جائے۔
مہر شاہد سلطان صرف فلاحی کاموں تک محدود نہیں بلکہ دینی تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ دینی مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ کرام میں دینی و نصابی کتب تقسیم کرتے ہیں۔ تاکہ غریب طلبہ معاشی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ مدارس کے طلبہ کے ساتھ تعاون دراصل علمِ دین کی خدمت ہے، کیونکہ یہی طلبہ مستقبل میں دینِ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی یہ کاوش نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ معاشرے میں تعلیم اور شعور کے فروغ کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ ماحول دوست سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔ سر سبز و شاداب پاکستان مہم میں بھرپور حصہ لے کر شجرکاری کو فروغ دیتے ہیں، کیونکہ درخت لگانا صدقۂ جاریہ ہے اور آنیوالی نسلوں کیلئے ایک خوبصورت تحفہ بھی۔ ان کی کوشش ہے کہ معاشرہ نہ صرف فلاحی لحاظ سے مضبوط ہو بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی سرسبز اور خوشحال بنے۔
مہر شاہد سلطان ہے کون؟
آئیے دوستو! آپ لوگوں کو مہر شاہد سلطان جھتیال کا مکمل تعارف کرواتا چلوں۔
👤 تعارف:
مہر شاہد سلطان جھتیال فرزندِ مہر سلطان علی جھتیال، ضلع مظفرگڑھ کی بستی کھوہ ڈنگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ایک ایسے معزز خانوادے کے امین ہیں. جس کی پہچان عزت، خدمت اور مضبوط روایات سے جڑی ہوئی ہے۔
🏡 خاندانی پس منظر"
آپ کا تعلق ایک ایسی خاندانی روایت سے ہے جہاں اقدار ہمیشہ عمل سے پہچانی جاتی ہیں۔ آپ کے دادا، مہر امیر محمد جھتیال، علاقے کی ایک باوقار اور زیرک شخصیت تھے جنہیں سماجی رہنمائی اور پنچایتی بصیرت میں نمایاں مقام حاصل تھا۔
آپ کے والد محترم" مہر سلطان علی جھتیال" سادگی، محبت اور خاندانی اتحاد کی علامت تھے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے، اختلافات کم کرنے اور بھلائی کو فروغ دینے کو ترجیح دی۔ اپنے ذاتی اثاثے خرچ کر کے سڑکیں ہموار کروائیں۔
🎓 ابتدائی زندگی اور تعلیم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ بعد ازاں بہتر تعلیمی اور عملی مواقع کے لیے خاندان کو کوٹ ادو منتقل کیا گیا۔ زندگی نے کم عمری میں ہی آپ کو ذمہ داریوں کے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا. جہاں آپ نے ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ ہر چیلنج کا سامنا کیا۔
🎖 فوجی خدمات اور اعزازات:
2002 میں آپ نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سرانجام دیے۔ دورانِ سروس آپ نے اپنی تعلیم (PUC) بھی مکمل کی۔
2010–2011 میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے تحت سوڈان میں خدمات انجام دینا آپ کے کیریئر کا ایک قابلِ فخر باب ہے۔
آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو تمغۂ خدمت (III) اور آرمی چیف و چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جانب سے کمیینڈیشن کارڈز سے نوازا گیا۔
🌍 ملتان میں نیا آغاز اور کاروبار:
اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور خاندانی استحکام کے مقصد کے تحت آپ ملتان سٹی منتقل ہو گئے۔ یہاں آپ نے اپنی محنت، تجربے اور اعتماد کی بنیاد پر ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کاروبار کا آغاز کیا، جہاں آپ نے اپنی ایک مضبوط اور معتبر پہچان قائم کی۔
🌍 یوکے کا سفر اور جدوجہد
مزید بہتر مواقع اور مضبوط مستقبل کی تلاش میں آپ برطانیہ (UK) منتقل ہو گئے۔ وہاں آپ نے غیر معمولی محنت، لگن اور استقامت کے ساتھ دوہری ذمہ داریاں نبھائیں تاکہ اپنے خاندان کو بہتر سہارا اور مستحکم مستقبل فراہم کر سکیں۔
🤝 خدمتِ برادری اور اصول:
آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو خدمت اور خلوص ہے۔ آپ ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ محبت، اعتماد اور خاندانی رشتوں کو مضبوط بنانے کے جذبے سے جڑے رہے ہیں۔ آپ کا یقین ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار اور اس کی خدمت ہے۔
🤍 زندگی کا سہارا:
آپ اپنی تمام کامیابیوں کو والدین کی دعاؤں، بہن بھائیوں کی محبت, دوستوں کے پیار اور اللّہ تعالیٰ کے بے شمار فضل و کرم کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
✨ اختتام:
یہ داستان محض ایک زندگی کا تعارف نہیں بلکہ حوصلے، قربانی، صبر اور مسلسل محنت کا سفر ہے۔ ہر مرحلے پر مقصد ایک ہی رہا — خاندان کی عزت، بچوں کا بہتر مستقبل اور انسانیت کی خدمت۔
مہر شاہد سلطان کی شخصیت: نوجوان نسل کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر انسان کے دل میں خدمتِ خلق کا جذبہ موجود ہو تو وہ ہزاروں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کا حقیقی سرمایہ اور قوم کا فخر ہوتے ہیں۔ انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والی ایسی عظیم شخصیات کو مہر جاوید ساقی کا سیلوٹ🤚 ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر مہر شاہد سلطان کی انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں۔
اللّہ پاک مہر شاہد سلطان جھتیال صاحب کی ہر نیکی کو اپنی کریم بارگاہ میں قبول فرمائے، انکے رزق میں برکت عطا فرمائے، اور زندگی کے ہر شعبے میں کامیابیوں سے ہمکنار کرے، آپ اور آپ کی فیملی کی سلامتی کےلئے ڈھیروں دعائیں 🤲 زندگی میں کبھی غم نہ آئے آمین 🤲
کالم نگار: مہر جاوید ساقی سوشل ورکر مظفرگڑھ 📞☎️03039836347

25/05/2026

ڳوٺ باهو جهتيال جي نهايت معزز، باوقار ۽ قابلِ احترام شخصيت، اسان جي پياري ڀاءُ محترم ياسر رمضان جهتيال صاحب کي جنم ڏينهن جي هن مسرت ڀري موقعي تي دلي مبارڪباد پيش ڪجي ٿي۔
رب پاڪ اوهان کي عزتن جو بلند مقام عطا فرمائي، هر قدم تي ڪاميابي ۽ ڪامراني نصيب فرمائي۔
اوهان جي زندگي خوشين، سڪون ۽ برڪتن سان هميشه مهڪندي رهي، ۽ هر گهڙي ڪاميابين جو ڪاروان گڏ رهي۔
الله پاڪ جي بارگاهه ۾ عاجزانه دعا آهي ته اوهان کي صحتِ ڪامله، ڊگهي ۽ بابرڪت عمر، حلال ۽ وسيع رزق، ۽ هر ميدان ۾ شاندار ڪاميابيون عطا فرمائي۔
اوهان جي زندگيءَ جو هر لمحو عزت، وقار، سڪون ۽ خوشين سان ڀرپور رهي۔
يا الله! سندن هر نيڪ ارادو قبول فرماءِ، سندن اولاد کي صالح ۽ فرمانبردار بڻاءِ، سندن گهر کي خوشين ۽ برڪتن سان آباد رک، ۽ کين هر ظاهري ۽ باطني تڪليف کان محفوظ فرماءِ۔
دعا آهي ته اوهان جو هر ايندڙ سال اڳئين کان وڌيڪ ڪاميابين، خوشحالي ۽ آسانيُن سان ڀرپور هجي، ۽ اوهان هميشه عزت ۽ وقار سان سرخرو رهو۔ آمين يا رب العالمين 🤲
جنم ڏينهن جون لک لک واڌايون 🎉
ڳوٺ باهو جهتيال سٿ

*پاکستان جھتیال اتحاد سپریم کاؤنسل کی کوششیں بالآخر کامیاب*  *سردار منور خان جھتیال* کی سرپنچی میں گوٹھ خیر محمد جھتیال ...
24/05/2026

*پاکستان جھتیال اتحاد سپریم کاؤنسل کی کوششیں بالآخر کامیاب*
*سردار منور خان جھتیال* کی سرپنچی میں گوٹھ خیر محمد جھتیال میں *خونریزی کے امکان صلح و خیر پر ختم* ہوئے۔

*گذشتہ پندرہ بیس روز سے* موہن جو دڑو کے قریب موجود ضلعہ لاڑکانہ کا *قدیم گوٹھ خیر محمد جھتیال* میں دو گروپوں سرائی خادم حسین جھتیال، سرائی قربان جھتیال، فدا حسین جھتیال اور سرائی محمد موسیٰ جھتیال اور ریاض حسین جھتیال کے درمیان *پرانے تضاد کی بنیاد پر پھر سے جھگڑے شروع ہوئے اور مسلسل مورچہ بند ہوکر فاٸرنگ کا سلسلہ چلتا رہا۔* جسکی وجہ سے گوٹھ اور آسپاس میں سخت خوف و حراس پھیلا تھا۔

*دونوں مضبوط اور ضدی گروپ پولیس یا پنچایت کو بیچ میں لانا کمزوری سمجھ کر اپنی ضد پر سب کچھ کر گذرنے پر ڈٹے کھڑے تھے۔*

موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے *جھتیال اتحاد کی سپریم کونسل* کے لیڈران نے انکے گوٹھ پہنچ کر کٸی بار بیچ بچاؤ کی کوششیں کیں مگر معاملے کی شدت بڑھتی رہی۔

*بالآخر سردار منور علی خان* سے عرض کیا گیا کہ دونوں گروپ کسی بات پر ہٹنے کو تیار نہیں اس لیے آپ خود چل کر بھائیوں کے درمیان امن کرائیں۔

انہوں نے بھی معاملے کی سنگینی کو سمجھ کر سپریم کونسل کے دوستوں کے ساتھ گوٹھ نکل پڑے اور یوں امن کے لیے ضلع لاڑکانہ اور دادو کی جھتیال برادری کی پنچایت یا کٹھ جمع ہوا۔

*شکر الحمداللہ* کہ دونوں گروپوں نے سردار منور صاحب اور تمام آئے ہوئے معززین کو عزت اور مان دیا اور نہ صرف جھگڑے اور فائر بندی کی بلکہ سردار صاحب نے کلام پاک پر ہاتھ رکھوا کر مستقبل کے لیے بھی امن کی ضمانت لی۔ اور برادری کے متحارب گروپوں کو آپس میں گلے ملوایا اور دعائے خیر کی گئی۔

اس خونریز تنازعے کو امن میں تبدیل کرنے کے لیے جن معززین نے سردار منور خان کی معاونت کر کے اہم کردار ادا کیا ان میں ضلع لاڑکانہ اور دادو کی جھتیال برادری کے یہ اہم افراد شامل تھے۔
حاجی گلزار علی جھتیال، جان محمد، ڈی ایس پی (R) محمد صدیق، محرم خان، حافظ واحد بخش، ذوالفقار علی، سپریم کونسل کے سجاد گلزار، سائیں فیض محمد، میر علی مراد اور ریاض لقمان جھتیال کے علاوہ صوبیدار حبدار محمد رمضان جھتیال نے شرکت کی۔

برادری کے معززین کے علاوہ پڑوسی برادریوں کے معززین جناب شمس الدین جونیجو، عبدالستار کلھوڑو، سید پیرل شاہ اور محمد جمن گاڈھی نے بھی خیر سگالی کے طور پر شرکت کی۔

راوی : ریاض لقمان جھتیال
بالقلم : شبیر حسین جھتیال

Address

Kotri
76000

Telephone

+923083035930

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jhatial Youth World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jhatial Youth World:

Share