MBDN Network

MBDN Network ملکی و غیر ملکی خبروں سے آگاہ رہنے کیلئے پیج فالو،اور لائک ضرور کریں تاکہ آپ تک ہر خبر بروقت پہنچ سکے

انعام وینس کو ابوبکر مانگٹ کا جواب، سنگین الزامات کے ساتھ سخت پیغام سامنے آگیاانعام وینس اور ابوبکر مانگٹ کے درمیان جاری...
08/08/2026

انعام وینس کو ابوبکر مانگٹ کا جواب، سنگین الزامات کے ساتھ سخت پیغام سامنے آگیا

انعام وینس اور ابوبکر مانگٹ کے درمیان جاری مبینہ تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا۔ ابوبکر مانگٹ کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں انعام وینس کو مخاطب کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے گئے اور مختلف الزامات عائد کیے گئے۔

ابوبکر مانگٹ کے بقول، "دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، حکومت اور ریاست سے ٹکرانا دانشمندی نہیں۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ انعام وینس نے حالیہ ویڈیو کے ذریعے نہ صرف انہیں بلکہ ریاستی اداروں اور حکومتی اہلکاروں کو بھی للکارا، جو ان کے مطابق انعام وینس کی بڑی غلطی ہے۔

انہوں نے انعام وینس کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ پولیس ان کے ساتھ مبینہ دشمنی کر رہی ہے جبکہ مخالف فریق کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ ابوبکر مانگٹ کا کہنا تھا کہ پولیس کی کارروائیوں سے وہ بھی محفوظ نہیں اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنا ہی بہتر راستہ ہے۔

بیان میں ابوبکر مانگٹ نے انعام وینس پر منشیات کے استعمال سے متعلق بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ نشے کی حالت میں کیے گئے فیصلے حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

ابوبکر مانگٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان کئی واقعات پیش آئے اور ان کے مطابق انہوں نے متعدد مواقع پر انعام وینس کو وارننگ دی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

بیان کے آخر میں ابوبکر مانگٹ نے انعام وینس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بدمعاشی کے بجائے حالات کو سمجھنے اور قانون سے بچنے کے بجائے قانون کے دائرے میں رہنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ قسمت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔

نوٹ: یہ بیان ابوبکر مانگٹ سے منسوب ہے؛ اس میں کیے گئے الزامات اور دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

سرگودھا کی تحصیل ساہیوال میں مولانا قاری محمد عثمان دامت برکاتہم العالیہ نے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، اپنے ہی دوست کو...
04/08/2026

سرگودھا کی تحصیل ساہیوال میں مولانا قاری محمد عثمان دامت برکاتہم العالیہ نے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، اپنے ہی دوست کو اپنی بیٹھک پر نشہ آور چائے دے کر دخول کر دیا۔

جب دوست کو ہوش آیا تو انزال کے نشانات کے جسم کے طول و عرض میں پائے گئے۔ دوست کا کہنا تھا کہ نشہ آور چیز کھانے سے پہلے قاری صاحب کا کہنا تھا کہ "یار آپ بہت اچھے ہیں، مگر آپ کے اندر ایک کمی ہے آپ نماز نہیں پڑھتے۔"

پولیس قاری صاحب کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے تاکہ وہ مزید تبلیغ نا کر سکیں۔ اگر ایسے ہی پولیس قاری صاحبان کو پکڑتی رہی تو ہمارے جنازے اور نکاح کون پڑھائے گا؟ آخر کون؟

"میں تنگ آ چکا ہوں... دل کرتا ہے نوکری چھوڑ دوں!"یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کے دل کی آواز ہے جو عوام کے ل...
03/08/2026

"میں تنگ آ چکا ہوں... دل کرتا ہے نوکری چھوڑ دوں!"

یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کے دل کی آواز ہے جو عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، مگر نظام کی دیواروں سے بار بار ٹکراتا رہا۔

صحافی راجہ لیاقت نے ایک جذباتی واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے احمد محی الدین نے ان سے کہا تھا: "دل کرتا ہے نوکری چھوڑ دوں، یہ نظام کسی کو کام نہیں کرنے دیتا۔"

راجہ لیاقت کے مطابق انہیں فوراً ساجد کیانی یاد آ گئے۔ وہ بھی ایک باصلاحیت پولیس افسر تھے۔ مینارِ پاکستان کے افسوسناک واقعے کے بعد، حالانکہ بعد میں واضح ہوا کہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا، پھر بھی انہیں تبادلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد مری سانحے میں بھی حالات کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔

ان دنوں ساجد کیانی شدید مایوس تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا تھا: "دل چاہتا ہے نوکری چھوڑ دوں۔"

راجہ لیاقت نے انہیں صرف ایک بات کہی:
"اگر آپ جیسے لوگ ہمت ہار جائیں گے تو عام آدمی کی امید کس سے وابستہ رہے گی؟"

ساجد کیانی نے نوکری تو نہ چھوڑی، مگر بعد میں پولیس سے الگ ہو کر انٹیلی جنس بیورو (IB) میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔

راجہ لیاقت کہتے ہیں کہ احمد محی الدین کے ساتھ بھی تقریباً یہی ہوا۔ وہ عوام کی داد رسی کرتے، مظلوموں کی آواز بنتے اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو یہ احساس دلاتے کہ ریاست میں ابھی بھی کچھ ایسے افسر موجود ہیں جو ان کا درد محسوس کرتے ہیں۔

لیکن یہی عوامی مقبولیت بعض حلقوں کو ناگوار گزری، اور ان پر سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کرنے کی پابندی لگا دی گئی۔

راجہ لیاقت نے انہیں مشورہ دیا کہ عوام کی خدمت جاری رکھیں، مگر ماتحت افسران کی سرزنش کیمرے کے بجائے دفتر میں کیا کریں۔

اس پر احمد محی الدین نے ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی جواب دیا:

"جب کچھ افسر عوام کو سڑکوں پر ذلیل کر سکتے ہیں، گالیاں دے سکتے ہیں، تھپڑ مار سکتے ہیں، تو پھر ان کی غلطی پر کیمرے کے سامنے جواب طلبی کیوں نہیں ہو سکتی؟ اگر ایسی کالی بھیڑوں کو چھپایا جائے گا تو وہ مزید بے خوف ہو جائیں گی۔ احتساب ہی انہیں ظلم سے روک سکتا ہے۔"

انہوں نے افسردگی سے مزید کہا:

"یہ نظام کسی کو کام نہیں کرنے دیتا۔ عوام جائے بھاڑ میں، کسی کو کیا پرواہ؟ دل کرتا ہے نوکری چھوڑ دوں اور کہیں دور چلا جاؤں۔"

راجہ لیاقت نے انہیں بھی وہی نصیحت کی جو برسوں پہلے ساجد کیانی کو کی تھی:

"اگر آپ بھی ہمت ہار گئے تو پھر عام آدمی کی امید کس سے رہے گی؟"

احمد محی الدین نے جواب دیا:

"سوچتا ہوں... مگر کام کرنا واقعی بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔"

وقت گزرا، اور آخرکار انہوں نے اپنی باوقار ملازمت چھوڑ دی۔

ایسے لوگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر جو شخص عوام کے دکھ درد کو محسوس کرے، انصاف کی بات کرے اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کرے، اس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔

دعا ہے کہ احمد محی الدین جہاں بھی ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سکون اور عزت والی زندگی عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے میں ایسے باکردار اور باہمت لوگ ہمیشہ موجود رہیں۔

مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میر...
01/08/2026

مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!

اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

31 july 2026

کوٹ ادو: آئل ٹینکر سے ڈرائیور اور کنڈکٹر کی لاشیں برآمد، تحقیقات جاریکوٹ ادو کے نواحی علاقے قصبہ گجرات میں مین روڈ پر وا...
30/07/2026

کوٹ ادو: آئل ٹینکر سے ڈرائیور اور کنڈکٹر کی لاشیں برآمد، تحقیقات جاری
کوٹ ادو کے نواحی علاقے قصبہ گجرات میں مین روڈ پر واقع منا ہوٹل کے قریب کھڑے ایک آئل ٹینکر سے ڈرائیور اور کنڈکٹر کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹینکر کے مالکان نے بتایا کہ گزشتہ چند روز سے ڈرائیور اور کنڈکٹر سے رابطہ منقطع تھا۔ انہیں تلاش کرتے ہوئے جب وہ قصبہ گجرات پہنچے تو اپنے آئل ٹینکر کے اندر دونوں افراد کی لاشیں موجود پائیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ادارے موقع پر پہنچ گئے اور لاشوں کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ دونوں افراد کی ہلاکت کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
نوٹ: یہ ابتدائی معلومات ذرائع کی بنیاد پر ہیں، حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

"بابا! دعا کریں... ماں باپ سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوتا۔"28 جولائی 2026 کو ساہیوال کے علاقے بوٹی پل کے قریب ایک دل دہلا دین...
30/07/2026

"بابا! دعا کریں... ماں باپ سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوتا۔"

28 جولائی 2026 کو ساہیوال کے علاقے بوٹی پل کے قریب ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ تقریباً 35 فٹ گہرے کنویں میں اچانک مٹی کا تودہ گرنے سے دو نوجوان ملبے تلے دب گئے۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم صرف 10 منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔ صورتحال نہایت خطرناک تھی، مٹی مسلسل سرک رہی تھی اور ہر گزرتا لمحہ امید کو کم کرتا جا رہا تھا۔ وہاں موجود بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ اب دونوں نوجوانوں کا زندہ بچنا تقریباً ناممکن ہے۔

اسی دوران ایک نوجوان کا والد اپنے بیٹے کی فکر میں دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔ ریسکیو ٹیم کے انچارج نے آگے بڑھ کر اس غمزدہ باپ کو گلے لگایا اور کہا:

"بابا! دعا کریں... ماں باپ سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔"

یہ الفاظ وہاں موجود ہر شخص کے دل کو چھو گئے۔

شدید گرمی، حبس اور ہر لمحہ جان کے خطرے کے باوجود ریسکیو 1122 ساہیوال کی ٹیم نے مسلسل سات گھنٹے تک انتہائی مہارت، حوصلے اور جانفشانی کے ساتھ ریسکیو آپریشن جاری رکھا۔

پھر وہ منظر سامنے آیا جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، والدین کی دعاؤں اور ریسکیو ٹیم کی انتھک محنت کے نتیجے میں دونوں نوجوانوں کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا۔

بے شک جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔ موت کا فرشتہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دعا، امید اور مسلسل کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔

اللہ تعالیٰ دونوں نوجوانوں کو مکمل صحت عطا فرمائے، ان کے والدین کو خوشیاں نصیب فرمائے اور ریسکیو 1122 کے تمام اہلکاروں کو ان کی بے مثال خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔

ساؤتھ افریقہ میں چار پاکستانیوں کے قتل کا معاملہ: تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیاساؤتھ افریقہ میں چار پاکستانی نوجوانوں ...
30/07/2026

ساؤتھ افریقہ میں چار پاکستانیوں کے قتل کا معاملہ: تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا

ساؤتھ افریقہ میں چار پاکستانی نوجوانوں کے قتل کے افسوسناک واقعے کے بعد تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس کیس کے ممکنہ تانے بانے ماضی کی ایک دیرینہ دشمنی سے جوڑے جا رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں چند ایسے افراد کے نام سامنے آئے ہیں جن کے اہلِ خانہ ماضی میں بھی قتل کے واقعات کا نشانہ بن چکے تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مقتولین کے لواحقین نے منڈی بہاؤالدین میں سی سی ڈی کو درخواست جمع کرائی ہے، جس میں سات افراد کو نامزد کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان نامزد افراد میں بیرونِ ملک مقیم چند پاکستانی بھی شامل ہیں۔

اب سب کی نظریں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہیں کہ وہ اس سنگین معاملے کی تحقیقات کس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں اور حقائق کو کس حد تک سامنے لاتے ہیں۔ اس وقت ضروری ہے کہ بغیر تصدیق کسی بھی فرد یا گروہ کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا جائے اور تحقیقات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے دیا جائے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ذاتی دشمنیاں اگر بروقت ختم نہ کی جائیں تو ان کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پہنچ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون اپنی پوری طاقت کے ساتھ حرکت میں آئے، ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

کب تک؟ایک باپ کی یہ فریاد صرف اس کی نہیں، بلکہ اس معاشرے کے لاکھوں مجبور خاندانوں کی آواز ہے۔"میرے بچے ایک وقت کھاتے ہیں...
27/07/2026

کب تک؟
ایک باپ کی یہ فریاد صرف اس کی نہیں، بلکہ اس معاشرے کے لاکھوں مجبور خاندانوں کی آواز ہے۔
"میرے بچے ایک وقت کھاتے ہیں، دوسرا وقت نہیں کھاتے... بیگم خالی دیگچی میں پانی چڑھا دیتی ہے تاکہ بچے یہ سمجھیں کہ کھانا بن رہا ہے، اور اسی انتظار میں سو جاتے ہیں۔"
یہ الفاظ صرف ایک بیان نہیں، بلکہ ایک ایسا نوحہ ہیں جو ہر صاحبِ اختیار کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔
اقتدار، عہدے اور اختیار ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ آج فیصلے آپ کے ہاتھ میں ہیں، لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہر اختیار ختم ہو جائے گا اور ہر انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اس دن نہ پروٹوکول کام آئے گا، نہ طاقت، نہ منصب اور نہ ہی خزانے۔
اگر کسی ریاست میں بچے بھوک کی وجہ سے سونے پر مجبور ہوں، والدین بے بسی سے آنسو بہائیں اور محنت کرنے والا بھی اپنے گھر کا چولہا نہ جلا سکے، تو یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔
حکومتِ وقت، اپوزیشن، صاحبِ ثروت افراد اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں؟ کیونکہ روزِ قیامت ضرور آئے گا، اور اس دن بھوکے بچوں کی آہیں، مجبور باپ کی فریاد اور مظلوم کی خاموش چیخیں بھی گواہی دیں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں، اہلِ اختیار اور ہم سب کو انصاف، رحم اور عوام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

انتہائی افسوسناک خبرجنوبی افریقہ میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں چار پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔جاں بحق ہونے والو...
26/07/2026

انتہائی افسوسناک خبر

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں چار پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔

جاں بحق ہونے والوں میں ضلع منڈی بہاءالدین کے گاؤں بلہڑ سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی، ساجد احمد اور ظفر احمد شامل ہیں، جبکہ دیگر دو افراد ان کے ورکرز تھے۔

اطلاعات کے مطابق چاروں افراد اپنی دکان بند کرنے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

اس المناک واقعے نے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پورے علاقے کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔

Address

Kuthiala Sheikhan
Kuthiala Shekhan
50480

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MBDN Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MBDN Network:

Shortcuts

Share

Category