Herolahori

Herolahori For business inquiry [email protected]
(2)

23/11/2025

Biwi ho to esiii

ماں…یہ وہ رشتہ ہے جس کے لیے اللہ نے فرمایا کہ جنت اس کے قدموں تلے ہے۔بیٹی کے لیے ماں پہلی دوست ہوتی ہے… اور بیٹے کے لیے ...
22/11/2025

ماں…
یہ وہ رشتہ ہے جس کے لیے اللہ نے فرمایا کہ جنت اس کے قدموں تلے ہے۔
بیٹی کے لیے ماں پہلی دوست ہوتی ہے… اور بیٹے کے لیے پہلی محبت۔
ماں خود ٹوٹ کر بھی اپنے بچوں کو سنبھال لیتی ہے،
خود رو کر بھی انہیں ہنسا دیتی ہے،
اور بچوں کی تکلیف پر راتوں کی نیند قربان کر دیتی ہے۔

کبھی کبھی دل عجیب سا ہو جاتا ہے…
خاص کر جب ماں کی قربانیاں یاد آ جائیں۔
ان لمحوں میں انسان کے ہاتھ خود ہی سینے پر آ جاتے ہیں،
آنکھیں خود ہی نم ہو جاتی ہیں،
اور دل چاہتا ہے کہ اس احساس کو دوسروں تک بھی پہنچایا جائے…
تاکہ شاید کسی کو اپنی ماں کی قدر آج ہی یاد آ جائے۔

جس کی ماں زندہ ہے،
اس کی محبت کو محسوس کرو…
اور جس کی ماں چلی گئی،
اللہ اس کی قبر کو نور سے بھر دے۔
آمین۔

21/11/2025

Bahoo ess ho to ghar janat ban jata ha

Maa jab apne bachon ke saath chand lamhe hansi, khel aur tawajjo mein guzarti hai… to yeh sirf time dena nahi hota, yeh ...
20/11/2025

Maa jab apne bachon ke saath chand lamhe hansi, khel aur tawajjo mein guzarti hai… to yeh sirf time dena nahi hota, yeh ibadat ban jata hai. Bachay maa ki god mein woh sukoon paate hain jo poori duniya mein kahin nahi milta. Unke chehron par aane wali chhoti si muskurahat bhi maa ke liye sadqa ban jati hai. Maa ka diya hua pyaar, uski narmi, uska saath… bachpan ko sirf khoobsurat nahi banata balkay bachon ke dil mein Allah ki mohabbat aur shukar guzari bhi paida karta hai. Yaad rakho… khilone bachon ko khush nahi karte, maa ka waqt karta hai. Bachpan ek amanat hai, agar aaj maa apne bachon ko waqt de de to kal yahi bachay uske burhaapay ka sabse mazboot sahara ban jaate hain.

20/11/2025

Maa ko bina mange diya karo

ماں وہ رشتہ ہے جو ساری زندگی بیٹے کے لیے دعا کا سائبان بن کر رہتی ہے۔ بیٹا جب بڑا ہو کر اپنی زندگی بناتا ہے تو اس کی بیو...
18/11/2025

ماں وہ رشتہ ہے جو ساری زندگی بیٹے کے لیے دعا کا سائبان بن کر رہتی ہے۔ بیٹا جب بڑا ہو کر اپنی زندگی بناتا ہے تو اس کی بیوی اس گھر میں خوشیوں، سکون اور نئی بہار کی طرح داخل ہوتی ہے۔ بہو صرف بیٹے کی شریکِ حیات نہیں ہوتی، وہ ماں کے بڑھاپے کا سہارا، گھر کا چین اور نئی نسل کی پہلی درسگاہ بھی بن جاتی ہے۔ پھر جب اللہ اس گھر کو بیٹی اور بیٹے یعنی پوتی اور پوتے کی شکل میں نعمتیں دیتا ہے، تو یہ رشتے اور بھی خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ پوتا نانی/دادی کی ہنسی کا سبب بنتا ہے، اور پوتی گھر کی روشنی، ماں باپ کا فخر اور دادا دادی کا پیار بن جاتی ہے۔ یہ سارے رشتے مل کر ایک مکمل گھر، ایک مکمل زندگی اور ایک مکمل محبت بناتے ہیں—جہاں احترام ہو، برداشت ہو، اور سب کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر اور دعا ہو

18/11/2025

Bhabi free ki nokrani

17/11/2025

Maa Apne bachoon k leye kuch b kar sakti han

16/11/2025

Apni Maa bap ko time diya karo

15/11/2025

Gareeb hun par choor nai

ارمان… ایک سیدھا سادہ لڑکاگھر کا سب سے پڑھا لکھا، مگر سب سے کم اعتماد والا۔اسے پڑھائی نے تو ہمت دی، مگر زندگی نے فیصلہ ک...
14/11/2025

ارمان… ایک سیدھا سادہ لڑکا
گھر کا سب سے پڑھا لکھا، مگر سب سے کم اعتماد والا۔
اسے پڑھائی نے تو ہمت دی، مگر زندگی نے فیصلہ کرنے کی طاقت نہ دی۔

کالج کی ماڈرن لڑکی نبیلہ نے پروپوز کیا تو ارمان نے سمجھا کہ قسمت اس پر مہربان ہو گئی۔
لیکن قسمت مہربان نہیں تھی…
صرف خاموش تھی۔

شادی کے بعد محبت کے پردے اُترے تو حقیقت سامنے آ گئی۔
نبیلہ ہر بات میں آگ، ارمان ہر بات میں دھواں۔
وہ حکم سناتی، وہ سر جھکا دیتا۔
وہ ناراض ہوتی، وہ معافی مانگتا۔
اس کی اپنی کوئی سوچ، کوئی سمت، کوئی آواز باقی نہ رہی۔

یہی وہ مرد ہوتے ہیں جو اپنے ہی گھر میں تماشائی بن جاتے ہیں۔

پھر والدین آئے —
بیماری، کمزوری اور تنہائی میں بیٹے کے پاس پناہ لینے۔
انہیں نہ نوکری چاہیے تھی، نہ خدمت گزار…
انہیں ایک انسان چاہیے تھا جو ان سے بیٹھ کر بات کر لے۔
ایک بیٹا، جو ان کے چہرے کی جھریاں پہچان لے۔

مگر نبیلہ نے اگلے ہی دن نوکری جوائن کر کے ذمہ داری ملازمہ پر ڈال دی۔
اور اس کی ماں نے گھر میں ایسے ڈیرے ڈالے جیسے عدالت لگائی ہو —
ہر بات میں ٹانٹ، ہر لفظ میں طنز، ہر جملے میں حقارت۔

ارمان کے والدین نے ساری عمر عزت دی تھی،
بدقسمتی سے بڑھاپے میں سب سے زیادہ بے عزتی ملی۔

بیوی ماڈرن بن رہی تھی،
ساس “نقلی طاقت” دکھا رہی تھی،
اور ارمان اپنی ہی زندگی کے کونے میں بیٹھا “ہاں” پر “ہاں” کیے جا رہا تھا۔

سچ یہ ہے:

جو گھر بات چیت سے نہیں چلتے… وہاں حکم، ضد اور انا آ کر بیٹھ جاتی ہے۔

چاہے جوائنٹ فیملی ہو یا نیوکلئیر —
جب عورت صرف “میرا گھر، میری مرضی” کہنے لگے،
اور مرد صرف “ٹھیک ہے” کہنے لگے،
تو پھر گھر میں محبت نہیں،
بس خاموش جنگ بچتی ہے۔

نبیلہ کی ضد،
اس کی ماں کی زبان،
اور ارمان کی خاموشی—
تینوں نے مل کر اس گھر کی سانسیں روک دیں۔

آخر میں ہوا کیا؟
والدین محبت کو ترستے رہے،
بیوی سکون کو،
اور ارمان خود کو۔

یہ کہانی نہیں…
ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔

ہر گھر میں ایک ارمان ہے،
ہر گلی میں ایک نبیلہ ہے،
اور ہر مہینے کسی نہ کسی گھر میں کوئی “ساس” اپنی بیٹی کے گھر آ کر ختم نہ ہونے والا ہنگامہ ڈال دیتی ہے۔

اور پھر لوگ پوچھتے ہیں:
“گھر کیوں ٹوٹتے ہیں؟”

گھر جھگڑوں سے نہیں ٹوٹتے…
گھر خاموش مردوں اور اونچی آواز والی عورتوں سے ٹوٹتے ہیں۔

“سوال یہ نہیں کہ غلط کون ہے…
سوال یہ ہے کہ خاموش کون ہے؟”

💬 “آپ کے شہر، آپ کے گھر، یا آپ کے آس پاس بھی ایسی کہانی ہوتی ہے؟ اپنی رائے ضرور دیں…”
❤️ “کمنٹس بند دلوں کو نہیں — دماغوں کو کھولتے ہیں۔”

14/11/2025

Apni beti bati or dosri ki batii

Address

Southall, Slough
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Herolahori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Herolahori:

Share

Category